’’ہاں ! انکار تو اُسی کا کیا جاتا ہے ،جس کے ملتے رہنے کا یقین ہو ۔‘‘
’’آج مستقیم جلال جب اچھائی کے آخری نکتے پر ہے ۔۔تو آگاہی ایک ادراک دل میں وارد کر رہی ہے کہ اگلے ہی قدم پر سب سے زیادہ خوش بھی وہی ہو گا ،کیونکہ طلوع ہونے والے دن کے بعد اُسے مہ جبین کمال کوبرا کہنے کا جواز بھی مل چکا ہو گا ۔‘‘
مہ جبین نے دائیں طرف کروٹ بدلتے ہوئے دل کو سکون دینے کی ناکام سعی کرتے ہوئے دماغ میں بنا دستک دیے ایناکونڈا کی مانند اندر داخل ہوتی حقیقتوں سے منہ بھی موڑنا لینا چاہا ۔۔۔مگر یہ طوفانی بارش کو رم جھم قرار دینے کی بے کار سی کوشش تھی ۔۔۔ اٹھنا مجبوری ٹھہری۔۔اور بھاگے دوڑے چلے آتے نتائج سے نگاہ بھی دوچار کرنا لازم ہوا ۔
یک بستہ فرش پر پاؤ ں دھرنا گویا کل صبح سکندر حیات کا سامنا کرنے کی پہلی قسط ہوئی۔
’’ماں نے میرے لیے بے شمار حسن مانگتے یہ نہیں سوچا ہو گا کہ فقیر کی جھولی کو نقب کا اندیشہ نہیں ہوتا ۔
’’میںنے بھی بروں میں سے کم برے کو چن لیا ۔ ہاں ٹھیک ہی تو ہے ،پیار محبت کے کھلونوں سے بہلتے ہوئے مستقیم جلال کب تم نے ان میں ایک بم رکھ دیا۔واللہ ۔۔پتا ہی نہیں چلا ۔‘‘
۲
مہ جبین کے پاؤں کی تپش سے فرش کی ٹھنڈک معدوم ہونے لگی تھی۔
’’دھوکا ۔۔جسے میں سوچ نہیں سکتا ،وہ لفظ تم ادا بھی کیسے کر سکتی ہو ۔میں اپنے اور تمھارے بیچ کوئی تیسری صدا نہیں سنتا ،تم نے ایک وجود کی بات کر دی ۔‘‘
گذشتہ برس مہ جبین منگنی کے بعد اگلے ہی روزمستقیم جلال کے ساتھ دنیا کی چار سمتوں سے پرے پانچویں میں تھی ۔ایک روز پہلے مہ جبین کی اپنے چچا زاد مستقیم جلال کے ساتھ نسبت طے پائی تھی ۔
چچی رخشندہ مہ جبین کمال کو بتایا کرتیں ۔۔کہ اُ س کی ماںنفیسہ اپنی بیٹی کی خوبصورتی کی دعا میں بلند ہوتے ہاتھ مہ جبین کی پیدائش تک جھکنے نا دیے ۔۔کہ اُس کا ماننا تھا ،بیٹی تو بس حسین ہو ۔۔تاکہ اُس کا مستقبل محفوظ رہے۔۔اور حقیقتیں تو سب کی اپنی اپنی ہو ا کرتی ہیں ۔نتائج خواہ کچھ بھی ہوں ۔
’’۔۔اور دیکھ ماہی تیری ماں کی دعاکیسے رنگ لائی ۔وہ بہشتن تو دنیا سے رخصت ہو گئی مگر میری بچی دیکھ لےتیری طرف تو نظر اٹھتی ہی نہیں ۔جس روز تیرا باپ بھی اپنی بیوی کے پاس جان کے لیے اِس دنیا سے چلا گیا ۔۔۔توُکوئی دس گیارہ سال کی تھی ۔۔مگر مَیں نے تو اُسی دن طے کر لیا تھا کہ بس مَیں تو تجھے ہی اپنی بہو بناؤں گی ‘‘
مہ جبین نے کالج سے واپس آ کر تین کمروں کے باہر بنے برآمدے میں قدم رکھا ہی تھا کہ چچی کی ازبر ہوئی بات پھر سے نشریات کی صورت تازہ تھی ۔مہ جبین نے مسکرا کر چچی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
’’چچی آپ کو کبھی مجھ سے نفرت نہیں ہوئی ۔۔مجھے کبھی بوجھ نہیں سمجھا ۔‘‘
’’ہٹ جھلی نا ہو تو ۔۔‘‘رخشندہ نے مہ جبین کو مصنوعی خفگی سے گھورتے ہوئے آٹا گوندھ کر پانی سے بھری
۳
پرات لے کر باہر چھوٹے سے صحن میں رکھے دو گملوں میں سے ایک میں ڈالنا چاہی کہ مہ جبین نے آگے
بڑھ کر پرات لے کر ایک طرف رکھتے ہوئے رخشندہ کے گلے میں بانہیں ڈال دیں۔
’’چل ہٹ پرے ۔۔پہلے میرا جی جلاتی ہے پھر مسکہ لگاتی ہے ۔‘‘
یہ ایک ایسا محلہ تھا جہاں ہر گلی سے بچے سکول،اور باپ دکانوں پر چلے جاتے ۔۔مگر مہ جبین نے اپنے حسین ہونے کے ساتھ ساتھ۔۔ جیسے تعلیمی مدراج طے کیے وہاں کی کوئی لڑکی ایسا نا کر سکی ۔۔۔یوں ہر گلی کے، ہر ہرگھر میں موجود لڑکے نے مہ جبین کے خواب دیکھنے پر خود کو مجبور پایا ۔۔جب کہ رخشندہ کے گھر مستقیم موجود تھا ۔
گزرتے وقت نے مہ جبین کی قابلیت اور خوبصورتی جیسے جیسے اضافہ کیا ۔۔ویسے ویسے مستقیم کے اندر فخر پیدا ہونے لگا۔۔ چونکہ ابھی دونوں شادی شدہ نہیں تھے ،اِس لیے مستقیم زیادہ تر خوش ہی پایا جاتا ۔
’’تم نے ایسا کہہ دیا ماہی ۔۔جب کہ مَیں اپنے اور تمھارے بیچ کسی صدا کو نہیں سنتا ۔‘‘
مہ جبین نے بیچلر کی ڈگری احسن طور پر حاصل کر لی تھی ۔وہ اپنے اور مستقیم کے رشتے کے لیے بہت احساس ہو چکنے کے بعد اپنے حُسن سے بھی بے نیاز تھی۔۔کیونکہ مستقیم اپنی محبت کا یقین تو دلایا کرتا مگر کبھی اُس نے یہ نا کہا کہ مہ جبین حسن کا مجسمہ ہے ۔
اِسی لیے ایک خیال آیا کہ مستقیم اپنی ملازمت جس جگہ شروع کرنے والا ہے وہاں لڑکیوں کی بہتات ہے ۔۔یوں مہ جبین کے دل میں اندیشوں نے سر اٹھا ۔ ۔
’’ ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی تمھاری یاد مجھے ستاتی ہے ۔تم ۔۔میری ہر خوشی تم سے ہو کر مجھ تک آتی ہے ۔تمھیں دیکھتے ہی نغمے سے ابھرنے لگتے ہیں ۔سچ کہوں تو جب تک تمھیں نہیں دیکھ لیتا ۔۔لگتا ہے
۴
،سورج طلوع نہیں ہوا۔میں تمھیں دیکھ کر ہوش میں آتا ہوں ۔۔اور تمھیں دیکھ کر ہی مدہوشی کا سفر کرتا ہوں ۔۔اور اگر دنیا چھوڑ کر بھی تمھیں اپنانا پڑا تو تم ہی میری پہلی خواہش ہو گی ۔‘‘
مہ جبین کا دل مستقیم کے حضور بندگی میں کیا جھکا کہ پھر مستقیم سے کسی اقرار کی ضرورت نا رہی ۔۔اور اپنی محبت کی بے نیازی میں اُسے دکھائی نا دیا کہ ہر معاملے میں دو فریق ہوتے ہیں ۔
وقت نے گویا پنکھ لگا لیے ۔سکھ کا دور تو ایسے ہی ہوا کے پروں پر سوار ہوتا ہے ۔مہ جبین نے انگلش ادب میں ماسٹرز ڈگری لے لی ۔مستقیم نے ملازمت کے ساتھ ساتھ وکالت پاس کر لی ۔۔اور پتا چلا اپنی کمپنی کا کوئی بہت بڑا فائدہ کیا ہے ۔جس پر اُسے ایک اچھا بونس بھی ملا ۔
یہ شہر سے کچھ دور نہر کا پرسکون علاقہ تھا ۔جہاں مستقیم اور مہ جبین اکثر آیا کرتے تھے ۔ ابھی کچھ دور ہی گئے تھے کہ موٹر سائیکل پنکچر ہو گئی ۔اس لیے دونوں نے پیدل چلنا شروع کر دیا کیونکہ مین سڑک تک جانے کے لیے یہ راستہ طے کرنا ہی تھا ۔۔پھر کہیں موٹر سائیکل کا پنکچر لگوایا جا سکتا تھا ۔
اگلے ہی لمحےقریب سے گزرتے ہوئے ایک گاڑی ان کے پاس رکی ، پتا چلا۔۔ وہ مستقیم کی کمپنی کے مالک تھے ۔جو مستقیم کے حالیہ دئے گئے فائدے کی وجہ سے اُسے پہچاننے لگے تھے ۔
’’مستقیم آ جاؤ ۔۔یہ موٹر سائیکل ڈرائیور لے آئے گا ۔۔
اِس کے بعد تو ایک اور ایک ،ہر روز ایک حیرت انگیز بات سامنے آنی تھی ۔
۔۔۔۔۔ جلال کی بیماری کا سُن کر ایک دولت مند انسان گلی محلے کے چھوٹے سے گھر میں خیریت پوچھنے چلا آیا ۔۔پھر تو عیادت کا سلسلہ متواتر ہو گیا ۔کچھ وقت بعد مستقیم کی ایک اہم ترقی بھی ہوگئی ۔ کیا بات ۔۔لگتا ،پل بھر میں سماں بندھ گیا۔اُس گھر کے تین افراد خود کو عقل مند ہی نہیں ،معتبر بھی ماننے لگے۔
۵
ہر کسی کی کے پاس ،ایک ۔۔کاش ۔۔ہوتا ہے۔۔مگر جب اُس ’’کاش‘‘ کی فصل تیار ہورہی ہوتی ہے،وہ بے خبری کی مات میں ہوتا ہے۔
مہ جبین نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا کورس کیا تو مستقیم نے اُسے اپنی ہی کمپنی میں ملازمت دلوا دی ۔کمپنی کے مالک صفدر بھٹہ نے مستقیم پر ایک اور احسان کیا کہ مہ جبین کو ایک بہترین جگہ پر تعینات کر دیا۔فہم والے فراست میں آ گئے۔دما غ کے نیوران ’’ڈوپامین‘‘ کی وافر مقدار دینے لگے۔مانو افراطِ زر ہو گیا۔
صبح ہوئی ،کہاں شا م ہو گئی۔رخشندہ اور جلال کے گھر تو مانو رنگ و نور کی برآت اتر آئی ہو ۔اُسے خبر ہی نہیں تھی ،لیٹرا دولت مند کی تلاش میں رہتا ہے ۔۔۔دولت۔۔وہ تو سب کی اپنی اپنی نگاہ کی ہوتی ہے۔فقیر کے لیے پرواز،اور بے وقوف کے لیے۔۔دوسرا احمق ،دولت ہے۔
اُس ایک پل کی ہنسی کا خراج مہ جبین کو عمر بھر چکانا تھا ۔۔وہ جانتی تو آسماں سے اپنا حصّہ کبھی نا مانگتی ۔
’’میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں ۔‘‘
ایک ماہ دس دن کے بعد مہ جبین صفدر بھٹہ کے ذاتی کیبن میں بلائے جانے پر،اُس کی زبان سے ادا ہوئے الفاظ۔۔ بیٹھی سُن رہی تھی ۔کچھ دیر کے لیے وہ سمجھ نا سکی کہ جوا ہوا وہ کیا تھا ۔
نوّے کلو وزن کے ساتھ صفدر بھٹہ چالیس پینتالیس برس کا ایک انسان تھا ۔جس کےپاس بےشمار دولت کے ساتھ ساتھ، دو جوان ہوتے بچے اور پچیس برس پرانی شادی بھی تھی ۔
’’بولو ۔۔مہ جبین ۔۔خاموش کیوں ہو ؟‘‘
’’سرآپ یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟‘‘مہ جبین نے خود کوبامشکل صفدر بھٹہ کے سنے گئے جملے کی وحشت سے
۶
باہر نکالتے ہوئے کہا ۔
’’میں ۔۔میں کہہ رہا ہوں کہ جس دن پہلی بار آپ کو گاڑی میں بیٹھایا ۔‘‘بھٹہ صاحب درمیانی میز پر ہاتھ اپنے بازو سمیت دھرتے ہوئے آگے جھکے۔’’بس ۔۔بس اُسی روز سے آپ کی محبت میں گرفتا ر ہوں ۔۔تم سمجھ لو کہ میں تمھیں ہمیشہ خوش رکھوں گا ۔تمھاری زندگی فرش سے ۔۔‘‘
’’سر ۔۔سر ۔۔آپ ایک شادی شدہ ہیں اور بچوں کے باپ ہیں ۔میری بھی مستقیم سے برسوں پرانی نسبت طے ہے ۔‘‘
مہ جبین نے دانستہ صفدر بھٹہ کی عمر کا تذکرہ زبان پر آنے سے روکا ۔زندگی پہلی بار اُس سے امتحان لینے جا رہی ۔
مہ جبین کے چہرے پر ضبط کے آثار آشکار ہونے لگے تو صفدر بھٹہ نے ادھر اُدھر کی باتیں کرتے ہوئے اپنی امارت کی دھاک بیٹھانے کی کوشش کر لینے کے بعد کہا۔
’’دیکھو جلد بازی نا کرو ۔۔اور پریشان تو اب کبھی ہونا نہیں ۔تم تک آنے والی ہر تکلیف مجھ سے ہو کے
گزرے گی ۔‘‘ایک صحیح جملہ،غلط انسان کی طرف سے موصول ہوا۔
صفدر بھٹہ نے مہ جبین کے بار بار کھلتے منہ اور کچھ بھی کہنے کی سعی کو بے کار کرتے ہوئے اُسے نا مانگی گئی مہلت دے کر جانے کا اشارہ کر دیا ۔
’’نا یہ کوئی شاملات کی زمین ہے ۔۔کہ جو چاہے آ کر بیٹھ جائے ۔میری دھی ہے ۔دیکھا ۔۔دیکھا میں کہتی تھی نا کہ اِن کی شادی کر دو ۔۔مگر مستقیم کے ابّا تُجھے میری بات پہلے کبھی سمجھ آئی ہے جو ۔۔۔۔‘‘
رخشندہ کے گھر بن موسم کا طوفان اُمنڈ آیا تھا ۔اندر کمرے میں مستقیم اشتعال میں مٹھیاں بھینچ رہا تھا ۔۔اور مہ جبین کچھ نا کرتے ہوئے بھی بھاگے ہوئے چور کے قابو آ جانے کے بعد کی حالت
۷
میں باری باری سب کے پاس جا کر خاموشی سے کھڑی ہو جاتی۔
’’مستقیم ۔۔مستقیم ۔۔کچھ تو بولو۔‘‘
’’بولوں ! ۔۔یہ بولنے کا مقام ہے کیا ۔۔مَیں ۔۔میرا دل کرتا ہے اُس صفدر کی زبان کھینچ لوں، تم دیکھ لینا ،میں اُس کا کیا حشر کرتا ہوں ۔‘‘
جلال کے گھر ایک کرفیو لگے علاقے کی کیفیّت طاری ہو چکی تھی ۔جس میں آمدورفیت کی پابندی صرف ایک فرد کے لیے تھی ۔مستقیم کے کہنے پر مہ جبین ملازمت پر نا گئی ۔۔مگر کچھ ہی دیر بعد مستقیم نے فون کر کے دفتر آنے کو کہا ۔۔بلکہ مہ جبین کے تیار ہوتے ہوتے گلی کے باہر کھلی گلی کی نُکڑ پر دفتر کی بڑی گاڑی موجود تھی ۔
’’وہ کہہ رہا ہے کہ تمھیں اپنے تین مہینے پورے کرنے پڑیں گے ۔۔ورنہ قانونی چارہ جوئی کرے گا ۔‘‘
مہ جبین کے دفتر پہنچتے ہی مستقیم نے اُسے آنے والی بہت سی بری خبروں میں سے پہلی پیش کی ۔
’’۔۔اور ۔۔اور تمھاری ملازمت ۔۔؟‘‘
مہ جبین نے سُرخ چہرے اور بگٹٹ بھاگتی دھڑکن کے ساتھ کسی اچھی بات کی مدھم سی اُمید پر مستقیم سے
پوچھا ۔
’’ہمم۔یقیناََ مجھے بھی نکال دے گا ۔۔۔۔بہر حال اُس کی بات ماننے کا تو سوال اٹھتا ہی نہیں ،نا ۔۔تم یہ بات اپنے اندر مضبوط رکھو ۔‘‘
مستقیم کے الفاظ اُس کے چہرے اور آنکھوں کے ساتھ مطابقت نہیںتھے ۔مہ جبین کو لگا برسوں پہلے فوت ہو جانے والے ماں باپ کی ،اب اچانک خبر دی ہو۔
’’مہ جبین تمھارے والد کا انتقال ہو گیا ہے ،مہ جبین ،تمھاری ماں اِس دنیا سے چلی گئیں۔‘‘
۸
اُس کے کانوں میں مستقیم کی الفاظ اپنے معنی دینے کی کوشش کر رہے تھے۔
’’میں ڈرتا نہیں ۔۔مگر یہ بھی تو ہے، نا کہ ہم اُس کے مقابلے میں کمزور ہیں ۔ سوچ سمجھ کر معاملہ حل کرناپڑے گا ۔۔اور وہ مَیں کر لوں ۔تم بالکل فکر نا کرو ۔مَیں ہوں نا ۔‘‘
مستقیم کی جسمانی حرکات،ہاتھ کے اشارے ،سبھی اپنی اپنی بات کر رہے تھے۔یوں مستقیم ایک ہی وقت میں کئی باتیں کر گیا۔
اُس کے جملے کے آخری حصّے نے مہ جبین کو بتایا کہ نہیں آسمان اپنی سبھی تہوں کے ساتھ سایہ کیے ہوئے موجود ہے ۔
اپنی سیٹ پر بیٹھے ابھی چند منٹ ہی گزرے ہوں گے ۔۔کہ فائیلوں کا ایک انبار اُس کی میز پر بھجوا دیا گیا ۔جسے وہ مسلسل کام کرنے پر، دس گھنٹوں میں مکمل کر سکتی تھی ۔
’’سر کہہ رہے ہیں کہ یہ سب آج ہی ختم کرناہے ۔‘‘
آج چپڑاسی کے انداز بھی بدلے ہوئے تھے ۔مہ جبین کے اندر طیش کا بگولا اپنی پوری گرد کے ساتھ سرسرانےلگا تھا کہ۔۔ نگاہوں میں مستقیم کی دلگرفتگی آ گئی ۔وہ مشینی انداز سے اٹھی اور آگ کی لپٹوں میں جھلستے ہوئےباہر سڑک پر آ گئی ۔
مہ جبین بس تیزی سے دوڑنے کے انداز سے کنارے سے کب بیچ سڑک ہوئی اُسے علم نا ہوا ۔اُسے تو بس یہ پتا چلا کہ ایک جہاز جیسی گاڑی کے بریک اُس کے سر پر چیخے اور وہ دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ کر وہیںلہرا گئی ۔ راستہ بناتی تیزی سے گزرتی گاڑیوں کےہارن نے اُسے حواس باختہ کرنے
میں پوراساتھ دیا ۔
’’وہ مَیں ۔۔میَں ۔۔‘‘
۹
بامشکل سر اٹھا کر دیکھا،مہ جبین کے منہ سے بے ربط جملے نکلے ، وہ واپس مڑنے کو ہی تھی کہ اجنبی نے اُسے بازو سے پکڑ کر گاڑی کی پچھلے سیٹ پر بیٹھا دیا ۔
’’مَیں سکندر حیات ۔ ‘‘پانی کی بوتل مہ جبین کو زبردستی تھماتے اجنبی نے کہا ۔
’’آپ شاید مرنے کے ارادے میںتھیں ۔۔معذرت چاہتا یوں،میں مُخل ہوا۔۔۔پانی پیو۔‘‘
مہ جبین نے ساتھ بیٹھے آدمی کے حاکمانہ انداز کو حیرت سے دیکھا ۔۔مگر اُدھر ایک مدھم سی مسکراہٹ دیکھ کر قریباََ پچاس برس کے آدمی کے اِس انداز میں اُسے ایک شفقت کا سا احساس ہوا ۔
’’چلو! مَیں تمھیں گھر پہنچا دوں ۔‘‘
گھر کے نام پرمہ جبین کو مستقیم کی ،بیچ راہ رہ جانے والی نگاہیں اور فائیلو ںکا انبار یاد آ گیا ۔
’’نہیں نہیں ! مجھے میرے دفتر جانا ہے ۔‘‘
’’۔۔اور دفتر کہاں ہے ؟‘‘سکندر حیات نے موہ لینے والی مسکراہٹ مہ جبین کی طرف اچھالتے ہوئے کہا ۔مہ جبین نے سامنے دیکھا تو،بے اختیار بے ساختہ مسکرا اٹھی ۔
’’وہ ۔۔وہ سامنے والی عمارت میں ہے ۔‘‘
’’اچھا ! تو پھر بریک میں خودکشی کا اردہ کر لیا تھا ؟‘‘
مہ جبین نے بے ساختہ سر جھکا لیا ۔
’’اچھا ! مجھ سے دوستی کرو گی ؟یقین مانو ! مَیں ایک ایماندار دوست ہوںگا ۔۔تمھاری ہر تکلیف مجھ سے
ہو کر واپس پلٹ جائے گی ۔‘‘
’’مَیں نے کبھی دوستی نہیں کی ۔۔اور آپ تو مجھ سے بڑے ہو ۔۔اور یوں بھی اتنی جلدی ۔۔۔‘‘
۱۰
’’اچھا ! تو کل تم سے ملنے آ جاتا ہوں ۔مجھے کافی یا چائے پلا دینا ۔۔اور آج سے لے کر کل تک تقریباََ سولہ سترہ گھنٹے گزر چکے ہوں گے ۔۔پھر تو اتنی جلدی نہیں ہو گا ۔‘‘
’’تمھاری ہر تکلیف مجھ سے ہو کر واپس پلٹ جائے گی ۔۔۔‘‘
سکندر کا جملہ مہ جبین کے کانوں میں گونج رہا تھا ۔اُس کے چہرے پر شفیق اور دلنشین مسکراہٹ اور مہ جبین کی مشکل نے فیصلے میں آاسانی فراہم کر دی ۔۔اُس نے اثبات میں سر ہلاتے مسکراکر سکندر حیات کو اپنا موبائیل نمبر دیا،اوراپس دفتر کی طرف دوڑ لگا دی۔اُسے مستقیم کو یہ خوش خبری سنانے کی جلدی تھی کہ کوئی مددگار مل گیا ۔
شام کو رخشندہ کے گھر کسی حد تک خوشگوار ماحول تھا ۔سب نے ہنسی خوشی کھانا کھایا ۔اُس کے بعد طے پایا کہ کل سکندر حیات جب مہ جبین کے دفتر آئے تو اُسے تمام تفصیل سنا کر مدد مانگ لی جائے ۔
’’تم مجھے ابھی صفدر بھٹہ سے ملوا دو ،مَیں اپنے وعدے ایفا کرنا جانتا ہوں ۔‘‘
مہ جبین کے چہرے پر الوہی رنگ بکھر گئے ۔
’’جانے کون لوگ کہتے ہیں کہ دنیا سے اچھائی رخصت ہو گئی ۔‘‘
مہ جبین نے اپنی معیّت میں آتے سکندر حیات کی مدھم مسکراہٹ دیکھتے ہوئے سوچا۔
جیسے ہی سکندر حیات نے صفدر بھٹہ کے کیبن کادروازہ باوقار اور اعتماد کے ساتھ کھولا۔۔مہ جبین ایک گہری سانس لے کر رخصت ہونے لگی ہی تھی کہ اچانک رُک گئی، اُسے صفدر بھٹہ کو ہارتےدیکھنا تھا ۔
مہ جبین نے دروازہ کھولا ہی تھا کہ صفدر بھٹہ کی پُرجوش آواز سنُی ۔
’’آپ ۔۔آپ کو کون نہیں جانتا ۔پچھلے سال ہم نے آپ کی کمپنی کا ٹینڈر بھی بھرا تھا ۔‘‘
۱۱
’’ہمم! مجھے آپ یاد آ گئے ہو ۔ہم ایک فنکشن میں مل چکے ہیں ۔‘‘
’’جی جی ! آپ ایسے اچانک یہاں ۔۔۔؟‘‘
’’ہاں ! یہ میری دوست ! ارے تم ابھی تک کھڑی ہو ۔بیٹھو ۔‘‘
سنکدر حیات نے مہ جبین کو بیٹھنے کے لیے کہتے ہوئے صفدر بھٹہ کی طرف دوباہ ہ رُخ کیا ۔صفدر نے سکندر کے لہجے کا التفات فوراََ بھانپ لیا ۔اِس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا ،سکندر نے بات مکمل کر دی ۔
’’ یہ میری دوست مہ جبین ہے ۔اِسے آپ سے شکایت ہے ۔آپ نہیں جانتےمَیں مہ جبین کو کتنا پسند کرتا ہوں ۔آج تو میں اپنی اور مہ جبین کی شادی کی بات کرنے آیا تھا ۔۔اور آپ کے بارے میں پتا چلا۔۔۔‘‘
’’سکندر صاحب ! مہ جبین کا منگیتر ہے۔اور ۔۔مہ جبین تمھارے اصول بدل گئے ۔۔اب منگیتر کہاں ہے ؟‘‘
دھڑ ۔۔دھڑ ۔۔دھڑ ۔۔دفتر کی پچھلی طرف بننے والی ذیلی سڑک کے تمام روڑے ۔۔پتھر ۔۔اینٹیں مہ جبین کے سر پر برس رہے تھے ۔دونوں پیروں میں گارا مٹی چپک گیا ۔۔اور وہ ایک بار پھر لہرا کر گرنے کو تھی کہ مستقیم کے مضبوط ہاتھوں نے اُسےتھام لیا ۔
’’ہاں تو ٹھیک ہے نا ! لڑنے دو ،اُن دونوں ہاتھیوں کو ۔۔ہمیں پھر بھی فائدہ ہی ہوا نا ۔۔اور کچھ دنوں کی بات ہے ۔تم اپنا تین مہینے کا معاہدہ پورا کرو ۔دیکھ لینا اب وہ بھٹہ تمھیں بالکل تنگ نہیں کرےگا ۔‘‘
مستقیم کی کہی بات سچ ہوئی ۔مہ جبین سکون سے دفتر بیٹھ کر آ گئی ۔ مہ جبین کے ہولتے دل کو سنبھالا ملا ہی تھا کہ آنے والے چند ہی دنوں میں مستقیم کا ہی نہیںچچی رخشندہ اور چچا جلال کا رویہ بھی مبہم سا ہو گیا ۔۔۔پھر ایک روزمہ جبین کو دفتر میں پتا چلا کہ مستقیم کی ترقی ہو گئی ہے ۔۔اور اُسےگھر ،گاڑی اور
۱۲
بڑی سی تنخواہ کے ساتھ دوسرے شہر بھیجا جا رہا ہے ۔
جسے پوچھنا تھا اُس نے بتایا بھی نہیں ۔۔۔اور مستقیم کی صفدر بھٹہ کے دفتر میں اتنی بڑی ترقی ایسے اچانک کیسے ہو گئی ۔۔بہت سے لوگوں کے ساتھ ساتھ مہ جبین بھی اِس پہیلی سے بے خبر تھی ۔
’’اب تمھارا منگیتر جب برسوں پرانی منگنی توڑ چکا ہے ۔۔اور صفدر ۔۔وہ شادی نہیں ،بلکہ ناجائز تعلق رکھنا چاہتا ہے ۔۔تو تمھیں نہیں لگتا کہ صفدر جیسے گنوار اور اُس کی بے ہودہ پیش کش کے سامنے میرا تم سے شادی کرنا کتنا خاص ہے ۔‘‘
’’جب کہ تمھارے منگیتر نے برسوں پرانی منگنی توڑ دی ہے تو ۔۔۔‘‘
کمرے کی یخ بستہ ہوا میں سکندر کا جملہ اپنی پوری حدت پھیلا رہا تھا ۔مہ جبین نے عزت کو تاک پر رکھتے ہوئے، آخری تلخی دیکھنے کی کوشش کی۔دوسرے کمرے میں بیٹھےمستقیم کی نگاہوں کی خاموشی اور سرد مہری کے پیچھے کی کہانی جان کر واپس مڑنے اور فیصلہ کرنے میں دیر ناکی ۔یا یہ کہ اُس کے لیے سکندر کے حق میں فیصلہ دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں چھوڑا گیا تھا ۔
اگلی صبح زندگی اپنے پرانے منظر نامے میں رواں تھی مگر مہ جبین کےاندر عدالت نے ’’Hang till death‘‘ سنا دیا تھا ۔
مہ جبین اپنا استعفٰی ٹائپ کر’’ جو ہونا ہے بس اب ہو جائے‘‘ کی کیفّت کے ساتھ کمرے سے باہر نکل آئی ۔کاریڈور کے آخری کمرے سے مستقیم تھری پیس سوٹ پہنے کسی جونئیر کو ہدایات دیتا ہوا دوسری طرف نکل گیا ۔۔جان جانے کی حد تک بے زار ہو جانے کے بعدآخر کار سکندر حیات لفٹ سے باہر آتادکھائی دیا ۔مہ جبین ایک گہری سانس لے کر اُس کی طرف بڑھنے والی تھی کہ سکندر حیات کے پیچھے ہی صفدر بھٹہ بھی نمودار ہوا ۔مہ جبین ٹھٹک کر وہیں سر جھکائے بیٹھ گئی ۔
۱۳
بھاری قدموں کی آواز اپنے پیچھے صفدر حیات کا جملہ اورہمیشہ مدھم مسکرانے والے سکندر حیات کی بلند ہنسی چھوڑ گئی ۔
’’آپ کیوں نا خوش ہوں گے ۔۔ہماری اور آپ کی کمپنی کا پانچ سالہ معاہدہ اِس شہر کے تمام رئیسوں کے چھکے چھڑا دے گا ۔‘‘
مہ جبین نے مستقیم کو سڑک کے کنارے کھڑے لرزتے ہاتھوں میسیج ٹائپ کیامگر ایک بڑی سی گاڑی کو دیکھ میسج ڈیلیٹ کرتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئی ۔
’’مستقیم وہ جسے تم گنو ا کر اور مَیں نبھا کر تھک گئے ۔۔اُس تمنا کا ایک حصّہ تمھارے پاس بھی تو تھا ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شُد
عندلیب بھٹی
