خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامن کا بھوت بنگلہ !
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

من کا بھوت بنگلہ !

از سائیٹ ایڈمن جون 27, 2022
از سائیٹ ایڈمن جون 27, 2022 0 تبصرے 99 مناظر
100

ہم اپنے اندر ایک بھوت بنگلا لئے گھوم رہے ہیں یا سب انسانوں کے اندر یہ بھوت بنگلہ ہوتا ہے ، شائد یہ بھوت بنگلہ وقت حالات اور واقعات مل کر بناتے ہیں جس میں تزئین و آرائش اور مکینوں کا دعوت نامہ دکھ اور مایوسی کے ذمہ ہوتا ہے ۔ ۔ ویسے اس بھوت بنگلے کی بنیادباقاعدہ طور پر بچپن میں رکھ دی جاتی ہے جب ہماری سرگرمیوں کو محدود رکھنے کیلئے ہمارے بڑے ہ میں ڈراتے ہیں کہ وہاں اندھیرا ہے وہاں مت جانا، وہ سنسان جگہ ہے وہاں اکیلے نہیں جانا ۔ ۔ ۔ بھوت بنگلے کی دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی کو بتایا بھی نہیں جاسکتاکہ آپ کے اندر ایک بھوتوں کی آماجگاہ بھوت بنگلہ ہے ۔ ۔ بھلا اس بات پر کون یقین کرے گا اور کس طرح سے اس بھوت بنگلے کو دیکھ سکے گا ۔ ۔ موت برحق ہے تو پھر خوف کس بات کا لیکن اپنے اندر موجود بھوت بنگلے کا کیا جائے اور اس میں رہنے والے بھوتوں سے کیسے خوفزدہ نا ہوا جائے ۔ ۔ یہ مارتے نہیں ہیں بلکہ موت کے قریب لے کر واپس لے آتے ہیں اور پتہ نہیں کب ایسا ہو کہ انکا ارادہ بدل جائے اور واپس ہی نا لائیں ۔ ۔ بھوت بنگلے والے بہت شورکرتے ہیں ۔ ۔ یہ سامنے والے کے اندر بسنے والے بھوتوں کی حرکتوں تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں ۔ ۔ انکی باہمی ہم آہنگی انہیں بتا دیتی ہے کہ سامنے والے بھوت اس سے کیا کروانا چاہ رہے ہیں ۔ ۔ جیسے جیسے آپ اور سامنے والے کی ملاقات کا دورانیہ بڑھتا جاتا ہے ویسے ویسے یہ بھوت حرکتوں میں اضافہ کرتے چلے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ کبھی تو یہ بھوت بھی سامنے والے بھوتوں سے خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور اپنے بھوت بنگلے میں چھپ کر بیٹھ جاتے ہیں اور سناٹا ہوجاتا ہے ۔ ۔ اورجب کبھی جب یہ ضد پر آجاتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ اس جسدِ خاکی کو جو انکے رہنے کی اماجگاہ ہے، کو مسمار کردینگے اور کہیں دوسری جگہ ہجرت کرجائینگے ، لیکن ایسا بھی نہیں ہوتا(نامارتے ہیں اور نا ہی مرنے دیتے ہیں ) ۔ ۔ پھر معلوم نہیں کیا ہوتا ہے ، وہ سب جیسے آہستہ آہستہ سو جاتے ہیں اور انکے سونے کی مدت طے نہیں جیسے جاگنے کی مدت کا پتہ نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ انکی خاموشی ایسی لگتی ہے کہ جیسے سارے بھوت بنگلے کے اندر ایک دوسرے سے چھپ جاتے ہیں یاشائد کسی بات پر اتفاق ناہوپانے پر یعنی کس بات سے زیادہ خوفزدہ کرنا ہے کس خوف سے باز رکھنا ہے الگ الگ ہوکر بیٹھ جاتے ہیں ۔ ۔ کچھ بھی تو واضح نہیں ہوتا ۔ ۔ من میں بھلا جھانکے تو کون ، من بھوتوں کا بنگلہ جو ہے ۔ ۔ ذہن ایک سوال اٹھاتا ہے کہ کہیں کوئی ان بھوتوں کا نجات دہندہ بھی تو ہوگا ۔ ۔ جو من کے بنگلوں کو ان بھوتوں سے نجات کے اسباب پیدا کرتا ہوگا ۔ ۔ ان گھس بھیٹیوں سے من کو آزاد کرتا ہوگا اور وہ جو بھوت بنگلا ہے اسے اسکے مکین کے حوالے کراتا ہوگا ۔ ۔ اس نجات دہندہ کی تلاش جاری تھی کہ کسی نے بتایا کہ نجات بھی ہے اورنجات دہندہ بھی لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ انہوں نے اپنے وقت کا دائرہ بدل لیا ہے ۔ ۔ یا شائد انہوں نے اپنا خطہ یا پھر سیارہ بدل لیا ہے اب ان سے ملنا بہت مشکل دیکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ پہلے من کے بنگلے میں یہی رہتے تھے لیکن انسانوں نے ان کی ایک نہیں مانی اور پھر من خالی ہوگئے اور خالی من دیکھ کر بھوتوں نے بسیرا کرلیا ۔ ۔ کہنے والا کہہ رہا تھا کہ اب تو بس انہی بھوتوں کے ساتھ جینا پڑے گا اور اس دارے فانی سے کوچ کرنے تک ایسے ہی ہونکوں کی طرح بولائے بولائے رہنا پڑے گا ۔ ۔ زندگی کی امنگ نے ایک سوال اٹھایا کہ کیوں نا ان بھوتوں سے دوستی کرلی جائے اورجب انکے ساتھ رہنا ہی طے پایا ہے تو پھر خوف سے چھٹکارا پالیا جائے ۔ ۔ من میں بھوچال سا پیدا ہوا اور سارے بھوتوں نے گویا ایک ساتھ بھاگ دوڑ شروع کردی ۔ ۔ بھوتوں نے شور مچانا شروع کردیا کہ خوف ختم ہوجائے گا تو ہماراوجود خطرے میں پڑ جائےگا ۔ ۔ یہ بھوت بھی عجیب ہیں اور ان کے ڈرانے کے انداز اوربھی عجیب ہیں ۔ ۔ ایک ایسا ڈر جس کی بازگشت کیلئے یہ اپنا کوئی بہت بڑا بھوت تعینات کردیتے ہیں ۔ ۔ وہ ڈریہ ہوتا ہے کہ اب سارے بھوت اس بھوت بنگلے کو تباہ کرنے والے ہیں ۔ ۔ اورایسا احساس دلاتے ہیں جیسے یہ بھوت کسی خودکش بمبار کے جسم پر بندھے ہوئے بم ہوں اور بس دھماکا ہونے کو ہی ہو ۔ ۔ ہم اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے گھنٹوں اس خوف کے انتظار میں گزار دیتے ہیں کہ دھماکا اب ہوا کہ کب ہوا ۔ ۔ دھماکہ نہیں ہوتا خوف ہمارے پورے وجود میں سرائیت کرجاتا ہے اور جیسے مفلوج کرکے رکھ دیتا ہے ۔ ۔ ان بھوتوں کے پاس ایسی طاقت ہوتی ہے کہ یہ آپ کو باہر کی دنیا سے منقطع کردیتے ہیں ۔ ۔ آپ سب جگہ ہوتے ہوئے بھی کہیں نہیں ہوتے ۔ ۔ انکی دھما چوکڑی اپنے عروج پر ہوتی ہے ۔ ۔ آپکو لئے گھومتے رہتے ہیں ۔ ۔ دنیا کی نظروں میں آپ ایک عام انسان کی طرح دیکھائی دیتے ہیں کیونکہ آپکے طبعی برتاءو پر یہ بھوت اس وقت تک اثر انداز نہیں ہوتے جب تک آپ اپنا آپ ان کو باقاعدہ سونپ نہیں دیتے ۔ ۔ لڑنے کی سکت رکھنے والے ان بھوتوں سے لڑتے ہیں شدید مزاحمت کرتے ہیں ۔ ۔ اکثر دیکھا یہی جاتا ہے کہ سوائے ہلکان ہونے کے اور کم ہی کچھ حاصل ہوتا ہے ۔ ۔ فنا میں بقاء کے سوا کوئی حل نہیں سجھائی دیتا ۔

ہم ایک ایسے معاشرے میں پیدا ہوئے ہیں جہاں ، بدعنوانی ، بے ایمانی ،ایمان فروشی، جھوٹ، دھوکے بازی، حسد، قتل و غارت گری، جسم فروشی ، نشہ، دغابازی ، چوربازاری، بھتہ خوری، گران فروشی، وغیرہ بھوت بن کر ہ میں اپنے قبضے میں کئے ہوئے ہیں اور ان سے بچنے کا سوچنا بھی محال ہے ۔ ۔ ان سے بچنے کی کوشش میں ساری زندگی گزار دیتے ہیں اور پھر نسل نسل در یہ سلسلہ چلتا ہی جارہا ہے ۔ ۔ ہم انہیں بھوتوں کیساتھ اپنی عبادتگاہوں میں بھی جاتے ہیں یہی بھوت ہ میں اپنے رب کے حضور سجدہ کرنے کی اجازت تو دیتے ہیں لیکن تعلق قائم کرنے سے باز رکھتے ہیں ۔ ۔ بھوت بنگلے میں گنٹیاں بجنا شروع ہوجاتی ہیں اور جلد از جلد باز آنے کی دھمکیاں سنائی دینے لگتی ہیں ۔ ۔ یہ بھوت اپنے ناپاک عزائم کے وجود کیساتھ بہت طاقتور ہوچکے ہیں کیونکہ ہم نے ان سے نجات دہندہ کو ناراض کر دیا ہے اب یہ بھوت ہم سے تدبیریں بھی وہ ہی کرواتے ہیں جن سے یہ خوش ہوتے ہیں جن سے انکی بھوک مرتی ہے ۔ ۔ ہ میں ان تدبیروں کا پتہ چلانا ہوگا ورنہ ایک ایک کر کے ہم سب ان بھوتوں کے ہاتھوں خوف کے مارے خوفزدہ مرتے چلے جائیں گے ۔ ۔ مرنا تو برحق ہے لیکن کیا ہم وہاں جاسکینگے جہاں ہم جانے کیلئے اس دنیا میں آئیں ہیں ۔ ۔ کیاہم اپنے خالق اور اپنے نجات دہندہ کے سامنے کھڑے ہونے کی جسارت کرسکیں گے ۔ ۔ ایسا اس وقت تک ممکن نہیں ہوگا جب تک ہم من کے بنگلے ان بھوتوں سے خالی نہیں کروالیتے ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • روشنی والے وسیلے کی لگی رہتی ہے
  • غمِ زندگی کو بھلا دیجیے
  • گرد اپنی اتارتا ہوں ذرا
  • خوش یقیں خوش گمان یعنی تم
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
جب سرپرست ، سرپرستی چھوڑ دیں
پچھلی پوسٹ
ہم کمزور نہیں ہیں !

متعلقہ پوسٹس

یہ کارِ خیر ہے،اسکو نہ کارِ بد سمجھو

مئی 4, 2020

بیرسے ذائقہ بھی فائدہ بھی

نومبر 28, 2021

تو جہاں رہے وہاں ہر قدم

فروری 25, 2025

پیکاسو کی بیوہ

مارچ 10, 2020

عوام کی آواز ( ہیلمٹ )

دسمبر 9, 2025

انقلاب پسند

نومبر 10, 2019

عداوت کی نشانی چل رہی ہے

مئی 21, 2020

کچھ تاریخی واقعات

جون 22, 2025

نگاہوں سے ترے دل میں

ستمبر 26, 2025

سب کے سب تیری عقیدت کے در نظر آئے

مارچ 7, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سرسراتی ہوا

دسمبر 11, 2024

یوں تو آنکھوں کو ترے خواب

جنوری 12, 2025

جُگنُو

جولائی 6, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں