100
خوشی سے دل بھی نہال ہوتا
اگر تعلق بحال ہوتا
بچھڑ کے مرنا تو عام شے ہے
بچھڑ کے جینا کمال ہوتا
ترے اشارے سے عشق میرا
ہنسی خوشی پائمال ہوتا
نہ تیرے لفظوں کے تیر لگتے
نہ میرا لہجہ نڈھال ہوتا
بس اپنے بارے جو سوچتا ہے
اسے مرا بھی خیال ہوتا
مرے مقدر کے روز و شب میں
کوئی ملن کا بھی سال ہوتا
وہ لوٹ آتا تو کیوں سمیرا
مری وفا پر سوال ہوتا
سمیرا ساجد
