خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرکورنا کے دنوں میں کرنے کے کام
اردو تحاریراردو کالمزروبینہ فیصل

کورنا کے دنوں میں کرنے کے کام

اردو کالم از روبینہ فیصل

از سائیٹ ایڈمن اپریل 14, 2020
از سائیٹ ایڈمن اپریل 14, 2020 0 تبصرے 406 مناظر
407

کورنا کے دنوں میں کرنے کے کام

بالکل ٹھیک ہے۔۔جی بھر کر دعائیں کریں۔نہ ماننے والوں کا یہی اصرار تھا نا کہ تو نظر نہیں آتا، اب تو خدا نظر آرہا ہے، ذرے ذرے میں تو اس تشویش کی وجہ سے جتنے بھی سجدے جبینوں میں تڑپ رہے تھے،سب کر دیں۔۔۔خدا کے ننانوے ناموں میں ” قہا ر” فقط ایک ہی نام ہے، مگر قہر کی ایک جھلک ہی کافی ہے اور وہ بھی ایک ذرے کے ذریعے۔۔ اس کے قہر سے پناہ مانگ لیں اور خدا سے ناطہ جوڑ لیں۔۔یہ سب کہہ رہے ہیں۔۔ بالکل ٹھیک۔۔مگر بنیادی سوال وہیں کا وہیں کھڑا ہے کہ کیا رب کو واقعی انسان کے صرف سجدوں سے غرض ہے؟ اور جب اسے محسوس ہو اکہ سجدے ذرا کم ہو گئے ہیں تو وہ اپنا قہر برسانے لگا؟
سوچئیے!! آجکل سوچنے کے لئے بہت وقت ہے۔ جواب آپ کو اپنے اندر سے ہی ملے گا۔۔ رب تو کہتا ہے اس کا گھر انسان کا دل ہے اور وہ اس کی شہ رگ سے بھی قریب ہے۔۔ تو سب لوگ مسجدوں، مندروں، گرجا گھروں اور گردواروں کو خدا کا گھر قرار دے کر صرف اس کی آرائش اور اسے ہی آباد کر نے میں کیوں لگ گئے۔۔بلاشبہ،ہر جگہ کی طرح ان مخصوص قرار دی گئیں مقدس جگہوں پر بھی خدا موجود ہوتاہے مگر انہیں آباد کرنے کے لئے انسانوں کو برباد کر و گے یا صرف انہی کو خدا کی رضا کا ذریعہ سمجھ لو گے تو خدا اپنے ننا نونے ناموں میں سے فقط ایک” قہار” چن لے گا۔۔
حضرت بابا فریدنے کہا تھا اسلام کے پانچ نہیں چھ رکن ہیں،چھٹا روٹی ہے۔ وہ روٹی جو ہر ایک تک پہنچنی چاہیئے۔۔
وبائے کرونا کے یہ دن وہ ہیں جنہوں نے تمام انسانوں کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ پو ری بنی نوع انسان کے مقاصد اور عزائم ایک دن کی روٹی لانے، پکانے اور کھانے تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔۔” کل کا دن بھی بھرے پیٹ کے ساتھ گزر جائے،”یہ سوال غریب کا تو تھا ہی آج امیر کا بھی یہی سوال اور فکر ہے۔ہر رات بڑے بڑے سرمایہ داروں کے بڑے بڑے خوابوں کی جگہ پیٹ بھرنے کے لئے ایک غیر یقینی صورتحال والے کسی بھی بھوکے ننگے کے چھوٹے چھوٹے خوابوں نے لے لی ہے۔اگر سب گروسری سٹورز بند ہو جائیں تو کیا ہو گا؟کسان کھیتوں میں اناج، مکئی، چاول اورپھل سبزیاں نہ اگا سکیں توکیاہوگا؟جن پرندوں اور جانوروں کا ہم گوشت کھاتے ہیں، وہ دستیاب نہ ہوں تو کیا ہوگا۔۔۔کل کیا ہو گا؟
اس کا جواب نہ محکمہ موسمیات کے پاس ہے، نہ کسی ملک کے سربراہ کے پاس اور نہ کسی معیشت دان، ڈاکٹر یا سائنسدان کے پاس ہے بالکل کسی ان پڑھ، غریب انسان کی طرح۔۔۔ سب یکساں لا علم، بے بس اور ایک جیسے اندیشوں میں گھرے،ایک جیسی زندگی گزار رہے ہیں۔۔۔ یک رنگی۔۔۔۔ایسے میں جب مقابلہ بازی کرنے کے لئے اور کچھ نہیں بچا، نیچا دکھانے والی دوڑ ختم شد ہے تو اندر کے تقوی کا مقابلہ شروع کر دو، اپنی روح کی صفائی شروع کر دو اور اس کے لئے اپنے اندر کے دیمک کو رگڑ رگڑ کر صاف کر ڈالو جن کی ترتیب کچھ یوں ہے:
تکبر اور جھوٹی انا (غور سے دیکھئے گا آپ خود کو عاجز کہتے ہیں مگر سچ بتائیں، خود سے سچ بولیں، کیا آپ ہیں؟ نہیں، آپ کی جھوٹی انا آپ کے قد سے بھی بڑی ہو تی ہے)۔حسد (آپ کہتے یہی ہیں کہ میں کیوں حسد کرنے لگا مگر غور کریں گے تو ایسا نہیں ہے، آپ بہت سوں سے بہت سے مقامات پر ہر وقت حسد کر رہے ہو تے ہیں)،منافقت(اس کی تشخیص سب سے مشکل کام ہے کہ ہم پور پور اس دلدل میں دھنسے ہو ئے ہیں کہ ہمارا معاشرہ،ہماری ٹریننگ سب اسی چھتری کے تلے ہو تی ہے، اس کو اپنے اندر کھوجنا اور اسے تسلیم کرنا اور پھر اس سے جان چھڑانا، کرونا سے جان چھڑانے سے بھی زیادہ مشکل کام ہے،کہ یہ ایک دفعہ داخل ہو جائے تو پھر انسانی دل میں مرنے تک زندہ رہتا ہے)،دھوکہ،(ہماری فطرت کا دوسرا نام ہی جھوٹ اور دھوکہ بن چکا ہے،دوسروں سے تو دور کی بات ہم خود سے جھوٹ بولتے ہیں اور سب سے بڑا دھوکہ ہم خود کو دیتے ہیں حالانکہ خدا کو پانے کا سب سے بہترین اور آسان طریقہ یہ ہے کہ خود سے ایماندار ہو جا و۔)۔ اپنے اندر جھاتی مار کر ان موٹی موٹی برائیوں کو تلاش کریں، گردن سے دبوچیں اور خود سے الگ کر کے کہیں دور پھینک آئیں۔
ہم دوسرا اہم کام جو کر سکتے ہیں،کہ خدا ہم سے خوش ہو جائے، وہ یہ ہے کہ ان لوگوں سے معافی مانگ لیں، جن کاہم نے جانے انجانے میں دل دکھایا ہے اور معافی مانگنے کے لئے لفظ معذرت یا سوری ہی ضروری نہیں بلکہ ایک میسج، ٹیسٹ یا وائس یا فون کال انہیں اس طرح کی کر دیں کہ ان کا حال چال بھی پوچھیں اور اپنا بھی بتائیں۔۔ اور یہی عمل ان لوگوں کے ساتھ بھی کریں جن کے بارے میں آپ کو لگتا ہے کہ انہوں نے آپ کا اعتماد توڑا، یا آپ کا دل دکھایا ہے۔۔انہیں اپنی ایک مسکراہٹ بھرے میسج سے یا کال سے یہ اطمینان دلوادیںcorona کہ آپ کا دل صاف ہے، ایسا کرنے سے بال دوسرے کی کورٹ میں چلی جائے گی۔ آپ نے اپنے رب کو راضی کرنے کی طرف قدم بڑھا دئیے ہیں اب آپ کے گنہگار یا جن کے آپ گنہگار ہیں، اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ آپ کا ستقبال کیسے کرتے ہیں،وہ اگر ابھی تک دلوں پر پتھر باندھے بیٹھے ہیں یا ان کو اس وسیع کائنات میں اپنی بے وقعتی اور بے بسی کا اندازہ نہیں ہوا تو وہ آپ کی محبت، خلوص اور درگزری کے جذبے کو شک اور حقارت کی نگاہ سے دیکھیں گے اور ایسا کر کے وہ آپ کا کوئی نقصان نہیں کریں گے بلکہ روٹھے رب کو منانے کا نادر موقع کھو دیں گے؟
پھر اپنے قلم سے روحانی علاج کے اس نسخے میں ایک اور چیز لکھ لیں کہ اس وقت اپنی روح کے ڈاکٹر بھی آپ خود ہیں اور روٹھے رب کو منانے والے مذہبی سکالر بھی آپ ہی ہیں۔۔ سب فیصلے آپ کے ہاتھ میں ہیں۔۔
آپ کی الماریوں میں ڈھیروں کے حساب سے کپڑوں، زیورات،میک اپ، جوتوں، ٹائیوں اور پرسوں کا حشر تو آپ دیکھ ہی رہے ہیں اس سے فطرت کے وسائل کی مساوی اور منصفایانہ تقسیم پر یقین لے آئیں۔۔کوئی بھی حکومتی نظام ہو، آپ ضرورت سے زیادہ کسی بھی چیز کی ذخیرہ اندوزی کوخود پر حرام کر لیں۔
وبا کے دنوں میں کرنے کی ایک اور عملی چیز ہے جتنا بھی ہو سکے، کسی غریب،کسی سفید پو ش، رشتے دار یا اجنبی کی ان کے ہاتھ پھیلانے سے پہلے مالی مدد کریں۔۔۔اس سے نہ ان کی عزت نفس مجروع ہو گی اور نہ آپ کی انا کے غبارے میں بے جا ہوا بھرے گی، اور خدا خوش ہو گا۔۔ بہت خوش۔
وبا کے دن،یہ وہ دن ہیں جب سب انسانوں کا ایک ہی مسئلہ ہے۔۔جھوٹی انا،، جھوٹی عزت، جھوٹے نام، کی بجائے کسی کی بھی خودداری کو مجروع کئے بغیر کسی کی بھی مدد کر سکیں تو ضرور کریں۔۔ مان لیں اور جان لیں کہ اس سے زیادہ عذاب کے دن آپ کی زندگیوں میں پھرکبھی نہیں آئیں گے۔ اور جو لوگ ان عذابوں میں خدا کی مخلوق کے لئے آسانیاں اور محبتیں بانٹیں گے وہ وہی ہو نگے جن کے دلوں پر خدا نے مہریں نہیں لگائیں۔ اور جو آج بھی اپنی جھوٹی انا،حسد اور منافقت کے حصار میں خود کو سچا اور دنیا کو جھوٹا کہتے رہیں گے، وہ لاکھ سجدے کریں، لاکھ گڑگڑائیں، ان کے دل کے قفل نہیں کھلیں گے۔۔۔
مان لیں!! کہ خدا تک پہنچنے کا راستہ صرف اور صرف اس کی بنائی ہوئی مخلوق کے دل سے ہو کر گزرتا ہے۔اپنی مخلوق سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے رب کی رضا اس کے بچوں کی خوشی میں ہی ہے۔ خدا کو خوش کرنا ہے تو اس کے بچوں کو خوش کرو۔۔ اس نے وسائل میں نا انصافی نہیں کی بانٹنے والوں نے کی تھی، جتنا ہو سکے انصاف اور عدل کرنے والے خدا کی زمین پر انصاف اور عدل شروع کر دو۔مرنا تو سب نے ہی ہے مگر آج جس طرح موت بازاروں اور گلیوں میں دندناتی پھر رہی ہے،یہ موت کے ساتھ ساتھ ایک سبق بھی لئے پھر رہی ہے۔ وہ سبق ہے انسانیت کا۔۔ جو آج اسے پڑھ گیا اور یاد رکھ گیا وہی خدا کے قرب کو پا گیا۔۔ موقع اچھا ہے ایسی آزمائشیں بار بار نہیں آتیں۔

روبینہ فیصل

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دیودار کے درخت
  • کرونا سے مکالمہ
  • دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • رشتوں کے درمیان
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ساتھ تمہارا اگر ملے
پچھلی پوسٹ
بیٹھے ہیں چین سے کہیں جانا تو ہے نہیں

متعلقہ پوسٹس

ماں جی

اکتوبر 30, 2019

پریشر ککر، دھواں اور خواب

دسمبر 17, 2019

عید کی برکتیں اور محبت کا پیغام

مارچ 21, 2026

حضرت عثمان غنیؓ کی مظلومانہ شہادت

جولائی 24, 2022

حسرت اُن غنچوں پہ

فروری 8, 2020

صحت سب کے لیے

جنوری 23, 2020

مشکل وقت میں کیا کریں؟

مئی 11, 2026

پوئنا

دسمبر 10, 2024

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

ذوق کی قصیدہ نگاری

اپریل 2, 2012

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آخر انسان ایسا کیوں ھوتا ھے؟

دسمبر 13, 2024

اللہ کے محبوب اور مقرب بندوں...

دسمبر 6, 2024

مرثیے اور قصیدے کی مشترک جہتوں...

جنوری 1, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں