خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکچہری بس سٹاپ
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

کچہری بس سٹاپ

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 20, 2021
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 20, 2021 0 تبصرے 104 مناظر
105

بھیڑ اور تنہائی۔ دونوں کا ملاپ بس سٹاپ پر ہوتا ہے۔ اس سٹاپ پر آج میرا آخری دن تھا۔ خدا نہ کرے مجھے دوبارہ ادھر آنا پڑے۔ لاہور کی آلودہ فضا، گاڑیوں کا گندا دھواں، شوراور ٹھنڈ، سارا دن سورج نظر نہیں آیا۔ لوگوں اور گاڑیوں کی دوڑ۔ زیادہ تر لوگ خاموشی سے بھاگتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دو چار لوگوں کی ٹولی بھی نظر آجاتی ہے جو باتیں کرتے چلے آرہے ہوتے ہیں۔ کسی نہ کسی چہرے پر مسکراہٹ بھی مل سکتی ہے، ہنسی تو پورے شہر سے عنقا ہو گئی ہے۔ گرد و غبار، سموگ اور شاید دکھوں کی وجہ سے لوگوں کی آنکھوں میں خشک پانی تو مل جاتا ہے، کوئی روتا دکھائی نہیں دیتا۔ جو لوگ رونا چاہتے ہیں وہ خود کو گھروں میں یا اپنی گاڑیوں میں الگ تھلگ کرلیتے ہیں۔ میرا تو گھر بھی چھن گیا ہے۔ اگر رونے کی خواہش اچانک کسی پرحملہ کرے تو وہ کدھر جائے؟ اس حاجت کو رفع کرنے کے لیے عوامی بیت الخلاء ہی کام آ سکتے ہیں۔ سائکایٹرسٹ نے جو دوائیں تجویز کی ہیں وہ مجھے بیت الخلاء سے تو دور رکھتی ہیں، اداسی کو دور نہیں بھگاتیں۔

میری کہانی تو صبح ہی ختم ہوگئی تھی۔ کچہری سے نکل کر فاونٹین ہاؤس چلی گئی۔ ڈاکٹر کے پاس تو وقت کم ملتا ہے لیکن اس ادارے میں کام کرنے والی ایک سائیکالوجسٹ میری دوست بن چکی ہے۔ اس کی محنت ہی مجھے ان حالات میں سنبھالا دے رہی ہے۔ وہ موٹی موٹی کاجل بھری آنکھیں مٹکاتی سریلی آواز میں بات کرتی ہے تو دکھ بھول جاتے ہیں۔ اس دن جب خاتون وکیل نے مجھ پر بیہودہ الزامات لگائے اور میرا سابقہ خاوند بےشرمی سے مسکراتا رہا تو میں بہت روئی۔ کہنے لگی سٹیج ڈرامے دیکھا کرو۔ جس دن عدالت سے ہو کر جاؤ تین تین۔ وہ ایک دوسرے پر بھونڈے الزام لگاتے ہیں لیکن کبھی ان کو روتے نہیں دیکھو گی۔ وہ تو اس سے بھی زیادہ گھٹیا باتوں کو ہوا میں اڑا دیتے ہیں۔

سمجھ لو یہ عدالتیں بھی لاہور کے تھیٹر ہی ہیں۔ جج ہدائیت کار، وکیل جگت بازاداکار جن کی دلیل الخلف حجتیں ذومعنی فقرے بازی کی طرح ہوتی ہیں اورسائلیں وہ تماشبین ہیں جو دولت لٹا کر، اپنی عزت اچھلتی دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ ان عدالتوں کے فیصلے کمزور عورتوں کو گندے القابات سے نواز کراس دنیا کی سٹیج پر نچاتے ہیں۔

تم یہ سوچ کر خوش ہو جاؤ کہ تمہیں طلاق دینے والا بھی اپنی دولت ان پر لٹا کر خود کو برباد کررہا ہے۔

آج میں اس کو بتا کر آئی تھی کہ عدالت نے مجھے مشکوک کردار کی حامل قراردے کردونوں بچے اس کے حوالے کر دیے تھے۔ آج اس ہجوم میں میں پھر اکیلی ہو گئی تھی۔ دل چاہتا تھا کہ آج ڈرامہ الحمرا تھیٹر جاکر دیکھوں۔

ضلع کچہری بس سٹاپ پر بھی ڈرامہ ہی جاری تھا۔ پچھلے دو سال سے اس پر چلنے اور پلنے والے ہر کردار سے واقف ہو چکی تھی۔ دھند کے باعث سرشام ہی اندھیرا چھا گیا تھا۔ اتنی جلدی ہاسٹل جا کر کیا کرتی۔ سکول بند ہوجانے کے باعث سب ساتھی ملازم جا چکے تھے۔ پہاڑ جیسی رات اکیلی کیسے کاٹوں گی۔ ویگنیں بھی بھری ہوئی آرہی ہیں۔ میں آنکھیں جھکائے خاموش کھڑی ہوں۔ کبھی کبھار نظر اٹھا کر دیکھتی ہوں تو ہر طرف بہت سے لوگ سپاٹ چہرہ لیے کھڑے نظر آتے ہیں۔

سرخ بتی کے روشن ہوتے ہی بھاگتی گاڑیوں کو بریکیں لگ جاتیں اور تمام کردار حرکت میں آ جاتے ہیں۔ سڑک پار کرنے والے دوڑ پڑتےہیں۔ گاڑی صاف کرنے والے اپنی بوتل اور وائپر پکڑ کرگاڑیوں کے درمیان پہنچ جاتے ہیں۔ مانگنے والے بچے، عورتیں اور معذور مرد گاڑیوں کی قطاروں میں گھس کر شیشوں پرہلکی ہلکی دستک دینا شروع کر دیتے ہیں۔ عبایہ پہنے ہوئے جوان عورتیں بھی اپنا حصہ لینے پہنچ جاتی ہیں۔ لگتا ہے کہ یہ وہ مجبور عورتیں ہیں جن کے کندھوں پر ذمہ داریوں کا بوجھ ہے اور انہوں نے دوسری بہت سی ملازم پیشہ خواتین کی طرح مردوں کی ہوس ناک نظروں سے بچنے کے لیے خود کو ڈھانپ لیا ہے۔ کچھ عورتیں ایسی بھی ہیں جن کے بھرے بھرے جسموں اور اٹھانوں کو یہ عبائے مزید خوشنما کردیتے ہیں اور ان کی تھرکتی مچلتی ریشمی لہریں آنکھوں کے اشاروں کے ساتھ مل کر کوئی اور ہی کہانی سناتی ہیں۔

میں اداس کھڑی اپنی تنہائی کو کوس رہی ہوں۔ انہیں سڑکوں پر کبھی وہ میرے ساتھ چلا کرتا تھا۔ بالکل اس جوڑے کی طرح جو سامنے ایک ہی سیل فون سے کھیل رہا ہے۔ دونوں سر جوڑے ایک دوسرے میں مگن ہیں۔ ابھی وہ چلتے چلتے ادھر پہنچ کر دیوار کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔ لڑکا نظریں گھما کر ادھر ادھر دیکھتا ہے پھر دائیں ہاتھ کی انگلی سے لڑکی کے رخسار پر پڑی لٹ کو پیچھے ہٹا کر اس کے کان میں سرگوشی کرتا ہے۔ دونوں ہنسنا شروع کر دیتے ہیں۔ پھر اس کی کمر پر ایک ہلکی سی چپت لگاتا ہے اور دونوں چل پڑتے ہیں۔

ڈاکٹر نے مجھے پچھلی ملاقات میں مشورہ دیا تھا کہ اپنے دماغ میں منفی خیالات کو نہ پنپنے دوں۔ اس نے یہ نہیں بتایا تھا کہ جنسی خواہشات جو سرد راتوں میں ان جیسے جوڑوں کو دیکھ کر زبردستی دماغ میں گھس آتی ہیں، منفی سوچ ہیں یا نہیں؟ غالباً ایسے خیالات منفی مثبت کی درجہ بندی سے بلند ہیں۔ آج کے دن جب میں شکست خوردہ اجڑی کھڑی ہوں مجھے تو ان باتوں سے نفرت ہو جانی چاہیے۔ شاید میں اس ہار کے لیے خود کو تیار کر چکی تھی، دواؤں کا اثر ہے یا کچھ اور بات کہ ایسی زبردست نفسیاتی تکلیف اور معاشرتی نقصان کے بعد بھی جنس کی خواہش موجود ہے۔

بس سٹاپ پر مجھے کھسروں کا کردار سب سے زیادہ انوکھا لگتا ہے۔ وہ دوسرے مانگنے والوں کی طرح روتے دھوتے، گندے مندے نہیں بلکہ رنگ برنگے، صاف ستھرے کپڑے پہنے اور میک اپ کر کے مسکراتے ہوئے مانگتے ہیں۔ ہر نئی شام نئے بناؤ سنگھار کے ساتھ تیار ہوکر مٹکتی چال چلتے اس سٹاپ پر پہنچ جاتے ہیں۔

زیادہ تر کافی تن و توش والے زنخنے ہیں۔ کچھ کے بارے گمان اغلب ہے کہ وہ مرد ہی ہیں جو کہ زنانہ کپڑے پہن کر، غازہ سرخی پوڈر لگا کر آ جاتے ہیں۔ ان میں ایک کریمی سفید ریشمی شلوار قمیض میں ملبوس دبلا نوجوان بھی ہے جس کی ادائیں خالصتاً زنانہ ہیں۔ اس کے ہونٹوں پر گلابی لپ سٹک اور آنکھوں میں ہلکی سی کاجل کی لکیر بھی موجود ہے۔ پرانے دور کے فلمی ہیرو تو اس سے زیادہ میک اپ کرتے تھے۔ سر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والی سفید مانگ سے لٹکتے لمبے کالے سیاہ بال کندھوں کو چھو رہے ہیں۔ میں نے اکثر محسوس کیا ہے کہ وہ بہت کم گاڑیوں کی طرف جاتا ہے۔ سٹاپ پر ہی موجود پان چباتا رہتا ہے۔

آج وہ مجھے بار بار گھور رہا تھا۔ اندھیرا بڑھا تو وہ میرے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔ میں نے دس روپے نکال کر اس کی طرف بڑھائے۔ بولا "نہیں میڈم! میں فقیر نہیں۔ محنت مزدوری کر کے کماتا ہوں۔”

"کیا کام کرتے ہو؟ ”

"گاڑی چلاتا ہوں اور کرایا لیتا ہوں۔”

"کیا؟” میں حیرانگی سے اس کی طرف دیکھ کر بولی۔

"میری گاڑی ادھر کھڑی ہے۔ سیر کروا سکتا ہوں۔ ”

"سیر کا کیا لیتے ہو؟”

"شارٹ راؤنڈ کا پانچ سو اور لانگ کا دو ہزار۔” وہ بائیں آنکھ دبا کر بولا۔

میں اس کے رمز و ایما سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ وہ پتا نہیں کیا سمجھا، بولا۔

"میڈم ابھی پانچ بجے ہیں، سولہ گھنٹے لمبی رات ہے۔ سوچ لیں۔”

یہ کہہ کر وہ اپنی گاڑی کی طرف چل پڑا۔

میں سوچنے لگی۔ اس کچہری کے چکروں نے، بہتان و اتہام اور گندے القابات نے مجھے بہت کچھ سکھا دیا تھا۔ اب تو عدالتی فیصلے کے مطابق برے کردار کی بھی حامل تھی۔

سوچتے سوچتے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ وہ انتہائی پر اعتماد لہجے میں کولہے مٹکاتا اپنی گاڑی کی طرف جا رہا تھا۔ ٹریفک تیزی سے رواں تھی۔ گاڑیوں کی ہیڈ لائٹ میں اس کی کالی سیاہ زلفیں اور ریشمی پیرہن ستاروں کی طرح جگمگا رہا تھا۔

میں شادی شدہ زندگی گذار چکی ہوں۔ بھوگ بلاس کے سارے ڈھب پرکھ چکی ہوں۔ مجھے مردانہ حسن کے خد و خال ازبر ہیں۔ اب میں نے غور کیا، وہ مردانہ حسن کا شاہکار تھا۔

میری جیب میں دوہزار تھے یہ سوچ کر میں اس کے پیچھے چل پڑی۔

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بستی سے چند روز کنارہ کروں گا میں
  • ایک اہم بات جو کہنے جا رہا ہوں
  • پاکستانی میڈیا
  • یہ عشق مجھ کو درحقیقت خوار کر گیا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سلِیپ ڈِس آرڈر
پچھلی پوسٹ
لائبریری میں

متعلقہ پوسٹس

مانا کہ کوئی کام بھی اچھا نہیں کیا

دسمبر 13, 2021

عجب باتیں کھٹکتی ہیں

جولائی 6, 2021

شرابِ عشق سے لبریز کر پیالہِ غم

اکتوبر 25, 2025

حرفِ تسلی

جنوری 24, 2020

شکوہ نہیں خدا سے

نومبر 24, 2024

اشفاق احمد اور اُردو ادب

اکتوبر 15, 2025

جو سیر انجم و خورشید کا ارادہ کیا

ستمبر 25, 2023

عورت کی زندگی پر معاشرتی دباؤ

اکتوبر 21, 2025

کون کہتا ہے بار بار ملے

نومبر 30, 2021

کوئی دلاسا , تسلی , اداس لوگوں کو

اپریل 6, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

فيه ذكركم

جنوری 24, 2026

ایک ہی رہتا ہے الم صاحب

دسمبر 16, 2021

شریفن

اکتوبر 20, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں