خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباعمران خان کے حواس پر سوار موت کا خوف
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزسید محمد زاہد

عمران خان کے حواس پر سوار موت کا خوف

از سائیٹ ایڈمن اپریل 16, 2023
از سائیٹ ایڈمن اپریل 16, 2023 0 تبصرے 91 مناظر
92

زندگی انسان کے ہاتھ سے یوں کھسک رہی ہے جیسے پانی کو چلو میں بھر لو تو وہ انگلی کی درزوں سے کھسک جاتا ہے۔ جو بچتا ہے وہ موت ہے۔

موت ایک ایسا معمہ ہے جو سمجھنے کا ہے، نہ سمجھانے کا۔ فلسفہ دانوں، شاعروں اور تخلیق کاروں نے موت اور اس کے ارد گرد پھیلے ہوئے غبار میں بہت ہاتھ پیر مارے ہیں لیکن حاصل ایک بے انت اداسی اور مایوسی ہے۔ یہ یاس و نراس خوف و اداسی کا باعث بنتے ہیں۔

پہلی صدی قبل مسیح کے لاطینی شاعر اور فلاسفر لیوریٹیس کا کہنا ہے موت کا خوف انسان میں انتہائی نامعقول خیالات و احساسات کو جنم دیتا ہے جو اس کے لیے اور معاشرے کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ انسان زندگی سے لطف اندوز ہو رہا ہوتا ہے تو موت اس کے سان و گمان میں بھی نہیں ہوتی، وہ ذرا نہیں ڈرتا لیکن جب کسی بیماری یا خطرے کا سامنا ہوتا ہے تو وہ سہم جاتا ہے اور سوچنے لگتا ہے کہ مرنے کے بعد کیا ہو گا؟ بعد از موت کی ہیبت ناک کہانیاں اسے ڈراتی ہیں۔ زندگی میں کی گئی زیادتیاں اور گناہ خوف کے بھوت بن کر سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ اندیشے، یہ بیم و ہراس انسان کی زندگی کو داغدار کر دیتے ہیں۔ خوشی و امید دم توڑنے لگتی ہے اور بعض مرتبہ وہ زندگی سے نفرت کرنے لگتا ہے۔

وہم اسے مذہب کی طرف دھکیلتے ہیں، جو اسے مزید خوف زدہ کرتا ہے۔ بعض مذہبی عقائد اور خیالات اسے ذہنی مریض بنا دیتے ہیں۔ بہت سے نظریات سائنسی توجیہات پر پورے نہیں اترتے لہذا انہیں دھوکہ و فریب قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیوریٹیس کا کہنا ہے کہ عام مذہبی خیالات انسان کو حوصلہ دیتے ہیں لیکن غیر معمولی اور خطرناک پتھالوجیکل خیالات کو ان عقائد سے علیحدہ کرنا کافی مشکل ہے۔ یہ مریضانہ وہم و خدشات ان لوگوں میں زیادہ در آتے ہیں جو کہ کسی حادثے کا شکار ہوئے ہوں یا پھر نشے کے عادی ہوں۔

جان کے ضائع ہونے کا خوف قدرتی ہے اور فائدہ مند بھی۔ جب تک وہ معمول کے طرز زندگی پر اثر انداز نہ ہو، انسان ذہنی مرض نہیں بنتا لیکن اگر متاثرہ شخص کا ردعمل خطرے کی شدت اور نوعیت کے مطابق ہونے کی بجائے بہت زیادہ ہو تو پھر یہ ایک فوبیا کہلاتا ہے۔

مثال کے طور پر بہت سے لوگ اپنے گھر میں چھپکلی، چمگادڑ یا مکڑی کو دیکھ کر برا محسوس کرتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی بندہ انہیں دیکھ کر خوفزدہ ہو جائے اور گھر چھوڑ کر بھاگ اٹھے۔ جنگلات اور ویران جگہوں پر جانے سے گریز کرے کہ وہاں وہ پائی جا سکتی ہیں تو اسے فوبیا کہیں گے۔ اسی طرح موت اور مردے ہر کسی کو غمگین کرتے ہیں لیکن اگر کوئی ان سے اتنا خوفزدہ ہو کہ جنازے والے گھر ہی نہ جائے تو اسے ذہنی بیماری کہیں گے۔

موت ایک پیچیدہ، حتمی اور قطعی عمل ہے۔ اس کی بدصورتی، تکلیف اور نحوست بنی نوع پر ہمیشہ سے مسلط ہے۔ اس بلا سے وہ خوف زدہ ہے۔

موت کا خوف آفاقی ہے۔

انسان ایک سماجی جانور ہے۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مل کر زندگی گزارتے ہیں۔ اکیلا پن سب سے بڑی تکلیف ہے، موت انسان کو اس کے پیاروں سے جدا کر دیتی ہے۔ انسان اکیلا جانے اور رہنے سے گھبراتا ہے۔ وہ قبر کی تنہائی سے ڈرتا ہے۔ موت کا ذہن میں خیال آتے ہی ان دیکھے مستقبل کا خوف، جسے مذہب دائمی زندگی کہتا ہے، جس میں ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہو گا، جس میں مصیبتوں سے پالا پڑ گیا تو کوئی شنوائی نہیں ہوگی، لمبی قید اور دوزخ کی سزائیں، سب کچھ ڈراتا ہے۔

موت کے خوف کی آٹھ جہتیں ہیں : مرنے کے عمل کا خوف، قبل از وقت موت کا خوف، پیاروں سے جدائی کا خوف، اپنے بعد پیاروں کی مشکلات کا خوف، تباہ ہونے کا خوف، موت کے بعد جسم کا خوف، نامعلوم کا خوف، اور مردہ حالت کا خوف۔

ان تمام بیم و ہول سے نجات پانے کے لیے یا ان کی شدت کو کم کرنے کے لیے تمام انسانی معاشروں نے مذاہب کا سہارا لیا ہے۔ اسی وجہ سے وفات پا چکے پیاروں کے لیے رسومات کا آغاز ہوا۔ موت کے عمل کو قابل قبول بنانے کے لیے ہی زندگی بعد از موت کا سہارا ڈھونڈا گیا۔ ابدی زندگی کی حکایات کا بیان ہوا۔ موجودہ حیاتی اور ’مابعد الموت‘ کی تصوراتی زندگی کے درمیان نئے روابط بنائے گئے۔

ان تصورات کو پذیرائی دلانے کے لیے موت کے بارے میں کہا گیا
ہے یہ شام زندگی، صبح دوام زندگی
فانی زندگی کی کمائی کو دائمی زندگی میں نفع کے طور پر پیش کیا گیا۔
یہ سارے نارمل رویے ہیں۔

اگر خوف زیادہ ہو اور ان رویوں پر انحصار کرنے کی بجائے نت نئے طریقوں کی تلاش شروع ہو جائے تو وہ ابنارمیلٹی ہے۔ یہی ذہنی مرض کا آغاز ہے۔ ان حالات میں انسان کا جھکاؤ مذہب کی طرف مزید بڑھ جاتا ہے تاکہ خدا کو خوش کر کے موت کو ٹالا جا سکے۔ وہ خود کو مشکل میں ڈال کر، خود کو سزا دے کرself flagelation اپنے گناہوں کا مداوا کرتا ہے۔ اس کام میں وہ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی شامل کر کے زیادہ کامیابی محسوس کرتا ہے۔

وہ جادو، ٹونے، قربانیاں، جانداروں کا خون کرنا اور طرح طرح کے دوسرے طریقے اپناتا ہے۔ جادو سے انسان حالات کو اپنے قابو میں لانے کی امید رکھتا ہے۔ ان دیکھے دشمنوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جرمن ماہر نفسیات اوٹو رینک ( 1936 ) کے مطابق، دوسرے جانداروں کی قربانی انسان کے من میں بسے موت کے خوف کو کم کرتی ہے۔

اس کے علاوہ وہ مخالفین کے خوف سے اصول و ضوابط کو بلائے طاق رکھ کر جھوٹے سہارے ڈھونڈتا ہے تاکہ کسی نہ کسی طرح موت کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔

حادثات، زخم اور خون موت کے خوف کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ بڑھاپے میں یہ خوف مزید بڑھ جاتا ہے۔

خوفزدہ انسان کا سب سے پہلا عمل موت کے خطرے سے دور بھاگنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مردوں اور قبروں سے ڈرنا، خود کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنانا، جانوروں کی طرح اپنی کچھار میں چھپ کر بیٹھ جانا، ڈاکٹروں، اور حکیموں کو جمع کرلینا، اپنے گرد انسانوں کا حصار قائم کرنا، تاکہ حملے کی صورت میں مقابلہ کیا جا سکے اور اگر نقصان ہو بھی تو ان کا ہو۔ طاقتور لوگوں، جادوگروں اور مذہبی لیڈروں کی پناہ چاہنا اور دیگر کئی ایسے کام کرنا جو بعض مرتبہ مضحکہ خیز ہوتے ہیں۔

یہ ساری بیہودہ و نامناسب کوششیں ذہنی مرض میں کمی کرنے کی بجائے اسے بڑھاوا دیتی ہیں۔

ہمارے ملک میں قتل اور بم دھماکوں کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ عوام اور سیاست دان سب نشانہ بنے ہیں۔ پولیس اور دفاعی ادارے قربانیاں دیے جا رہے ہیں۔ موت کے فرشتے گلیوں میں دندناتے پھرتے ہیں۔ عوام کبھی نہیں گھبرائے۔ دشمنوں نے ہمارے پیارے ملک کو رزم گاہ بنا دیا ہے جس میں ہر سیاسی پارٹی نے خون دیا ہے۔ لیڈر بھی مارے گئے اور ورکر بھی۔ لیکن کبھی کسی پر موت کا خوف اتنا حاوی نہیں ہوا جتنا خاں صاحب کی حرکات میں نظر آ رہا ہے۔

بی بی کارساز کے واقعہ کے اگلے دن ہی ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کو پہنچ گئی تھیں۔ مرتضیٰ بھٹو کے کارکنان شدید غصے میں تھے لیکن وہ ہسپتال پہنچیں۔ یہی حالات بی بی کی شہادت پر تھے۔ سب نے نواز شریف کو منع کیا لیکن وہ گنجان آباد شہر راولپنڈی کے مرکز میں واقع ہسپتال میں پہنچ گئے۔ یاد رہے کہ اسی دن نواز شریف پر بھی اسی شہر میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔ زرداری صاحب تو خود کہہ چکے ہیں کہ میرا تو ایک ہی بیٹا ہے۔

بلاول کا نام ٹی ایل پی کی ٹارگٹ لسٹ پر ہے۔ اے این پی کے تو ہر گھر سے جنازہ اٹھا ہے پھر بھی اس نے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

مثال کسی بھی طرح مناسب نہیں لیکن کچھ اور سوجھتا بھی نہیں
کہاں راجہ بھوج کہاں گنگو تیلی

ہمارے خاں صاحب پہلے ہی مردہ دیکھنے سے گھبراتے تھے۔ مختلف واہموں کا بھی شکار ہیں۔ ایک قاتلانہ حملہ کے بعد اتنے خوفزدہ ہیں کہ جب بھی گھر سے نکلتے ہیں انسانوں کا حصار بنا کر چلتے ہیں۔ مخالفین کو ان کی اس کمزوری کا پتا چل گیا ہے۔ وہ کچھ دنوں کے بعد کوئی نہ کوئی ایسا شوشہ چھوڑ دیتے ہیں کہ خاں صاحب کا خوف مزید مہمیز ہو جاتا ہے۔ خاں صاحب خود بھی کچھ کم نہیں۔ ہر دوسرے دن اپنے قتل کا خواب دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ نئے نئے قاتل اور قتل کے طریقے بھی ڈھونڈ لیتے ہیں۔ اگر یہی حالات رہے تو لگتا ہے کہ اگلے الیکشن میں کمپین کرنا مشکل ہو جائے گا کیونکہ ان کا دشمن اعلیٰ رانا ثنا اللہ نفسیاتی حملے کرتا رہے گا۔

وہ موٹی موٹی مونچھوں کے نیچے سے مسکراتے ہوئے ڈراتا رہے گا اور خاں جی خوفزدہ ہوتے رہیں گے۔
اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہوں میں
روز اک موت نئے طرز کی ایجاد کرے

ابھی خاں صاحب خوش قسمت ہیں کہ خون کی ہولی کھیلنے والے ملک دشمن عناصر سے ان کی مخاصمت شروع نہیں ہوئی یا شاید اسی موت کے خوف کی وجہ سے خاں صاحب ان کے خلاف کوئی بات نہیں کرتے بلکہ ان کے ساتھ گاڑھی چھنتی ہے اور وہ ان قاتلوں کو ہیرو گردانتے ہیں۔

 

سید زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • وبا جان لیوا , ادا جان لیوا
  • یہ ہے تو رب کی جانب سے
  • دل تماشائی رہے اچھا ہے
  • پربتوں کی چوٹی پر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
وجد
پچھلی پوسٹ
مرزا اسداللہ خاں غالبؔ ؔ

متعلقہ پوسٹس

اس کا پتی

فروری 14, 2019

میں عشق ذات ہوں چہرہ بدل کے آئی ہوں

مئی 20, 2020

ذکرِ ہُو روشنی ہے، بحث نہ کر

فروری 10, 2021

یادوں کی چھاؤں اور بدلتی دنیا

جنوری 4, 2026

ڈھونڈیے مت یہ خیر و شر

فروری 25, 2025

مائنوازم کیا ہے ؟

اپریل 19, 2026

نیشنل کونسل فار طب کا اقدام

ستمبر 8, 2025

کھدر کا کفن

جنوری 22, 2020

ایک بار الکشن میں

دسمبر 15, 2019

سوراخ

دسمبر 23, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

خوابوں کی تدفین میں آنا

جولائی 27, 2024

کیا کھویا کیا پایا کچھ بھی...

اگست 15, 2020

میری منگیتر

مارچ 7, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں