114
تمام شہر کو جو سچ ہوا بتاؤں گا
پھر اس کی جتنی بھی قیمت ہوئی چکاؤں گا
میں ہجر والوں کا اک قافلہ بناؤں گا
تمہارے بعد بھی جی کر تمہیں دکھاؤں گا
جنہوں نے مل کے مرے ہاتھ کاٹ ڈالے ہیں
انہیں یہ ڈر تھا کہ میں آئینہ بناؤں گا
اس ایک بات میں کتنی بڑی اذیت تھی
جب اس نے اتنا کہا: سوچ کر بتاؤں گا
اسی سبب سے میں لوگوں سے اب نہیں ملتا
صغیر اس نے کہا تھا گلے لگاؤں گا
صغیر احمد صغیر

2 تبصرے
بہت شکریہ جناب. ادب کی ترویج و ترقی پر آپ کو سلام پیش کرتا ہوں.
ممنوم