خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرغل خان
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرڈاکٹر یونس بٹ

غل خان

از سائیٹ ایڈمن مئی 10, 2020
از سائیٹ ایڈمن مئی 10, 2020 0 تبصرے 64 مناظر
65

غل خان

وہ چپ بھی ہوں تو تب لگتا ہے کہ بول رہے ہیں ایک بار بولیں تو کئی بار سنائی دیتے ہیں، لہجہ ایسا کہ کانفرنس کو بھی خانفرنس کہتے ہیں، پشتو سے اس قدر محبت ہے کہ انگریزی تک پشتو میں بولتے ہیں، بولتے وقت کان کا لفظ اور غصہ بہت دکھاتے ہیں، اگر ان کی بات بہت طویل ہو جائے تو سمجھ لیں وہ اپنی بات کا خلاصہ بیان کر رہے ہیں، انہیں اپنی ہر بات پر اس قدر یقین ہوتا ہے کہ خود کو ولی کہتے ہیں، بات کے اس قدر پکے کہ جو بات کہیں گے ، بیالیس سال بعد بھی وہ کہتے ہیں، وہ تو جو لطیفہ ایک بار سنا دیں پھر جب بھی لطیفہ سنائیں گئے وہ ہی سنائیں گے ،ضیا کے مارشل لا لگانے پر اک بار یہ لطیفہ سناتے کہ ایک شخص گدھے پر چوڑیوں کی گٹھڑی لئے جا رہا تھا، ایک سپاہی نے روکا اور ڈنڈا مارتے ہوئے پوچھا اس میں کیا ہے ؟ تو اس شخص نے کہا اگر آپ نے ایک بار پھر ڈنڈا مارا تو پر اس میں کچھ نہیں ہے ، وہ زبان سے سوچتے ہیں، اس لئے جب بول رہے ہوں تو سمجھ لیں سوچ رہے ہیں، غصے میں بول رہے تو تب بھی یہی لگتا ہے کہ فائرنگ کر رہے ہیں، سنا ہے وہ غصے میں اپنے علاوہ کسی کی بات نہیں سنتے ، یہ غلط ہے ، وہ غصے میں اپنی بھی بات نہیں سنتے ۔
اس خاندان میں آنکھ کھولی جس نے ابھی تک آنکھ نہیں کھولی، جیسے میرا دوست ف کہتا ہے کہ مجھ سے تمیز سے بات کرو، میرے سات بھائی ہیں، اور ان میں سے ایک کشمیری بھی ہے ، یہ کہتے ہیں مجھ سے سیاست کی بات ہوش میں کرو، میرا باپ گاندھی بھی رہا ہے ، پہلے نیشنل عوامی پارٹی کو بیگم نسیم ولی خان سمجھتے ، آج کل نسیم ولیخان کو نیشنل عوامی پارٹی سمجھتے ہیں، ان کے والد کی اتنی بڑی ناک تھی کہ دھوپ میں انہیں چھتری کی ضرورت نہ پڑتی تھی، ناک منہ پر سایہ کئیے رکھتی تھی، غل خان کی بھی ایسی خوب ناک ہے کہ وہ خاک کی اوٹ میں چھپ سکتے ہیں، ان کی تو چھوٹی انگلی بھی بڑی ہے ، دونوں باپ بیٹوں میں اگر کوئی فرق ہے تو وہ یہ کہ باپ عمر میں بڑا تھا، ان کے کان دیکھ کر بندہ سوچتا کہ قدرت کتنی فیوچرسٹک ہے ، اس نے اس وقت ایسے کان بنانے شروع کر دئیے ، جب ابھی انسان کے ذہن میں عینک بنانے کا خیال تک نہ آیا تھا، اس عمر میں ہیں جس میں وگ کے بال بھی سفید ہو جاتے ہیں، لیکن بال سفید ہوئے تو کیا ہوا عینک تو سیاہ ہے ، ہم تو یہی کہہ سکتے ہیں یا اللہ ایسی چشم بینا عطا فرما کہ دیکھنے کیلئے عینک کی ضرورت نہ پڑے ، ان کی نظر گاندھی آشرم میں لاٹھی لگنے سے خراب ہوئے ، تب پاکستان کو اسی خراب نظر سے دیکھتے تھے ، وہ کام جو دل لگا کر کرنے چاہیں وہ کام بھی عینک لگا کر کرتے ہیں، نہر جیکٹ پہنتے ہیں، جو اپنی حالات سے واقعی نہرو کو ہی لگتی ہے ، طویل عرصہ خان قیوم خان اور آشوب چشم میں مبتلا رہے ، تاہم اب بھی صحت کا پوچھو تو کہیں گے ، Fit Fighting ہوں۔ ویسے بھی جس پٹھان کا لڑنے کو دل نہ چاہے ، یقین کر لیں وہ فٹ نہیں ہے ، ڈاکٹروں کو اپنی آنکھیں دکھا دکھا کر حالت ہو گئی کہ کہ اب جو بھی ملے ، اسے آنکھیں دکھانے لگتے ہیں، یادداشت کو اتنی اہمیت دیتے ہیں، کہ اب جو بھی ملے اسے آنکھیں دکھانے لگتے ہیں، یادداشت کو اتنی اہمیت دیتے ہیں کہ یادداشتہ لگتی ہے ، جب کہ نسیم ولی خان کا حافظہ تو اتنا کمزور ہے کہ ان کے اپنے بیٹے بھی تھے ، سوتیلے بیٹے بھی مگر اب ان سے پوچھو کہ سوتیلا کون سا ہے تو کہیں گی میں بھول گئی۔
پاکستان بننے سے پہلے وہ کانگریس کے رکن تھے ، پاکستان بننے کے بعد سے کانگریس انکی رکن ہے ، گاندھی جی سے بہت متاثر ہیں، گاندھی جی کو غریب رہنے کیلئے بہت خرچ کرنا پڑتا، ایسے ہی انہیں چپ رہنے کیلئے بہت بولنا پڑتا تھا، اپنی پارٹی کو اپنی ذات سمجھتے ہیں اس لئے ان کی پارٹی پر فقرہ کسو تو سمجھتے ہیں کہ ذاتیات پر اتر آئے ہیں، ان کی پارٹی میں کوئی دوسرا آ جائے تو اسے یوں دیکھتے ہیں جسے گھر میں کوئی دوسرا آگیا، وہاں تو شیر باز مزاری بھی شیر ہوتا ہے ، نہ باز، بس مزاری ہوتا ہے ، کسی کو معاف نہیں کرتے ، انہوں نے تو کبھی خود کو بھی معاف نہیں کیا، کبھی کبھی اپنی پارٹی کو سیرا کرانے لاہور لاتے ہیں مگر وہ ان کے واپس چار سدہ پہنچنے سے پہلے ہی چار سدہ پہنچ چکی ہوتی ہے ، میں تا حکم ثانی محب وطن ہوں، اپنی سیاسی اہمیت و اہلیت کی وجہ سے پاکستان میں اہم مقام رکھتے ہیں اور یہ اہم مقام چار سدہ ہے ، والد سے سیاست سے زیادہ باغبانی کا شوق ورثے میں ملا، وہ تو باغ باغ ہونا سے مراد دو باغ ہونا لیتے ہیں، ولی باغ میں رہتے ہیں، مگر یوں جیسے باغی باغ می رہنے والے کو ہی کہتے ہیں، وہ کسی مہمان کے سامنے چائے کے ساتھ بسکٹ رکھ دیں تو مہمان کو یقین ہو جاتا ہے کہ یا تو بسکٹ اصلی نہیں یا یہ اصلی غل خان نہیں، وہ سانپ پر لاٹھی نہیں مارتے ، لاٹھی پر سانپ کو مار دیتے ہیں، تقریر میں ضرب الامثال یوں لگاتے ہیں کہ جیسے امثال کو ضرب لگا رہے ہوں، کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو اس کیلئے نسیم الغات نہیں، بیگم نسیم کو دیکھتے ہیں، انکی پارٹی کا نصف بہتر ان کی نصف بہتر ہے ، گفتگو میں جی بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں، اگر وہ فقرے کے آخر میں جی لگائیں تو سمجھ لیں گھر سے بارہ گفتگو کر رہے ہیں، گھر میں وہ فقرے سے پہلے جی لگاتے ہیں۔
وہ بیگم نسیم والی خان کا مردانہ روپ ہیں، لیکن وہ بیگم صاحبہ سے بڑے سیاست دان ہیں، پندرہ سولہ سال بڑے ہیں، انگلینڈ جا کر جم کر لکھتے ہیں ، جس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہاں اتنی سردی پڑتی ہے ، کہ بندہ نہ لکھے تو پھر بھی جم جاتا ہے ، اپنے بھائی عبدالغنی خان کی طرح تخلیقی آدمی ہے ، وہ تو تاریخ بھی لکھ رہے ہوں تو لگتا ہے تخلیق کر رہے ہیں، البتہ ان کی آپ بیتی کم اور اپنے آپ بیتی زیادہ لگتی ہے ، جیل میں تنہائی اور فرصت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے خدائی خدمت گار تحریک کے دو حصے مکمل کر لئیے اور کہا جونہی پھر تنہائی اور فرصت میسر آئی کتاب کا آخری حصہ بھی مکمل کر لوں، اس اعلان کے بعد کسی حکومت نے انہیں جیل نہیں بھیجا، یاد رہے خدائی خدمت گار اتنی مذہبی پارٹی رہی کہ اس کے سربراہ کا انتخاب براہ راست خدا کے ہاتھ میں ہوتا، جس کو سربراہ کی کرسی سے اٹھاتا خدا ہی اٹھاتا۔
لائبریری اچھی جگہ ہے بس وہاں کتابیں نہ ہوں، ویسے کتاب سے رشتہ تب شروع نہیں ہوتا جب آپ کتاب شروع کرتے ہیں، بلکہ تب سے شروع ہوتا ہے کہ آپ کتاب ختم کیسے کرتے ہیں، غل خان کتابوں کے پرانے رشتے دار ہیں، چپل اور چپل کباب پسند ہیں، بڑھاپے میں اتنے جوان ہیں، پتہ نہیں جوانی میں کتنے بوڑھے رہے ہوں گے ، انہیں غصہ بہت آتا ہے ، کبھی تو اس بار پر غصہ آ جاتا ہے کہ مجھے فلاں بات پر غصہ کیوں نہیں آیا، غصہ اتنا غصب ناک کہ وہ تو اپنے ہی غصے سے ڈر کر کانپنے لگتے ہیں، بقول پیر پگاڑہ ایک تو الی جو ہوتا ہے گرم ہے اور اوپر سے پٹھان یعنی بہت ہی گرم۔ قابل کو کابل کہتے ہیں، بھٹو نے انہیں اس لئیے نا پسند کیا کہ اس کی وجہ سے اندر جانا پڑا بلکہ اس وجہ سے کہ بیگم نسیم کو باہر آنا پڑا، تب سے بیگم نسیم والی خان باہر ہیں اور خان صاحب اندر، کہتے ہیں بھٹو دور میں تقریر پر پابندی تھی حالانکہ یہ درست نہیں، تقریر پر کپ پابندی تھی مقرر پر تھی، بھارت سے اس کی زبان میں بات کرتے ہیں، جب پاکستان سے پشتو میں بات کرتے ہیں، ایک بار حکومت نے انہیں بھارت میں پاکستان کا سفیر بنا کر بھیجنا چاہا تو بھارت کی حکومت نے کہا آپ کسی پاکستانی کو بھیجیں۔
ارسطو نے کہا ہے ، انسان ایک سیاسی جانور ہے ، پتہ نہیں یہ بات انہوں نے جانوروں سے ملنے کے بعد کہی یا سیاست دانوں سے ، تاہم غل خان ایسے سیاست دان نہیں، ایک سیاست دان کو پتہ چلا کہ غل خان پان کھاتے ہیں نہ سگریٹ پیتے ہیں شراب سے دلچسپی ہے نہ شباب سے تو اس نے کہا، آپ نے یہ کچھ کرنا ہی نہیں تو پھر سیاست کیوں کر رہے ہیں؟ ترقی پسند نظریات کی وجہ سے چل رہے ہیں، قوم پرست ہیں، ہر وقت آہ و افغان کرتے رہتے ہیں، وہ بیگم نسیم والی کے مزاجی خدا ہیں، ان کا مزاج اس پٹھان کی طرح ہے جو ہینگ لے کر آیا اور چلا چلا کر کہتا اینگ لے لو، جو چپ کر کے گزر جاتا اسے کچھ نہ کہتا، اگر کوئی کہہ دیتا کہ مجھے ہینگ نہیں چاہئے تو خان غصے میں آ کر کہتا و تم اینگ کیوں نہیں لیتا، ام تمہارے باپ کا نوکر ہے جو تمہاری واسطے اتنی دور سے اینگ لایا۔
غل خان لوگوں کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھیں نہ رکھیں، جس رگ پر ہاتھ رکھتے وہ ضرور دکھتی، وہ ان سیاست دانوں میں سے ہیں جس کے پاس ہر حل کیلئے ایک ہی مسئلہ ہوتا ہے ، وہ ہے انا، سرحد میں پیدا ہی نہیں ہوئے ، سیاست کے لحاظ سے بھی ہمیشہ سرحد پر ہی رہتے ہیں، پٹھانوں کا تو محبت کرنے کا اندازہ بھی اپنا ہوتا ہے ، وہ تو کہتے ہیں کہ خانان وہ ہم کو اتنا اچھا لگتا ہے کہ دل چاہتا ہے اسے گولی ماردوں، سردی گرمی ہر موسم میں گرم، ایک زمانہ تھا، وہ لطیفہ بھی سنا رہے ہوتے تو لگتا دھمکی دے رہے ہیں، مگر اب حال ہے کہ دھمکی بھی دیں تو لطیفہ سنا رہے ہیں، ہم انہیں ضدی تو نہیں کہتے مگر جسے ضدی کہنا ہو اسے غل خان کہتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد یونس بٹ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • عالمی دیگ
  • مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ
  • کیکٹس لینڈ
  • پاسپورٹ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
وصال گھڑیوں میں ریزہ ریزہ بکھر رہے ہیں
پچھلی پوسٹ
مولانا دستار نیازی

متعلقہ پوسٹس

ہالی ووڈ کا فریب – تیسری قسط

جنوری 19, 2025

آئیں!کرسٹیانو رونالڈو سے ملیں!

جون 18, 2021

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

بائی کے ماتم دار

جون 15, 2020

اے عشق نبیﷺ

دسمبر 19, 2025

کوکھ جلی

مارچ 29, 2020

موسم کی شرارت

جنوری 15, 2020

اعداد و شمار کا پاکستان

جنوری 2, 2026

وبا کی آفت اور شیخ حرم کے غمزے

مارچ 30, 2020

شریفن

اکتوبر 20, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کورنا کے دنوں میں کرنے کے...

اپریل 14, 2020

ہڈیاں اور پھول

اپریل 6, 2020

سفر در سفر

نومبر 14, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں