خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامغازی علم دین: شہید رسالتﷺ
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزرحمت عزیز خان

غازی علم دین: شہید رسالتﷺ

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 4, 2025
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 4, 2025 0 تبصرے 120 مناظر
121

(۰۴ دسمبر یوم پیدائش پر خصوصی تحریر)

برصغیر کی تحریکِ آزادی کے کئی کردار ایسے ہیں جن کی جدوجہد کا محور قومی سیاسی حقوق نہیں بلکہ مذہبی غیرت اور عقیدے کا تحفظ تھا۔ غازی علم دین شہید انہی کرداروں میں وہ نام ہے جس نے نوآبادیاتی دور میں مسلمانوں کی اجتماعی نفسیات، غیرتِ ایمانی اور ناموسِ رسالتﷺ کے تصور کو ایک نئی سمت دی۔ بیسویں صدی کے ابتدائی ربع میں لاہور سیاسی، سماجی اور فکری لحاظ سے ایک زندہ شہر تھا۔ اس ماحول میں پروان چڑھنے والا ایک سادہ نوجوان جب تاریخ کے ایک نازک موڑ پر سامنے آتا ہے تو وہ ایک فرد نہیں بلکہ ایک علامت بن جاتا ہے۔
غازی علم دین 1908 میں لاہور کے قدیم محلے کوچہ چابک سواراں میں پیدا ہوئے۔ ترکھان گھرانے سے تعلق رکھنے والے یہ نوجوان مذہبی ماحول میں تربیت پاتے رہے۔ محلے کی مسجد اور چھوٹےghazi ilm din سے مدرسے میں تعلیم حاصل کی۔ عملی زندگی نجارت کے پیشے سے شروع ہوئی، جو ان کے خاندان کا ورثہ تھا۔ ان کا سلسلہ نسب اُس بزرگ بابا لہنو سے جا ملتا ہے جس نے جہانگیر کے دور میں اسلام قبول کیا اور بعد ازاں اپنی استقامت اور روحانیت کے باعث احترام کا مقام پایا۔ اس پس منظر نے علم دین کی زندگی میں ایک نظریاتی اور روحانی رنگ بھی شامل کیا۔
1920کے بعد برصغیر میں مذہبی اور سیاسی کش مکش بڑھ چکی تھی۔ "رنگیلا رسول” کے نام سے شائع ہونے والی گستاخانہ کتاب نے مسلمانوں کے جذبات میں آگ لگا دی۔ راج پال نامی ناشر کے خلاف اجتماعی احتجاج صرف مذہبی نہیں بلکہ سیاسی مزاحمت بھی تھی۔ مسلمان رہنما اور عوام دونوں چاہتے تھے کہ برطانوی حکومت قانون کے مطابق سزا دے، مگر عدالتی فیصلوں اور حکومتی رویے نے یہ تاثر پختہ کیا کہ انصاف کا دروازہ مسلمانوں پر بند ہے۔
یہ وہ لمحہ تھا جب اجتماعی غم و غصہ ایک فرد کے اندر جذب ہو کر عملی قدم کی صورت اختیار کرتا ہے۔ غازی کی اپنے رشتہ داروں کوجو وصیت فرمائی وہ قابل غور ہے۔
” میرے تختہ دار پر چڑھ جانے سے وہ بخشے نہیں جائیں گے‘ بلکہ ہر ایک اپنے اعمال کے مطابق جزا اور سزا کا حق دار ہوگا اور انہیں تاکید کی کہ وہ نماز نہ چھوڑیں اور زکوٰة برابر ادا کریں اور شرعِ محمدی پر قائم رہیں”۔
راج پال کے خلاف کیے گئے ابتدائی حملے ناکام رہے۔ اس کے باوجود یہ بات واضح ہو گئی کہ لاہور کے مسلمانوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور یہ معاملہ عدالتوں یا حکومتی کاروائی سے حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اس پس منظر میں علم دین کا قدم اچانک نہیں بلکہ ایک تاریخی تسلسل کی کڑی تھا۔ مذہبی غیرت، عدالتی مایوسی اور مسلمانوں کی اجتماعی تذلیل نے اس نوجوان کو اس جانب دھکیل دیا۔
جب علم دین نے راج پال کو اس کی دکان پر للکارا تو یہ ایک جذباتی حملہ نہیں تھا بلکہ شعور کے ساتھ کیا گیا فیصلہ تھا۔ گرفتاری کے بعد ان کا پُرسکون رویہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس اقدام کو مذہبی فریضہ سمجھتے تھے۔
مقدمہ اس زمانے کے سیاسی حالات کی علامت بن گیا۔ ان کے وکیل سلیم بارایٹ لا نے قانونی نکات سے بھرپور دفاع کیا، بعد ازاں محمد علی جناح اور بیرسٹر فرخ حسین نے ہائی کورٹ میں اپیل کی لیکن نوآبادیاتی نظام نے اس اپیل کو مسترد کر دیا۔ اس مرحلے پر مسلمان قیادت کو اندازہ ہوا کہ عدالتیں انصاف دینے کے لیے تیار نہیں اور ایک سیاسی پیغام دیا جا رہا ہے۔
غازی علم دین کی مسکراہٹ کے ساتھ سزا سن کر سنبھل جانا اس پورے مقدمے کا سب سے نمایاں لمحہ ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ ”میں یہی چاہتا تھا“ اس بات کی مثال ہے کہ یہ مقدمہ صرف قتل کا نہیں بلکہ عقیدے اور عزتِ رسول کے تصور کا تھا۔
31اکتوبر 1929 کو آپ کو میانوالی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ جسدِ خاکی کی حوالگی میں تاخیر نے حالات کو مزید حساس بنا دیا۔ علامہ اقبال، مولانا ظفر علی خان، سر فضل حسین، اور دیگر رہنماؤں نے دباؤ ڈال کر میت کی واپسی کو ممکن بنایا۔
جب جسدِ خاکی لاہور پہنچا تو لاکھوں افراد کا اجتماع صرف ایک جنازہ نہیں تھا۔ یہ مسلمانوں کی اجتماعی غیرت اور نوآبادیاتی جبر کے خلاف خاموش احتجاج تھا۔ لاہور کی تاریخ میں شاید ہی کوئی دوسرا جنازہ اتنے بڑے پیمانے پر ہوا ہو۔ اقبال نے شہید کی تدفین میں شرکت کی اور ان کا وہ مشہور جملہ تاریخ کا حصہ بن گیا کہ ”یہ ترکھان کا لڑکا ہم سب پڑھے لکھوں سے بازی لے گیا“۔
یہ جملہ اس نوجوان کے روحانی مرتبے، اس کی ایمانی جسارت اور مسلمانوں کے دلوں میں اس کی عظمت کو واضح کرتا ہے۔
غازی علم دین شہید کا واقعہ کئی لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے۔ یہ مسلمانوں کی دینی غیرت کے بیانیے میں بنیادی حوالہ بنا۔ اس نے برصغیر میں قانونِ توہینِ رسالت کے لیے تحریک کی بنیاد رکھی۔ نوآبادیاتی عدالتی نظام کے یکطرفہ رویے کو بے نقاب کیا۔ اقبال، مولانا ظفر علی خان اور قائد اعظم جیسے رہنماؤں کا متفقہ موقف مسلمانوں کی وحدت کا مظہر بنا۔ مسلمانوں کی اجتماعی نفسیات نے پہلی مرتبہ یہ محسوس کیا کہ مذہبی شناخت ہی ان کی سیاسی طاقت ہے۔
غازی علم دین شہید کی شخصیت تاریخ میں ایک جذباتی کردار نہیں بلکہ فکری اور نظریاتی رجحان کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان کا عمل مذہبی غیرت کا اظہار ضرور تھا لیکن اس کے پیچھے وہ تاریخی محرکات موجود تھے جنہوں نے پورے برصغیر کے مسلمانوں میں یہ احساس پیدا کیا کہ عزتِ رسولﷺ کے معاملے میں وہ کسی سمجھوتے پر آمادہ نہیں۔
ان کی شہادت نے ایک سادہ کاریگر کو عہد ساز شخصیت بنا دیا۔ آج بھی ان کا مزار لاہور میں ایک تاریخی نشان ہے جو اس دور کی مذہبی و سماجی کش مکش کی یاد دلاتا ہے۔

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مچھر
  • فادر ڈے
  • چنار کے نیچے بینچ رکھا
  • پریشے کا مقدر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
استاد دامن
پچھلی پوسٹ
مجاز سے مجاز لکھنوی تک کا سفر

متعلقہ پوسٹس

خمار بارہ بنکوی کی دسویں برسی پر

دسمبر 4, 2019

بلونت سنگھ مجیٹھیا

جنوری 28, 2020

الفاظ ایک قیمتی خزانہ

نومبر 27, 2024

نسبت و نام سے ہم آگے نکل جاتے ہیں

جون 21, 2026

غلام سے امامِ امت تک

جنوری 10, 2026

ترجیحات

مئی 8, 2020

یہ اب جو میری زباں پر تمہارا نام نہیں

جنوری 11, 2026

بدلتا ہوا شاہی محلہ اور بدلتے کردار

اپریل 16, 2020

دوہزار بیس بھی گزر گیا!

جنوری 2, 2021

فضاؤں میں بھارت کی شکست

نومبر 23, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دیمک بہتر یا کیڑا؟

اکتوبر 27, 2020

رسومِ جوتا

مئی 25, 2024

خلیل جبران اور آج کا پاکستان

دسمبر 4, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں