30
کوئی تو اپنا ہو کوئی تو خیر خواہ نکلے
اس آس میں نکلے صلح کی کوئی راہ نکلے
عدالتوں سے امیدِ انصاف کیسے رکھتے
ہمارے اوپر ہمارے اپنے گواہ نکلے
یہ چکیوں میں روایتوں کی جو پس رہے ہیں
مجال ہو جو کسی کے منہ سے بھی آہ نکلے
ہمیں خبر تھی ہے اک خسارا مگر ہم اس دن
تمام وعدے تمام رشتے نباہ نکلے
تمہارے لفظوں کی تیغ سے ہم یوں چیختے ہیں
کہ تیر لگتے ہی اک ہرن کی کراہ نکلے
نہیں پلٹنا تو کیوں ڈریں ہم مسافتوں سے
ہم اپنا گھر بار کر کے سب کچھ تباہ نکلے
یہ سوچ کر ہم کہیں گے غزلیں کہ ان کے لب سے
ہمارے شعروں پہ کاش ان کی بھی واہ نکلے
فیاض ڈومکی
