خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباہم کمزور نہیں ہیں !
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

ہم کمزور نہیں ہیں !

از سائیٹ ایڈمن جون 27, 2022
از سائیٹ ایڈمن جون 27, 2022 0 تبصرے 78 مناظر
79

کرونا نے سب سے زیادہ متاثران لوگوں کو کیا جو کمزور تھے ، یہ کمزوری عصابی اور جسمانی دونوں طرح کی تھی ۔ یہاں یہ مقولہ بھی صادق ہوتا دیکھا گیا کے جو ڈر گیا وہ مرگیا اور باقاعدہ مر گیا ۔ انسان کو اپنی صلاحتوں سے آگہی تک رسائی آسانی سے نہیں ملتی اگر ایسا ممکن ہوتا ہے تو وہ گنتی لوگ ہوتے ہیں ۔ عمومی مثال ہے کہ ایک گاڑی کا صحیح کرنے والا یا پھر ایک طبیب (انسانی مشین کو ٹھیک کرنے والا) جس کیلئے آپ گھنٹوں انتظار کرتے ہیں یقینا اس کی کوئی خاص وجہ وہوگی یا پھر یونہی ۔ قدرت نے تو واضح طور پر بتا دیا ہے کہ انسان قدرت کی تخلیق میں (جس کا کوئی شمار نہیں ہے) سب سے افضل مرتبے پر فائز ہے ۔ بدقسمتی سے انسان تو بہت ہی چھوٹے سے نظام میں کسی خاص مرتبے کی چاہ میں اس دار فانی سے کوچ کرجاتا ہے یعنی دنیا میں اپنے ہونے کا مقصد جانے بغیر ہی ، قدرت کی عطاء کی گئی برتری کے مزے لئے بغیر ہی چار کاندھوں پر قبر کی نظر ہوجاتا ہے ۔

تاریخِ انسانی میں اس بات کے واضح ثبوت ملتے ہیں کہ انسانوں کو مخصوص نظریوں کی تائد کرانے کیلئے کوششیں کی جاتی رہی ہیں ، مخصوص نظاموں کے نفاذ کیلئے تیار بھی کیا گیا ۔ اپنے مختلف مضامین میں ا س حقیقت پر بارہا روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ قدرت کے دئے گئے اعلی منصب تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش ہر کوئی نہیں کرتا اور اگر کرتا بھی ہے تو اسے رسائی اسکی کوشش کے حساب سے دے دی جاتی ہے یعنی جس نے حقِ بندگی ادا کی اسے اسکی بندگی کا صلہ دے دیا گیا ۔ کوئی بڑی مشکل سے حدود و قیود سے ماورا ہوکر اس منصب پر پہنچنے کی سعی کرتا ہے پھر قدرت اسے مرتبہ بھی اس کی کوشش کے عین مطابق دے دیتی ہے اور شائد اپنی حدود و قیود میں داخل کرلیتی ہے ۔

انسان کی بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ ذاتی تگ و دو سے محروم رہتا ہے یعنی جاننے کی کوشش صرف اتنی بروئے کار لاتا ہے جتنی کے وہ با آسانی ہضم کرسکے ۔ یقینا قدرت نے انسان کے اندر ایسے آلات نصب کر رکھے ہیں جنہیں ہم عام طور پرمحسوس کرنے والا آلہ( sensor )کہتے ہیں جو کسی غیر مناسب روئیے یا عمل پر شور مچانا شروع کر دیتے ہیں ۔ سائنسدانوں نے جو مختلف محسوس کرنے والے آلات (sensors) بنائے ہیں ان تک رسائی انسان میں موجود یا نصب شدہ محسوس کرنے والے آلات سے متاثر ہوکر ہی ایجاد کئے ہیں ۔ واضح کرتے چلتے ہیں کہ انسانوں میں نصب کئے ہوئے یہ محسوس کرنے والے آلات کون سے ہیں ، کسی بھی گرم یا سرد شے کو چھونے سے فوراً پتہ چل جاتا ہے ، کڑوی اور میٹھی شے کا پتہ چلا لیتے ہیں ، خوش و بد بو کا فرق جان لیتے ہیں ، اچھی اور بری آوازوں میں تفریق کرلیتے ہیں ۔ اپنے انجام سے بے خبر چلتا رہتا ہے ۔ خواہشوں کی غلامی انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے ۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کے اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے اور وہ تو وقت اور حالات کی وجہ سے محتاط رویہ اختیار کیا ہوا ہے تو وہ حقیقت میں ناصرف اپنے آپ سے بلکہ سب سے غلط بیانی کر رہا ہوتا ہے جس پر سے پردہ آخر کار اٹھ ہی جاتا ہے ۔ ہ میں گناہوں میں اس طرح سے مبتلا ء کردیا گیا ہے کہ اگر کوئی ہ میں انکی حقیقت بتائے اور انہیں کرنے سے روکے تو لگتا ہے کہ انہیں نا کرنے سے گناہ ہوجائے گا اسکی بنیادی وجہ یہ کہ ایک عمل نسل در نسل چلا آرہا ہوتا ہے تو اسے بدلنے کیلئے آپکی فطرت اجازت نہیں دیتی ، اس بات کی مماثلت ہمارے پیارے نبی ﷺ کے دور سے چلی آرہی ہے جب آپ ﷺ کے عزیز و اقارب یہ جانتے ہوئے کے آپ ﷺ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ سراسر سچ اور حق ہے لیکن اپنی شان و شوکت جو انہیں انکے آباءو اجداد سے ورثے میں ملی تھی کیسے چھوڑ سکتے تھے اور لامحالہ وہ وہی کرتے رہے جو وہ کرتے تھے ۔

جب آپ سمجھوتا کرلیتے ہو تو کمزور ہوجاتے ہو، سمجھوتا کرنے کیلئے یہ ضروری نہیں کہ آپ کمزور ہیں تو اسلئے آپ پر فرض ہے کہ آپ سمجھوتا کریں کیونکہ آپ یہ سوچ لیتے ہو کہ اگر سمجھوتا نہیں کیا تو زبردستی ہم سے یہ بات منوالی جائے گی جب اختیار موجود ہے تو عافیت اسی میں ہوتی ہے اسے استعمال کرلیا جائے بصورت دیگر طاقتور اپنا چاہا تو کر کے ہی رہے گا ۔ ہم نے ایک مضمون لکھا تھا من کا بھوت بنگلہ ، جس میں یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی تھی کہ ہم اپنے اندر خیالات سے پیدا کئے گئے خوف پالتے ہیں اور انکی خوب پرورش کرتے ہیں اور اس خوف کا عظیم ترین مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ ہ میں فقط غلام بنا کردنیا کے سامنے پیش کرتا رہے ۔

آج ہماری ایمانی کمزوری ہماری معاشرتی ، معاشی اور اخلاقی کمزرویوں کی صورت میں کھل کر سامنے آچکی ہیں اور ہم اپنی بے بسیوں کا رونا گانا ساری دنیا کے سامنے کرتے دیکھائی دے رہے ہیں ۔ اس کے برعکس تاریخ واشگاف الفاظ میں گواہی دیتی سنائی دے رہی ہے کہ کتنے تلخ حالات محدود ترین بلکہ نا ہونے کے برابر وسائل کیساتھ حضرت محمد مصطفی ﷺ اور انکے اصحاب  نے آدھی سے زیادہ دنیا پر ناصرف حکمرانی کر کے دیکھائی اور لوگوں کے دلوں پرتاقیامت تک راج کرتے رہیں گے ۔ آج ساری دنیا بلخصوص ترقی یافتہ اقوام میں آپﷺ کی قائدانہ صلاحتوں کا ڈنکا بج رہا ہے اور ڈنکا وہ بجا رہے ہیں جنہوں نے ان تمام نظاموں پر تحقیق کی جنہیں دنیا میں نافذ کرنے کی کوشش کی گئی اور کی جارہی ہے ۔ کمزوری کا تعلق غربت سے بلاواسطہ جوڑا جاسکتا ہے کیونکہ جب انسان کے پاس کھانے کیلئے غذا نہیں اور بیماری میں دوا نہیں ہوگی تو انسان کمزور ہی ہوتا جائے گا ۔ حکم الامت حضرت علامہ محمد اقبال  نے بے خوفی کی کیا خوب وضاحت کر دی ہے کہ

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

ہم نے اللہ کا دیا ہوا انعام یہ سرزمین پاکستان اپنی خواہشات کے عوض گروی رکھ چھوڑی ہے اور ان خواہشوں کی تکمیل کیلئے اس آگ کی بھٹی میں عوام نے جلنا ہے ۔ عوام نے اس وقت تک جلنا ہے جب تک اپنی کمزوری کو اپنی طاقت نہیں بنا لیتے اور اپنے ملک کے فیصلے اپنے لوگوں کی فلاح کے فیصلے اپنے وسائل اور اپنی قوت ارادی اور خوداری کے فلسفے اپنی سرزمین پر نہیں ہونے لگتے ۔ ہ میں یقین کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم کمزور نہیں ہیں ہ میں باقاعدہ کمزور کیا گیا ہے ، اب ہ میں ان گرہوں کو کھولنا ہے جنہیں لسانیت، فرقہ واریت وغیرہ کے نام دے کرہمارے درمیان لگائی گئی ہیں اور ہ میں بانٹا گیا ہے ۔ اللہ پر یقین رکھیں اس نے ہ میں کمزور نہیں بنایا اور ناہی وہ ہ میں کمزور دیکھنا چاہتا ہے ، بس ضرورت اس پر یقین کی ہے پھر سب گرہیں کھل جائیں گی پھر سب راستے ہمارے ہونگے ۔ ان شاء اللہ ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اطاعت محبوب ﷺ
  • بسترِ گُل
  • حج اکبر
  • دنیا کا رنگ ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
من کا بھوت بنگلہ !
پچھلی پوسٹ
مقصد ِحیات

متعلقہ پوسٹس

مصوّر

نومبر 6, 2020

ادب،ناول اور معاشرے کا باہم اتصال

جولائی 12, 2023

زباں نہ بول سکی جو، مرا قلم فرمائے

جون 14, 2020

دعا آثار شمعیں دے گیا ہے

اگست 23, 2020

زندگی محبت اور ذلت کی آمیزش ہے

فروری 26, 2024

سانپ ہوں نا، اس لئے

جون 27, 2025

تم جان اگر ہو تو رگ جاں بھی تم ہی...

نومبر 3, 2021

ہندوستانی فلموں کے سو سال

مئی 25, 2024

قلم کی نوک پہ رکھوں گا

جنوری 5, 2025

موت کچھ آسان ہوتی جا رہی

نومبر 30, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آم

نومبر 5, 2019

دفن

جنوری 24, 2020

عید قربان معارف و اسباق

جولائی 31, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں