خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکیا کوٹہ سسٹم پر بات ہونی چاہئے؟
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشعر و شاعریشیخ خالد زاہد

کیا کوٹہ سسٹم پر بات ہونی چاہئے؟

از سائیٹ ایڈمن اگست 19, 2020
از سائیٹ ایڈمن اگست 19, 2020 0 تبصرے 101 مناظر
102

کیا کوٹہ سسٹم پر بات ہونی چاہئے؟

بہت سے انگریزی الفاظ بطور اصطلاحات ملکِ خداداد پاکستان میں مسلط ہیں جو اس بات کی ترجمانی کرتا ہے کہ انگریز نا رہے لیکن انکی زبان انگریزی تاحال اپنا رعب و دبدباقائم کئے ہوئے ہے اور ان سے آزادی کے کوئی آثار تا حال دیکھائی نہیں دے رہے بلکہ اب تو ہم عام پاکستانی بھی خود نئی نئی اصطلاحات انگریزی ہی میں معاشرے میں روشناس کروا رہے ہیں، سوشل ڈسٹینسنگ (سماجی فاصلہ) جو ہمیں کورونا نے تحفے میں دیا ہے۔ ایسی ہی اصطلاحات میں سے ایک اصطلاح ہے کوٹہ سسٹم، بہت ممکن ہے کہ ہماری نئی نسل اس اصطلاح سے واقف ضرور ہو لیکن اس کے مطلب سے ناواقف ہو یا اسکے اثرات کو نا سمجھتی ہو۔

کوٹہ سسٹم انگریزی زبان میں رائج ایک نظام ہے، جو تقسیم ہند کے بعد ستمبر ۸۴۹۱ میں پاکستان میں نافذ کیا گیا، اسکا بنیادی مقصد کم وسائل کے علاقوں میں رہنے والوں کا حصہ زیادہ وسائل والے علاقوں میں مختص کر دیا جائے تاکہ کسی حد تک برابری لائی جا سکے اور وقت کیساتھ ہم آہنگی پیدا کی جاسکے۔ مقصد نیک تھا، جذبہ حب الوطنی کی ایک مثال تھا،وقت بدلتا رہا لیکن وسائل اس حساب سے نہیں بڑھے جس حساب سے مسائل میں اضافہ ہوا لیکن کوٹہ سسٹم جوں کا توں رائج رہا اور جب کبھی وقت آیا کہ اس نظام پر نظر ثانی کی جائے تو بغیر نظر ثانی کئے اسی طرح چلتے رہنے کی توثیق کی جاتی رہی جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ بڑے شہروں کے مقامی لوگوں کیساتھ زیادتی ہونا شروع ہوگئی۔ بڑھتی ہوئی آبادی اس بات کا تکازہ کرتی رہی کہ کوٹہ سسٹم پر مل بیٹھ کر کوئی متوازن حل نکالا جائے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس نظام سے لاہور، پشاور اور کوئٹہ کے مقامی لوگ کتنے متاثر ہوئے اندازہ لگانا ذرا مشکل کام دیکھائی دے رہا ہے لیکن سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شہر پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی بنا۔

دورِ جدید میں ایسا کوئی بھی عمل جس کی وجہ سے قابلیت کا راستہ روکا جاتا ہو اسکو بدلنا ارباب اختیار کی اولین ذمہ داری سمجھی جاتی ہے، بصورت دیگر نوجوانوں میں مایوسی اور اسکے نتیجے میں خود سوزی یا پھر خود کش بننے کا رجحان فروغ پانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور اسکی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے جوکہ بروقت ترامیم نہیں لاسکی ہوتی۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں ضرورت کے تحت گاڑی کو دھکا لگایا جاتا ہے ورنہ یہ گاڑی سالہا سال ایک جگہ کھڑی رہتی ہے جس طرح سے اسلام میں اجتہاد بند ہونے کے بعد سے مسائل کا انبار لگتا چلا گیا، اسی طرح سے پاکستان میں تحقیق اور تخلیق پر کام نہیں ہوتا۔ جب سے سماجی ابلاغ نے اپنی جگہ بنائی ہے تو کچھ لوگوں نے کام کرنا شروع کردیا ہے لیکن باضابطہ حکمت عملی کی عدم دستیابی کے باعث کام بھی وقتی گزارے والے ہوتے ہیں جیسے کہ سڑک کبھی کہیں سے ٹوٹ جاتی اور کبھی کہیں سے،ہوتا کیا ہے جہاں جہاں سے سڑک میں گڑھے پڑتے ہیں وہاں وہاں عارضی مرمت کر دی جاتی ہے اور بتانے والے بتاتے ہیں کہ ہر بار ادارے کو مکمل سڑک کی مرمت کی رسید تھما دی جاتی ہے اور رقم بانٹ لی جاتی ہے۔

کراچی پاکستان کا معاشی حب تصور کیا جاتا ہے جسکی ایک بنیادی وجہ یہاں بندرگاہ کا ہونا ہے۔ بد قسمتی سے شہر کراچی عرصہ دراز سے بد نظمی کا شکار ہے جسکی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ پاکستان کی معیشت میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے کے باوجود شہر کراچی کے نظم و نسق کیلئے خاطر خواہ رقم مختص نہیں کی جاسکی۔ کوٹہ سسٹم کے خلاف کراچی میں ایک سیاسی جماعت وجود میں آئی لیکن وہ اپنے مرکزی نکتے سے منحرف ہوگئی اور سیاسی بھول بھلیاں کی نظر ہوگئی۔ تخلیق پاکستان کیبعد کراچی کو دارلخلافہ بنایا گیا لیکن بعد ازاں دارالخلافہ اسلام آباد منتقل کر دیا گیا اور کراچی صوبہ سندھ کا داراخلافہ بن کر رہ گیا۔صوبہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار میں ہو یا پھرحزبِ اختلاف میں، ہمشہ سے اس سے وابسطہ لوگ بااختیار رہتے ہیں۔ اداروں میں وابسطگیاں ہیں اگر کوئی کام کرنا بھی چاہے تو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ جماعت اسلامی مسائل کی نشاندہی تو خوب کرتی ہے اور اس کے حل کیلئے بھرپور احتجاج بھی کرتی ہے لیکن اسمبلیوں میں موجود نمائندوں کی قلیل تعداد کے باعث کوئی خاص دباؤ ڈالنے سے قاصر رہتی ہے، کراچی کی نمائندہ جماعت ہونے کی دعویدار ایم کیوایم پاکستان وفاق میں حکومتی جماعت تحریک انصاف کی حمائیتی ہونے کے باعث سندھ میں حزب اختلاف کی نشستوں پر براجمان ہیں جس کی وجہ سے سارا بار انہیں پر ڈالا جاتا ہے، تحریک انصاف کے نمائندوں نے سندھ حکومت کو کسی حد تک جھنجھوڑ کر رکھا ہوا ہے کیونکہ انکی پشت پناہی وفاق کر رہا ہے۔ جیسا کہ حالیہ حالات میں وفاقی وزیر برائے بندرگاہ اور شپنگ علی زیدی صاحب نے ایک بار پھر نالوں کی صفائی کیلئے بھر پور کوششیں کیں اور وہ رنگ لائیں لیکن ہمارے موضوع کا سبب بھی علی زیدی صاحب ہی بنے ہیں کہ انکے ماتحت ادارے کراچی پورٹ ٹرسٹ نے نوکریوں کیلئے ایک اشتہار دیا جس میں کچھ اسطرح لکھا تھا کہ سوائے کراچی کے ڈومیسائل رکھنے والوں کے تمام جگہوں سے لوگ درخواستیں بھیج سکتے ہیں۔ کتنی ہی عجیب سی بات ہے کہ کراچی میں کام کرنے والا ادارہ کراچی کے ڈومیسائل کیلئے نہیں ہے۔ آج جبکہ کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے نا کسی کی کارگردگی اکیسویں صدی میں بھی کوٹہ سسٹم پر بات کرنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے یا پھر کوئی اور وجہ ہوگی کہ نا تو لکھنے والوں نے کراچی کی ابتری کے ایک انتہائی محرک پر قلم کیوں خاموش ہیں۔

ہماری حکومت وقت استدعا ہے کہ وہ غور کرے کہ کیا واقعی کوٹہ سسٹم پر جدید سطور پر کام ہونا چاہئے جسکے لئے ضروری ہے کہ ملک کے دانشوروں کو اکھٹا کریں اور ایک اعلی سطح کی کمیٹی بنائیں اور اس کمیٹی کے ذمہ کوٹہ سسٹم کی بھرپور جانچ پڑتال کی جائے اسکی موجودہ خامیوں کو سامنے رکھا جائے اورہر ممکن اقدامات سامنے لائیں جائیں کہ کس طرح سے ان خامیوں کو دور کیا جاسکتا ہے۔اگر لازمی سمجھا جائے تو اسمبلیوں میں بھی اس موضوع کو زیر بحث لایا جائے۔ابلاغ بھی اپنی ذمہ داری بغیر کسی طرفداری کے نبھانے کی کوشش کرے۔مذہبی، علاقائی اور لسانی سیاست کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خالص محب وطن ہوتے ہوئے اس موضوع کو زیر بحث لایا جائے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کوٹہ سسٹم بات ہونی چاہئے یا نہیں لیکن وقت تقاضہ کرتا دیکھائی دیا تو آپ کے سامنے اپنے بکھرے ہوئے خیالات رکھ دئیے ہیں۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • میر دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی
  • والد – جنت کا دروازہ
  • اک چٹائی ہے ،مصّلیٰ ہے ، کتب خانہ ہے
  • میرا قیمہ بنا دیجیے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
محرم میرے بعد تمھارے
پچھلی پوسٹ
پوچھتے مت کیوں بنی سوگواری کی حالت

متعلقہ پوسٹس

کفن دفن​

نومبر 22, 2019

یہ نگاہِ شرم جھُکی جھُکی

مارچ 15, 2026

پھر کوئی نیا زخم، نیا درد عطا ہو

اپریل 1, 2020

بنام دشمن

مئی 27, 2020

ابو جی کے نام

نومبر 7, 2020

دیمک زدہ کمرے ہیں

مارچ 8, 2025

بات کرکے دیکھتے ہیں

جنوری 31, 2020

ہم چھپائیں گے بھید کیا دل کا

جون 22, 2020

دیدنی اک جہان ہے، پر کیا

اپریل 26, 2020

کھدر کا کفن

جنوری 22, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بھٹک نہ جائیں رہ نو نکالنے...

جون 21, 2020

تنہائی

فروری 18, 2020

اقبال احمد ساجد

مارچ 28, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں