خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباچالاک عورت
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریر

چالاک عورت

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 9, 2022
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 9, 2022 0 تبصرے 30 مناظر
31

میں کہتا ہوں عورت سب کچھ ہو پر چالاک نہ ہو اور چالاک بھی ایسی کہ توبہ توبہ جو بھی سنتا ہے انگشت بدنداں رہ جاتا ہے ۔ عالیہ میری چچا زاد اور میرے بچپن کی مانگ تھی ۔ ہمارا آبائی گھر ایبٹ آباد میں تھا جبکہ والد صاحب کراچی میں پراپرٹی ڈیلنگ کا کام کرتے تھے ۔ میرے بہت بچپن میں وہ ہماری پوری فیملی کو کراچی لے آئے لیکن سردیوں گرمیوں کی چھٹیاں ہم ایبٹ آباد میں ہی گزارتے تھے ۔جوانی میں میرا شمار وجیہہ جوانوں میں ہوتا تھا گرچہ کراچی میں رہنے کی وجہ سے رنگ روپ کچھ دب سا گیا تھا مگر اسے میری خوش قسمتی کہا جاسکتا تھا کہ عالیہ کو مجھ سے شدید محبت تھی ۔ پیدا ہوتے ہی اس کے کانوں میں میرا نام پڑا تھا سو وہ نام اس کے دل پر نقش ہو گیا مجھے بھی اس سے انسیت تھی وہ ایک بےحد حسین لڑکی تھی لیکن پھر بھی میں اس سے کبھی بھی ٹوٹ کر محبت نہیں کر سکا میرے لئے یہی کافی تھا کہ وہ مجھ سے جنون کی حد تک محبت کرتی تھی ۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ شادی کے بعد بھی اس کی مجھ سے جنونی محبت کم نہ ہوئی ۔ میں اکثر آئینے میں بغور خود کو دیکھتا کہ آخر ایسی کیا بات ہے میرے چہرے میں کہ عالیہ مجھ پر اتنا مرتی ہے ۔شادی کی پہلی رات عموماً مرد اظہار محبت کرتے ہیں اور لڑکیاں سر جھکائے شرمائے سنتی رہتی ہیں لیکن ہمارا معاملہ الگ ہی ہوا وہ ساری رات اپنی محبت کا اظہار کرتی رہی اور میں حیرت زدہ سا اس کے جذبوں کی آنچ میں پگھلتا رہا اس کی ان جذباتی باتوں میں ایک بات بہت واضح تھی کہ وہ سب کچھ میری خاطر برداشت کر سکتی ہے لیکن کسی دوسری عورت کا سایہ بھی میری زندگی میں برداشت نہیں کرسکتی گو کہ اس کی چاہت کا پیمانہ میرے سامنے تھامگر اس کی یہ بات میرے حلق میں کانٹے چبھو گئی ۔ میں کبھی بھی کوئی بد کردار مرد نہیں تھا لیکن بس یہ تھا کہ اللہ کی بنائی ہوئی حسین ترین مخلوق عورت جہاں پر بھی جلوے بکھیرتی نظر آجاتی تو میری نگاہیں ان جلووں کو آداب عرض ضرور کہتی تھیں ۔

شادی شدہ زندگی کا وہ ابتدائی زمانہ بہت حسین تھا عالیہ نے مجھے ہر طرح کا سکھ دیا ۔ سچ کہوں تو اس کے زندگی میں آنے کے بعد میرے حالات بدل گئے ۔ ہے در پے کاروبار میں کامیابیاں ملیں تو چند ہی سالوں میں میں لکھ پتی سے کروڑ پتی کا سفر طے کر گیا ۔ اللہ تعالیٰ نے تین بیٹوں سے بھی نواز دیا ۔ اچھا گھر ، اچھی گاڑی ، زندگی مکمل مکمل سی لگنے لگی لیکن بس میں عالیہ کی ایک عادت سے بہت تنگ تھا وہ مذاق میں بھی میرے منہ سے کسی دوسری عورت کا نام سننے کے لئے تیار نہیں ہوتی تھی ایک بار ایک شادی میں کالی ساڑھی میں ملبوس عورت میری نگاہ اور دل میں کھب سی گئی عورتوں کے لباس میں ساڑھی میراپسندیدہ لباس ہے لیکن میں نے کبھی عالیہ کو نہیں پہننے دی کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ ساڑھی میں ملبوس عورت کو جن نگاہوں سے میں دیکھتا ہوں لوگ اسے بھی ویسی ہی نظروں سے دیکھیں گے شاید یہ میرے ذہن کا فتور ہو لیکن بس عالیہ کے لئے یہ لباس مجھے منظور نہیں تھا ۔ میرا بار بار اس عورت کو دیکھنا عالیہ سے چھپا نہیں رہ سکا اس پر شاید میرے منہ سے دوچار جملے اس کی تعریف میں بھی پھسل گئے ۔ عموما وہ میرے منہ سے کسی عورت کی تعریف سن کر الجھ پڑتی تھی لیکن اس رات اس نے عجیب طرز عمل دکھایا وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور اس عورت کی ٹیبل پر جا کر پانی سے بھرا گلاس اس کے منہ پر پھینک دیا اس عورت سمیت ہر کوئی حیرت کی تصویر بن گیا ۔ بعد ازاں محفل میں وہ تماشہ ہوا کہ اللہ کی پناہ ۔ گھر آ کر میں اس سے بہت جھگڑا وہ چپ چاپ مجھے سنتی رہی ۔ میں نے اسے کہا یہ کیا جذباتیت ہے کہ تم میرے منہ سے کسی عورت کے لیے دو تعریفی جملے نہیں سن سکتیں خدانخواستہ اگر کوئی دوسری عورت میری زندگی میں آ گئی تب تم کیا کرو گی ۔ اس نے عجیب سی نگاہوں سے مجھے دیکھا قسم خدا کی جاوید میں چپ چاپ تمہاری زندگی سے چلی جاؤں گی مگر یاد رکھنا میں تمہاری زندگی سے جا کر بھی کبھی نہیں جاؤں گی ۔ اس کی اس مبہم بات کو بھی میں صرف اس کا جذباتی پن سمجھا تھا اس کے بعد میں محتاط ہوگیا میں نے اس کے ساتھ تقریبات اور تفریحی جگہوں پر جانا بھی کم کر دیا لیکن انسان چاہے کتنا ہی اپنے دل اور نظر پر تالے ڈال لے اس کی تمام تر احتیاطیں رضائے الہی کے سامنے بیکار ہو جاتی ہیں ۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہوا ۔ عالیہ کی تنگ نظری کے باوجود میں اس کے ساتھ بہت خوش تھا اس نے بھی ازدواجی زندگی کی ہر خوشی مجھے دی ہمارے بچے بھی اب بچپن سے نکل کر جوانی کی حدود میں داخل ہو چکے تھے کہ اچانک مجھ سے اٹھارہ سال چھوٹی صبغہ میرے دل پر لگے تمام تالوں کو توڑتی میری زندگی میں چلی آئی وہ میرے کلائنٹ ریٹائرڈ میجر صدیق خان کی اکلوتی بیٹی تھی اس کے بچپن میں ہی اس کی ماں گزر گئی تھی میجر صاحب نے اسے ماں اور باپ دونوں بن کر پالا تھا اور جب سے وہ ریٹائرڈ ہوئے تھے ان کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ ہر جگہ اسے اپنے ساتھ رکھیں اس لیے جب وہ پلاٹ کی خرید و فروخت کے لئے میرے آفس آتے تو اسے بھی ساتھ لے آتے تھے وہ زیادہ تر خاموش رہتی تھی میں بھی اس سے سلام دعا سے زیادہ بات نہیں کرتا تھا پر جلد مجھے لگنے لگا وہ میرے حواسوں پر سوار ہوتی چلی جا رہی ہے کبھی کبھار جب میجر صاحب مصروف ہوتے تو وہ فون رسیو کر لیتی تھی آہستہ آہستہ فون پر بھی بات بڑھنے لگی میں خود کو روک لینا چاہتا تھا پر وہ اتنی معصوم تھی کہ مجھے حیرت ہوتی تھی ۔ بات اگر صرف میری چاہت کی ہوتی تو شاید میں خود کو روک لیتا لیکن مجھے احساس ہونے لگا تھا کہ اس کی آنکھوں میں بھی میرے لئے چاہت کے رنگ اتر آئے ہیں ۔

یک طرفہ چاہت گھٹن زدہ ہوتی ہے لیکن اگر دو طرفہ ہو جائے تو سراسر طلب ہی طلب ۔ اسی آرزو میں میں نے میجر صاحب سے صبغہ کا ہاتھ طلب کرلیا ۔ میجر صاحب کو کچھ رد و کد ہوئی پر ایک تو وہ خاصے سمجھدار انسان تھے بیٹی کی مخالفت پر نہیں اترے دوسرے میری مالی حیثیت سے مطمئن تھے اس لئے جلد ہی ہمارے نکاح کے لئے راضی ہو گئے میرے تین بہت قریبی دوستوں کی موجودگی میں نکاح ہوا جن پر مجھے پورا یقین تھا کہ وہ عالیہ کو اس بات کی ہوا بھی نہیں لگنے دیں گے میں نے صبغہ کو عالیہ کے بارے میں سب کچھ بتا دیا تھا اور یہ بھی کہہ دیا تھا کہ اسے میری تھوڑی قربت کو ہی بہت جاننا ہو گا وہ بہت اچھی لڑکی تھی چاہتی تھی کہ عالیہ اسے قبول کرلے لیکن میں جانتا تھا کہ ایسا ہونا ناممکنات میں سے ہے ۔ اسی لیے میں دن کے کسی حصے میں اس سے میجر صاحب کے بنگلے پر ہی مل آتا تھا مگر عالیہ کوئی معمولی عورت نہیں تھی بے حد چالاک تھی اس نے میرے چہرے پر خوشی اور سکون کے انوکھے رنگ تلاش کرلیے تھے اور نہایت پوشیدہ رکھنے کے باوجود میرے موبائل سے میری دہری زندگی کا راز پا گئی اس رات شدت جذبات سے اس کی طبیعت بگڑ گئی لیکن اس نے مجھ پر واضح نہیں ہونے دیا ڈاکٹروں نے بڑی مشکل سے سنبھالا ورنہ ہائی بلڈپریشر اس کی پوری زندگی کو مفلوج بھی بنا سکتا تھا ۔ میں اس کی مکمل خاموشی پر اندر ہی اندر خوفزدہ رہا لیکن چند دنوں بعد ہی مجھے اس کی جانب سے خلع کا نوٹس مل گیا میں نے اسے سمجھانے کی سر توڑ کوشش کی پر وہ اپنے فیصلے پر ڈٹی رہی اور بالآخر ہمارے درمیان علیحدگی ہوگئی ۔ وہ مجھے اور ہمارے تینوں بیٹوں کو چھوڑ کر اپنے بھائی کے پاس چلی گئی چند روز میں بہت غمگین رہا پھر گھر کا شیرازہ مکمل طور پر بکھرنے سے بچانے کے لیے صبغہ کو گھر لے آیا ۔ شروع شروع صبغہ نے میرے بیٹوں کی مخالفت جھیلی پر رفتہ رفتہ وہ اس کے اچھے سلوک کے آگے نرم پڑ گئے اس نے مجھے اور میرے گھر کو سنبھال لیا عالیہ اب بھی مجھے روز یاد آتی تھی اور کیوں نہ آتی میری زندگی کے سولہ برسوں پر صرف اور صرف اس کی حکومت رہی تھی بچے اس سے رابطے میں تھے اور ان کی بابت خیر خیریت پتہ چل جاتی تھی کاش وہ اتنی چالاک نا ہوتی اور تھوڑا برداشت سے کام لیتی تو ہم ایک اچھی زندگی گزار سکتے تھے مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی کہ یہ عورت مرد کے لیے اتنی تنگ نظر کیوں ہوتی ہے ۔ شوہر ملک سے باہر سالوں گزار آئے تو جدائی سہہ لے گی مگر دو گھڑی کسی دوسری عورت کے پاس گزار ائے تو ساتھ جینا حرام کر دے گی ۔ کیوں ، آخر کیوں ؟ اس سوال کا جواب مجھے کبھی نہ مل سکا یہان تک کہ دو سال کا عرصہ گزر گیا سب کچھ پر سکون چل رہا تھا کہ اچانک ایک روز صبغہ نے مجھے اپنے والد کی طرف چلنے کے لئے کہا اس کی دکھی حالت دیکھ کر میں سمجھا کہ شاید میجر صاحب بیمار ہوں گے لیکن جب ان کی طرف پہنچے تو انہیں ہشاش بشاش چاک و چوبند پایا وہ ان کے گلے سے لگ کر رونے لگی مجھے اس کے رونے اور میجر صاحب کے ہنس ہنس کر اسے پچکارنے پر حیرت ہوئی تبھی میرے پیچھے کسی نے سلام کیا ۔ کچھ جانی پہچانی آواز سن کر میں پلٹا تو پتھر ہوگیا ۔ وہ چالاک عورت جارجٹ کی نہایت باریک اور مہین ساڑھی باندھے اپنی پوری حشر سامانیوں کے ساتھ میرے سامنے کھڑی تھی ایک بجلی کا کوندا سا تھا جو میرے دل پر لپکا تھا میں چکرا کر صوفے پر گر سا گیا وہ چلا ک عورت اپنی رعنائیوں سمیت میرے قریب سے گزر کر میرے سسر کے پہلو میں جا بیٹھی اور وہ اسے اپنے بازو کے حلقے میں لے کر اس کا مجھ سے بطور اپنی شریک حیات تعارف کروانے لگے اسی دم عالیہ کی نگاہوں نے مجھ سے کہا یاد ہے جاوید میں نے کہا تھا نہ کہ میں تمہاری زندگی سے جا کر بھی کبھی نہیں جاؤں گی ۔ اب یہ تو میرے فرشتے بھی نہیں جانتے تھے کہ میرے نکاح سے نکل کر وہ میری بیوی کے باپ کے نکاح میں چلی جائے گی ۔ میں ٹکڑے ٹکڑے ہوتے دل کے ساتھ سوچتا رہ گیا کہ توبہ ۔۔۔ توبہ

اتنی چالاکی۔

کرن نعمان

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • لاہور کا بدلتا منظر
  • حیرت بھر کر آنکھوں میں رہ جاتے ہیں
  • یوم آزادی اور آزادی
  • کرب کی زنجیر سے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سوات زخموں سے نڈھال
پچھلی پوسٹ
کراچی کیلئے تخریبی پیکیجز

متعلقہ پوسٹس

کرنل حبیب ظاہر کا غیاب

اگست 15, 2025

کس طرح ایمان لاؤں خواب کی تعبیر پر

مئی 13, 2020

پروفیسر گوہر نوید کے تنقیدی نظریات کا جائزہ

فروری 13, 2026

لہجہ اُداس آنکھ میں پرچھائیں

مئی 19, 2020

سعادت مند ترین انسان کون ہے؟

دسمبر 16, 2025

کوئی کمی سی ہے

نومبر 3, 2020

بے قراری سی پیدا ہوئی من میں ہے

دسمبر 16, 2021

دعویٰ تو ہے اسے بھی

جون 12, 2024

محبتوں میں مجھے مشت بھر کمائی تو دے

مارچ 21, 2021

اپنے وطن میں امن و اماں

مارچ 19, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آزمائش یا سزا ( پہلا حصہ)

جون 17, 2025

ہس ہس سکھ نَل وسدے لوکی

اکتوبر 12, 2025

تیری خوشی کے واسطے میں بے...

نومبر 20, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں