خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباانسانی ہوس کا نتیجہ ہیں قدرتی آفات!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

انسانی ہوس کا نتیجہ ہیں قدرتی آفات!

از سائیٹ ایڈمن اگست 7, 2022
از سائیٹ ایڈمن اگست 7, 2022 0 تبصرے 62 مناظر
63

انسانی ہوس کا نتیجہ ہیں قدرتی آفات!

بلوچستان میں 28 جولائی کو ہونے والی طوفانی بارشوں اور پھر اس کے بعد سیلاب کی وجہ سے بے گھر ہونے والے سینکڑوں خاندان مشکلات سے دوچارہو چکے ہیں‘کئی شہروں میں نکاسی آب نہ ہونے کی وجہ سے سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی‘ پانی گھروں سے اندر جا رہا‘ اس کے علاوہ آزاد کشمیر میں کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ ‘حادثات رونما ہو چکے ۔جب کہ مزید بارشیں متوقع ہیں۔ ملکی معیشت جہاں دیگر ناپید مسائل سے دو چار ہے وہاں سیلاب کی سالانہ بنیاد تباہ کاریاں بھی جاری ہیں گزشتہ سالوں کی طرح اِمسال بھی سیلاب ملک میں تباہی کا پیغام لے کر آیا ہے اس سال بھی سیلاب کی تباہ کاری سے زرعی فصلیں اور ملکی معیشت کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔

قدرتی آفات کی کئی وجوہ ہیں‘ جن میں انسانی بداعمالیاں ‘ نظام قدرت جیسے متعدد وجوہات ہوتی ہیں۔ یہ آفات اچانک بھی نہیں آتیں‘ زمین انسان کو بہت پہلے سے آگاہی دیتی ہے۔ ہماری عدم ِ توجہ سے نا صرف مالی نقصان ‘بلکہ لاکھوں قیمتی جانوں کا ضیاع بھی ہوتا ہے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کی زد پر ہے۔ ان موسمیاتی تبدیلیوں کا بدترین شکار ہونے والے دس ممالک کی فہرست میں پاکستان دو دہائیوں سے موجود ہے۔موسمیاتی تبدیلی قدرتی آفات کو بڑھا دیتی ہے اور سیلاب‘ کم دورانیے کی تیز بارشیں‘ برفانی اور سمندری طوفان اور خشک سالی پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک کی معیشت پر بدترین اثرات مرتب کرتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے نتیجے میں وہی لوگ زیادہ متاثر ہوتے ہیں ‘جو پہلے ہی غربت کے ہاتھوں بدحال ہوتے ہیں۔میپل کرافٹ کے مطابق؛ مسلسل جنگیں اور فسادات سے معاشرے کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت کا امکان کم سے کم ہوجاتا ہے ‘پھر ان ممالک میں کرپشن ‘ بد عنوانی کی وجہ سے قدرتی حادثات سے لڑنے کی صلاحیت کمزور ہوجاتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپنے محلِ وقوع کے مطابق‘ اس فہرست میں بالترتیب بھارت‘ بنگلا دیش‘ انڈونیشیا‘ فلپائن‘ امریکا‘ جاپان‘ نائیجیریا‘ برازیل اور پاکستان شامل ہیں ‘کیونکہ اپنے قدرتی ماحول اور محلِ وقوع کے لحاظ سے یہاں بار بار قدرتی آفات آتی رہتی ہیں‘ جبکہ پاکستان اور بھارت میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بہت زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ جاپان‘ تائیوان اور ہانگ کانگ میں 85 فیصد آبادی کم ازکم ایک قسم کی قدرتی آفات کے سامنے ظاہری حالت میں موجود ہے۔
میپل کرافٹ کی یہ رپورٹ قدرتی آفات کے بین الاقوامی ڈیٹا سے بھی ثابت ہوتی ہے‘ جس میں دُنیا میں لینڈ سلائیڈ‘ سیلاب‘ طوفان‘ وبا اور دیگرآفات کا مکمل ڈیٹا بیس شامل ہے۔ اس سے عیاں ہوتا ہے کہ 1900ء سے لے کر اب تک قدرتی آفات کا گراف پہلے نمبر پر بھارت اور دوسرے نمبر پر پاکستان میں بلند ہوا ہے۔ صرف 1991ء سے 2015 ء تک کے 22 برس میں پاکستان میں قدرتی آفات کے 40 واقعات رونما ہوئے‘ جن میں 2010 ء کا ہولناک سیلاب اور 2005 ء کا زلزلہ شامل ہے۔ جولائی 2010ء میں شدید بارشوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی اعداد و شمار کے مطابق ‘قریباً 20 ملین‘ یعنی دو کروڑ لوگ متاثر ہوئے تھے۔ 307,374 مربع میل علاقہ زیرآب آیا تھا اور تقریباً دو ہزار کے قریب اموات ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے انفراسٹرکچر اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا تھا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق‘ 2010ء کے اس سیلاب سے ملکی معیشت کو قریباً 4.3 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق‘ 29 ستمبر تک قریباً 2,523,681 لوگ متاثر ہوئے تھے۔ 360 افراد جاں بحق‘ 646 لوگ زخمی اور 56,644 گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے تھے۔ علاوہ ازیں4065 سے زائد دیہات بھی متاثر ہوئے‘ جبکہ 2,416,558 ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ‘ 8957 سے زائد مویشی سیلاب میں بہہ گئے تھے۔

پاکستان میں وقت کے ساتھ قدرتی آفات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ملکی تاریخ میں 14 سال قبل آنے والاشدید ترین زلزلہ کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا‘ جس کے نتیجے میں ملک بھر کے ہزاروں افراد جان کی بازی ہار بیٹھے‘ وادی کشمیر میں لاکھوں افراد شہید ہوئے۔ متعدد علاقوں میں لاکھوں گھر صفحہ ہستی سے مٹ گئے اور عام شہری منوں مٹی تلے دب گئے ۔زلزلے نے مالی و جانی نقصانات کے علاوہ زندہ بچ جانے والے متاثرین اور پوری قوم پر شدید نوعیت کے نفسیاتی اثرات بھی مرتب کیے۔ انسان زمانہ قدیم سے قدرتی آفات کا سامنا کرتا آرہا ہے اور آج کے دورِ جدید میں بھی انسان تمام تر ترقی کے باوجود قدرت کی بھیجی ہوئی آفات کے آگے بے بس نظر آتا ہے۔ زلزلہ سے ہم نے سبق نہیں سیکھا۔ آج بھی کئی عمارتیں رنگ روغن کر کے استعمال کی جارہی ہیں ‘جو کسی بھی وقت بڑے سانحہ کا سبب بن سکتی ہیں۔ایسی عمارتیں موت سے پہلے موت کا پیغام ہیں اور پھر فلاٹ لائن کے اوپر آباد کاری ہے ؛ حالانکہ اس حوالہ سے با ر ہا مرتبہ بتایا جا چکا کہ فلائٹ لائن اور اس کے گرد کسی بھی وقت ارتعاش پیدا ہو سکتا‘ جو خطرناک بھی ہو سکتا ہے ۔
درحقیقت قدرت کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی کاہم خود کیسے سامنا کرتے ہیں اور انسانی ہمدردیوں کی بنیاد پردوسرے متاثرین کی کیسے مدد کرتے ہیں‘ ہمیں قدرتی آفات کا سامنا کرنے کیلئے عالمی برادری کے اشتراک سے مختصر المدتی اور طویل المدتی دونوں طرح کی حکمت عملی وضع کرنے کی اشد ضرورت ہے‘اسی طرح قدرتی آفات کے نتیجے میں تباہ کاری کے بعد چندے اور امداد کی اپیل کی بجائے ہمیں پانی کے عظیم ذخیرے کو محفوظ کرکے قومی ترقی کیلئے استعمال کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ ہمیں ان قدرتی آفات میں پوشیدہ قدرت کے اس پیغام کو سمجھنا چاہیے کہ زلزلے اور سیلاب سے مکمل چھٹکارہ حاصل کرنا کسی ملک کے بس کی بات نہیں‘ لیکن انسانی تاریخ میں سرخرو وہی ممالک قرار پاتے ہیں‘ جو حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہیں۔
سیلاب ہر سال ملک میں آتا ہے ‘ اس پر اربوں روپے کے فنڈ صَرف کیے جاتے ہیں اور اس کے نقصانات کا باریک بینی سے تخمینہ لگایا جائے تو اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے- ریلیف آپریشن پر آنے والے اخراجات سے کم بجٹ میں ڈیم کی تعمیر ممکن ہے ‘ جب سیلاب آتا ہے تو ہنگامی بنیادوں پر امدادی کام بھی کیے جاتے ہیں اور آئندہ کیلئے سیلاب سے بچنے کی ممکنہ پالیسی بھی وضع کی جاتی ہے روایتی انداز اور روایتی عمل کے تحت چند دنوں کے بعد ہم سیلاب اور اُس کی تباہ کاریوں کو تاریخ کا حصہ سمجھ کر بھول جاتے ہیں لیکن یاد رکھیں جو قومیں اپنی تاریخ سے راہِ فرار اختیار کرتی ہیں وہ ہمیشہ ناکامی و رسوائی کا سامنا کرتی ہیں‘ تاریخ انہیں مٹا دیتی ہے ‘ بھلا دیتی ہے‘ ایسا ہی کچھ سیلاب کے آنے اور چلے جانے کے بعد ہمارے ملک و عوام کے ساتھ ہوتا ہے جہاں حکومتی مشینری سیلاب متأثرین کیلئے ریلیف آپریشن میں سر گرم عمل نظر آتی ہیں وہاں فلاحی ادارے، این جی اوزبھی اس موقع پر اپنی مدد آپ کے تحت جذبۂ ہمدردی و خیر سگالی پر عمل پیر ا ہوتے ہوئے سیلاب سے متأثرین کی بھر پور مدد کرتے نظر آتے ہیں – اپنی مدد آپ کے تحت کرنے والے ادارے ‘ جماعتیں محدود وسائل میں لامحدود کام منظم پلاننگ و حکمتِ عملی سے سر انجام دیتے ہیں ۔قدرتی آفات سے بچا تو نہیں جا سکتا‘ لیکن بروقت منصوبہ بندی اور حکمت عملی سے انسانی جانوں کا ضیاع کم کیا جا سکتا ہے۔

عابد ضمیر ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تیر تلوار جو اب مجھ پہ اٹھائے ہوئے ہیں
  • گلگت خان
  • خامشی اپنی سُخن آثار کرنے کے لیے
  • جھوٹ پر صاد کرنا پڑتا ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
قسط وار ناول بہرام: دوسری قسط
پچھلی پوسٹ
بھتیجی کی ضد

متعلقہ پوسٹس

دل کو کر دیتا ہے تسخیر

فروری 26, 2025

انشاء کا اعظمی کو دوسرا خط

نومبر 28, 2019

تعلیمی پالیسیوں میں عدم تسلسل کا نقصان

دسمبر 9, 2025

یہ الگ بات پکارا تو نہیں جا سکتا

دسمبر 12, 2021

ڈائن

دسمبر 27, 2020

ایک طرف پت جھڑ کا موسم

مئی 18, 2025

کوئی تعبیر کا منظر نہ دکھایا جائے

نومبر 4, 2020

سمندر کے نام دوسرا غنائیہ

مارچ 24, 2026

یہ تماشائے رنگ و بُو بھی مجھے

جون 13, 2020

نعت کیا ہے ابتدائے زندگی

جنوری 2, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بارش

مارچ 25, 2022

زرا سی ہو جو اجازت

مارچ 10, 2025

بے جا آنسو نہ اب بہا...

مئی 14, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں