خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکیا یہ غور طلب نہیں!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

کیا یہ غور طلب نہیں!

از شیخ خالد زاہد اگست 30, 2024
از شیخ خالد زاہد اگست 30, 2024 0 تبصرے 92 مناظر
93

اس مضمون کو پڑھتے ہوئے مضون کے عنوان کو لازمی ذہن نشین رکھیں اور جہاں ضرورت پڑے اس عنوان کو دہرا لیں تاکہ ذہن میں یہ سوال پیدا نا ہو کے کیا یہ مضمون آپ کو گھسیٹ کر ماضی میں لے جارہا ہے، پھر فیصلہ کیجئے گا کہ کیا واقعی یہ معلومات کے ایک زوائیے کی طر ف بطور نشاندہی کیلئے لکھا گیا ہے۔ آج دنیا میں جتنی معلومات کی فراوانی ہے یقینا آنے والے کل پرسوں میں اس سے کہیں زیادہ ہوجائیگی، معلومات کا یہ سمندر ناصرف موجودہ، آنے والے بلکہ گزرے ہوئے واقعات و حقائق پر سے بھی بری طرح سے پردہ اٹھاتا چلا جا رہا ہے۔ معلومات کی ایسی فراوانی پہلے کبھی نہیں تھی اس سے بھی بڑھ کر یہ اہم ہے کہ تقریباً ساری معلومات انتہائی آسانی سے دنیا جہان کو دستیاب ہے، اب ضرورت کا بھی کوئی سوال نہیں رہا۔گوگل جیسی لاتعداد ویب سائٹس ہیں جو معلومات کو پہلانے میں اپنا بھرپور کردار اداکرتے ہوئے بظاہر آسانی پیدا کر رہی ہیں دوسری طرف واٹس ایپ گروپس کی بھرمار نے مزید آسانی فراہم کر رکھی ہے جو آپ کے ذہن کی مطلوبہ صلاحیت سے کہیں زیادہ مواد فراہم کررہا ہے جوکہ ذہنی دباؤ یا دماغی امراض میں اضافے کا بھی باعث بن رہا ہے۔کیا یہ کسی سوچی سمجھی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے یا پھر ترقی کی راہ پریا پھر زیادہ سے زیادہ کھوجنے کی صلاحیتوں پر عبور واضح کرنے کا نتیجہ ہے اورسب پر تیز ترین ثابت کرنے کی کوششیں ہیں۔ دماغی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اچھی بات ہے لیکن حدود کا تعین کرنا یا رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔

ہمارے لئے یہ جاننا بھی آج دشوار نہیں کہ دنیا کی آبادی کہاں پہنچ چکی ہے، کس ملک کی آبادی کتنی ہے اور کتنے وقت میں کتنی ولادتیں ہورہی ہیں۔ دنیا میں کون سے مذہب میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، دنیا میں کہاں کہاں مختلف اقسام کی تحریکیں چل رہی ہیں اوریہ کن مقاصد کے حصول کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں، کون سے ممالک معاشی صورتحال کی وجہ سے اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں،ایٹم بن کن ممالک کے پاس ہیں اور کتنے ہیں، کتنے ایسے ممالک ہیں جو اس مہلک ہتھیار سے آراستہ تو ہیں لیکن وہ دنیا کو باقاعدہ آگاہ نہیں کرنا چاہتے یعنی دنیا کو کسی حیرت میں مبتلاکرنے کی تیاری کئے بیٹھے ہیں، کتنے ممالک کے پاس اسلحے کی کیا صورتحال ہے اور یہ ممالک کس کس ملک کے ساتھ اسلحہ کی تجارت کس پیمانے پر کر رہے ہیں۔ناصرف دنیا میں رائج مذاہب کے بارے میں ہر قسم کی معلومات دستیاب ہے بلکہ جو مذاہب اب عملی طور پر موجود نہیں ہیں انکے بارے میں بھی معلومات کا خزانہ آسانی سے دستیاب ہے اور یہ بھی جاننا ناممکن نہیں کہ وہ مذاہب قابل عمل کیوں نہیں رہے۔کہاں روزانہ کتنا کھانا ضائع کیا جارہا ہے اور کہاں بھوک و افلاس کی وجہ سے اموات ہور ہی ہیں۔ آپ جو چاہتے بھی نہیں وہ بھی دماغ میں ٹھونسا جا رہا ہے۔شائد یوں لکھنا بہتر ہوگا کہ ایک عام انسان معلومات کا ایٹمی بم بنا پھر رہا ہے کوئی کسی سے کچھ پوچھ تو لے پھر کیا کہ جان چھڑانا مشکل ہوجاتی ہے۔

ریڈیو پر ایک پروگرام پیش کرنے والی خاتون بہت چہک چہک کر یہ بتا رہی تھیں کے فلاں ملک میں روبوٹ انسانوں کی جگہ فیکٹریوں میں کام کرنا شروع کر رہے ہیں انہوں نے مزید آگاہ کیا کہ ایک روبوٹ لگ بھگ ہزار لوگوں کی جگہ پر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، دوسری طرف مصنوعی ذہانت انسان کی ذہنی صلاحیت کو محدود کرنے میں اہم کردار کرنے جا رہی ہے۔ایک طرف ممالک اپنی سرحدوں کے دفاع کی صلاحیتیں بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور یہاں بھی ڈرون نامی ایک ایجاد جو بغیر انسان کے کہیں بھی جا کر تباہی مچانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور اسے بطور جاسوس کے بھی استعمال کیا جا رہاہے، اس کا عملی مظاہرہ دیکھانے والے دیکھا رہے ہیں اور ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔ گھر بیٹھے خریداری کا رجحان بھی بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے غرض یہ کہ دنیا میں کتنی تیزی سے ہوشربا ترقی ہو رہی ہے۔ترقی یافتہ ممالک سے لے کر تیسری دنیا کے ممالک تک کے افراد سماجی ابلاغ کے استعمال کے بری طرح سے عادی ہوچکے ہیں خصوصی طور پر نئی نسل اور طبعی ملاقات کا رجحان محدود اور مخصوص ہوتا جا رہا ہے۔مختلف قدرتی آفات کی پیشگی آگاہی بھی دی جاتی ہے گوکہ تباہی کو نہیں روکا جاسکتا لیکن کسی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

اب اس ترقی کو پر لگانے والی اصلاحات کو کھول کر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ روبوٹ کی بات کرتے ہیں، دنیا کی آبادی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے، جامعات ہزاروں کی تعداد میں طالبعلموں کو تیار کر کے معاشرے کے حوالے کر رہی ہے جس پر خطیر رقم بھی خرچ ہوتی ہے، جو عملی زندگی میں قدم رکھنے کیلئے روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہیں دوسری طرف روزگار کے مواقع روز بروز کم ہوتے جا رہے ہیں۔ تیسری دنیا کے ممالک سے تعلق رکھنے والے نوجوان ترقی یافتہ ممالک یا ترقی پذیر ممالک کی طرف روزگار کے مواقع تلاش کرنے کی غرض سے ہجرت کررہے ہیں، جہاں روزگار کا حصول جان جوکھم سے کم نہیں ہوتا جس کی وجہ سے مایوسی بڑھ رہی ہے، ارباب اختیار اس مایوسی کا سدباب کرنے سے قاصر ہیں لیکن اپنی سیاست کی دکان چلانے کیلئے زبانی کلامی بلند و بانگ دعوے کرتے سنائی دیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں بنگلا دیش میں نوجوانوں نے ملک کی طاقتورترین حکمران کو ناصرف اقتدار سے محروم کردیا بلکہ ملک بدر کردیا ہے۔ ان نوجوانوں نے درحقیقت دنیا کے نوجوانوں کواپنی اہمیت اور طاقت سے آگاہ کر دیا ہے اب یہ سرکار میں بیٹھ کر نظام میں یقینا بہترین اصطلاحات کرینگے اور ملک کی ترقی کو چار چاند لگائیں گے۔ اب اگر روبوٹ اور مصنوعی ذہانت کی بات کی جائے تو عملی زندگی کی کارگردگی صفر دیکھائی دیتی ہے جوکہ شروع میں آہستہ آہستہ اور پھر بہت تیزی سے انسانی زندگی کو کم سے کم کر کے رکھ دے گی، جسمانی معذوری بھی بڑھ سکتی ہے اورعام انسان جو پہلے ہی دماغ کے استعمال سے کتراتا رہا ہے رہی سہی ذہنی صلاحیت سے بھی محروم ہوجائے گا۔ترقی یافتہ ملک برطانیہ میں ہونے والے تازہ ترین واقع کو مد نظر رکھتے ہوئے غور کریں کہ اس سارے واقع کا باعث ایک نوجوان بنا، جو مفلوج ذہن کی عکاسی کرتا دیکھائی دیتا ہے۔ آسان لفظوں میں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وسائل کی فراوانی انسان کے ذہن کو مفلوج کرنے کا سب سے بہترین ہتھیار ہے اور کسی بھی قسم کی تحریک کو اٹھنے سے پہلے ہی دفن کرنے کیلئے خوب کارگر ثابت ہورہا ہے۔

جب ہم پر کسی بھی عمل کو کسی بھی سوچ کو یا پھر کسی نئے طریقہ کار کو مسلط کیا جاتا ہے تو اس پر عمل پیرا ہونے کیلئے وقت درکار ہوتا ہے درحقیقت یہ وقت سوچنے اور سمجھنے کیلئے ہوتا ہے۔ اس درکار وقت میں رہتے ہوئے آگے بڑھنا، ہمیں عبور حاصل کرنے سے روک لیتا ہے یعنی سوچنے، سمجھنے اور تحقیق کے لئے آپ کو وقت باقاعدہ طور پر نہیں دیا جاتا کیوں کہ آپ میں پیچھے رہ جانے کے خوف کو بھی زندہ رکھنا ضروری ہوتا ہے اور پیچھے رہ جانے کہ نقصان کا ایسا پہاڑ دیکھایا جاتا ہے کہ انسان خودکشی کی راہ دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ ہم نے اپنی تحقیق کا کام بھی دوسرے کے ذمہ لگا رکھا ہے وہ تحقیق تو کرتا ہے لیکن اس میں سے نکال کر وہ دیتا ہے جو اسے آپ سے لینا ہوتا ہے۔

ہم نے اپنی نسلوں کے ہاتھوں میں مختلف قسم کی مصنوعات تھما دی ہیں اور ہم انکی اعلی معاشرتی اقدار پر پرورش کرنے کی کوششوں میں بھی مصروف ہیں، ہم ان سے سب اچھے کا تقاضہ بھی کر تے ہیں لیکن زور زبردستی نہیں کر سکتے۔ اس زور زبردستی میں پہلے ایک بیچ کا راستہ ہوا کرتا تھا جوکہ اب یا تو نہیں پھر بھرپور بغاوات کی طرف چلا گیا ہے۔ وہ روبوٹ جو انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو بیروزگار کرنے جارہی ہے اور مزید بیروزگاری کو بڑھاوا بھی دے گی تو کیا یہ لوگ بیروزگار ہوکر ان روبوٹ کو کام کرتا دیکھیں گے یا پھر اپنی مایوسی اور ذہنی کیفیت کے خراب ہونے کا کسی نا کسی طرح سے بدلا لیں گے۔ اب بتائیں یہ جو کچھ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے بہت قلیل ہے لیکن کیا غور طلب نہیں ہے۔

 

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خالی سینے میں دھڑکتے ہوئے آوازے سے
  • میرا بچہ
  • ٹرانجٹ کی زندگی
  • مشکل وقت میں کیا کریں؟
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
شیخ خالد زاہد

اگلی پوسٹ
كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِ
پچھلی پوسٹ
انٹرنیٹ کی سست رفتار

متعلقہ پوسٹس

نظروں سے ہو گئی غلطی

مارچ 3, 2020

ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا

مارچ 11, 2026

رشید حسرت کی شاعری کا تجزیاتی مطالعہ

اکتوبر 26, 2025

ابھی ذوق پرواز باقی ہے!

جون 17, 2022

جفا کے راستے آسان نہیں ھوتے

دسمبر 19, 2024

نہیں, آوارگی قبول نہیں

مئی 31, 2020

اک مصرعے نے چوم لیا درد ہمارا

اکتوبر 16, 2025

علی بزبانِ علی بن موسیٰ الرضاؑ

جنوری 1, 2026

ہر جنگ میں احمد کے سدا ساتھ

جنوری 15, 2025

جو سر پہ میرے دوپٹہ دکھائی دیتا ہے

اگست 23, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دل کی دریافت ہے دراصل ولایت...

جون 8, 2020

جان لیوا وبائیں اور مسلمان سائنسدان!

اپریل 11, 2021

مجرم ہوں تیرا پر میں

جون 8, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں