رات گہری ہوتی جا رہی تھی۔ خاموشی آہستہ آہستہ بستی پر اتر رہی تھی۔ بچہ اپنی ماں کی آغوش میں لیٹا دن بھر کی تھکن اتار رہا تھا۔ پاؤں میں چُبھنے والے کانٹے کی تکلیف اب بھی اس کے چہرے سے عیاں تھی، جس کے باعث وہ چلنے سے قاصر تھا۔ اس کی آنکھوں میں بسی اداسی کسی ایک دکھ کی نہیں، بلکہ کئی اَن کہی خواہشوں کا مجموعہ تھی۔
وہ اپنے قریب رکھے اُن گجروں کو دیکھنے لگا جو آج نہ بِک سکے تھے۔ ان پھولوں کو دیکھتے ہی دن بھر کی محنت آنکھوں کے سامنے گھوم گئی۔ پھول توڑتے وقت کتنی ہی بار کانٹوں نے اس کے ہاتھ زخمی کیے تھے، مگر اس نے تکلیف کو نظر انداز کر کے تازہ گلاب سنبھالے اور ماں کے ہاتھ میں تھما دیے تھے۔
بہن کی خوشی دیدنی تھی۔ وہ ہر روز ان پھولوں کو دیکھ کر بے اختیار مسکرا دیتی۔ کبھی ماں کے قریب جا کر التجائی انداز میں ایک پھول مانگ لیتی، مگر ماں ہر بار نرمی سے منع کر دیتی:
“تیرا بھائی کتنی محنت سے لاتا ہے۔ اگر تجھے دے دوں گی تو ایک پھول کم پڑ جائے گا۔ پھر اگر وہ بِک سکتا ہوا اور تیری وجہ سے رہ گیا تو تُو کیا کھائے گی؟”
یہ سن کر وہ معصوم سی بچی خاموش ہو جاتی۔ اپنی خواہش کو دل ہی میں دبا کر کھیل میں لگ جاتی، جیسے کچھ مانگا ہی نہ ہو۔
وہ اپنی خواہش بھلا کر کھیل میں لگ گئی، اور ماں نے بیٹے کو سینے سے لگا لیا۔
کچھ بچے بچپن میں ہی سمجھدار ہو جاتے ہیں، اور کچھ مائیں ہر دن ایک پھول کم کر کے اپنے بچوں کی زندگی سجا دیتی ہیں۔
ثناء اسد
۱۱-جنوری-۲۰۲۵
