114
زلف_جاناں کو سنواریں گے چلے جائیں گے
روز و شب یونہی گزاریں گے چلے جائیں گے
کون سمجھے گا مرے کرب کی گہرائی کو
لوگ پنکھے سے اتاریں گے چلے جائیں گے
آپ کے حسن کو ہم ماند نہ پڑنے دیں گے
آپ کا حسن نکھاریں گے چلے جائیں گے
کپکپاہٹ مرے ہونٹوں کو لگى رہنی ہے
آپ آئیں گے پکاریں گے چلے جائیں گے
ایک دو دوست ہیں اور دوست بھی ایسے انجم
مجھ کو مٹی میں اتاریں گے چلے جائیں گے
منیر انجم منیر
