376
کیسے ساتھ نبھاؤں گا میں ایسے میں
میری تو منزل ہے تیرے رستے میں
پہلے تو کی میں نے بات محبت سے
پھر سمجھایا اُس کو اُسی کے لہجے میں
اب ہم دونوں آزادی سے رہتے ہیں
قُدرت نے ہم کو باندھا ہے رشتے میں
بن جاتا ہے یہ کمزوری لوگوں کی
کتنی طاقت ہوتی ہے اِس پیسے میں
تُو نے تو بس مجھ میں خُوبی دیکھی ہے
ہوتے ہیں سو عیب بھی لیکن بندے میں
تُم حُسنِ تخلیق بھی کہہ سکتے ہو اِسے
یہ جو آدھا جھُوٹ ہے پُورے قِصّے میں
کیفی بیٹھ محبت سے کچھ بات کریں
کیا رکھا ہے خاموشی میں ، غُصّے میں
( محمود کیفی )
