خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاممجاز سے مجاز لکھنوی تک کا سفر
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزرحمت عزیز خان

مجاز سے مجاز لکھنوی تک کا سفر

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 5, 2025
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 5, 2025 0 تبصرے 97 مناظر
98

اسرار الحق مجاز سے مجاز لکھنوی تک کا سفر
(05 دسمبر یوم وفات پر خصوصی تحریر)

اردو ادب کی ترقی پسند روایت جب اپنے عروج پر تھی تو اسی دور میں ایک منفرد لہجے کا شاعر سامنے آیا۔ اسرار الحق مجاز، جنہیں دنیا مجاز لکھنوی کے نام سے جانتی ہے، 1 اکتوبر 1911 میں رودولی ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے۔ ان کا ادبی سفر نہ صرف لکھنؤ کی تہذیب سے جڑا ہے بلکہ اس پورے دور کے سیاسی اور سماجی پس منظر کو بھی اپنے ساتھ سمیٹتا ہے۔ لکھنؤ میں تعلیم کے دوران انھیں شہر کی فضا، چلن اور ادبی رنگ ایسا بھایا کہ تخلص کے ساتھ ہی اسے اپنا لیا۔ مجاز لکھنوی دراصل لکھنؤ کی تہذیبی نرمی اور ان کے اپنے رومانوی مزاجSalampakistan logo کا حسین امتزاج بن گیا۔
1930کی دہائی ہندوستان کی سیاسی بیداری، آزادی کی تحریک اور سماجی شعور کا دور تھا۔ ترقی پسند تحریک نے ادب کو درباروں اور عشقیہ غزلوں کی تنگ گلیوں سے نکال کر سماجی جدوجہد کے میدان میں کھڑا کیا۔ مجاز اسی فضا کے شاعر تھے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ تھے جہاں نئی سوچ، جدید شعور اور سیاسی سرگرمیاں طالب علموں کے ذہنوں کو نیا رخ دیتی تھیں۔ یہی ماحول مجاز کی شاعری کا فکری ڈھانچہ بن گیا۔
مجازؔ لکھنوی کی مختصر زندگی کا خاصہ ان کی شاعری تھی۔ ان کی سب سے بہترین نظم’آوارہ‘ ہے، جس کے چند بند 1953میں بنی فلم ’ٹھوکر‘ میں گلوکار طلعت محمود کی آواز میں کافی مشہور ہوئے:
’’اے غم دل کیا کروں، اے وحشت دل کیا کروں‘‘
یہ شہر کی رات میں ناشادو ناکارہ پھروں
جگمگاتی دوڑتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں
غیر کی بستی ہے کب تک در بدر مارا پھروں
1936میں دہلی ریڈیو اسٹیشن پر میگزین آواز کے پہلے مدیر کے طور پر مجاز نے ایک نئی روایت ڈالی۔ بعد ازاں بمبئی انفارمیشن، لکھنؤ کے رسائل نیا ادب اور پرچم، اور پھر دہلی کی ہارڈنگ لائبریری نے انہیں فکری وسعت دی۔ وہ صرف شاعر نہیں تھے، ادبی فضا کے سرگرم رکن بھی تھے۔ ترقی پسند مصنفین کی انجمن میں ان کا فعال کردار ان کی سوچ کی سمت کا واضح اظہار تھا۔
مجاز لکھنوی کی شاعری میں رومان، بغاوت اور داخلی کرب کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ ان کی شاعری میں ایک عجیب کشش ہے۔ رومانوی نرمی بھی ہے، شہری زندگی کا کرب بھی اور سماجی بے چینی بھی۔ ان کے ہاں جذبات کی شدت اور لہجے کی موسیقیت ایک ساتھ چلتی ہے۔
ان کی مشہور نظم "آوارہ” اردو شاعری میں شہری تنہائی، بیزاری اور سرگردانی کا ایک علامتی بیانیہ ہے۔ رات کی روشنیوں میں ایک حساس فرد کا بے مقصد بھٹکنا دراصل اس اجتماعی ذہنی کیفیت کا اظہار ہے جو جدید شہری تہذیب نے پیدا کی۔ طلعت محمود نے جب اس نظم کے بند گائے تو یہ صرف ایک نظم نہیں رہی، ایک نسل کا ترنم بن گئی۔
اسی طرح بچوں کے لیے نظم "ریل” میں ایک الگ دنیا ہے۔ اس میں حیرت، معصومیت، رفتار اور موسیقیت مل کر ایسا منظر بناتے ہیں جو بچوں کے ساتھ بڑوں کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ یہ نظم مجاز لکھنوی کی تخلیقی وسعت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ محض ترقی پسند نعروں کے شاعر نہیں تھے، بلکہ زبان کو شاعرانہ جادو میں ڈھالنے کا ہنر بھی رکھتے تھے۔
مجاز کا اسلوب ان کی شخصیت کی طرح روشن اور بے باک ہے۔ ان کی زبان نرم لیکن پوری توانائی کے ساتھ چلتی ہے۔ وہ استعارے اور علامتوں کے ذریعے جدید زندگی کے مسائل سامنے لاتے ہیں۔ ان کے ہاں غم ذات بھی ہے اور غم دوراں بھی۔ ان کی شاعری میں رومانی شکستہ دلی بھی ہے اور سماجی غیر اطمینانی بھی۔ اسی امتزاج نے انہیں فراق، جوش اور فیض کے درمیان ایک الگ مقام دیا۔
مجازلکھنوی حساس تھے، جذباتی تھے اور زندگی سے ٹوٹ کر محبت کرنے والے تھے۔ یہی شدت کئی بار انہیں اندر سے کمزور بھی کرتی رہی۔ لکھنؤ کے ایک مشاعرے کے بعد ان کی زندگی کا چراغ اچانک بجھ گیا۔ 5 دسمبر 1955 کو وہ محض 44 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ مگر ان کا فن آج بھی زندہ ہے۔
مجاز لکھنوی نے اردو کو ایک ایسا لہجہ دیا جو رومان اور احتجاج دونوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ ترقی پسند تحریک کی ادبی تاریخ ان کے بغیر نامکمل ہے۔ ان کے نام پر 2008 میں جاری ہونے والا ڈاک ٹکٹ اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ محض شاعر ہی نہیں بلکہ ایک تہذیبی علامت بھی تھے۔ مجاز لکھنوی کا نام اردو شاعری میں اس لیے روشن ہے کہ انہوں نے انسان کے اندر کے کرب، خواب اور شکستہ دل کی موسیقیت کو شہر کی بے رحم فضا میں یوں رکھا کہ یہ سب ایک اجتماعی تجربہ بن گیا۔ ان کی شاعری آج بھی پڑھنے والے کو ایک خاموش سحر میں لے جاتی ہے۔

نمونہ کلام

نیم شب کی خامشی میں زیرلب گاتی ہوئی
جیسے موجوں کا ترنم جیسے جل پریوں کے گیت
ایک اک لے میں ہزاروں زمزمے گاتی ہوئی
جستجو میں منزل مقصود کی دیوانہ وار
اپنا سردھنتی، فضا میں بال بکھراتی ہوئی
الغرض دوڑتی چلی جاتی ہے بے خوف و خطر
شاعر آتش نفس کا خون کھولاتی ہوئی

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ڈاکٹر مجاہد بخاری
  • یہ ابھی بہت چھوٹا ہے
  • لمبا قصّہ
  • پراسرار ملاقات
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
غازی علم دین: شہید رسالتﷺ
پچھلی پوسٹ
مکروہات میں عبودیت کی ادائیگی

متعلقہ پوسٹس

زاہم : خواب دیکھنے والی سندھ کی بیٹی

اکتوبر 12, 2025

ملا نصیر الدین

مئی 10, 2020

مسٹر چیری

اکتوبر 12, 2025

رَہروِ تفتہ

فروری 2, 2020

اردو: قومی زبان اور ہماری ذمہ داری

اگست 17, 2025

ایک عہد ساز شاعر – سید عدید

فروری 11, 2022

جنت

جون 9, 2020

آدم بو

نومبر 26, 2020

ہَوا کے پَر کَترنا اب ضروری ہو گیا ہے

جنوری 6, 2020

اکسیر

دسمبر 10, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سلطان ٹیپو

مئی 25, 2024

جالِ عنکبوت

دسمبر 22, 2024

ایک نیا تماشا، ایک نئی مصیبت

جنوری 5, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں