خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامچالیسواں دن
آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرارم زہرا

چالیسواں دن

از ارم زہرا جنوری 12, 2026
از ارم زہرا جنوری 12, 2026 0 تبصرے 55 مناظر
56

آج مجھے اس گھر میں آتے ہوئے چالیسواں دن تھا۔ اس سے پہلے میں اس گھر میں سوئم، قل اور جمعراتوں میں بھی مدعو تھا۔ آج کا دن بھی بڑی اہتمام سے منانے کی تیاری ہو رہی تھی۔ دور اور نزدیک کے تمام عزیز و اقارب آہستہ، آہستہ جمع ہورہے تھے۔ گھر میں مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے بڑا اہتمام کیا گیا تھا ۔ مرحوم کی تدفین سے لے کر اب تک بڑی ہی محنت سے پڑھائی کی گئی تھی۔ کہیں سوا لاکھ ختم ہوئے تھے تو کہیں قرآن پاک ختم ہو رہے تھے۔
مسجدوں میں مغفرت کی دعائیں کی جا رہی تھیں اور تو اور عزیز و اقارب کی اس محنت شاقہ کی لوگ دل کھول کے تعارف کررہے تھے اب ان بے چارے لوگوں کو کیا معلوم کہ یہ جو سوگ کے لباس میں ملبوس ہر جمعرات کو پڑھائی کرتے، کرتے ہلکان ہو رہے ہیں کبھی مہینوں میں ایک دفعہ بھی مرحوم سے ملنے ان کے گھر نہیں آئے۔ بیچارے مرحوم جو اپنے زنداں نما گھر میں قید ہو کے رہ گئے تھے۔ جو اپنے پیاروں کی ایک آہٹ پر اٹھ کر بیٹھ جاتے تھے۔ آج ان کے بعد ان کے خاموش کمرے میں تنہائی بھی اپنی جگہ کی تلاش میں بوکھلاتی پھر رہی ہے۔ مرحوم جو تنہائی کے اسیر ہو چکے تھے۔ آج تنہائی ان کے گھر کے باہر بھی دور تک نظر نہیں آتی۔‘،

میں بھی کہاں خیالوں کی رو میں بہہ گیا۔ میں نے اپنا سر جھٹکا اور ماضی سے حال میں آ گیا ۔ چالیسویں کی تیاریاں اپنے عروج پر تھیں۔
گھر میں صبح سے کافی چہل پہل تھی۔ ملازموں کو دریوں، شامیانوں کے انتظام کیلیے بھیجا جا چکا تھا اور ان کی کڑی نگرانی کا کام مرحوم کے سب سے چھوٹے صاحبزادے کا تھا۔ منجھلے صاحبزادے ملازم کو برتنوں کی صحیح گنتی کرنے کی تاکید کر رہے تھے۔ جبکہ چھوٹی بھابھی صاحبہ گھر کے اندر زنانہ اور باہر مردانہ بیٹھنے کے انتظام کا جائزہ لے رہی تھیں۔

مرحوم کا چھوٹا نواسہ قرآن کریم کے پارے مسجد سے لانے گیا ہوا تھا۔ خاندان کی ایک بزرگ خاتون جو کہ مرحوم کی تائی ہوتی ہیں وہ صحن میں چوکی پہ براجمان ہدایات جاری کر رہی تھیں۔ بڑی بہو پھلوں کو صفائی سے دھوکر ان کی قاٹیں بناکر رکھتی جا رہی تھیں اور ساتھ ساتھ آنسو بہاتی جا رہی تھی’’ہائے ابا مرحوم آپ اتنی جلدی چلے گئے ابھی تو آپ کی شفقت کے سائے میں ہمیں اپنے شب و روز گزارنے تھے ۔‘‘ لو بھلا مرحوم جب زندہ تھے تو یہی بہو ناک بھوں چڑھا کر گزر جاتی تھی۔ پھل تو دور کی بات، کھانا بھی اپنے ہاتھ سے دینا اسے گوارا نہیں تھا۔
’’ابا تو وبال جان ہو گئے ہیں۔ مر تے ہی نہیں، خدا ان کی مشکل آسان کرے تاکہ ہماری مشکلیں خود ہی آسان ہو جائیں۔‘‘

آج اسی بہو کی زبان اتنی شریں کیسے ہو گئی میں حیران سا صحن میں آکے بیٹھ گیا۔
مرحوم کے چھوٹے بھائی فاتحہ کا سامان مارکیٹ سے لے کر پہنچے تھے۔ بڑی سی گاڑی سے اترتے ہوئے ان کا سر فخر سے بلند تھا۔

’’بڑا اچھا بھائی ہے دیکھو تو اس کی اعلیٰ ظرفی تدفین سے لے کر اب تک پیسہ پانی کی طرح بہائے چلے جا رہا ہے۔ اعلیٰ اقسام کے پھل اور نذر و نیاز کا ہر سامان اس نے اول دن سے اپنے ہی ذمہ لیا ہوا ہے۔‘‘ پڑوس کے خالق صاحب، ابراہی صاحب سے مخاطب تھے۔ میں حیران پریشان سا صحن سے اٹھ گیا ’’یہ چھوٹا بھائی اتنا فیاض کب سے ہو گیا۔ مرحوم کی زندگی میں تو ان کے کمرے میں جھانکنا بھی اسے پسند نہیں تھا۔ بس پیسے بٹورنے کی خواہش میں خوشامدی بنا آگے پیچھے گھومتا تھا اور آج ٹوکروں کے ٹوکرے لوگوں کے نوش جان کر رہا ہے۔ وائے ری قسمت، یہ فیاضی، یہ چاہتوں کے منظر کبھی مرحوم کے نصیب میں نہ تھے۔
مرحوم جو بینک میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے جب تک ان کی ہمت رہی احباب و عزیز کا گھیرا ان کے ارد گرد تنگ رہا۔ ہر دوست ہر عزیز اپنے کام کی تکمیل کی خواہش لیے ان کے در پر کھڑا ہوتا اور مرحوم بڑی ہی خوش دلی کے ساتھ ان کے کاموں کو انجام دینے کا بیڑہ اٹھا لیتے۔ کسی کو بینک سے لون چاہیے ہوتا تو کسی کی بیٹی کی شادی کا مسئلہ ہوتا۔ کسی کا بھانجا نوکری کی تلاش میں بھٹک رہا ہوتا تو کسی کو پیسے کی خواہش ان کے در پر کھینچ لاتی۔ مرحوم اپنے دوستوں میں اپنی زندگی بھر باغ وبہار طبیعت کی وجہ سے مشہور تھے اس لیے دوستوں کی محفلوں میں ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے یہی دوست جن کے ہر کام مرحوم صاحب کی شمولیت کے بنا ادھورے ہوتے تھے، وہی دوست ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کو ادھورا چھوڑ گئے۔ دوستوں اور پھر رشتے داروں کی دوری پر مرحوم بہت دکھی ہو گئے تھے۔ یہ دنیا کتنی احسان فراموش اور دغاباز ہے اچھا ہی ہوا ان منافق دوستوں سے جان چھٹی مگر دل تو بہت دکھا ہوا تھا۔ لیکن مرحوم با حوصلہ اور با صلاحیت انسان تھے انہوں نے آہستہ، آہستہ خود کو سنبھال لیا۔ مگر خود کو اس درد سے بچا نہیں سکے جو تبدیلی عزیز و رشتہ داروں کے رویوں میں دھیرے دھیرے آنا شروع ہوئی پھریوں ہوا کہ احباب، پرانے دوست رشتے دار اور اولاد سب ہی اپنی، اپنی زندگیوں میں ایسے مصروف ہوئے کہ کسی کے پاس بھی مرحوم کو دیکھنے اور ان کی خیریت دریافت کرنے کا وقت بھی نہیں بچا۔ تینوں بیٹے اعلیٰ تعلیم اور ملازمتوں کے سلسلے میں اندرون ملک اور بیرون ملک مصروف ہو گئے۔ دونوں بیٹیاں سسرال کو ایسی پیاری ہوئیں کہ انہوں نے پلٹ کر باپ کو دیکھا ہی نہیں۔ باپ کی بوڑھی چال کو دیکھتے ہوئے بچوں نے جائیداد کی تقسیم کا تقاضہ شروع کر دیا۔ دوست اور رشتے دار تو پہلے ہی سے دل برداشتہ تھے۔ انہوں نے بھی بچوں کے اس مطالبے میں ان کا ساتھ دیا۔ یوں مرحوم نے سب کے سامنے اپنی محنت و مشقت سے کمائی ہوئی دولت اولاد میں تقسیم کرکے خونی رشتوں کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیا۔ وہ رات مرحوم کی زندگی کی سب سے بھاری رات تھی مرحوم کو اس رات اپنی بیوی کی یاد ستاتی رہی وہ کروٹ پر کروٹ بدلتے رہے کبھی بیوی کو مخاطب کرکے اور کبھی اللہ سے شکوے کرتے رہے۔ اپنی ایمانداری اور رزق حلال کرنے کی خواہش میں حلال طریقے سے کمائی گئی دولت کو یوں عیش پرستوں کے ہاتھوں میں سونپتے ہوئے وہ بہت روتے تھے اور اس دکھ کو دل میں دبائے دبائے جب انہوں نیسونے کی کوشس کی تو دل کی بیماری نے ان کو دبوچ لیا۔

باپ کی بیماری پر تیزی سے خرچ ہوتے نوٹوں پر بیٹوں کی آنکھیں وا ہو گئیں تو پہلا مطالبہ یہی ہوا کہ ابا گھر بیچ دیتے ہیں۔ یوں سب کو ان کے حصے مل جائیں گے اور آپ کو بھی ایک معقول رقم مل جائےگی۔ جس سے آپ کے علاج و معالجے میں آسانی ہو جائےگی اور پھر بوڑھے باپ کی واویلا بچوں کی چیخوں پکار میں د ب کر رہ گئی اور آخر گھر بک گیا۔ بچے اپنا، اپنا حصہ لے کر اپنے گھروں کو سدھارے اور مرحوم بےیارومددگار ایک چھوٹے سے فلیٹ میں منتقل ہو گئے۔
وہ اولادجو باپ کے زیر سایہ پروان چڑھی جن کی ہر صبح باپ کی ڈھیروں دعاؤں سے ہوتی ۔ وہ آج اپنے اپنے گھروں کو پیارے ہو چکے تھے ۔ وہ باپ جو اپنی اولاد کے ہر دکھ کو بغیر ان کے کہے سمجھ لیتا۔ آنکھوں میں اشک آنے سے پہلے ان کا مطالبہ پورا کر دےگا۔ آج اس اولاد کو باپ کی سوجی ہوئی آنکھیں نظر نہیں آئیں۔

مرحوم جو دعوتوں کی شان مانے جاتے تھے آج ان کو اکیلے کمرے میں مقید کر دیا گیا تھا۔ کوئی نہیں سمجھ سکا کہ ان کے اندر کتنے غم کے طوفان کروٹ لے رہے ہیں۔ کتنا درد امڈ کے آ رہا ہے ۔ کتنی تکلیف اور اذیت کے عالم میں وہ اپنے دن رات بسر کر رہے ہیں۔
دونوں ہاتھوں سے دولت لٹانے والے آج دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر بھی خود کو سہارا نہیں دے پا رہے اور پھر وہی ہوا جس کا مرحوم کو ڈر تھا اور جس کا سب کو انتظار تھا۔ ٹھیک چالیس دن پہلے مرحوم بےضمیر اور بےحس دنیا سے بیزار ہوکر نہایت ہی مایوسی کی حالت میں دار فانی سے رخصت ہو گئے۔

میں گھر کے ہنگامے سے بےنیاز ایک طرف بیٹھا۔ یہی سوچ رہا تھا کے مرحوم جب تک زندہ تھے تو کسی کے پاس ان کی عافیت پوچھنے کا وقت تک نہ تھا۔ لیکن ان کے مرنے کے بعد آج ان کے گھر میں جتنا ہنگامہ ہے کاش یہ ان کی زندگی میں ہوتا یہ سارے رشتے دار جو ہر جمعرات کو یہاں جمع ہو رہے ہیں۔ مہینے کی ایک جمعرات بھی ان کے گھر پر آ جاتے، آج ان کی اولادان کے نام پر جو کھانے مسجدوں میں بھجوا رہی ہیں۔ یہی ان کی زندگی میں ان سیایک وقت کا اگر کھانا پوچھ لیتی تو وہ دنیا سے اتنے مایوس تو نہ جاتے۔
قرآن خوانی شروع ہو چکی تھی۔ پارے تو کم ہی لوگ پڑھ رہے تھے۔ زیادہ ترپڑھتے ہوئے اک دوسرے کے کانوں میں چہ مگوئیاں کر رہے تھے۔ خواتین خاص آج کے دن سلائے گئے کپڑوں کے بارے میں باتیں کر رہی تھیں۔

بڑی بہو کہہ رہی تھی جلدی میں ڈوپٹہ پیکو نہیں کروا سکی۔ چھوٹی بہو اپنی سلیقہ مندی کے گن خود ہی گا رہی تھی۔ جبکہ دونوں بیٹیاں زارو قطار رو رہی تھیں۔ آج ان کو باپ کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔ جیسے ہی مولانا صاحب نے فاتحہ شروع کی سب نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیے۔ بعد اختتام فاتحہ ،مہمانوں کی خوب تواضع کی گئی۔ سب لوگ گھر والوں کو صبرو جمیل اور مرحوم کو جنت میں جگہ ملنے کی دعا دیتے ہوئے رخصت ہو گئے۔ تب بڑے بیٹے نے آگے بڑھ کر چچا کی تعریفیں شروع کر دیں۔’’کیا کہنے چچا جان! کیا خوب آپ نے انتظام سنبھالا، سب شکر ادا کر رہے تھے، عزت و آبرو کے ساتھ تمام کام انجام پائے چھوٹا بیٹا بھی نازاں تھا کہ آج ہم سب کے سامنے سرخرو ہو گئے سارے رشتے دار تعریفی الفاظ عنایت کرتے جا رہے تھے۔ جبکہ میرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ یہ سارے لوگ جو خدمت کی داستانیں داغ رہے ہیں ان کا تو کبھی وجود تھا ہی نہیں، فرضی خدمت اور جھوٹی تسلیاں یہ سارے ایسے سنا رہے ہیں جیسے ان کو تو کبھی مرنا ہی نہیں ہے ۔بے رخی، خود غرضی اور اولاد کی بے اعتنائی کا زہر جب ان کو ملےگا تو تب یہ جان جائیں گے کہ زندگی کتنی کٹھن ہوتی ہے اور انسان کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو وہ بھی زندگی سے ہار جاتا ہے۔
میں حیران، پریشان سا مایوسی، تنہائی اور دنیا کی بےاعتنائی کا زخم جو اب کبھی مندمل نہ ہو سکےگا۔ دروازے کی طرف قدم اٹھاتے ہوئے میرے دماغ میں بس یہی تھا۔

مرحوم کے جسد خاکی سے پرواز ہوئے آج میرا یہاں چالیسواں اور آخری دن بامشکل گزر گیا۔ بس اب اور نہیں رک سکتا کبھی نہیں۔۔۔!
اس گھر میں واپسی کا خیال میرے لیے مشکل ہی نہیں اب نا ممکن بھی ہے۔

ارم زہرا

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کہیں تھی راکھ کہیں تھا
  • وبا، آسمانی احکامات اور دنیاوی پابندیاں
  • چھوڑ آیا ہوں خود خوشی گھر کی
  • پوئنا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
ارم زہرا

اگلی پوسٹ
احساس محرومی
پچھلی پوسٹ
ایک پھول کم پڑ جائے گا

متعلقہ پوسٹس

جنگی حالات اورذرائع ابلاغ!

اپریل 1, 2026

خوب، روپ اور بہروپ

جنوری 6, 2023

شکاری عورتیں

اکتوبر 29, 2019

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

فرہاد احمد فگار کی ایک غزل

اگست 20, 2023

گردش

جون 3, 2023

حکیم جی

مارچ 21, 2020

منتشر کرنے والا شاعر

ستمبر 15, 2016

ہڈیاں اور پھول

اپریل 6, 2020

ہزاروں سال پہلے

مئی 20, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

طلسم شب

اپریل 4, 2026

نہاری ہاؤس

دسمبر 23, 2021

چراغ تلے

دسمبر 16, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں