خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامآقا کریم ﷺ کا احسان
آپ کا سلاماردو کالمزاسلامی گوشہپیر انتظار حسین مصور

آقا کریم ﷺ کا احسان

از سائیٹ ایڈمن اگست 23, 2026
از سائیٹ ایڈمن اگست 23, 2026 0 تبصرے 41 مناظر
42

خیابانِ خیبر سے شہادت کی رگِ جاں تک: آمدِ ربیع الأول کا مژدہ اور آقا کریم ﷺ کا احسان

​چند ہی دنوں بعد چاند اپنی بدلتی منزلوں کے ساتھ کرۂ ارض پر ربیع الأول کا وہ متبرک و معطر مہینہ لانے والا ہے جس کی آمد کا انتظار عالمِ اسلام کا بچہ بچہ پورے شوق، ذوق اور عقیدت سے کرتا ہے۔ گلی کوچے سجے ہوئے نظر آئیں گے، فضاؤں میں درود و سلام کی سحر انگیز صدائیں گونجیں گی، مرحبا یا مصطفیٰ ﷺ کے نعروں سے دشت و جبل مہک اٹھیں گے اور کائنات کے ہر کونے میں آقا دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ احمدِ مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کا جشن اور خوشیاں منائی جائیں گی۔ یہ آمد کا وہ مبارک موسم ہے جو مرجھائے ہوئے دلوں کو فکری شادابی اور روحانی تسکین عطا کرتا ہے۔ لیکن جب ہم اپنے پیارے آقا کریم ﷺ کی آمد کا استقبال کر رہے ہوں، تو کیا ہم نے کبھی اس گھڑی پر بھی غور کیا ہے کہ جس صاحبِ معراج، شافعِ محشر اور سرورِ کونین ﷺ کی آمد پر ہم خوشیوں کے چراغ جلا رہے ہیں، اسی آقا کریم ﷺ نے اپنی امت کی ہدایت، سلامتی اور بقا کے لیے اپنی ظاہری زندگی مبارکہ میں کتنے مصائب اور زہر کی کاٹ تک برداشت فرمائی؟

​عشق کی وادی میں جب کوئی سچا عاشق اپنے محبوبِ مکرم ﷺ کے آخری ایام اور آپ کے وجودِ مسعود پر بیتنے والے مصائب کا تصور کرتا ہے، تو الفاظ دم توڑ دیتے ہیں، دل خون کے آنسو روتا ہے اور روح بے اختیار تڑپ اٹھتی ہے۔ کیا ہم نے کبھی اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر اس گھڑی کو محسوس کیا ہے جب کائنات کی سب سے عظیم ہستی، تمام انس و جاں کے لیے مجسمِ رحمت بن کر آنے والے ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ احمدِ مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ایامِ ظاہری کے آخری دنوں میں زہر کی تپش، حرارت اور دردفزا سوزش کو اپنے مبارک و مطہر وجود میں برداشت فرما رہے تھے؟ تاریخ کا یہ وہ خونچکاں، مظلومانہ اور رقت انگیز باب ہے جس کو سن کر اور پڑھ کر کٹھور سے کٹھور دل بھی موم ہو جاتا ہے۔ چودہ سو سال گزر جانے کے بعد بھی خیبر کی وہ زہریلی شام اور مدینہ منورہ کے وصال کے وہ آخری ایامِ مبارکہ اہلِ ایمان سے ایک درد مندانہ سوال پوچھ رہے ہیں۔

​۷ ہجری کا واقعہ ہے، جب خیبر کی سرزمین پر حق کی فتح کے بعد ماحول پرسکون ہوا۔ اس وقت ایک یہودی عورت زینب بنت الحارث نے ایک ایسا شاطرانہ اور زہریلا وار کیا جس کا تصور بھی صاحبِ ایمان کے رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔ اس نے پوچھا کہ اللہ کے رسول، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانے میں کیا پسند ہے؟ معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کی طبعِ مبارک بکری کے دست (شانے) کے گوشت کی طرف مائل ہوتی ہے۔ اس شقی القلب عورت نے بکری بھون کر اس کے دست کے حصے میں مہلک اور تیز ترین زہر ملا کر بطورِ تحفہ بارگاہِ رسالت ﷺ میں پیش کر دیا۔ سبحان اللہ! ذرا غور کیجیے، وہ شافعِ محشر ﷺ جن کے اشارۂ انگشت سے چاند دو ٹکڑے ہو جائے، جن کے لمسِ مبارک سے سوکھے کنوئیں ابل پڑیں—جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس گوشت کا ایک نوالہ اپنے دہنِ اطہر میں رکھا، تو زہر کے اس بوجھ اور نوالے نے خود چیخ کر، زبانِ حال اور وحیِ الٰہی کے ذریعے آگاہ کر دیا کہ "یا رسول اللہ! میرے اندر زہر گھولا گیا ہے۔”

​رحمتِ دو عالم، نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فوراً وہ نوالہ اگال دیا اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کھانے سے منع فرما دیا، مگر آپ کے قریب بیٹھے جلیل القدر صحابی حضرت بشر بن براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک نوالہ نگل چکے تھے اور وہ کچھ ہی دیر میں اس دنیا سے رخصت ہو کر مقامِ شہادت پر فائز ہو گئے۔ محدثین اور جمہور علماء فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس گھڑی اس مہلک زہر کے فوری اور ہلاک کن اثر سے معجزانہ طور پر محفوظ فرما لیا، لیکن حکمتِ الٰہی کا تقاضا کچھ اور تھا۔ اس زہر کے اثر کی ایک باریک رمق اور سوزش آپ کے جسدِ اطہر میں خاموشی سے گھل گئی۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوبِ کریم ﷺ کو نبوت و رسالت کے تاج کے ساتھ ساتھ "مقامِ شہادت” کا سب سے ارفع اور اعلیٰ ترین تمغہ بھی عطا فرمانا چاہتا تھا۔

​سال گزرتے گئے، مگر ہر سال خیبر کے اس زہریلے کھانے کا اثر اور اس کی تپش آپ کے جسمِ اطہر میں لوٹ کر آتی۔ پھر ۱۱ ہجری کے وہ رقت انگیز دن آ گئے جب کائنات کے شاہسوار ﷺ کا اپنے رب سے وصال کا وقت قریب آیا۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا صحیح بخاری کی سند سے روایت فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدتِ بیماری اور شدید حرارت کے عالم میں ارشاد فرماتے تھے: "اے عائشہ! خیبر میں جو زہریلا کھانا میں نے کھایا تھا، اس کی تکلیف میں مسلسل محسوس کرتا رہا ہوں، اور آج کا دن وہ ہے کہ اس زہر کے اثر سے میری رگِ جاں (شہرگ) کٹتی ہوئی معلوم ہو رہی ہے۔” (صحیح بخاری: 4428)

​آہ! ذرا آنکھیں بند کیجیے اور اپنے دل و فکر کو مدینہ منورہ کے اس مقدس و معطّر حجرے میں لے جائیے۔ جہاں تمام کائنات کا مرکز، جن کے رخِ انور پر درود و سلام کے گلدستے نچھاور ہوتے تھے، وہ سرورِ کونین ﷺ اپنے رب سے ملاقات سے پہلے اپنے وجودِ اطہر پر زہر کی کاٹ اور سوزش کی تکلیف سہہ رہے تھے۔ کائنات کا سب سے بڑا محسن ﷺ، جو امت کے گناہوں کی بخشش کے لیے راتوں کو سجدوں میں روتا رہا، جس نے طائف کی وادیوں میں اپنے نعلینِ مبارک خون سے بھروا لیے، وہی آقا ﷺ اپنے آخری وقت میں خیبر کے زہر کی جلن کا سامنا کر رہا تھا۔ علماء اور محدثینِ کرام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر زہر کا یہ اثر ہونا آپ کا کمالِ معجزہ تھا کہ زہر آپ کو فوراً ہلاک نہ کر سکا، اور ساتھ ہی یہ آپ کی شہادتِ عظمیٰ کا ذریعہ بنا۔ آپ ﷺ صرف انبیاء کے امام نہیں، بلکہ تمام شہداء کے بھی امام اور سید الشہداء ہیں۔

​ربیع الأول شریف کی مبارک گھڑیاں جب ہم پر سایہ فگن ہونے والی ہیں، تو ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی سچی خوشی اور جشن کا حق صرف لائٹنگ، چراغاں اور نعروں سے ادا نہیں ہوتا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے جو ہمارے ضمیر کے بند کواڑوں پر دستک دیتا ہے: جس آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کو جہنم کی آگ سے بچانے کے لیے، دین کا نور ہم تک پہنچانے کے لیے اپنے جسمِ مبارک پر زہر تک کی تکلیفیں جھیلیں، کیا ہم نے ان کے اس احسانِ عظیم کا ایک ذرہ بھی حق ادا کیا؟ جس آقا ﷺ کی رگِ جاں میں امت کے لیے دردمندی اور زہر کی کاٹ سمائی ہوئی تھی، کیا آج ہماری زندگی، ہماری فکر، ہمارا عمل ان کے مبارک اسوہ اور سنت کا عکس نظر آتا ہے؟

​ربیع الأول کا یہ متبرک مہینہ محض ایک تقریب کا نام نہیں بلکہ ایک عظیم تجدیدِ عہد کا پیغام ہے۔ جب ہم مدینہ منورہ میں آپ کے روضۂ اطہر کی مواجہہ شریف اور جالیوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، یا اپنے گھروں میں محافل کا انعقاد کرتے ہیں، تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہاں جو ہستی آرام فرما ہے، وہ صرف تمام کائنات کی سردار ہی نہیں، بلکہ وہ اپنے لہو، جگر اور جسدِ مطہر کے زخموں سے دین کو سینچنے والی وہ عظیم و مظلوم ہستی ہے جس نے زہر کے گھونٹ بھی امت کی امانت کی خاطر پیے۔ پس آمدِ مصطفیٰ ﷺ کا سچا جشن یہ ہے کہ ہم اپنے دلوں کو بغض، کینے اور معصیت سے پاک کریں، سنتِ مصطفیٰ ﷺ کو اپنی زندگیوں پر نافذ کریں، اور اپنے عمل سے ثابت کریں کہ ہم اس آقا ﷺ کے امتی ہیں جس نے ہمارے لیے اپنے وجودِ اقدس پر زہر کی کاٹ بھی ہنس کر سہی۔ کاش! اس ربیع الأول کے صدقے ہمارے دلوں میں عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ تڑپ بیدار ہو جائے جو ہمیں گناہوں سے موڑ دے، اور ہماری آنکھوں سے نکلنے والا ایک سچا آنسو بروزِ قیامت ہمارے اس حبیبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کا ذریعہ بن جائے!

پیر انتظار حسین مصور

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بزرگوں کے سرہانے بیٹھ جائیں
  • عمران خان کے حواس پر سوار موت کا خوف
  • میں کہ سائر بھی ہوں ہدایت بھی
  • ام المومنین حضرت حفصہؓ بنت عمر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
میں مقتول قاتل ہوں
پچھلی پوسٹ
شہر کے دوسرے کنارے سے

متعلقہ پوسٹس

یار قصہ بڑا ہے پنجرے کا

دسمبر 7, 2025

کیا یہ غور طلب نہیں!

اگست 30, 2024

حافظ محمد نفیس

فروری 27, 2021

جس نے مجھے بیکار میں

مئی 5, 2026

ذاتِ والا پہ بار بار درود

اکتوبر 28, 2020

گمشدہ ستارا

فروری 20, 2026

اِستغاثہ بجنابِ غوثیت

اکتوبر 28, 2020

قرآن میں جنگ کے احکام

دسمبر 6, 2025

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں جاتا

مئی 8, 2026

تم سے ملنے آیا ہوں

فروری 21, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اپنی حیا میں اشک سموتی ہے...

مئی 1, 2026

پاکستان میں اسلام قبول کرنے پرپابندی...

ستمبر 24, 2021

ماضی، حال اور مستقبل – کامیابی...

جولائی 9, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں