خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےابجی ڈُ ڈُو
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

ابجی ڈُ ڈُو

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن نومبر 14, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 14, 2019 0 تبصرے 533 مناظر
534

’’مجھے مت ستائیے۔ خدا کی قسم، میں آپ سے کہتی ہوں، مجھے مت ستائیے‘‘

’’تم بہت ظلم کررہی ہو آج کل!‘‘

’’جی ہاں بہت ظلم کررہی ہوں‘‘

’’یہ تو کوئی جواب نہیں‘‘

’’میری طرف سے صاف جواب ہے اور یہ میں آپ سے کئی دفعہ کہہ چکی ہوں‘‘

’’آج میں کچھ نہیں سنوں گا‘‘

’’مجھے مت ستائیے۔ خدا کی قسم، میں آپ سے سچ کہتی ہوں، مجھے مت ستائیے میں چلانا شروع کردوں گی۔ ‘‘

’’آہستہ بولو۔ بچیاں جاگ پڑیں گی‘‘

’’آپ تو بچیوں کے ڈھیر لگانا چاہتے ہیں۔ ‘‘

’’تم ہمیشہ مجھے یہی طعنہ دیتی ہو۔ ‘‘

’’آپ کو کچھ خیال تو ہونا چاہیے۔ میں تنگ آچکی ہوں۔ ‘‘

’’درست ہے۔ لیکن۔ ‘‘

’’لیکن ویکن کچھ نہیں!‘‘

’’تمہیں میرا کچھ خیال نہیں۔ اصل میں اب تم مجھ سے محبت نہیں کرتیں۔ آج سے آٹھ برس پہلے جو بات تھی وہ اب نہیں رہی۔ تمہیں اب میری ذات سے کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ ‘‘

’’جی ہاں‘‘

’’وہ کیا دن تھے جب ہماری شادی ہوئی تھی۔ تمہیں میری ہربات کا کتنا خیال رہتا تھا۔ ہم باہم کس قدر شیر و شکر تھے۔ مگر اب تم کبھی سونے کا بہانہ کردیتی ہو۔ کبھی تھکاوٹ کا عذر پیش کردیتی اور کبھی دونوں کان بند کرلیتی ہو۔ کچھ سنتی ہی نہیں۔ ‘‘

’’میں کچھ سننے کے لیے تیار نہیں!‘‘

’’تم ظلم کی آخری حد تک پہنچ گئی۔ ‘‘

’’مجھے سونے دیجیے۔ ‘‘

’’سو جائیے۔ مگر میں ساری رات کروٹیں بدلتا رہوں گا۔ آپ کی بلا سے!‘‘

’’آہستہ بولیے۔ ساتھ ہمسائے بھی ہیں‘‘

’’ہوا کریں‘‘

’’آپ کو تو کچھ خیال ہی نہیں۔ سنیں گے تو کیا کہیں گے۔ ‘‘

’’کہیں گے کہ اس غریب آدمی کو کیسی کڑی بیوی ملی ہے۔ ‘‘

’’اوہ ہو‘‘

’’آہستہ بولو۔ دیکھو بچی جاگ پڑی!‘‘

’’اللہ اللہ۔ اللہ جی اللہ۔ اللہ اللہ۔ اللہ جی اللہ۔ سو جاؤ بیٹے سو جاؤ۔ اللہ، اللہ۔ اللہ جی اللہ۔ خدا کی قسم آپ بہت تنگ کرتے ہیں، دن بھر کی تھکی ماندی کو سونے تو دیجیے!‘‘

’’اللہ، اللہ۔ اللہ جی، اللہ۔ اللہ اللہ۔ اللہ جی اللہ۔ تمہیں اچھی طرح سلانا بھی نہیں آتا۔ ‘‘

’’آپ کو تو آتا ہے نا۔ سارا دن آپ گھرمیں رہ کر یہی تو کرتے رہتے ہیں‘‘

’’بھئی میں سارا دن گھر میں کیسے رہ سکتا ہوں۔ جب فرصت ملتی ہے آجاتا ہوں اور تمہارا ہاتھ بٹا دیتا ہوں۔ ‘‘

’’میرا ہاتھ بٹانے کی آپ کو کوئی ضرورت نہیں۔ آپ مہربانی کرکے گھر سے باہر اپنے دوستوں ہی کے ساتھ گلچھڑے اڑایا کریں۔ ‘‘

’’گل چھڑے؟‘‘

’’میں زیادہ باتیں نہیں کرنا چاہتی‘‘

’’اچھا دیکھو، میری ایک بات کا جواب دو۔ ‘‘

’’خدا کے لیے مجھے تنگ نہ کیجیے۔ ‘‘

’’کمال ہے میں کہاں جاؤں‘‘

’’جہاں آپ کے سینگ سمائیں چلے جائیے‘‘

’’لو اب ہمارے سینگ بھی ہو گئے‘‘

’’آپ چپ نہیں کریں گے‘‘

’’نہیں۔ میں آج بولتا ہی رہوں گا۔ خود سوؤں گا نہ تمہیں سونے دونگا‘‘

’’سچ کہتی ہوں، میں پاگل ہو جاؤں گی۔ لوگو یہ کیسا آدمی ہے۔ کچھ سمجھتا ہی نہیں۔ بس ہر وقت۔ ہر وقت۔ ہر وقت۔ ‘‘

’’تم ضرور تمام بچیوں کو جگا کر رہو گی۔ ‘‘

’’نہ پیدا کی ہوتیں اتنی!‘‘

’’پیدا کرنے والا میں تو نہیں ہوں۔ یہ تو اللہ کی دین ہے۔ اللہ، اللہ۔ اللہ جی، اللہ، اللہ۔ اللہ جی، اللہ۔ ‘‘

’’بچی کو اب میں نے جگایا تھا؟‘‘

’’مجھے افسوس ہے!‘‘

’’افسوس ہے، کہہ دیا۔ چلو چھٹی ہوئی۔ گلا پھاڑ پھاڑ کرچلائے چلے جا رہے ہیں۔ ہمسائیگی کا کچھ خیال ہی نہیں لوگ کیا کہیں گے اسکی پروا ہی نہیں۔ خدا کی قسم میں عنقریب ہی دیوانی ہو جاؤں گی!‘‘

’’دیوانے ہوں تمہارے دشمن‘‘

’’میری جان کے دشمن تو آپ ہیں‘‘

’’تو خدا مجھے دیوانہ کرے‘‘

’’وہ تو آپ ہیں!‘‘

’’میں دیوانہ ہوں، مگر تمہارا‘‘

’’اب جونچلے نہ بگھاریئے‘‘

’’تم تو نہ یوں مانتی ہو نہ ووں‘‘

’’میں سونا چاہتی ہوں‘‘

’’سو جاؤ، میں پڑا بکواس کرتا رہوں گا‘‘

’’یہ بکواس کیا اشد ضروری ہے‘‘

’’ہے تو سہی۔ ذرا ادھر دیکھو۔ ‘‘

’’میں کہتی ہوں، مجھے تنگ نہ کیجیے۔ میں رو دوں گی‘‘

’’تمہارے دل میں اتنی نفرت کیوں پیدا ہو گئی۔ میری ساری زندگی تمہارے لیے ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا تمہیں کیا ہو گیا ہے۔ مجھ سے کوئی خطا ہوئی ہو تو بتا دو۔ ‘‘

’’آپ کی تین خطائیں یہ سامنے پلنگ پر پڑی ہیں‘‘

’’یہ تمہارے کوسنے کبھی ختم نہیں ہوں گے‘‘

’’آپ کی ہٹ کب ختم ہو گی؟‘‘

’’لو بابا میں تم سے کچھ نہیں کہتا۔ سو جاؤ۔ میں نیچے چلا جاتا ہوں۔ ‘‘

’’کہاں؟‘‘

’’جہنم میں‘‘

’’یہ کیا پاگل پن ہے۔ نیچے اتنے مچھر ہیں، پنکھا بھی نہیں۔ سچ کہتی ہوں، آپ بالکل پاگل ہیں۔ میں نہیں جانے دونگی آپ کو‘‘

’’میں یہاں کیا کروں گا۔ مچھر ہیں پنکھا نہیں ہے، ٹھیک ہے۔ میں نے زندگی کے بُرے دن بھی گزارے بھی ہیں۔ تن آسان نہیں ہوں۔ سو جاؤں گا صوفے پر‘‘

’’سارا وقت جاگتے رہیں گے‘‘

’’تمہاری بلا سے‘

’’میں نہیں جانے دوں گی آپ کو۔ بات کا بتنگڑ بنا دیتے ہیں‘‘

’’میں مر نہیں جاؤں گا۔ مجھے جانے دو‘‘

’’کیسی باتیں منہ سے نکالتے ہیں!۔ خبردار جو آپ گئے!‘‘

’’مجھے یہاں نیند نہیں آئے گی‘‘

’’نہ آئے‘‘

’’یہ عجیب منطق ہے۔ میں کوئی لڑجھگڑ کر تو نہیں جارہا‘‘

’’لڑائی جھگڑا کیا ابھی باقی ہے۔ خدا کی قسم آپ کبھی کبھی بالکل بچوں کی سی باتیں کرتے ہیں۔ اب یہ خبط سر میں سمایا ہے کہ میں نیچے گرمی اور مچھروں میں جا کر سوؤں گا۔ کوئی اور ہوتی تو پاگل ہو جاتی۔ ‘‘

’’تمہیں میرا بڑا خیال ہے‘‘

’’اچھا بابا نہیں ہے۔ آپ چاہتے کیا ہیں؟‘‘

’’اب سیدھے راستے پر آئی ہو‘‘

’’چلیے ہٹیے۔ میں کوئی راستہ واستہ نہیں جانتی۔ منہ دھوکے رکھیے اپنا‘‘

’’منہ صبح دھویا جاتا ہے۔ لو، اب من جاؤ‘‘

’’توبہ!‘‘

’’ساڑھی پر وہ بورڈر لگ کر آگیا؟‘‘

’’نہیں!‘‘

’’عجب الو کا پٹھا ہے درزی۔ کہہ رہا تھا آج ضرور پہنچا دے گا۔ ‘‘

’’لے کر آیا تھا، مگر میں نے واپس کردی۔ ‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’ایک دو جگہ جھول تھے۔ ‘‘

’’اوہ۔ اچھا، میں نے کہا، کل

’’برسات‘‘

دیکھنے چلیں گے۔ میں نے پاس کا بندوبست کرلیا ہے۔ ‘‘

’’کتنے آدمیوں کا؟‘‘

’’دو کا۔ کیوں؟‘‘

’’باجی بھی جانا چاہتی تھیں۔ ‘‘

’’ہٹاؤ باجی کو پہلے ہم دیکھیں گے پھر اس کو دکھا دیں گے۔ پہلے ہفتے میں پاس بڑی مشکل سے ملتے ہیں۔ چاندنی رات میں تمہارا بدن کتنا چمک رہا ہے‘‘

’’مجھے تو اس چاندنی سے نفرت ہے۔ کم بخت آنکھوں میں گھستی ہے۔ سونے نہیں دیتی‘‘

’’تمہیں تو بس ہر وقت سونے ہی کی پڑی رہتی ہے‘‘

’’آپ کو بچیوں کی دیکھ بھال کرنا پڑے تو پھر پتا چلے۔ آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا۔ ایک کے کپڑے بدلو، تو دوسری کے میلے ہو جاتے ہیں۔ ایک کو سلاؤ، دوسری جاگ پڑتی ہے، تیسری نعمت خانے کی غارتگری میں مصروف ہوتی ہے۔ ‘‘

’’دو نوکر گھر میں موجود ہیں‘‘

’’نوکر کچھ نہیں کرتے‘‘

’’لے آؤں، نیچے سے؟‘‘

’’جلدی جائیے رونا شروع کردیگی‘‘

’’جاتا ہوں!‘‘

’’میں نے کہا، سنئے۔ آگ جلا کر ذرا کنکنا کرکیجیے گا دودھ‘‘

’’اچھا، اچھا۔ سن لیا ہے!‘‘

سعادت حسن منٹو

جون1950ء

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مکان
  • جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں
  • سوچ کی غلامی
  • دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
آصف نے کہا
پچھلی پوسٹ
اعجاز جاں دہی ہے ہمارے کلام کو

متعلقہ پوسٹس

سب کے سامنے اپناؤ ورنہ بھاڑ میں جاؤ

اپریل 14, 2021

زندگی گزارنے کا ہنر

اپریل 22, 2025

مشہور علماء کے تعارف

دسمبر 6, 2025

بیرسے ذائقہ بھی فائدہ بھی

نومبر 28, 2021

ہارنا نہیں کوشش نہ کرنا جرم ہے

جولائی 5, 2026

مملکت پاکستان کے عظیم فلسفی شاعر!

جون 6, 2024

بدترین جانوروں کا مسکن

دسمبر 13, 2019

روپا

فروری 14, 2022

شیشہ گھاٹ

جون 15, 2020

بائی فوکل کلب

اکتوبر 22, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جلاوطن

جون 3, 2023

رشتہ ایسا ہونا چاہیے

نومبر 22, 2022

بادشاہ چیل

جنوری 24, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں