خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامُجھے اسکول نہیں جانا
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

مُجھے اسکول نہیں جانا

از سائیٹ ایڈمن نومبر 11, 2025
از سائیٹ ایڈمن نومبر 11, 2025 0 تبصرے 56 مناظر
57

مُجھے اسکول نہیں جانا: ایک خاموش پکار
صبح کی پہلی روشنی آہستہ آہستہ کمرے میں پھیل رہی ہے۔ ہوا میں تازگی کے ساتھ بچوں کے ہنسنے کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ لیکن ایک کمرے میں ایک چھوٹا سا لڑکا، جس کے بستے میں کتابیں اور خواب بندھے ہونے چاہییں، آنکھیں موندے بستر پر بیٹھا ہے۔ اس کے ہونٹوں سے نرم مگر واضح جملہ نکلتا ہے: "مجھے اسکول نہیں جانا۔”
اکثر والدین ایسے لمحوں کو معمولی ضد یا سستی سمجھ لیتے ہیں۔ ماں کہتی ہے کہ بس بہانہ کر رہا ہے، باپ کہتا ہے کہ روز روز یہی حرکت کیوں؟ لیکن یہ چھوٹا سا جملہ دراصل ایک خاموش پکار ہے، ایک احساسِ کمتری یا خوف کی علامت ہے جو لفظوں سے باہر ہے۔

بچے کی اس ضد کے پیچھے کئی ممکنہ اسباب چھپے ہوتے ہیں۔ شاید کسی سخت مزاج استاد کی ڈانٹ نے اس کے دل میں خوف بٹھا دیا ہو۔ یا پھر کسی ہم جماعت کے طنز اور مذاق نے اسے دل برداشتہschool going kids کر دیا ہو۔ بعض اوقات وہ سبق سمجھ نہیں پاتا اور خود کو دوسروں سے کم تر محسوس کرتا ہے۔ یہ احساس کمتری، ڈر اور شرمندگی اسے صبح بستہ اٹھانے سے روک دیتی ہے۔ کبھی والدین کی زیادہ توقعات یا گھر میں کسی تنازعے کا دباؤ بھی اس رویے کا سبب بن سکتا ہے۔

اکثر والدین اور اساتذہ اس کیفیت کو سمجھنے کے بجائے بچوں کے اس رویے کو تنقید یا سزا کے ذریعے بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ماں کہتی ہے "بس بہانہ چھوڑو”، باپ کہتا ہے "روز روز یہی ضد کیوں کرتے ہو؟” اور استاد کلاس میں کہہ دیتا ہے "پڑھائی میں دل نہیں لگاتا۔” یہ الفاظ بچے کے دل میں مزید خوف اور خود اعتمادی کی کمی پیدا کر دیتے ہیں۔ اس کے لیے سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ والدین اور اساتذہ سب سے پہلے بچے کے دل کی کیفیت کو سمجھیں۔

جب بچہ کہے "مجھے اسکول نہیں جانا”، تو سب سے پہلے یہ نہ پوچھا جائے کہ "تمہیں اسکول کیوں پسند نہیں؟” بلکہ محبت اور شفقت سے پوچھا جائے: "اسکول میں تمہیں کیا چیز پریشان کرتی ہے؟”
یہ دو جملے بظاہر ایک جیسے لگتے ہیں مگر اثر میں زمین آسمان کا فرق رکھتے ہیں۔ پہلا جملہ الزام اور تنقید دیتا ہے، دوسرا سوال اعتماد اور تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے۔ پہلا جملہ دیوار کھڑی کرتا ہے، دوسرا دل کے دروازے کھول دیتا ہے۔

بچوں کے جذبات کو سمجھنا محض الفاظ سننے کا نام نہیں، بلکہ ان کی خاموشی، رویوں، آنکھوں کی حرکت، ہاتھ کے اشارے اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں چھپی کیفیت کو پہچاننا ہے۔ بعض اوقات بچہ الفاظ میں نہیں کہتا، مگر اس کی آنکھوں میں خوف اور ہاتھوں میں بے چینی صاف دکھائی دیتی ہے۔ والدین اور اساتذہ کو یہ سیکھنا ہوگا کہ ہر بچہ ایک الگ دنیا ہے، ہر ذہن کا رنگ الگ ہے اور ہر دل کے خوف کی نوعیت مختلف ہے۔

تعلیم کا اصل مقصد صرف کتابی علم حاصل کرنا نہیں ہے۔ تعلیم کا مقصد بچے کی شخصیت کی تعمیر، اعتماد کی بحالی اور زندگی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے۔ اگر اسکول کا ماحول خوف، تنقید اور موازنہ پیدا کرے تو بچہ علم سے نہیں بلکہ اس کے درد سے بھاگتا ہے۔ یہ ماحول بچے کے لیے تعلیمی سفر کو بوجھ اور تنہائی کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔

معاشرتی پہلو بھی اہم ہیں۔ دوستوں کا مذاق، کلاس میں کسی کی تنقید، یا گروپ کے دباؤ نے کبھی کبھار بچے کے جذبات پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ صرف گھر تک محدود نہ رہیں بلکہ بچے کے معاشرتی ماحول پر بھی نظر رکھیں۔ یہ دیکھیں کہ بچے کے دوست یا ہم جماعت کس طرح کے رویے رکھتے ہیں اور بچے ان سے کیسے متاثر ہو رہا ہے۔

اب عملی تجاویز کی بات کرتے ہیں:

بچے کی بات سنیں اور اسے بار بار موقع دیں کہ وہ اپنی کیفیت بیان کرے۔

اسے سزا یا تنقید کے بجائے محبت اور حوصلہ افزائی دیں۔

سوالات کو الزام دینے والے انداز میں نہ کریں بلکہ اعتماد پیدا کرنے والے انداز میں کریں۔

گھر اور اسکول میں مثبت ماحول بنائیں جہاں بچے کی کامیابیوں اور کوششوں کو سراہا جائے۔

اگر بچے کو سبق سمجھنے میں مشکل ہے تو اس کے لیے اضافی رہنمائی کا انتظام کریں۔

یہ تمام اقدامات بچے کے دل میں اعتماد پیدا کریں گے اور اس کے تعلیمی سفر کو خوشگوار بنائیں گے۔ "مجھے اسکول نہیں جانا” کوئی ضد نہیں، یہ ایک معصوم پکار ہے جو سزا نہیں، محبت مانگتی ہے۔ اگر والدین اور اساتذہ اس پکار کو سنیں، اسے سمجھیں اور اس پر عمل کریں تو وہ بچہ جو آج اسکول سے بھاگ رہا ہے، کل زندگی کے راستوں پر سب سے آگے بڑھتا ہوا نظر آئے گا۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • غضب کرپشن کی عجب کہانی
  • اس سے ہی چلتی ہے
  • پاکستان والا کلمہ
  • ایران میں احتجاجی طوفان
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
عوام اب پوچھتے ہیں
پچھلی پوسٹ
ہم غرِیبی کی رِدا تان کے

متعلقہ پوسٹس

مسٹر چیری

اکتوبر 12, 2025

سکوتِ بادبان

دسمبر 22, 2024

عاشقی خانہ بدوشی میں کٹی

مئی 4, 2020

وقت کی قید میں

جنوری 17, 2025

گرتی دیوار کو یا ٹو ٹتے در کو دیکھوں

فروری 13, 2020

جنم ورودھی

ستمبر 24, 2021

ایک پھول کم پڑ جائے گا

جنوری 12, 2026

سو روپے 

اکتوبر 26, 2019

پاؤں میں ہجر کی زنجیر نظر آتی ہے

جنوری 22, 2020

سینیٹ میں تین اہم بلوں کی منظوری

دسمبر 12, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

میں اچها ہوں سلامت ہوں

جولائی 11, 2021

ذکرِ ہُو روشنی ہے، بحث نہ...

فروری 10, 2021

ہم عظیم ، تم حقیر

نومبر 5, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں