خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامغازی علم دین: شہید رسالتﷺ
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزرحمت عزیز خان

غازی علم دین: شہید رسالتﷺ

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 4, 2025
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 4, 2025 0 تبصرے 103 مناظر
104

(۰۴ دسمبر یوم پیدائش پر خصوصی تحریر)

برصغیر کی تحریکِ آزادی کے کئی کردار ایسے ہیں جن کی جدوجہد کا محور قومی سیاسی حقوق نہیں بلکہ مذہبی غیرت اور عقیدے کا تحفظ تھا۔ غازی علم دین شہید انہی کرداروں میں وہ نام ہے جس نے نوآبادیاتی دور میں مسلمانوں کی اجتماعی نفسیات، غیرتِ ایمانی اور ناموسِ رسالتﷺ کے تصور کو ایک نئی سمت دی۔ بیسویں صدی کے ابتدائی ربع میں لاہور سیاسی، سماجی اور فکری لحاظ سے ایک زندہ شہر تھا۔ اس ماحول میں پروان چڑھنے والا ایک سادہ نوجوان جب تاریخ کے ایک نازک موڑ پر سامنے آتا ہے تو وہ ایک فرد نہیں بلکہ ایک علامت بن جاتا ہے۔
غازی علم دین 1908 میں لاہور کے قدیم محلے کوچہ چابک سواراں میں پیدا ہوئے۔ ترکھان گھرانے سے تعلق رکھنے والے یہ نوجوان مذہبی ماحول میں تربیت پاتے رہے۔ محلے کی مسجد اور چھوٹےghazi ilm din سے مدرسے میں تعلیم حاصل کی۔ عملی زندگی نجارت کے پیشے سے شروع ہوئی، جو ان کے خاندان کا ورثہ تھا۔ ان کا سلسلہ نسب اُس بزرگ بابا لہنو سے جا ملتا ہے جس نے جہانگیر کے دور میں اسلام قبول کیا اور بعد ازاں اپنی استقامت اور روحانیت کے باعث احترام کا مقام پایا۔ اس پس منظر نے علم دین کی زندگی میں ایک نظریاتی اور روحانی رنگ بھی شامل کیا۔
1920کے بعد برصغیر میں مذہبی اور سیاسی کش مکش بڑھ چکی تھی۔ "رنگیلا رسول” کے نام سے شائع ہونے والی گستاخانہ کتاب نے مسلمانوں کے جذبات میں آگ لگا دی۔ راج پال نامی ناشر کے خلاف اجتماعی احتجاج صرف مذہبی نہیں بلکہ سیاسی مزاحمت بھی تھی۔ مسلمان رہنما اور عوام دونوں چاہتے تھے کہ برطانوی حکومت قانون کے مطابق سزا دے، مگر عدالتی فیصلوں اور حکومتی رویے نے یہ تاثر پختہ کیا کہ انصاف کا دروازہ مسلمانوں پر بند ہے۔
یہ وہ لمحہ تھا جب اجتماعی غم و غصہ ایک فرد کے اندر جذب ہو کر عملی قدم کی صورت اختیار کرتا ہے۔ غازی کی اپنے رشتہ داروں کوجو وصیت فرمائی وہ قابل غور ہے۔
” میرے تختہ دار پر چڑھ جانے سے وہ بخشے نہیں جائیں گے‘ بلکہ ہر ایک اپنے اعمال کے مطابق جزا اور سزا کا حق دار ہوگا اور انہیں تاکید کی کہ وہ نماز نہ چھوڑیں اور زکوٰة برابر ادا کریں اور شرعِ محمدی پر قائم رہیں”۔
راج پال کے خلاف کیے گئے ابتدائی حملے ناکام رہے۔ اس کے باوجود یہ بات واضح ہو گئی کہ لاہور کے مسلمانوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور یہ معاملہ عدالتوں یا حکومتی کاروائی سے حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اس پس منظر میں علم دین کا قدم اچانک نہیں بلکہ ایک تاریخی تسلسل کی کڑی تھا۔ مذہبی غیرت، عدالتی مایوسی اور مسلمانوں کی اجتماعی تذلیل نے اس نوجوان کو اس جانب دھکیل دیا۔
جب علم دین نے راج پال کو اس کی دکان پر للکارا تو یہ ایک جذباتی حملہ نہیں تھا بلکہ شعور کے ساتھ کیا گیا فیصلہ تھا۔ گرفتاری کے بعد ان کا پُرسکون رویہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس اقدام کو مذہبی فریضہ سمجھتے تھے۔
مقدمہ اس زمانے کے سیاسی حالات کی علامت بن گیا۔ ان کے وکیل سلیم بارایٹ لا نے قانونی نکات سے بھرپور دفاع کیا، بعد ازاں محمد علی جناح اور بیرسٹر فرخ حسین نے ہائی کورٹ میں اپیل کی لیکن نوآبادیاتی نظام نے اس اپیل کو مسترد کر دیا۔ اس مرحلے پر مسلمان قیادت کو اندازہ ہوا کہ عدالتیں انصاف دینے کے لیے تیار نہیں اور ایک سیاسی پیغام دیا جا رہا ہے۔
غازی علم دین کی مسکراہٹ کے ساتھ سزا سن کر سنبھل جانا اس پورے مقدمے کا سب سے نمایاں لمحہ ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ ”میں یہی چاہتا تھا“ اس بات کی مثال ہے کہ یہ مقدمہ صرف قتل کا نہیں بلکہ عقیدے اور عزتِ رسول کے تصور کا تھا۔
31اکتوبر 1929 کو آپ کو میانوالی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ جسدِ خاکی کی حوالگی میں تاخیر نے حالات کو مزید حساس بنا دیا۔ علامہ اقبال، مولانا ظفر علی خان، سر فضل حسین، اور دیگر رہنماؤں نے دباؤ ڈال کر میت کی واپسی کو ممکن بنایا۔
جب جسدِ خاکی لاہور پہنچا تو لاکھوں افراد کا اجتماع صرف ایک جنازہ نہیں تھا۔ یہ مسلمانوں کی اجتماعی غیرت اور نوآبادیاتی جبر کے خلاف خاموش احتجاج تھا۔ لاہور کی تاریخ میں شاید ہی کوئی دوسرا جنازہ اتنے بڑے پیمانے پر ہوا ہو۔ اقبال نے شہید کی تدفین میں شرکت کی اور ان کا وہ مشہور جملہ تاریخ کا حصہ بن گیا کہ ”یہ ترکھان کا لڑکا ہم سب پڑھے لکھوں سے بازی لے گیا“۔
یہ جملہ اس نوجوان کے روحانی مرتبے، اس کی ایمانی جسارت اور مسلمانوں کے دلوں میں اس کی عظمت کو واضح کرتا ہے۔
غازی علم دین شہید کا واقعہ کئی لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے۔ یہ مسلمانوں کی دینی غیرت کے بیانیے میں بنیادی حوالہ بنا۔ اس نے برصغیر میں قانونِ توہینِ رسالت کے لیے تحریک کی بنیاد رکھی۔ نوآبادیاتی عدالتی نظام کے یکطرفہ رویے کو بے نقاب کیا۔ اقبال، مولانا ظفر علی خان اور قائد اعظم جیسے رہنماؤں کا متفقہ موقف مسلمانوں کی وحدت کا مظہر بنا۔ مسلمانوں کی اجتماعی نفسیات نے پہلی مرتبہ یہ محسوس کیا کہ مذہبی شناخت ہی ان کی سیاسی طاقت ہے۔
غازی علم دین شہید کی شخصیت تاریخ میں ایک جذباتی کردار نہیں بلکہ فکری اور نظریاتی رجحان کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان کا عمل مذہبی غیرت کا اظہار ضرور تھا لیکن اس کے پیچھے وہ تاریخی محرکات موجود تھے جنہوں نے پورے برصغیر کے مسلمانوں میں یہ احساس پیدا کیا کہ عزتِ رسولﷺ کے معاملے میں وہ کسی سمجھوتے پر آمادہ نہیں۔
ان کی شہادت نے ایک سادہ کاریگر کو عہد ساز شخصیت بنا دیا۔ آج بھی ان کا مزار لاہور میں ایک تاریخی نشان ہے جو اس دور کی مذہبی و سماجی کش مکش کی یاد دلاتا ہے۔

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نظر اس رخ پہ جب ہم نے جمائی
  • نئی زبان ملی ہے سو ایسا بولتے ہیں
  • آبِ گُم – شہر دو قصہ​
  • امید کی شمع
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
استاد دامن
پچھلی پوسٹ
مجاز سے مجاز لکھنوی تک کا سفر

متعلقہ پوسٹس

وہ لڑکی

جنوری 15, 2020

پہلا قدم ہی پہلا انعام ہے

جولائی 5, 2026

ٹیری سیاس، یونانی ادب کا ایک دلچسپ کردار

فروری 4, 2020

جگر میں، آنکھ میں، خُوں میں

دسمبر 10, 2025

غلط فہمی کا نتیجہ

اپریل 1, 2023

مزاح نگاری کا پہلا سبق

مئی 25, 2024

شجرہ نصب

اکتوبر 22, 2025

وفا کی فصل پھر بونے چلی ہوں

جنوری 12, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

شعوری جنسیت

جولائی 8, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے

جنوری 26, 2025

ندرتِ افکار کے جوہر دکھاتا ہے...

اکتوبر 31, 2021

نشاط نو کی طلب ہے نہ...

مارچ 15, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں