خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباسوات زخموں سے نڈھال
آپکا اردو بابااردو نظمشعر و شاعری

سوات زخموں سے نڈھال

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 9, 2022
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 9, 2022 0 تبصرے 103 مناظر
104

احمد فواد کا اصل نام فرید احمد ہے۔ آپ 1954ء میں شاہ پور ضلع سوات میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مدرسے سے حاصل کی۔ حیدرآباد بورڈ سے میٹرک کیا۔ بی اے آنرز، تاریخ اور انگلش ادب میں ایم اے کراچی یونیورسٹی سے کیا۔ ان کی مادری زبان پشتو ہے۔ اردو، عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں پر دسترس حاصل ہے۔ فرنچ زبان میں بھی شدھ بدھ رکھتے ہیں۔ شاعری کا آغاز ساتویں جماعت سے کیا۔ کراچی یونیورسٹی میں ان کی شاعری کے چرچے سنے جانے لگے تھے۔ اس کے بعد کراچی یونیورسٹی سے باہر ادبی حلقوں میں ان کی شاعری کی باز گشت سنائی دینے لگی۔ اپنی منفرد شاعری کی بنا پر انہیں ادبی حلقوں میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ زمانۂ طالب علمی میں آپ کراچی سے نکلنے والے اخبار روزنامہ جسارت، نوائے وقت اور روزنامہ وقت سے منسلک رہے۔ اس وقت آپ جہانزیب کالج سیدوشریف میں انگلش ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ آپ روزنامہ امت کراچی میں کالم بھی لکھتے رہے ہیں۔ احمد فواد کی تین کتابیں۔ ۔ ۔ ’’ یہ کوئی کتاب نہیں‘‘، ’’ دل ورق ورق تیرا‘‘ اور ’’ایک جانب چاندنی‘‘ اردو میں جب کہ ایک شعری مجموعہ پشتو زبان میں زیور طبع سے آراستہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے ایک ناول بھی لکھا ہے۔ ان کا کلام ملاکنڈ یونیورسٹی کے ایم اے اردو کے کورس میں بھی شامل ہے۔

"سوات زخموں سے نڈھال” ان کا تازہ کلام ہے۔ یہ ایک طویل نظم ہے جسے مئی 2009 کے اوائل میں اس وقت لکھنا شروع کیا جب سوات آپریشن کی وجہ سے انہیں اور لوگوں کی طرح سوات سے نکلنا پڑا ۔ جون 2009 کے وسط میں یہ نظم پایۂ تکمیل کو پہنچی۔

یہ نظم نہیں، سوات کا نوحہ ہے۔ بین السطور بہت کچھ کہا گیا ہے۔ آپ کی خدمت میں پیش ہے

پڑ رہی ہے ایسی ہر جانب سے مار
ہے یہ دامن تار تار
دھول بن کر اڑ رہا ہے سب وہ پھولوں کا د یار

گھاٹیاں فردوس صورت وادیاں جنّت مثال
ہنستی گاتی بستیاں سب چپ ہیں مرگھٹ کی طرح
خوشبوؤں کا دیس تھا پھولوں کا مسکن تھا یہیں
قریہ قریہ قصبہ قصبہ خون میں لت پت پڑا ہے آجکل
عظمت رفتہ کا آئینہ یہ والی کا محل
دل گرفتہ مضمحل تنہا کھڑا ہے آجکل
اب بھی ان اونچے چناروں کو بہت اچھی طرح سے یاد ہے
وہ گزشتہ دور وہ جاہ و جلال
دھوپ کی سرمستیاں بھی ان سے پوشیدہ نہیں
چاند کی سرگوشیوں کا راز بھی معلوم ہے
وہ حسیں شامیں کہاں ہیں وہ سویرے کیا ہوئے
ندّیاں کیوں گنگ ہیں پھولوں کے ڈیرے کیا ہوئے
سوات زخموں سے نڈھال

گولیوں کی سنسناہٹ کتنے ہونٹوں کا تبسم کھا گئی
آہنی گولوں کی ظالم گڑگڑاہٹ سے کہیں
نغمہ ریزی میں سدا مصروف دریا چل بسا
سوات زخموں سے نڈھال
وہ گلی کوچے جہاں پر زندگی رقصاں تھی کل
دوستوں کی ٹولیوں کا اک جہاں آباد تھا
موت کی دہشت سے ڈر کر اس طرح خاموش ہیں
جیسے ان کا لطف و مستی سے کبھی کوئی تعلق ہی نہ تھا
سوات زخموں سے نڈھال

سر کٹی لاشوں نے ان چوکوں کا ماضی کھا لیا
گولیوں کی تڑتڑاہٹ آسمانوں تک گئی
اپنے سوئے پاسبانوں تک گئی
کُوچہ کُوچہ گھوم پھر کر
موت کے قدموں نے سارے شہر کو اپنا لیا
سوات زخموں سے نڈھال

دوستوں کا دشمنوں کا جاننا ممکن نہیں
اک گھنا جنگل ہے جس میں رات دن محبوس ہیں
آشنا مانوس چہرے سارے نامانوس ہیں
زندہ بچنے والے اک اک سانس سے مایوس ہیں
سوات زخموں سے نڈھال

خوبصورت کل کا سندیسہ لئے کچھ لوگ پُر اُمید ہیں
بابِ مستقبل سے نکلے گا کسی دن آفتاب
چھین لے گا آج کے مکروہ چہرہ سے نقاب
’’کیوں جہنم بن گئی جنّت مری
کس لئے آئی ہے یہ شامت مری‘‘
کیا رہے گا تا قیامت لا جواب
خاک میں ملتے ہوئے ہونٹوں کا یہ زندہ سوال
سوات زخموں سے نڈھال
وہ فضا گٹ ہے فضا گٹ اب نہ وہ بحرین ہے
جس جگہ سُکھ چین تھا
ہر اس جگہ فریاد ہے اک بین ہے
وادئ کالام یارو وادئ آلام ہے
سوات زخموں سے نڈھال

جس زمیں کی وجہِ شہرت سیب کے باغات تھے
اب وہاں بربادیوں کا راج ہے
ہر گھڑی واں خوف کی اک فصل کٹنے کے لیے تیار ہے
صبح رہتی تھی جہاں دن بھر وہاں اب شام ہے
پھول سے چہروں کا کتنا ہولناک انجام ہے
سوات زخموں سے نڈھال

چُپ نہیں کانجو، کبل کالاکلے
اپنی اپنی داستانیں کہہ رہے ہیں گھر جلے
یہ شکستہ بام و در کل تک سبھی آباد تھے
روزمرّہ کے ہزاروں کام دھندے چل رہے تھے ہر طرف
اپنی قسمت پر یہاں کے رہنے والے مطمئن تھے شاد تھے
سوات زخموں سے نڈھال

ان گنت زخموں سے چکنا چور ہیں کوہ و دمن
ٹوٹے پھوٹے پل ہیں اب سڑکوں کے سینے چاک ہیں
راکھ جسموں پر مَلے چپ چاپ ہیں سرو و سمن
رستم و سہراب کل کے سب خس و خاشاک ہیں

دیدہ و نادیدہ ہاتھوں نے بہت ادنیٰ مقاصد کے لیے
ایک دل کش شکل و صورت کو بنا ڈالا ہے اتنا خوفناک
سوات زخموں سے نڈھال

اپنی ساری بستیاں تاراج کر کے اس طرح
دشمنوں کو دے رہے ہیں اپنی طاقت کا ثبوت
یہ جہاں جنگل ہے یاں عزّت سے رہنے کے لیے
مانگتے ہیں ہر قدم پر عزم و ہمّت کا ثبوت
آپ تمغے دیکھئے اور داد دیتے جائیے
اور مت مانگیں کسی سے یاں شجاعت کا ثبوت
صرف اِک دعویٰ ہے جس پر احتیاطاً چپ ہیں سب
سامنے لاتے نہیں وہ کوئی غیرت کا ثبوت
سوات زخموں سے نڈھال

سو رہے تھے یا کہیں کچھ کام میں مصروف تھے
کہہ رہے ہیں مرنے والے سب نہتّے لوگ تھے
گاؤں کے اک گھر سے نکلی جب جنازوں کی قطار
کر دیا ہے اس نے یہ ماحول سارا سوگوار
چیختا چنگھاڑتا وہ توپ کا گولہ گرا
جس سے گل باچا کا یہ پورا گھرانا جل بجھا
پانچ بچّے ایک بیوی ساتھ میں ماں باپ بھی
موت کی وادی میں جل کر سو گیا وہ آپ بھی
چھپ نہیں سکتے اب اس کی آنکھ سے شدّت پسند
کر دیا ہے موت کو حالات نے جِدّت پسند
گو بظاہر مرنے والے سب کے سب معصوم تھے
پر عزائم ان کے لگتا ہے بہت مذموم تھے
ٹینک یہ توپیں یہ بکتر بند یہ جنگی جہاز
ان سے پوشیدہ نہیں رہتے کبھی قسمت کے راز
بج رہا ہے ان کا ڈنکا ہر طرف اک دھوم ہے
مجرموں کا ایک اک مرکز انہیں معلوم ہے
کون بچ سکتا ہے ان جادوگروں کی مار سے
گرد کا طوفاں اٹھا وہ دیکھنا اک غار سے
شہریوں کا جنگ میں مر جانا اک معمول ہے
خود کو مستثنیٰ سمجھنا احمقوں کی بھول ہے
ایسی ظالم چیز ہے اس دور میں حربِ جدید
ثانیوں میں ایک پورا شہر ہو جائے شہید
وہ کھڑی فصلیں گئیں وہ کارخانے بجھ گئے
گھر جلے دفتر جلے سب آستانے بجھ گئے
دور سے سب بستیوں کا ہو گیا قصّہ تمام
صبح کے ہنگام آوارد ہوئی ہے ان پہ شام
طالب و مطلوب کے چکّر میں یہ پڑتے نہیں
سب کو چپ کرنے سے پہلے دو قدم بڑھتے نہیں
گاؤں سارے جاں بلب ہیں کرفیو کے طول سے
بھوک سے مرجھا گئے بچّوں کے چہرے پھول سے
ہر طرف ہر وقت نازل ہو رہا ہے وہ عذاب
مرنے والوں کو سمجھتے ہیں سبھی اب کامیاب
گولیوں کی زد میں آ جاتے ہیں سب نادان لوگ
بیوقوفی سے اٹھاتے ہیں یہاں نقصان لوگ
شہریوں کا اس طرح آزاد رہنا جرم ہے
جنگ ہے یہ اس میں سچی بات کہنا جر م ہے
سوات زخموں سے نڈھال

ہے زمیں بارود سارا آسماں بارود ہے
پہلے کیا تھا بھول جاؤ اب یہاں بارود ہے
جس جگہ یہ مسکرایا گھر کا گھر بھک سے اڑا
میری بربادی کی ساری داستاں بارود ہے
ایک اک کر کے وہ ساری بولیاں چپ ہو گئیں
اب یہاں گویا فقط آتش زباں بارود ہے
ہے فضا مغموم ساری یہ ہوا مسموم ہے
جس کے دیوانے تھے سارے وہ سماں بارود ہے
دیکھ کر آگے چلیں خود ندّیاں پگڈنڈیاں
جاننا ممکن نہیں ہے یاں کہاں بارود ہے
سوات زخموں سے نڈھال

لوگ سمجھیں گے تمہیں غدّار آؤ چپ رہو
ناخدا کرتے ہیں کب غرقاب ناؤ چپ رہو
کیمرے کے سامنے آنسو بہا نا جرم ہے
ہر طرف سے مار کھاؤ مسکراؤ چپ رہو
خود کو خود میں دفن کرنے سے قرار آ جائے گا
دوستوں کے دشمنوں کے گیت گاؤ چپ رہو
کہہ رہے ہیں اس کا پھل کھائیں گے سب اہلِ وطن
اپنی بربادی کے قصّے مت سناؤ چپ رہو
مارنے والوں کو دشمن جاننا ممکن نہیں
مرنے والوں کو کہیں پر بھول جاؤ چپ رہو
ہنستے ہنستے کھلکھلاتے پھول کیسے چپ ہوئے
دوستوں کو اب زیادہ مت رُلاؤ چپ رہو
اب تمہارے آنسوؤں کو بیچ کر کھائیں گے سب
ان کی باتوں میں کسی صورت نہ آؤ چپ رہو
سوات زخموں سے نڈھال

آدھی آبادی ہوئی اس چیز سے ذہنی مریض
کرفیو کی زد میں آ کر سارے پاگل مر گئے
اب کسی دشمن سے جان و مال کا خطرہ نہیں
آ کے دونوں سے ہمیں ’’احباب‘‘ فارغ کر گئے
لے رہے ہیں موت کو اب اک سہولت کی طرف
اپنی بے بس زندگی سے سب کے دل یوں بھر گئے
سوات زخموں سے نڈھال

حاکموں کو بھیک لانے کا بہانہ مل گیا
پھر سے یہ فن آزمانے کا بہانہ مل گیا
محفلوں میں رونے دھونے کی اجازت ہو گئی
خلوتوں میں مسکرانے کا بہانہ مل گیا
کاسۂ سائل لئے نکلیں گے پھر چاروں طرف
اک نئی دنیا بسانے کا بہانہ مل گیا
جس گلی میں گھومتے رہنے کی عادت ہے انہیں
اُس گلی میں پھر سے جانے کا بہانہ مل گیا
کھل کے پھر امداد کی برسات برسے گی یہاں
رَج کے پھر یاروں کو کھانے کا بہانہ مل گیا
دربدر لوگوں کے قصّے بک رہے ہیں ہر طرف
ساری دنیا کو رُلانے کا بہانہ مل گیا
سوات زخموں سے نڈھال

کھیت بھی خطرے میں ہے کھلیان بھی خطرے میں ہے
فصل کو روتا ہے کیا دہقان بھی خطرے میں ہے
اب نہیں ملتی کہیں اخبار میں سچّی خبر
لگ رہا ہے میڈیا کی جان بھی خطرے میں ہے
مارنے پروہ نہیں کرتے عموماً اکتفا
آنکھ بھی خطرے میں ہے یہ کان بھی خطرے میں ہے
ظاہر و باطن نشانے پر ہیں دونوں سمت سے
جان بھی خطرے میں ہے ایمان بھی خطرے میں ہے
چار دیواری میّسر ہے نہ ہے چادر یہاں
بے سرو سامان کی اب آن بھی خطرے میں ہے
گولیوں کی زد میں ہیں سارے مریض و سب طبیب
درد بھی خطرے میں ہے درمان بھی خطرے میں ہے
سوات زخموں سے نڈھال

بوریا بستر سمیٹو اپنے گھر خالی کرو
حکم آیا ہے کہ یہ سارا نگر خالی کرو
سارے لوگوں کو یہاں سے کوچ کرنا چاہئے
کل جو آئے گا یہاں اُس کل سے ڈرنا چاہئے
زندگی جیسی بھی ہو عزّت سے مرنا چاہئے
آپ چا ہو یا نہ چا ہو سب مگر خالی کرو
حکم آیا ہے کہ یہ سارا نگر خالی کرو
کل نہیں ہو گی کوئی جائے اماں
جل رہی ہوں گی یہ سار ی بستیاں
کھیت یہ کھلیاں یہ پگڈنڈیاں
اب نظر آئے نہ یاں بندہ بشر خالی کرو
حکم آیا ہے کہ یہ سارا نگر خالی کرو
سوات زخموں سے نڈھال

رونے دھونے سے نہیں ہوتا کسی دکھ کا علاج
اس مصیبت سے نکلنے کی کوئی تدبیر ہونی چاہئے
خوش نما نعروں سے دھوکہ دے رہے ہیں قوم کو
ظالموں کے ظلم کی تشہیر ہونی چاہئے
سوات زخموں سے نڈھال

گنگناتی ندّیاں فریاد میں مصروف ہیں
قہقہوں کی سر زمیں اب آنسوؤں کا دیس ہے

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خوب، روپ اور بہروپ
  • محبت حسنِ کامل ہے
  • تفہیماتِ کلیاتِ اقبال اردو
  • روپا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
وادیِ لالہ زار
پچھلی پوسٹ
چالاک عورت

متعلقہ پوسٹس

میجر عدنان: ایک زندہ روایت

ستمبر 10, 2025

کنارے دوست ہیں

اکتوبر 12, 2025

میرے دل کی راکھ کرید مت

نومبر 29, 2019

کی کیہنا ایں میرے تے اتبار نہیں

مئی 25, 2024

مرے آنسو

مارچ 11, 2025

کچھ کو صبح روشنی کچھ کو خدا دے گا چراغ

اپریل 23, 2020

علامہ اقبال کی اُردو

اکتوبر 16, 2025

عشق و عاجزی کا ڈھب ہے

مئی 29, 2024

چہچہاتے رواں پرندے ہیں

ستمبر 19, 2020

حیرت ہے کہ جو ظلم سے تقدیر بنائیں

جون 30, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

نا مکیں یہاں کے ہم

نومبر 9, 2025

جھوٹی سسکیاں

اپریل 1, 2023

کمال جوش جنوں میں رہا میں...

نومبر 16, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں