خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرامرتسر میں بچپن کا رمضان اور سحری
اردو تحاریراے حمید

امرتسر میں بچپن کا رمضان اور سحری

از سائیٹ ایڈمن مارچ 25, 2024
از سائیٹ ایڈمن مارچ 25, 2024 0 تبصرے 71 مناظر
72

قیام پاکستان سے پہلے کا زمانہ ، دسمبر کی سرد ٹھٹھرتی رات کا پچھلا پہر، امرتسر شہر کے مکانوں کی چھتوں ، منڈیروں ، آنگنوں ، میدانوں اور باغوں پر کہرے کی لطیف یخ چادر سی بچھی ہے ۔ امرود کے اجڑتے ہوئے باغوں میں بے برگ وبار درختوں سے ٹھنڈی ٹھنڈی اوس ٹپک رہی ہے ۔سحری کا وقت شروع ہو گیا ہے ۔ ہماری گلی بیدار ہو رہی ہے ۔ دور سے ڈھول بجانے والے کی آواز آئی ہے ۔
ڈھول بجانے والا مگرابھی ہمارے محلے میں نہیں پہنچا ۔ وہ بجلی والے چوک یا مسجد خیرالدین کے آس پاس ہے ۔ایک بار بڑے زورشور سے ڈھول بجا کر اس نے آواز لگائی ہے ، ’’جاگو ! اللہ کے پیارو ! جلال دین آگیا ! سوتوں کو جگا گیا ! ‘‘میں پلنگ پر اپنے لحاف میں دبکے ہوئے دور سے یہ آواز سنتا ہوں ۔باہر صحن میں آپوجی( والدہ ) کے چلنے اور برتن اٹھانے رکھنے کی آواز آ رہی ہے۔سامنے والی مسجد میں موذن ٹونٹی کھول کے وضو کر رہا ہے اور زور سے کھانس کر اپنا گلا بھی صاف کر رہا ہے ۔ کہیں کہیں مسلمانوں کے مکانوں سے پانی بہنے کی آوازیں آنے لگی ہیں ۔آپو جی نے باورچی خانے سے میری بڑی بہن سرور کو آواز دی ہے ۔’ آج اٹھنا نہیں بانو ! ‘بانو کلمہ پڑھتے ہوئے اٹھ بیٹھی ہے اوردوپٹہ اوڑھ کر باہر صحن میں آ گئی ہے ۔مییں آنکھوں پر لحاف ذرا سے اٹھائے طاق پرجلتے ہوئے کڑوے تیل کے دیے کو دیکھ رہا ہوں ۔ مجھے اس کی لو میں روشنی اور نور کی ننھی منی پریاں ناچتی نظر آ رہی ہیں ۔

’ وے حمید ، وے اٹھ وے ، دہی لیا ۔‘ آپو جی کی آواز آتی ہے ۔ مجھے نیند بھی آ رہی ہے ، لیکن سحری کے وقت گلی میں نکلنے کا شوق بھی ہے ۔ ان لوگوں کو دیکھنے کا شوق جو ڈھول تاشے بجاتے روزہ داروں کو جگاتے ہیں۔ پکی گلی کی طرف سے گانے والوں کی ٹولی کی آواز آئی ہے ،

جلوہ گر ، جلوہ گر ، جلوہ گر ہو گیا
شاہ ِ جن وبشر جلوہ گر ہو گیا

سامنے والی مسجد کے موذن نے سحری کے شروع ہونے کی نوبت بجا دی ہے ، دھما دھم ، دھما دھم ، دھما دھم۔ میں لحاف سے آنکھیں ملتا ہوا اٹھا ہوں اور باہر صحن میں آ گیا ہوں ۔ باورچی خانے کے دروازے پر نمدا پڑا ہے ۔میں نمدا اٹھا کر اندر جاتا ہوں ۔ باورچی خانے کی فضا گرم ہے ، جیسے کسی نے اسکو گرم شال اوڑھا دی ہے ۔آپو جی نے دونوں چولہے جلا رکھے ہیں ۔ دیواروںپر لکڑی کے شعلوں کی چمک پھیلی ہوئی ہے ۔ایک چولہے پر رات کا پکا پالک کا ساگ گرم ہو رہا ہے ۔دوسرے چولہے پر سبز چائے دم ہو رہی ہے ۔

چائے کی خوشبو اڑ رہی ہے ۔ آپو جی کا سرخ وسفید گول کشمیری چہرہ چائے کی خوشبو اور آگ کی روشنی میں دمک رہا ہے ۔میں دہی کا برتن اٹھا کر باہر جانے لگتا ہوں کہ آپو جی ڈانٹ کر کہتی ہیں ،’’ فرد لے کے جاویں وے ۔ ‘‘( یعنی کشمیری شال اوڑھ کر جانا ) ۔ میں فرد سے بڑا گھبراتا ہوں ۔ میں ابھی چھوٹا ہوں ۔ دس بارہ سال کی عمر ہو گی ۔فرد بڑی ہے ۔ وہ گلی میں مجھ سے سنبھالے نہیں سنبھلتی ہے ۔ ویسے بھی اس عمر میں سردی کم ہی لگا کرتی ہے ۔ پھر ہم غریب محنتی ماں باپ کی اولاد سردیوں میں ننگے پیر ہی گلیوں میں بھاگتے پھرا کرتے ہیں ۔کبھی زکام تک نہیں ہوا ۔
میں ٹھنڈا کٹورا ہاتھ میں لیے گلی میں آ گیا ہوں ۔ آسمان پر چمکیلے ستارے بڑے بڑے موتیوں کی طرح چمک رہے ہیں۔گلی دور تک سنسان ہے ۔مسجد کے کنویں میں برکت ماشکی بوکے نکال نکال کر مشک بھر رہا ہے۔کنویں کی چرخی کی چیوں چیوں گلی کی خاموش فضا میں گونج رہی ہے ۔ برکت ماشکی اپنے بچپن سے لوگوں کے گھروں میں پانی بھر رہا ہے ۔ اب بوڑھا ہو گیا ہے ۔ کمر جھک گئی ہے ۔ ہاتھوں اور پنڈلیوں کی سبز رگیں پھول گئی ہیں ۔ وہ کنویں میں سے پانی نکالتے ہوئے گا بھی رہا ہے ،

’’کدی میں وی مدینے جاواں ‘‘

میں گلی کے موڑ پر ہوں ۔ ڈھول والا بازار میں پہنچ گیا ہے ۔ بڑے زوردار انداز میں ڈھول کو پیٹا ہے ، دھڑ دھڑ دھڑ ، اور آ واز لگائی ہے ،’جاگو ، اللہ کے پیارو ، جلال دین آ گیا ، سوتوں کو جگا گیا ۔‘میں بڑے اشتیاق سے اسے دیکھ رہا ہوں ۔ وہ دکان پر بیٹھے ہوئے میرے والد سے پوچھتا ہے ، خلیفہ جی ، ’کیہ وج گیا اے ۔‘اور پھراس طرح ڈھول بجاتا ہوا تیز تیز قدموں سے آگے نکل گیا ہے ۔ ڈاک خانے کے پاس گونگے کا تیزاور تلخ بگل گونج اٹھا ہے ۔ میں دہی ڈلوا کر واپس گلی میں مڑ رہا ہوں کہ گونگے کے بگل کی آواز بہت ہی قریب سے گونجتی ہے ۔اب وہ ہاتھ میں بگل تھامے بھاگتا ہوا بازار میں نمودار ہوا ہے ۔ گلی کی طرف منہ کرکے زور سے بگل بجایا ہے اور ٹارزن کی آواز میں وحشی چیخ مار کے آگے نکل گیا ہے ۔میں گھر کے پاس پہنچ گیا ہوں ۔ سامنے نعت خوانوں کی ٹولی کے گیس کی روشنیاں گلی میں جھلملا رہی ہیں ۔ انکو دیکھ کر میں مسجد کے تھڑے پرکھڑا ہو گیا ہوں ۔ ٹولی سبز رنگ کے گوٹہ کناری لگے جھلملاتے جھنڈے اٹھائے نعت پڑھتی آ رہی ہے ۔ وہ مسجد کے سامنے آ کے کھڑی ہو گئی ہے ۔
انھوں نے سروں پر سبز صافے باندھ رکھے ہیں ۔ آگے ایک آدمی نے گیس اٹھا رکھا ہے ۔گیس کی روشنی میں نعت خوانوں کے چہرے چمک رہے ہیں اور سردی میں گاتے وقت منہ سے بھاپ نکل رہی ہے۔میں فرد میں لپٹا ، دہی کا کٹورا ہاتھ میں لیے ، مسجد کے تھڑے پر کھڑا ، گردن ایک طرف ڈھلکائے آنکھیں سکیڑے اس ٹولی کو نعت پڑھتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ مجھے ان ٹولیوں کو دیکھنے کا بڑا شوق ہے ۔
اکثر وہ میرے سوتے ہوئے ہی گلی میں سے نعتیں پـڑھتی نکل جایا کرتی ہیں ۔ لیکن جب میری آنکھ کھل جائے تو میں بھاگ کر کھڑکی میں کھڑا ہو جاتا ہوں ، یا گلی میں نکل آتا ہوں ۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے نعت خوانوں کی یہ ٹولیاں خیال کی دنیا سے آتی ہیں اور خوابوں کی سرزمیں کو چلی جاتی ہیں ۔موذن مسجد کے رونث پر بیٹھا ہے ۔ وہ مجھے تھڑے پر اس طرح کھڑے دیکھ کر کہتا ہے ’اوے دہی لے کے گھر جا۔‘ عمدو کاکا نانبائی کے تنور سے نارنجی رنگ کے شعلے نکل کرچھت کو چھو رہے ہیں۔گامی سینڈو دونوں ہاتھوں سے میدے کے پیڑے بنا بنا کر تختے پر ساتھ ساتھ جوڑے جا رہا ہے۔ عمدو کاکا کٹورے میں دودھ اور کھجوریں بھگو رہا ہے۔ بودی چوکیدار منہ سر لپیٹے ڈنڈا ہاتھ میں لیے بنچ پر بیٹھا سگریٹ پی رہا ہے ۔
اس کابادامی رنگ کا کتا اس کے پاؤں میں سکڑا بیٹھا ہے ۔بودی اپنی طرز کا انوکھا پہرے دار ہے ۔ وہ ساری رات بوٹ پیٹی کے منہ سر لپیٹے بنچ پر دراز رہتا ہے ۔ادھر ادھر کہیں کوئی کھٹکا ہو تو کتا ہی جا کے خبر لاتا ہے ۔ بودی اپنی جگہ سے ہر گز نہیں ہلتا ۔ بودی ہر فن مولا بھی ہے ۔محلے میں کسی کا پنکھا ، گراموفون مشین ، بجلی کی استری ، تالہ ، کچھ خراب ہو ، بودی اسے ایک دم سارا کھول کر ٹھیک کر دیتا ہے ۔ گلی کے ہر گھر کے باورچی خانے میں لیمپ روشن ہیں۔ کہیں کہیں پرنالوں سے پانی گرنے کی آوازیں بھی آ رہی ہیں۔ جھکی ہوئی کمر والا بوڑھا گاماں ماشکی کمر پر پانی سے بھری ہوئی مشک لیے میرے قریب سے گزرا ہے ۔ چمڑے کی گیلی مشک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ اتنی سردی میں بھی وہ صبح صبح لوگوں کے یہاں پانی بھرتا ہے ، خدا جانے اسے سردی کیوں نہیں لگتی ۔ میں سوچتا ہوں میں دہی لے کر اپنے گھر آ گیا ہوں ۔ گھر میں سبھی جاگ چکے ہیں ۔ سحری تیار ہو چکی ہے۔مجھے لگا کہ باہرایک اور نعت خواں ٹولی نعت پڑھتی ہوئی گزر رہی ہے ،

تینڈی سواری یا نبی عرش بریں اتے گئی اے
دیکھ کے جلوہ طور تے ، موسیٰ نوں ہوش نہ رہی اے

میں پھر کھڑکی کی طرف بھاگتاہوں ، ٹولی گیس کی روشنی میں سبز جھنڈے لہراتی گلی کا موڑ مڑ رہی ہے ،اور تھوڑی دیر میں وہاں کوئی بھی نہیں تھا ۔
یہاں پہنچ کر اے حمید صاحب کی آواز بھرا گئی۔ ان کی آنکھوں میں تیرتی نمی دیکھی جا سکتی تھی ۔ شاعر نے کہا تھا ،
دھیان کے آتش دان میں ناصرؔ
بجھے دنوں کا ڈھیر پڑا ہے

 

اے حمید

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پرورش کے امتحان
  • گلینا
  • جفا کے راستے آسان نہیں ھوتے
  • شانتی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
غزہ میں رمضان
پچھلی پوسٹ
پریشانیاں اور آزمائش اور اس میں اللہ کی حکمت

متعلقہ پوسٹس

بنگلہ دیش طیارہ سانحہ

اگست 15, 2025

بےنظیر بھٹو : جمہوریت کی ادھوری کہانی

دسمبر 27, 2025

گاڈ سیو دا کنگ

مارچ 24, 2026

صحافت اور بلیک میلنگ

مئی 22, 2026

صنوبر کے نایاب جنگلات

مئی 19, 2024

شہ نشین پر

فروری 8, 2020

واہ! محمد علی سدپارہ

فروری 10, 2021

موت سے پہلے

اکتوبر 13, 2025

گاجر کا رس

جنوری 7, 2020

ماں تیری ممتا

جون 29, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

زاینو ازم ڈیجیٹل دور میں سکون...

مارچ 22, 2026

والدہ مرحومہ کی یاد میں

نومبر 14, 2025

جنم دن اور زندگی کا سفر

اپریل 25, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں