خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباشجرہ نصب
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرواجد علی گوہر

شجرہ نصب

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 22, 2025
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 22, 2025 0 تبصرے 109 مناظر
110

میرے پیارے بھانجے!
آداب!
میں یہاں بد حال پورے کی بد حال گلی میں خیریت سے ہوں اور کرپال پورے کے تمام مکینوں کی خیریت نیک مطلوب ہے۔ مجھے کل رات تمہاری ممانی کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ تم ادھار لینے کو سخت برا سمجھتے ہواور اگر کبھی کسی مجبوری کے تحت ادھار لینا پڑجائے تو مقررہ وعدے کے مطابق اس دن لوٹا دیتے ہو۔اس کے علاوہ تمہارے منہ سے یہ الفاظ بھی نکلے ہیں کہ ادھار مانگ کر واپس نہ کرنے والے لوگوں کا خاندانی پسِ منظر کچھ اچھا نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ۔سچ پوچھو تو جس وقت تمہاری ممانی جان نے مجھ سے اس بات کا تذکرہ کیا وہ رات آٹھ بجے کا وقت تھا اور میں ماحضر تناول فرمانے کی غرض سے ہاتھ دھو رہا تھا مگر اس کے بعد جی ایسا اچاٹ ہوا، ایسا اچاٹ ہوا کہ مجھ سے ایک لقمہ نہ لیا گیا اور میں غصے سے بکتا جھکتا چھت پر چلا گیا تاکہ چہل قدمی کرکے اپنے غصے اور دماغ کو چڑھی گیس دونوں کو غائب کر سکوں۔تمہاری ممانی اور ماموں زاد بہن بھائی بہتیرے اوپر آکر میری منت کرتے رہے کہ دو لقمے ہی زہر مار کرلو لیکن دل کو یقین ہی نہیں آتا تھا کہ میرا سگا بھانجا میری گود میں پلا ہوا اور میرا تربیت یافتہ اتنی نیچی بات کرسکتا ہے جس کا تصور ہمارے خاندان میں دور دور تک نہیں ۔ میرا ارداہ تو یہی تھا کہ اُسی وقت گھر سے نکلوں اور تمہاری طرف آکر تمہارے خیالاتِ باطلہ اور عقائدِ مفسدہ کی اصلاح کروں مگر عین وقت پر میرا پڑوسی جس کا میں نے بیس ہزار روپے ادھار دینا ہے وہ گلی میں کسی سے ملنے نکل آیا اور یوں میرا کنفرم ٹکٹ کینسل ہوگیا ورنہ شاید کل تمہاری گو شمالی میرے ہاتھوں ہو کر رہتی۔میں کیونکہ باہر نہیں جاسکتا تھا لہذا سوچا کہ چلو تمہیں خط لکھ کر کم سے کم اُس خاندان کے حسب نسب ، اُس کے خصائل، اُس کی معاشرے میں پہچان اور دیگر خصوصیات کے بارے میں مفصل لکھ کر روانہ کردوں تاکہ تم اس احساسِ کمتری سے نکل سکو۔
میرے بھانجے! شاید زندگی میں یہ موقع پھر آئے نہ آئے اور میری یاداشت سلامت رہے نہ رہے مگر یہ خط تمہارے پاس میری امانت ہے اور اسے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنا تمہارا فرض ۔ میں اب تم سے اس خاندانِ عالیہ کے چند چنیدہ اشخاص کا تذکرہ کرتا ہوں تاکہ تمہیں پتہ چل سکے کہ ہم کون ہیں اور ہمارا کیا کام ہے۔ سنو! تمہاری اما کے ابا یعنی تمہارے نانا قبلہ صم بکم ادھاری میرٹھی تقسیم سے قبل ہندوستان میں میرٹھ کے علاقے میں رہتے تھے۔اُن کا نام صم بکم اس لئے تھا کہ وہ جب کسی سے ادھار لے لیتے تو پھر اندھے اوربہرے ہوجاتے تھے کہ مانگنے والا جتنا بھی شور کرلے اُن کا ایک ہی جواب ہوتا ” ارے بھائی! کیا کہہ رہے ہو کچھ سنائی ہی نہیں دے رہا”۔ اب تو میرٹھ بھی وہ نہیں رہا اور علاقوں کے حلیے ناموں سمیت بدل گئے مگر میری اماں یہی کہتی تھیں کہ اُس علاقے کو بدنام پورہ کہتے تھے جہاں کی ایک بند گلی کوچہ نادہندگان میں سارے مکان ہمارے ہی خاندان کے تھے جن کا سارا میٹریل ادھار پہ لایا گیا تھا جس کو واپس کرنے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اس بات کا توخیر اما کو بھی نہیں پتہ کہ ہمارا خاندان ادھار مانگنے کی وجہ سے ادھاری کہلایا یا کسی اور وجہ سے ہمیں ادھاری کہا جاتا ہےلیکن اُن کے مطابق اُن کے ابا یعنی میرے نانا ” قبلہ نادان میاں” اپنے نام کے ساتھ ادھاری ضرور لگاتے تھے جس سے قیاس لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے خاندان کے ساتھ ” ادھاری” کا لاحقہ یقینا کسی مغل بادشاہ یا بنیے نے لگایا ہوگا کیونکہ انگریز ایسے تکلفات میں نہیں پڑھتے۔ میں نے اپنے نانا کے بارے میں ” تاریخِ ادھاراں” جو ” انجمنِ ادھار فراموشی ” کے تعاون سے بس ایک ہی بار شائع ہوئی ہے اور مجھے بھی ایک مرتبہ ہی اُس کا مطالعہ نصیب نہیں ہوا ہے اُس میں یہ پڑھا تھا کہ ہمارے آباء و اجداد میں سے ایک بزرگ ” بابر ادھاری”جو تمہارے لئے بھی قابلِ فخر ہیں وہ عہدِ محمد شاہ رنگیلا کے اندر لال قلعے میں سائلین کیلئے ٹھنڈے پانی کا انتظام کرتے تھے۔ جب گرمی بہت زیادہ ہوتی اور سائلین ٹھنڈا پانی پیتے تو خوش ہوکر اُن سے پوچھتے کہ بتاؤ کیا مانگتے ہو ، تو وہ فٹ ادھار مانگ لیتے جس سے آہستہ آہستہ یہ بات مشہور ہوتی ہوئی بادشاہ تک پہنچ گئی ۔بادشاہ نے ایک دن بابر ادھاری کو بلا کر پوچھا ،” بابر ایں چہ معاملہ است؟”۔ بابر ادھاری نے جواب میں ضرب المثل شعر پڑھا
نو روز و نو بہار و مے و دلبرے خوش است بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست
محمد شاہ رنگیلا اس جواب پر اتنا خوش ہوا کہ جھوم جھوم کر یہ شعر پڑھتا جاتا اور ساتھ میں کہتا جاتا ،” بابر بہ فرمائید خوب است، بابر بہ فرمائید خوب است” اور ساتھ ہی اُنہیں دربارِ عالیہ سے ” ادھار الدولہ” اور ” منگتے خان” کے خطابات سے نواز کر اُن کا نام ” ادھار الدولہ بابر منگتے خان ادھاری” تفویض فرمایا جو زمانے کی نااہلی اور غدر کے فتنے کی وجہ سے ” ادھار الدولہ منگتے خان ادھاری” بن گیا جبکہ بابر بیچ میں سے ” نظریہ ضرورت ” کے تحت نکل گیا۔اس کے بعد شاہ عالم ثانی کے دور میں جب اطرافِ دلی، سہارنپور، مراد آباد، بجنور، تھانہ بھون اور قصبہ گنگوہ کے بنیے ہمیں ادھار دے دے کر کنگال ہونے پر آئے تو اُن کا ایک وفد ” ظلِ سبحانی ” کی خدمت میں شکوہ لیکر آیا جسے سُن کر بادشاہ نے تالیف قلب کے واسطے ہمارے خاندان کو دلی سے میرٹھ بھجوا دیا اور یوں ہم دلی سے میرٹھ منتقل ہوگئے۔
ہمارے خاندان کی شہرت اُس وقت میرٹھ تک نہیں پہنچی تھی اس لئے لوگ ہمیں بہت پیار محبت اور عزت سے پیش آئے جس کا بدلہ ہمارے خاندان نے ” بھاری ادھار لیکر فراموش ” کرنے کی صورت میں سود سمیت چکایا جس کی وجہ سے سینتالیس تک لوگوں کے گھروں میں وہ بیاض موجود تھیں جن پر ہمارے خاندان کے نام بنام کھاتے درج تھے۔ ہم لوگ کیونکہ ہندوستان سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور تقسیم کے سخت مخالف تھے اس لئے تمام اہلِ میرٹھ کو یقین تھا کہ بھلے سارا میرٹھ مسلمانوں سے خالی ہوجائے مگر ” کوچہ نادہندگان” کا ادھاری خاندان یہاں سے نہیں جائے گا۔ میرے ابا جان بھی لوگوں کے گھر جا کر قسمیں اور وعدے دے کر یہ یقین دلاتے رہے کہ ” ادھاری خاندان” کا جینا مرنا میرٹھ والوں کے ساتھ ہے۔ اس بات پر میرٹھ والوں نے یقین کرلیا اور ہم سے مطمئن ہوگئے جس کے بعد ہم لوگ بھی اچانک رات کو چپکے سے مطمئن انداز میں وہاں سے چلے آئے اور پہلا پڑاؤ سرزمینِ پاکستان کے اندر داخل ہوکر کیا۔ اس وقت ” ادھاری خاندان” کے چالیس نفوس کا یہ مختصر سا قافلہ تھا جو اسلام کے مطابق اپنی زندگی گزارنے اور مالی معاملات کو سود سے پاک رکھنے کی نیت سے میرٹھ سے ہجرت کرکے اس پاک سر زمین میں آیا تھا اور پھر اسی کو اپنا وطن مانتے ہوئے یہیں بس گیا کہ آگے افغانستان کی آب و ہوا ہمارے خاندان کیلئے موافق نہیں تھی۔ اب تم سمجھے کہ ہم نے کس نیک جذبے کے تحت ہجرت کی اور اس سرزمین کو چھوڑا جس میں ” خاندان ادھاراں” کے بزرگوں کی ہڈیاں دفن ہیں۔ ہم یہاں جب آئے تو ابا میاں نے یہی سمجھایا کہ اب ماضی کو بھول جاؤ اور لوگوں نے جو تمہارے ساتھ نیکیاں کی ہیں اُن کو بھی بھول جاؤ۔ہم یہاں جب اس پاکستان ، اس پاک سرزمین پر آئے تو ابا میاں نے ایک وسیع قطعہ اراضی منت کرکے اپنے نام کروا کر اُس کا نام ” کوچہ نادہندگان” رکھا اور پھر ادھار پہ میٹریل لیکر نئی زندگی کا پہلا باب کھول دیا جو ابھی تک کھلا ہوا ہے اور شاید ہمیشہ کھلا ہی رہے۔ ابا میاں نے دنیا سے جاتے وقت ہم سب کو یہی نصیحت کی تھی کہ اب نئی زندگی کا باب رقم کرو جس کا ہر ہر ورق ایک کارنامے سے مزین ہو اور تاریخ کے قرطاس پر اپنے پاک صاف معاملات کی بدولت وہ ان مٹ نقوش چھوڑو کہ آنے والا مورخ یہ کہہ اٹھے کہ ” اتہاس کے پنوں پر اس سے قبل ایسی کہانی نہیں لکھی گئی "۔
امید ہے اب تمہارا دل اپنے خاندان سے متعلق پالی گئی غلط فہمیوں سے پاک ہوجائے گا۔
تمہاری اصلاح کیلئے متفکر
تمہارا ماموں
نادان ادھاری مہاجر میرٹھی
حال وارد کوچہ نادہندگان

واجد علی گوہر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • گیارہویں شریف کا مبارک مہینہ
  • عجب کرپشن کی غضب کہانی
  • میرا گھر میرا پاکستان اسکیم!
  • میں اپنے جد کے غلاموں کی پیروی کروں گا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
لاہور کا بدلتا منظر
پچھلی پوسٹ
عہدِ وفا کی تفسیر

متعلقہ پوسٹس

حبیب جالب – عوام کا شاعر اور انقلابی سوچ

جون 6, 2026

نثری نظم یا نثر میں شاعری

مئی 27, 2024

ہنسنے رونے والے اچھے لگتے ہیں

مارچ 20, 2020

کورونا کے بعد مزیدعالمی وباؤں کا خطرہ!

جولائی 8, 2020

جو زندگی تھی آج کل وہ زندگی نہیں رہی

مئی 15, 2020

آ مرا ہاتھ تھام

جولائی 7, 2020

وادیِ سوات کا تفصیلی اور جامع منظر نامہ

دسمبر 11, 2022

کافی

دسمبر 7, 2019

تنہائی

فروری 18, 2020

بین الاقوامی سطح پر انسانی تہذیب کی تعمیر نو!

دسمبر 7, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کرفیو کا ایک سال

اگست 11, 2020

بٹائی کے دنوں میں

جون 14, 2020

سالار کی شادی

جنوری 5, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں