خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباہم کمزور نہیں ہیں !
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

ہم کمزور نہیں ہیں !

از سائیٹ ایڈمن جون 27, 2022
از سائیٹ ایڈمن جون 27, 2022 0 تبصرے 62 مناظر
63

کرونا نے سب سے زیادہ متاثران لوگوں کو کیا جو کمزور تھے ، یہ کمزوری عصابی اور جسمانی دونوں طرح کی تھی ۔ یہاں یہ مقولہ بھی صادق ہوتا دیکھا گیا کے جو ڈر گیا وہ مرگیا اور باقاعدہ مر گیا ۔ انسان کو اپنی صلاحتوں سے آگہی تک رسائی آسانی سے نہیں ملتی اگر ایسا ممکن ہوتا ہے تو وہ گنتی لوگ ہوتے ہیں ۔ عمومی مثال ہے کہ ایک گاڑی کا صحیح کرنے والا یا پھر ایک طبیب (انسانی مشین کو ٹھیک کرنے والا) جس کیلئے آپ گھنٹوں انتظار کرتے ہیں یقینا اس کی کوئی خاص وجہ وہوگی یا پھر یونہی ۔ قدرت نے تو واضح طور پر بتا دیا ہے کہ انسان قدرت کی تخلیق میں (جس کا کوئی شمار نہیں ہے) سب سے افضل مرتبے پر فائز ہے ۔ بدقسمتی سے انسان تو بہت ہی چھوٹے سے نظام میں کسی خاص مرتبے کی چاہ میں اس دار فانی سے کوچ کرجاتا ہے یعنی دنیا میں اپنے ہونے کا مقصد جانے بغیر ہی ، قدرت کی عطاء کی گئی برتری کے مزے لئے بغیر ہی چار کاندھوں پر قبر کی نظر ہوجاتا ہے ۔

تاریخِ انسانی میں اس بات کے واضح ثبوت ملتے ہیں کہ انسانوں کو مخصوص نظریوں کی تائد کرانے کیلئے کوششیں کی جاتی رہی ہیں ، مخصوص نظاموں کے نفاذ کیلئے تیار بھی کیا گیا ۔ اپنے مختلف مضامین میں ا س حقیقت پر بارہا روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ قدرت کے دئے گئے اعلی منصب تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش ہر کوئی نہیں کرتا اور اگر کرتا بھی ہے تو اسے رسائی اسکی کوشش کے حساب سے دے دی جاتی ہے یعنی جس نے حقِ بندگی ادا کی اسے اسکی بندگی کا صلہ دے دیا گیا ۔ کوئی بڑی مشکل سے حدود و قیود سے ماورا ہوکر اس منصب پر پہنچنے کی سعی کرتا ہے پھر قدرت اسے مرتبہ بھی اس کی کوشش کے عین مطابق دے دیتی ہے اور شائد اپنی حدود و قیود میں داخل کرلیتی ہے ۔

انسان کی بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ ذاتی تگ و دو سے محروم رہتا ہے یعنی جاننے کی کوشش صرف اتنی بروئے کار لاتا ہے جتنی کے وہ با آسانی ہضم کرسکے ۔ یقینا قدرت نے انسان کے اندر ایسے آلات نصب کر رکھے ہیں جنہیں ہم عام طور پرمحسوس کرنے والا آلہ( sensor )کہتے ہیں جو کسی غیر مناسب روئیے یا عمل پر شور مچانا شروع کر دیتے ہیں ۔ سائنسدانوں نے جو مختلف محسوس کرنے والے آلات (sensors) بنائے ہیں ان تک رسائی انسان میں موجود یا نصب شدہ محسوس کرنے والے آلات سے متاثر ہوکر ہی ایجاد کئے ہیں ۔ واضح کرتے چلتے ہیں کہ انسانوں میں نصب کئے ہوئے یہ محسوس کرنے والے آلات کون سے ہیں ، کسی بھی گرم یا سرد شے کو چھونے سے فوراً پتہ چل جاتا ہے ، کڑوی اور میٹھی شے کا پتہ چلا لیتے ہیں ، خوش و بد بو کا فرق جان لیتے ہیں ، اچھی اور بری آوازوں میں تفریق کرلیتے ہیں ۔ اپنے انجام سے بے خبر چلتا رہتا ہے ۔ خواہشوں کی غلامی انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے ۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کے اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے اور وہ تو وقت اور حالات کی وجہ سے محتاط رویہ اختیار کیا ہوا ہے تو وہ حقیقت میں ناصرف اپنے آپ سے بلکہ سب سے غلط بیانی کر رہا ہوتا ہے جس پر سے پردہ آخر کار اٹھ ہی جاتا ہے ۔ ہ میں گناہوں میں اس طرح سے مبتلا ء کردیا گیا ہے کہ اگر کوئی ہ میں انکی حقیقت بتائے اور انہیں کرنے سے روکے تو لگتا ہے کہ انہیں نا کرنے سے گناہ ہوجائے گا اسکی بنیادی وجہ یہ کہ ایک عمل نسل در نسل چلا آرہا ہوتا ہے تو اسے بدلنے کیلئے آپکی فطرت اجازت نہیں دیتی ، اس بات کی مماثلت ہمارے پیارے نبی ﷺ کے دور سے چلی آرہی ہے جب آپ ﷺ کے عزیز و اقارب یہ جانتے ہوئے کے آپ ﷺ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ سراسر سچ اور حق ہے لیکن اپنی شان و شوکت جو انہیں انکے آباءو اجداد سے ورثے میں ملی تھی کیسے چھوڑ سکتے تھے اور لامحالہ وہ وہی کرتے رہے جو وہ کرتے تھے ۔

جب آپ سمجھوتا کرلیتے ہو تو کمزور ہوجاتے ہو، سمجھوتا کرنے کیلئے یہ ضروری نہیں کہ آپ کمزور ہیں تو اسلئے آپ پر فرض ہے کہ آپ سمجھوتا کریں کیونکہ آپ یہ سوچ لیتے ہو کہ اگر سمجھوتا نہیں کیا تو زبردستی ہم سے یہ بات منوالی جائے گی جب اختیار موجود ہے تو عافیت اسی میں ہوتی ہے اسے استعمال کرلیا جائے بصورت دیگر طاقتور اپنا چاہا تو کر کے ہی رہے گا ۔ ہم نے ایک مضمون لکھا تھا من کا بھوت بنگلہ ، جس میں یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی تھی کہ ہم اپنے اندر خیالات سے پیدا کئے گئے خوف پالتے ہیں اور انکی خوب پرورش کرتے ہیں اور اس خوف کا عظیم ترین مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ ہ میں فقط غلام بنا کردنیا کے سامنے پیش کرتا رہے ۔

آج ہماری ایمانی کمزوری ہماری معاشرتی ، معاشی اور اخلاقی کمزرویوں کی صورت میں کھل کر سامنے آچکی ہیں اور ہم اپنی بے بسیوں کا رونا گانا ساری دنیا کے سامنے کرتے دیکھائی دے رہے ہیں ۔ اس کے برعکس تاریخ واشگاف الفاظ میں گواہی دیتی سنائی دے رہی ہے کہ کتنے تلخ حالات محدود ترین بلکہ نا ہونے کے برابر وسائل کیساتھ حضرت محمد مصطفی ﷺ اور انکے اصحاب  نے آدھی سے زیادہ دنیا پر ناصرف حکمرانی کر کے دیکھائی اور لوگوں کے دلوں پرتاقیامت تک راج کرتے رہیں گے ۔ آج ساری دنیا بلخصوص ترقی یافتہ اقوام میں آپﷺ کی قائدانہ صلاحتوں کا ڈنکا بج رہا ہے اور ڈنکا وہ بجا رہے ہیں جنہوں نے ان تمام نظاموں پر تحقیق کی جنہیں دنیا میں نافذ کرنے کی کوشش کی گئی اور کی جارہی ہے ۔ کمزوری کا تعلق غربت سے بلاواسطہ جوڑا جاسکتا ہے کیونکہ جب انسان کے پاس کھانے کیلئے غذا نہیں اور بیماری میں دوا نہیں ہوگی تو انسان کمزور ہی ہوتا جائے گا ۔ حکم الامت حضرت علامہ محمد اقبال  نے بے خوفی کی کیا خوب وضاحت کر دی ہے کہ

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

ہم نے اللہ کا دیا ہوا انعام یہ سرزمین پاکستان اپنی خواہشات کے عوض گروی رکھ چھوڑی ہے اور ان خواہشوں کی تکمیل کیلئے اس آگ کی بھٹی میں عوام نے جلنا ہے ۔ عوام نے اس وقت تک جلنا ہے جب تک اپنی کمزوری کو اپنی طاقت نہیں بنا لیتے اور اپنے ملک کے فیصلے اپنے لوگوں کی فلاح کے فیصلے اپنے وسائل اور اپنی قوت ارادی اور خوداری کے فلسفے اپنی سرزمین پر نہیں ہونے لگتے ۔ ہ میں یقین کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم کمزور نہیں ہیں ہ میں باقاعدہ کمزور کیا گیا ہے ، اب ہ میں ان گرہوں کو کھولنا ہے جنہیں لسانیت، فرقہ واریت وغیرہ کے نام دے کرہمارے درمیان لگائی گئی ہیں اور ہ میں بانٹا گیا ہے ۔ اللہ پر یقین رکھیں اس نے ہ میں کمزور نہیں بنایا اور ناہی وہ ہ میں کمزور دیکھنا چاہتا ہے ، بس ضرورت اس پر یقین کی ہے پھر سب گرہیں کھل جائیں گی پھر سب راستے ہمارے ہونگے ۔ ان شاء اللہ ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اس نے کہا
  • جب پڑے آنکھ, ہاتھ, کنکر پر
  • کبھی نہ لٙوٹ کے آنے کی بات کرتے ہوئے
  • سید علی عباس جلالپوری:شخصیت و فن
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
من کا بھوت بنگلہ !
پچھلی پوسٹ
مقصد ِحیات

متعلقہ پوسٹس

21 فروری عالمی یوم مادری زبان!

فروری 21, 2021

ذرا سی دیر ٹھہر کر سوال کرتے ہیں

مئی 9, 2020

ستارے سے ستارا مل رہا ہے

مارچ 26, 2020

شراب

جنوری 5, 2018

کتاب بازار

جون 5, 2024

اوائل جنوری

جون 12, 2025

شاعری کرتے ہوئے تازہ خیالوں کے بغیر

اکتوبر 16, 2025

دلاسے بیچنے آتی ہے

دسمبر 26, 2024

وہ جسے خام خیالی کا

اپریل 2, 2025

پی آئی اے کی نجکاری

دسمبر 25, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

حافظ نعیم الرحمن کے لیے اہم...

اگست 13, 2024

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سوات زخموں سے نڈھال

اکتوبر 9, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں