خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکورونا کے بعد مزیدعالمی وباؤں کا خطرہ!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمز

کورونا کے بعد مزیدعالمی وباؤں کا خطرہ!

از سائیٹ ایڈمن جولائی 8, 2020
از سائیٹ ایڈمن جولائی 8, 2020 0 تبصرے 55 مناظر
56

کورونا کے بعد مزیدعالمی وباؤں کا خطرہ!

اِسے قانون فطرت کہہ لیں یا انسان کی اپنی غلطیاں اور کوتائیاں کہہ لیجیے کہ تقریباً ہر سوسال بعد ایک ایسی ہی خوفناک بیماری وبا ء کی صورت اختیار کر لیتی ہے کہ جس سے لاکھوں انسان لقمہ اجل بن جاتے ہیں ، یہ قدرت کی جانب سے انسانوں کو ایک وارننگ ہوتی ہے کہ وہ اب بھی سنبھل جائے مگر انسان نہیں سنبھلتا ۔ حالیہ دنوں میں پھیلنی والی وبا ء کورونا وائرس سے قبل دُنیا میں متعدد بیماریاں وباؤں کا روپ دھار چکی ہیں ‘ لیکن ہم نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا ٗ جب آپ ماضی سے آنکھ بند کر لیتے ہیں تو آنے والے وقت سے بھی نابینا ہو جاتے ہیں ۔
اب جبکہ کورونا وائرس ہم پر تکالیف، بے آرامی اور موت کے پہاڑ توڑے جا رہا ہے تو ایسے میں گزرے وقتوں اور ماضی کی وباؤں پر غور و فکر کرنا ہرگز ایک غلط فیصلہ نہیں ہوگا،دیگر الفاظ میں کہا جائے تو دُنیا گزشتہ صدیوں میں اس سے بھی بدترین عالمی وباؤں کا سامنا کرچکی ہے ۔
ٍٍٍان میں سے چند نے تو تہذیبوں تک کو تباہ کرنے کے ساتھ ہی شہروں ، قبیلوں اور قوموں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ۔ جس طرح کورونا وائرس سماجی سرحدوں سے نا آشنا ہے ٹھیک ویسے ہی قدیم وبائیں بھی جسمانی و سیاسی سرحدوں کو آسانی سے عبور کرتی چلی گئیں ۔ پھر آج ہی کی طرح عالمگیریت نے ایسی وباؤں کے پھیلاؤ میں مرکزی کردار ادا کیا ۔
تیسری صدی عیسوی میں رومی سلطنت میں ایک ڈراؤنا طاعون کچھ اس طرح پھیلا جیسے مکھن میں گرم چھری چلتی ہے ۔ ایبولا جیسا طاعون آنتوں کو پگھلا دیتا تھا اور متاثرہ شخص کی آنکھوں سے خون بہنے لگتا اور پیر گلنا سڑنا شروع ہوجاتے تھے ۔ اس ہولناک موت کے رقص نے رومی سلطنت کی اس قدر کمر توڑ دی کہ یہ انتشار اور انارکی کا شکار ہوگئی،آگے چل کر جب اس سلطنت نے خود کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنا چاہا اور اپنا درالخلافہ قسطنطنیہ منتقل کیا تو اسے ایک بار پھر عالمی وباء نے اٹھا کر پٹخ دیا ۔

مغرب کی طرف پھیلتی اس وبا ء کا آغاز چین سے ہوا تھا ۔ بیوبونک طاعون کے بارے میں بہت سی جگہوں پر یہ پڑھنے اور سننے کو ملتا ہے کہ اس کے جراثیم جوں پر سوار تھے اور پھر یہ جوں مغرب کو جانے والی بیڑوں پر سوار چوہوں پر چڑھ گئی تھی ۔ اسکندریہ میں ان پر قسطنطنیہ کے درآمد کردہ اناج کو لاد دیا گیا تھا ۔ پھر اس مال کو پورے یورپ میں بیچا گیا جہاں یہ جراثیم طاعون کی عالمی وباؤں کا باعث بنا جس کے سبب سیکڑوں ہزاروں لوگوں کی موت واقع ہوئی،گلی کوچوں میں لاشیں سڑنے گلنے لگیں کورونا کی طرح اس نے بھی امیر ، غریب میں فرق نہیں کیا ۔

چھٹی اور ساتویں صدی میں بازنطینہ میں پھیلنے والے جسٹینین طاعون کے باعث دسیوں لاکھ افراد سنگین حالات اور تکالیف سے گزرے،تاریخ دان سمجھتے ہیں کہ اس دور میں مشرقی یورپ اور مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر ہونے والی اموات کے باعث طاقت کا توازن اس وقت شمالی یورپ کی طرف جھکا جب بالکن اور یونان میں سلاوی حملوں ، اٹلی میں لومبارڈی یلغاروں اور بازنطینہ قبضوں نے اس وقت کے عالمی نظام کو کمزور کردیا تھا ۔ خطہ عرب میں عمواس طاعون کی وجہ سے 25 ہزار مسلمان سپاہی مارے گئے تھے ۔

اگر ہم کورونا وائرس کو انسانی تاریخ کی بدترین عالمی وبا سمجھ رہے ہیں تو ذرا سیاہ موت کو ذہن میں لائیں جس نے 14ویں صدی میں پورے یورپ میں تباہی مچائی تھی ۔ 1347ء میں سسلی میں لنگر انداز 12 بحری بیڑوں سے شروع ہونے والی اس وباء نے یورپ اور شمالی افریقہ میں 7 کروڑ 50 لاکھ سے 12 کروڑ زندگیاں نگل لی تھیں ۔ یہ تعداد 47 کروڑ 50 لاکھ آبادی کا 30 سے 60 فیصد بنتی تھی ۔ آبادی کو اپنی اصل تعداد بحال کرنے میں 200 برس لگے ۔ چنانچہ آج جب ہم چند ہزار زندگیوں کے نقصان کی بات کر رہے ہیں تو یہ حقیقت میں ماضی میں انسانیت کو اپنا شکار بنانے والی وباؤں کے سبب ہونے والے جانی نقصان کے مقابلے میں ایک معمولی سا عدد دکھائی دیتا ہے ۔
19ویں صدی میں (ایک بار پھر) چین کے صوبے یننان سے طاعون پھیلنا شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ افراد کوموت کے گھاٹ اتار دیا ۔ اس وقت 10 لاکھ اموات بھارت میں ہوئی تھیں اور وبا ء سے بندرگاہی شہر مبئی، کلکتہ اور کراچی متاثر ہوئے تھے ۔ ان دنوں ویکسین منظرِ عام پر آنے والی تھیں ۔ گنجان آباد پسماندہ قصبوں نے مرض کو تیزی سے پھیلنے میں مدد دی جبکہ نکاسی آب اور بنیادی صفائی کی سہولتوں کے فقدان نے متعدد بڑی آبادیوں کے لیے خطرات بہت زیادہ بڑھا دیے تھے، اس کے علاوہ ;39;سماجی فاصلے;39; کو گھنی آبادی والے علاقوں کے لیے قابلِ عمل تصور نہیں کیا گیا ۔

طبّی سائنس کی اس قدر ترقی کے باوجود بھی آج ہم وقتاً فوقتاً (مرس، ایبولا وغیرہ) عالمی وباؤں کا شکار بنتے جا رہے ہیں ۔ انفلوئنزا (وبائی زکام) دراصل وائرس کے ذریعے پھیلنے والا مرض ہے اور کورونا وائرس کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں ۔ اگرچہ مؤخر الذکر زیادہ مہلک ہے لیکن مؤخر الاول سے سال میں 20 لاکھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ یہ دونوں نمونیا اور موت کا باعث بنتے ہیں ۔ 1980ء کی دہائی میں جب ایڈز کا مرض پہلی بار منظرِعام پرآیا;46; برسا برس گزر جانے کے بعد آج اس کا علاج ڈھونڈ لیا گیا ہے اور ایڈز ایسے امراض کی ایک طویل فہرست کا حصہ بن چکا ہے جو ڈاکٹر اور محققین کو مصروف رکھتی ہیں ۔

دراصل کورونا وائرس پر ہمارا ردِعمل ہی اسے دیگر عالمی وباؤں سے الگ بناتا ہے ۔ خود ساختہ تنہائی اور سماجی فاصلہ اپنانے سے زیادہ تر لوگ اپنی ملازمتوں ، کاروبار اور ذاتی تعلقات سے منقطع ہوکر رہ گئے ہیں ، جس کی وجہ سے ہماری معیشت کے ساتھ ساتھ ہمارا معاشرہ بُری طرح متاثر ہورہا ہے ۔ آج بھی اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور بروقت تیاری نہ کی، اور سائنسدانوں ، ماہرین کی طرف سے بار بار متنبہ کرنے کے باوجود چپ سادھ لی تو یقینا قدرتی آفات زمین کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہیں ، کیا ہم بھی تیار ہیں ۔بل گیٹس نے 2015 میں بھی ایک عالمی وبا ء کے متعلق پیش گوئی کرتے ہوئے کہا تھا دُنیا اگلی وبا کیلئے تیار نہیں ۔ بل گیٹس نے پانچ سال قبل کہا تھا کہ وبا ء پوری دُنیا پھیل سکتی ہے کیوں کہ تمام ممالک آپس میں جڑے ہوئے ہیں ۔

مائیکرو سافٹ کے بانی نے یہ بھی کہا کہ’’ ہوسکتا ہے اگلی صدی میں بیماری قدرتی طور پر پھوٹے یا بطور ہتھیار استعمال کی جائے ۔ مائیکرو سافٹ کے بانی نے کہا تھا کہ دُنیا کو وبائی امراض کیلئے تیاری کرنی ہو گی جیسے جنگ میں محفوظ رہنے کیلئے کی جاتی۔
زلزلہ ہو یا کورونا وبا ء بار بار پیش گوئی کے باوجود پیشگی کوئی انتظامات نہیں کیے جاتے، جس کی وجہ سے لحموں نے خطا ء کی صدیوں نے سزا پائی کے مصداق جانی مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔ اب بھی ماہرین ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس جیسی مزید وبائیں پھیلنے کا خطرہ ہے ۔
معروف امریکی ماہر ماحولیات اور مصنف ڈیوڈ کوائمن کا کہنا ہے کہ جب ہم جنگلات کو بے دریغ کاٹتے ہیں تو اس سے پورا ماحولیاتی نظام متاثر ہوتا ہے ۔ ڈیوڈ کوائمن کے مطابق جنگل میں متعدد اقسام کے حشرات الارض،جانور اور پودے ہوتے ہیں جو کہ مختلف اقسام کے وائرس کی آماجگاہ بھی ہوتے ہیں ۔ جب ہم جانوروں اور حشرات سے ان کا مسکن چھین لیتے ہیں تو وہ نئی جگہ کی تلاش میں نکلتے ہیں اور اپنی بقا کی کوشش کرتے ہیں اس دوران ان میں موجود وائرس ہمارے جسم میں منتقل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔
اسی طرح جب جنگلات سے لکڑی کاٹ کر شہر میں فروخت ہوتی ہے تو اس دوران متعدد کیڑے مکوڑوں کے ساتھ وائرس بھی انسانی آبادی میں منتقل ہوجاتے ہیں اور کیڑے مکوڑوں کے مرنے کے بعد انہیں نئی جگہ کی تلاش ہوتی ہے اور ایسے میں انسانی جسم ہی ان کی آماجگاہ بنتے ہیں ۔ اس کے علاوہ دیگر ماہرین ماحولیات کا بھی کہنا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی اور قدرتی ماحول کی تباہی وباؤں کے پھلنے اور ان کے خطرناک ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وباؤں سے مقابلہ کرنا ہے تو آب وہوا کو صاف ستھرا رکھنا نہایت ضروری ہے ۔ ہمیں بروقت اقدامات /منصوبہ بندی سے انسانی، معاشی نقصان سے بچنا ہو گا ۔

عابد ضمیر ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہتّک
  • بارِمحراب نہ سجدے سے پتا چلتا ہے
  • ہندوستان چھوڑ دو
  • ہر صدا تھک کے لوٹ آئی مری
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
عالمِ بَرزخ
پچھلی پوسٹ
شعوری جنسیت

متعلقہ پوسٹس

آئینۂ ذات

جون 1, 2025

گہرے پانیوں والی آنکھیں !

مئی 9, 2020

سعودی عرب کا قومی دن اور پاکستان کا جذبۂ اخوت

ستمبر 23, 2025

رازِحیات

دسمبر 30, 2021

اور بنسری بجتی رہی

جون 14, 2020

اعتماد کا فن

دسمبر 22, 2024

کوئی تعبیر کا منظر نہ دکھایا جائے

نومبر 4, 2020

ستلج پھر بپھرا

جون 14, 2020

ممتاز مفتی کی کتاب "غبارے” سے

دسمبر 16, 2019

آگہی آگ ہے

جنوری 10, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ڈھلتے سورج میں سہارا مرے دل...

دسمبر 11, 2020

سرنگ

جون 9, 2020

شامت اعمال ہیں

جون 19, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں