خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاممجاز سے مجاز لکھنوی تک کا سفر
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزرحمت عزیز خان

مجاز سے مجاز لکھنوی تک کا سفر

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 5, 2025
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 5, 2025 0 تبصرے 56 مناظر
57

اسرار الحق مجاز سے مجاز لکھنوی تک کا سفر
(05 دسمبر یوم وفات پر خصوصی تحریر)

اردو ادب کی ترقی پسند روایت جب اپنے عروج پر تھی تو اسی دور میں ایک منفرد لہجے کا شاعر سامنے آیا۔ اسرار الحق مجاز، جنہیں دنیا مجاز لکھنوی کے نام سے جانتی ہے، 1 اکتوبر 1911 میں رودولی ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے۔ ان کا ادبی سفر نہ صرف لکھنؤ کی تہذیب سے جڑا ہے بلکہ اس پورے دور کے سیاسی اور سماجی پس منظر کو بھی اپنے ساتھ سمیٹتا ہے۔ لکھنؤ میں تعلیم کے دوران انھیں شہر کی فضا، چلن اور ادبی رنگ ایسا بھایا کہ تخلص کے ساتھ ہی اسے اپنا لیا۔ مجاز لکھنوی دراصل لکھنؤ کی تہذیبی نرمی اور ان کے اپنے رومانوی مزاجSalampakistan logo کا حسین امتزاج بن گیا۔
1930کی دہائی ہندوستان کی سیاسی بیداری، آزادی کی تحریک اور سماجی شعور کا دور تھا۔ ترقی پسند تحریک نے ادب کو درباروں اور عشقیہ غزلوں کی تنگ گلیوں سے نکال کر سماجی جدوجہد کے میدان میں کھڑا کیا۔ مجاز اسی فضا کے شاعر تھے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ تھے جہاں نئی سوچ، جدید شعور اور سیاسی سرگرمیاں طالب علموں کے ذہنوں کو نیا رخ دیتی تھیں۔ یہی ماحول مجاز کی شاعری کا فکری ڈھانچہ بن گیا۔
مجازؔ لکھنوی کی مختصر زندگی کا خاصہ ان کی شاعری تھی۔ ان کی سب سے بہترین نظم’آوارہ‘ ہے، جس کے چند بند 1953میں بنی فلم ’ٹھوکر‘ میں گلوکار طلعت محمود کی آواز میں کافی مشہور ہوئے:
’’اے غم دل کیا کروں، اے وحشت دل کیا کروں‘‘
یہ شہر کی رات میں ناشادو ناکارہ پھروں
جگمگاتی دوڑتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں
غیر کی بستی ہے کب تک در بدر مارا پھروں
1936میں دہلی ریڈیو اسٹیشن پر میگزین آواز کے پہلے مدیر کے طور پر مجاز نے ایک نئی روایت ڈالی۔ بعد ازاں بمبئی انفارمیشن، لکھنؤ کے رسائل نیا ادب اور پرچم، اور پھر دہلی کی ہارڈنگ لائبریری نے انہیں فکری وسعت دی۔ وہ صرف شاعر نہیں تھے، ادبی فضا کے سرگرم رکن بھی تھے۔ ترقی پسند مصنفین کی انجمن میں ان کا فعال کردار ان کی سوچ کی سمت کا واضح اظہار تھا۔
مجاز لکھنوی کی شاعری میں رومان، بغاوت اور داخلی کرب کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ ان کی شاعری میں ایک عجیب کشش ہے۔ رومانوی نرمی بھی ہے، شہری زندگی کا کرب بھی اور سماجی بے چینی بھی۔ ان کے ہاں جذبات کی شدت اور لہجے کی موسیقیت ایک ساتھ چلتی ہے۔
ان کی مشہور نظم "آوارہ” اردو شاعری میں شہری تنہائی، بیزاری اور سرگردانی کا ایک علامتی بیانیہ ہے۔ رات کی روشنیوں میں ایک حساس فرد کا بے مقصد بھٹکنا دراصل اس اجتماعی ذہنی کیفیت کا اظہار ہے جو جدید شہری تہذیب نے پیدا کی۔ طلعت محمود نے جب اس نظم کے بند گائے تو یہ صرف ایک نظم نہیں رہی، ایک نسل کا ترنم بن گئی۔
اسی طرح بچوں کے لیے نظم "ریل” میں ایک الگ دنیا ہے۔ اس میں حیرت، معصومیت، رفتار اور موسیقیت مل کر ایسا منظر بناتے ہیں جو بچوں کے ساتھ بڑوں کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ یہ نظم مجاز لکھنوی کی تخلیقی وسعت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ محض ترقی پسند نعروں کے شاعر نہیں تھے، بلکہ زبان کو شاعرانہ جادو میں ڈھالنے کا ہنر بھی رکھتے تھے۔
مجاز کا اسلوب ان کی شخصیت کی طرح روشن اور بے باک ہے۔ ان کی زبان نرم لیکن پوری توانائی کے ساتھ چلتی ہے۔ وہ استعارے اور علامتوں کے ذریعے جدید زندگی کے مسائل سامنے لاتے ہیں۔ ان کے ہاں غم ذات بھی ہے اور غم دوراں بھی۔ ان کی شاعری میں رومانی شکستہ دلی بھی ہے اور سماجی غیر اطمینانی بھی۔ اسی امتزاج نے انہیں فراق، جوش اور فیض کے درمیان ایک الگ مقام دیا۔
مجازلکھنوی حساس تھے، جذباتی تھے اور زندگی سے ٹوٹ کر محبت کرنے والے تھے۔ یہی شدت کئی بار انہیں اندر سے کمزور بھی کرتی رہی۔ لکھنؤ کے ایک مشاعرے کے بعد ان کی زندگی کا چراغ اچانک بجھ گیا۔ 5 دسمبر 1955 کو وہ محض 44 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ مگر ان کا فن آج بھی زندہ ہے۔
مجاز لکھنوی نے اردو کو ایک ایسا لہجہ دیا جو رومان اور احتجاج دونوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ ترقی پسند تحریک کی ادبی تاریخ ان کے بغیر نامکمل ہے۔ ان کے نام پر 2008 میں جاری ہونے والا ڈاک ٹکٹ اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ محض شاعر ہی نہیں بلکہ ایک تہذیبی علامت بھی تھے۔ مجاز لکھنوی کا نام اردو شاعری میں اس لیے روشن ہے کہ انہوں نے انسان کے اندر کے کرب، خواب اور شکستہ دل کی موسیقیت کو شہر کی بے رحم فضا میں یوں رکھا کہ یہ سب ایک اجتماعی تجربہ بن گیا۔ ان کی شاعری آج بھی پڑھنے والے کو ایک خاموش سحر میں لے جاتی ہے۔

نمونہ کلام

نیم شب کی خامشی میں زیرلب گاتی ہوئی
جیسے موجوں کا ترنم جیسے جل پریوں کے گیت
ایک اک لے میں ہزاروں زمزمے گاتی ہوئی
جستجو میں منزل مقصود کی دیوانہ وار
اپنا سردھنتی، فضا میں بال بکھراتی ہوئی
الغرض دوڑتی چلی جاتی ہے بے خوف و خطر
شاعر آتش نفس کا خون کھولاتی ہوئی

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نماز اور نماز عشق میں فرق
  • تفہیماتِ کلیاتِ اقبال اردو
  • دامِ محبت
  • روپ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
غازی علم دین: شہید رسالتﷺ
پچھلی پوسٹ
مکروہات میں عبودیت کی ادائیگی

متعلقہ پوسٹس

فیڈ آؤٹ فیڈاِن

جنوری 2, 2022

زندگی کا ساتھی

اپریل 1, 2023

کانپتے ہونٹ ہیں آواز میں دھیما پن ہے

فروری 17, 2026

وہ عام بھی ہوں تو لگتا ہے خاص ہوتے ہیں

مارچ 8, 2026

روشنی کی پناہ

دسمبر 13, 2024

مردیاں ھوٸیاں سدھراں نوں

فروری 18, 2026

14فروری: عالمی یوم ِ محبت!

فروری 13, 2021

نیا آغاز

جنوری 24, 2025

ہمالیہ کی چوٹی

فروری 8, 2025

آبِ حیات (محمد حسین آزاد)

مارچ 23, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اُلٹی دنیا

مئی 25, 2024

قوم کی توقعات کو قومی توقعات...

نومبر 14, 2020

کوئی نظم بجاتا جا رہا تھا

جولائی 16, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں