خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکیا کوٹہ سسٹم پر بات ہونی چاہئے؟
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشعر و شاعریشیخ خالد زاہد

کیا کوٹہ سسٹم پر بات ہونی چاہئے؟

از سائیٹ ایڈمن اگست 19, 2020
از سائیٹ ایڈمن اگست 19, 2020 0 تبصرے 44 مناظر
45

کیا کوٹہ سسٹم پر بات ہونی چاہئے؟

بہت سے انگریزی الفاظ بطور اصطلاحات ملکِ خداداد پاکستان میں مسلط ہیں جو اس بات کی ترجمانی کرتا ہے کہ انگریز نا رہے لیکن انکی زبان انگریزی تاحال اپنا رعب و دبدباقائم کئے ہوئے ہے اور ان سے آزادی کے کوئی آثار تا حال دیکھائی نہیں دے رہے بلکہ اب تو ہم عام پاکستانی بھی خود نئی نئی اصطلاحات انگریزی ہی میں معاشرے میں روشناس کروا رہے ہیں، سوشل ڈسٹینسنگ (سماجی فاصلہ) جو ہمیں کورونا نے تحفے میں دیا ہے۔ ایسی ہی اصطلاحات میں سے ایک اصطلاح ہے کوٹہ سسٹم، بہت ممکن ہے کہ ہماری نئی نسل اس اصطلاح سے واقف ضرور ہو لیکن اس کے مطلب سے ناواقف ہو یا اسکے اثرات کو نا سمجھتی ہو۔

کوٹہ سسٹم انگریزی زبان میں رائج ایک نظام ہے، جو تقسیم ہند کے بعد ستمبر ۸۴۹۱ میں پاکستان میں نافذ کیا گیا، اسکا بنیادی مقصد کم وسائل کے علاقوں میں رہنے والوں کا حصہ زیادہ وسائل والے علاقوں میں مختص کر دیا جائے تاکہ کسی حد تک برابری لائی جا سکے اور وقت کیساتھ ہم آہنگی پیدا کی جاسکے۔ مقصد نیک تھا، جذبہ حب الوطنی کی ایک مثال تھا،وقت بدلتا رہا لیکن وسائل اس حساب سے نہیں بڑھے جس حساب سے مسائل میں اضافہ ہوا لیکن کوٹہ سسٹم جوں کا توں رائج رہا اور جب کبھی وقت آیا کہ اس نظام پر نظر ثانی کی جائے تو بغیر نظر ثانی کئے اسی طرح چلتے رہنے کی توثیق کی جاتی رہی جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ بڑے شہروں کے مقامی لوگوں کیساتھ زیادتی ہونا شروع ہوگئی۔ بڑھتی ہوئی آبادی اس بات کا تکازہ کرتی رہی کہ کوٹہ سسٹم پر مل بیٹھ کر کوئی متوازن حل نکالا جائے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس نظام سے لاہور، پشاور اور کوئٹہ کے مقامی لوگ کتنے متاثر ہوئے اندازہ لگانا ذرا مشکل کام دیکھائی دے رہا ہے لیکن سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شہر پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی بنا۔

دورِ جدید میں ایسا کوئی بھی عمل جس کی وجہ سے قابلیت کا راستہ روکا جاتا ہو اسکو بدلنا ارباب اختیار کی اولین ذمہ داری سمجھی جاتی ہے، بصورت دیگر نوجوانوں میں مایوسی اور اسکے نتیجے میں خود سوزی یا پھر خود کش بننے کا رجحان فروغ پانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور اسکی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے جوکہ بروقت ترامیم نہیں لاسکی ہوتی۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں ضرورت کے تحت گاڑی کو دھکا لگایا جاتا ہے ورنہ یہ گاڑی سالہا سال ایک جگہ کھڑی رہتی ہے جس طرح سے اسلام میں اجتہاد بند ہونے کے بعد سے مسائل کا انبار لگتا چلا گیا، اسی طرح سے پاکستان میں تحقیق اور تخلیق پر کام نہیں ہوتا۔ جب سے سماجی ابلاغ نے اپنی جگہ بنائی ہے تو کچھ لوگوں نے کام کرنا شروع کردیا ہے لیکن باضابطہ حکمت عملی کی عدم دستیابی کے باعث کام بھی وقتی گزارے والے ہوتے ہیں جیسے کہ سڑک کبھی کہیں سے ٹوٹ جاتی اور کبھی کہیں سے،ہوتا کیا ہے جہاں جہاں سے سڑک میں گڑھے پڑتے ہیں وہاں وہاں عارضی مرمت کر دی جاتی ہے اور بتانے والے بتاتے ہیں کہ ہر بار ادارے کو مکمل سڑک کی مرمت کی رسید تھما دی جاتی ہے اور رقم بانٹ لی جاتی ہے۔

کراچی پاکستان کا معاشی حب تصور کیا جاتا ہے جسکی ایک بنیادی وجہ یہاں بندرگاہ کا ہونا ہے۔ بد قسمتی سے شہر کراچی عرصہ دراز سے بد نظمی کا شکار ہے جسکی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ پاکستان کی معیشت میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے کے باوجود شہر کراچی کے نظم و نسق کیلئے خاطر خواہ رقم مختص نہیں کی جاسکی۔ کوٹہ سسٹم کے خلاف کراچی میں ایک سیاسی جماعت وجود میں آئی لیکن وہ اپنے مرکزی نکتے سے منحرف ہوگئی اور سیاسی بھول بھلیاں کی نظر ہوگئی۔ تخلیق پاکستان کیبعد کراچی کو دارلخلافہ بنایا گیا لیکن بعد ازاں دارالخلافہ اسلام آباد منتقل کر دیا گیا اور کراچی صوبہ سندھ کا داراخلافہ بن کر رہ گیا۔صوبہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار میں ہو یا پھرحزبِ اختلاف میں، ہمشہ سے اس سے وابسطہ لوگ بااختیار رہتے ہیں۔ اداروں میں وابسطگیاں ہیں اگر کوئی کام کرنا بھی چاہے تو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ جماعت اسلامی مسائل کی نشاندہی تو خوب کرتی ہے اور اس کے حل کیلئے بھرپور احتجاج بھی کرتی ہے لیکن اسمبلیوں میں موجود نمائندوں کی قلیل تعداد کے باعث کوئی خاص دباؤ ڈالنے سے قاصر رہتی ہے، کراچی کی نمائندہ جماعت ہونے کی دعویدار ایم کیوایم پاکستان وفاق میں حکومتی جماعت تحریک انصاف کی حمائیتی ہونے کے باعث سندھ میں حزب اختلاف کی نشستوں پر براجمان ہیں جس کی وجہ سے سارا بار انہیں پر ڈالا جاتا ہے، تحریک انصاف کے نمائندوں نے سندھ حکومت کو کسی حد تک جھنجھوڑ کر رکھا ہوا ہے کیونکہ انکی پشت پناہی وفاق کر رہا ہے۔ جیسا کہ حالیہ حالات میں وفاقی وزیر برائے بندرگاہ اور شپنگ علی زیدی صاحب نے ایک بار پھر نالوں کی صفائی کیلئے بھر پور کوششیں کیں اور وہ رنگ لائیں لیکن ہمارے موضوع کا سبب بھی علی زیدی صاحب ہی بنے ہیں کہ انکے ماتحت ادارے کراچی پورٹ ٹرسٹ نے نوکریوں کیلئے ایک اشتہار دیا جس میں کچھ اسطرح لکھا تھا کہ سوائے کراچی کے ڈومیسائل رکھنے والوں کے تمام جگہوں سے لوگ درخواستیں بھیج سکتے ہیں۔ کتنی ہی عجیب سی بات ہے کہ کراچی میں کام کرنے والا ادارہ کراچی کے ڈومیسائل کیلئے نہیں ہے۔ آج جبکہ کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے نا کسی کی کارگردگی اکیسویں صدی میں بھی کوٹہ سسٹم پر بات کرنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے یا پھر کوئی اور وجہ ہوگی کہ نا تو لکھنے والوں نے کراچی کی ابتری کے ایک انتہائی محرک پر قلم کیوں خاموش ہیں۔

ہماری حکومت وقت استدعا ہے کہ وہ غور کرے کہ کیا واقعی کوٹہ سسٹم پر جدید سطور پر کام ہونا چاہئے جسکے لئے ضروری ہے کہ ملک کے دانشوروں کو اکھٹا کریں اور ایک اعلی سطح کی کمیٹی بنائیں اور اس کمیٹی کے ذمہ کوٹہ سسٹم کی بھرپور جانچ پڑتال کی جائے اسکی موجودہ خامیوں کو سامنے رکھا جائے اورہر ممکن اقدامات سامنے لائیں جائیں کہ کس طرح سے ان خامیوں کو دور کیا جاسکتا ہے۔اگر لازمی سمجھا جائے تو اسمبلیوں میں بھی اس موضوع کو زیر بحث لایا جائے۔ابلاغ بھی اپنی ذمہ داری بغیر کسی طرفداری کے نبھانے کی کوشش کرے۔مذہبی، علاقائی اور لسانی سیاست کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خالص محب وطن ہوتے ہوئے اس موضوع کو زیر بحث لایا جائے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کوٹہ سسٹم بات ہونی چاہئے یا نہیں لیکن وقت تقاضہ کرتا دیکھائی دیا تو آپ کے سامنے اپنے بکھرے ہوئے خیالات رکھ دئیے ہیں۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • یارجو بھی مرے قریں کے ہیں
  • یہ کس کہانی کا کردار ہو گیا ہوں میں
  • خط سے وہ زور صفاے حسن اب کم ہو گیا
  • دعویٰ تو ہے اسے بھی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
محرم میرے بعد تمھارے
پچھلی پوسٹ
پوچھتے مت کیوں بنی سوگواری کی حالت

متعلقہ پوسٹس

روشنی پر کبھی بہاروں پر

مئی 29, 2020

پانی آنکھ میں بھر کر لایا جا سکتا ہے

ستمبر 7, 2019

تانگے والا

جون 14, 2020

ٹھنڈا سورج

نومبر 7, 2020

اسکو جنون تھا کہ مجھے

نومبر 11, 2025

دل عشق میں خوں دیکھا

جون 25, 2020

مجھ کو کہانیاں نہ سنا شہر کو بچا

ستمبر 18, 2022

آلو بخارا، فرحت بخش اور قبض کشا

نومبر 14, 2021

نک نیم

جنوری 11, 2020

زرِ چراغ سرِ آب رکھ رہا ہوں میں

دسمبر 15, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دوست کی شادی – خوشیوں کا...

مارچ 19, 2026

سفید خون

مئی 2, 2019

یاد کر کے اسے بھلا دینا

جون 24, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں