خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابھتیجی کی ضد
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو ناولبینا خان

بھتیجی کی ضد

از سائیٹ ایڈمن اگست 7, 2022
از سائیٹ ایڈمن اگست 7, 2022 0 تبصرے 44 مناظر
45

"یار کچھ منگواؤ اب بہت بھوک لگ رہی ہے باقی باتیں بعد میں ” وہ تینوں یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا میں بیٹھی تھیں
” ہاں یار سر احسان نے تو آج جان ہی لے لی ” ہانیہ بولی
” ایسی ویسی ” عنایہ منہ بنا کے بولی ” اب کل پریزنٹیشن ہے نہیں دی تو قتل کردینا ہے انہوں نے”
” اففففف۔۔۔۔۔۔ بس بھی کرو رونا اور کچھ منگواؤ پھر پریڈ کا ٹائم ہو جائے گا” پریشے نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا عنیہ نے بچے کو اشارہ کیا اور پھر عنایہ ارڈر دینے لگی لنچ کرنے کے بعد وہ کلاس لینے چلی گئیں ان تینوں میں بہت گہری دوستی تھی اسکول کے زمانے سے وہ تینوں ساتھ تھیں تینوں میڈیکل کے لاسٹ ائیر میں تھیں۔
یونی کی چھٹی ہونے والی تھی کہ بارش شروع ہو گئی وہ لائیبریری سے نکلی
” اوہ گاڈ اب کیا کروں بارش شروع ہو گئی ہے اور یہ عنایہ اور ہانیہ بھی نظر نہیں آرہیں ” وہ پریشان برآمدے کے نیچے کھڑی تھی کہ اسے کسی نے آواز دی
” سنیے ” آواز دینے والا اس کا کلاس فیلو فواد تھا
” جی”
” وہ مکھے آپ سے سر احسان کے سبجیکٹ کے نوٹس چاہیے تھے دیں گی پلیز میں آپ کو کاپی کروا کے دے دوں گا ” وہ شائستگی سے بولا پریشے مسکرائی اس نے بیگ سے نوٹس نکال کے اسے دیے
"یہ لو”
” تھینک یو پریشے تم ہمیشہ میری مدد کرتی ہو تھینک یو” وہ بولا تو پریشے بہت خوش ہوئی اسے ڈیسنٹ اور سلجھا ہو فہد بہت پسند تھا
” اٹس اوکے فہد ”
” اگر کہو تو اپنی بائیک پہ میں تمہیں گھر چھوڑ دوں ” فہد نے آفر دی
” نہیں نہیں گاڑی آتی ہو گی میری” پریشے نے کہا تو فہد مسکرایا
” اوکے ایز یو وش ” اور چلا گیا بارش اب تھم چکی تھی وہ یونی گیٹ کی طرف چل دی۔
——————
فواد کو پتا تھا کہ پریشے اسے پسند کرتی ہے پریشے اچھے خاصے امیر گھر کی لڑکی تھی لیکن فواد ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتا تھا فواد اگر پریشے سے شادی کرلیتا تو اس کی لائف بن جاتی ورنہ اسے پریشے سے کوئی دلی لگاؤ نہ تھا فواد نے اپنے دوست عزیر سے یہ بات شئیر کی
” یار اگر میں اس سے شادی کر لوں تو میرے سارے پرابلمز حل ہو جائیں گے اس کے ما باپ بھی نہیں ہیں اور ساری جائداد اس کے نام پہ ہے اور وہ رہتی بھی اپنی پھپو کے پاس ہے وہ بھی کم نہیں بڑی تگڑی اسامی ہے”
” کیا تو شیور ہے کہ وہ تجھے۔۔۔”
” ہاں یار میری آنکھیں دھوکا نہیں کھا سکتی اور ویسے بھی لاکنیس تو پتا چل ہی جاتی ہے” فواد نے پر یقین انداز میں کہا
” ہممم۔۔۔ پھر تو ٹھیک ہے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا ”
” تو بتا تیری لائف کیسی چل رہی ”
” یار میری والی تو ناراض بیٹھی ہے اسے لگ رہا کہ میں منانے جاؤں گا اسے ہاہاہاہاہاہاہا پاگل اسے لگتا ہے کہ میں سریس ہوں اس کے لیے ” فواد بھی ہنسا
” بہت کمینہ ہے تو تو اب بتا کیا کرے گا ”
” کیا کیا کروں گا دوسری دیکھوں گا ” اس نے آنکھ دبا کے کہا تو دونوں ہاتھ پہ ہاتھ مار کے ہنس دیے
دور سے فواد کو پریشے آتی دکھائی دی
” تو جا پریشے آ رہی ہے میں آتا ہوں ” اور پریشے کی طرف چل دیا وہ اسے دیکھ کے مسکرائی
” اوہ سوری یار میں تمہارے نوٹس لانا بھول گیا ”
” اٹس اوکے فواد کوئی بات نہیں آنٹی کیسی ہیں اب ”
” امی ٹھیک ہیں اب تھینک یو تم نے برے وقت میں میری بہت مدد کی اگر تم مجھے پیسے نہ دیتی تو ” فواد نے مصنوعی اداسی سے کہا وہ اس سے کئی بار اپنے گھر کے جھوٹے مسئلے بتا کے اس سے پیسے بٹور چکا تھا
” یہ تو اچھی بات ہے اور آئیندہ تھینکس نہ کہنا ہم دوست ہیں فواد ”
” وہ تو ہیں میں تمہیں تمہارے پیسے جلد لوٹا دوں گا بس یہ دو ماہ گزر جائیں پھر تو ہم دونوں کی ہؤس جاب اسٹارٹ ہو جائے گی”
” ہاں یہ تو ہے بٹ پیسے لوٹانے کی کوئی ضرورت نہیں تمہیں”
وہ چلتے چلتے کیفے ٹیریا کی طرف آگئے
” ایک بات کہوں ” فواد بولا
” ہاں کہو ”
” پریشے تم۔مجھے بہت اچھی لگتی ہو”
وہ ہنسی ” تھینک یو”
” اگر میں یہ کہوں کے میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں تو ”
پریشے یک دم چونکی وہ اس کے ہاتھ تھام کے بولا
” will you merry me??? ”
پریشے نے اس کی طرف دیکھا دل زور سے دھڑکا تھا کیا دعائیں ایسے بھی قبول ہوتی ہیں اور پھر پری نے ایک سیکنڈ نہ لگایا ہاں کرنے میں وہ آج بے حد خوش تھی اس نے جسے چاہا تھا وہ بھی اس ہی جو چاہتا تھا پھر ایک دن فواد نے اپنا رشتہ بھجوایا اس کے گھر پریشے کی پھپو کو وہ لوگ بہت لالچی لگے ان کا ارادہ انکار کا تھا پر اپنی اکلوتی بھتیجی کی ضد کے آگے انہیں ہار ماننی پڑی اور یوں فواد اور پریشے کی منگنی کردی گئی۔
—————-
چند ماہ بعد جب ان کی ہاؤس جاب بھی ختم ہو گئی تو پریشے کی جاب ایک گاؤں میں لگی پھپو نے منع کیا وہ اس کی اس بے پناہ خوبصورتی سے ڈرتی تھیں بٹ اس کا aim تھا گاؤں میں جا کے وہاں کے لوگوں کی مدد کرنا اور اس ہی مقصد کے لیے اس نے گاؤں جانے کا فیصلا کیا
ملک وجاہت کو نئی ڈاکٹر کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ خوش ہوئے اور اپنے نوکروں کے ہاتھ اسے کھانے کی دعوت دی۔
پریشے کو وہاں کافی سہولیات دی گئیں
چھوٹا مگر صاف ستھرا ایک کمرے کا گھر تھا اور ایک ملازمہ اس کے ساتھ چوبیس گھنٹے کے لیے رکھی گئی پریشے نے ان سہولیات کے بارے میں ملازمہ سے پوچھا تو وہ بولی
” ہمارے گاؤں میں جو ڈاکٹر وغیرہ آتا ہے بی بی تو ملک صاحب اسے ایسے ہی سہولیات دیتے ہیں انہیں عزت اور احترام دیا جاتا ہے ”
” اچھا اچھا ”
” اور آج ملک صاحب نے آپ کو دعوت پہ حویلی بلایا ہے”
” میں نہیں جا رہی آپ انہیں منع کردیں”
” یہ کیا بی بی جی یہ غلطی بھی نہ کرنا کسی میں ہمت نہیں ان کی بات کو ٹالنے کی اور یہ تو انہوں نے خود آپ کو بلاوا بھیجا ہے ”
” اچھا ٹھیک ہے میں چلوں گی” وہ سوچ کے بولی۔
—————–
ملک وجاہت کے تین بیٹے تھے سب سے بڑے کا نام وقار دوسرے کا نام زوار اور تیسرے کا نام عمار تھا یہ لوگ جدی پشتی رئیس تھے ملک وقار کی بیوی جا نام مہر تھا اور ان کے دو بچے تھے ملک وجاہت اپنے تینوں بیٹوں میں زوار کو زیادہ اہمیت دیتے تھے کیونکہ وہ اپنے دو بھائیوں کے برعکس زیادہ ذہین تھا غرور اور تکبر اس میں کوٹ کوٹ کے بھرا تھا جب گاؤں کے لوگ اس کے آگے جھکتے تو ملک وجاہت کا سینہ شان سے چوڑا ہو جاتا وہ اچھا خاصہ ایجوکیٹڈ اور ہینڈسم بندہ تھا چھے فٹ سے زیادہ لمبا قد، سنہری رنگت ،چوڑا سینہ، کھڑی ناک جو اس کے چہرے پہ بہت بھلی لگتی تھی کالی چمکدار آنکھیں ، بلیک بال ماتھے پہ آتے ہوئے بھرے بھرے ڈیل ڈول والا زوار خوبصورتیوں کی معراج پہ پورا اترتا تھا وہ اپنی خوبصورتی سے اچھا خاصہ واقف تھا تبھی تو ہر لڑکی اس کے آگے بچھنے کو تیار رہتی تھی
—————-
دوپہر میں وہ حویلی آئی تو وہاں اس کا بہت اچھا استقبال کیا
” ہممم اچھے لوگ ہیں یہ تو” اس نے سوچا ملک صاحب نے اسے حویلی کی تمام عورتوں سے ملوایا وہ انہیں اچھی تو لگیں پر اسے ہر عورت میں اچھے اخلاق کے ساتھ ساتھ تکبر کی مقدار زیادہ لگی۔
دوسرے دن اس نے کلینک جوائن کر لی دن بھر لوگوں کے مسئلے سنتے اور چیک اپ کرتے دن گزر جاتا اس کا ابھی تک ملک زوار سے سامنا نہ ہوا تھا بس اس نے اس کے بارے میں سن رکھا تھا اور سن کے اسے اس آدمی پہ غصہ آتا جو کمزوروں کو جھکا کے خوش ہوتا تھا "خیر اسے کیا کرنا” اس نے سر جھٹکا اور اپنے کام میں لگ گئی۔
صبح وہ گھر سے کلینک کے لیے نکلی آج اسے ایک ہفتہ ہو گیا تھا یہاں آئے ہوئے سوچا آج جا کے ذرا کلینک کا نقشہ بھی ٹھیک کروا لے اپنے کمپاؤنڈر کو تو بولا تھا کہ وہ اپنی نگرانی میں کچھ ریپیرنگ کروائے پر اس نے سستی میں چھوڑ دیا تھا لیکن آج اس نے سوچا کہ وہ اب آج ہی اپنی نگرانی میں سب کروائے بھلے دو دن کے لیے کلینک بند ہی کیوں نہ کرنی پڑے سو اپنے گھر سے نکلی بلیک سوٹ میں بلیک چادر لیے بالوں کی کچھ لٹیں چہرے پہ بکھری ہوئی تھیں سادگی میں بھی وہ غضب ڈھا رہی تھی
وہ چلتی جا رہی تھی کہ کوئی سامنے سے آتی ہیلکس تیزی میں آئی اس سے پہلے کے اسے سنبھلنے کا موقع ملتا گاڑی تیزی سے رکی
” اندھے ہو دکھائی نہیں دیتا تمہیں ” وہ غصے سے بولی
ایک ہینڈسم سا بندہ گاڑی سے نکلا اور ساتھ اس کے گارڈز بھی پریشے غصے سے اسے دیکھ رہی تھی وہ چلتا ہوا اس کے سر پہ پہنچ گیا
” جانتی بھی ہو کس سے بات کر رہی ہو تم ”
” مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم کون ہو کیا کرتے ہو ”
زوار نے اسے غصے سے دیکھا ایک معمولی لڑکی اسکی آنکھوں میں دیکھ کے اس لہجے میں بات کر رہی تھی
” زبان سنبھال کے بات کرو ملک زوار ہیں ہم ملک وجاہت کے بیٹے جو ہم سے ایسے بات کرے تو ہم اس کی زبان کھینچ لیتے ہیں لگتا ہے تم یہاں نئی آئی ہو پہلی غلطی سمجھ کے معاف کر رہا ہوں ”
” ہونہہہ۔۔۔۔۔ غلطی مائے فٹ تم جو کوئی بھی ہو میں نہیں ڈرتی تم جیسوں سے کر کیا سکتے ہو تم ہاں جان سے مار دو گے تم۔لوگوں میں بس اتنی ہی ہمت ہوتی ہے ”
پریشے کو اس کا نام سن کے ایک دم غصہ آگیا زوار نے غصے سے اس کا بازو دبوچا
” ہم میں کتنی ہمت ہے اس کا تمہیں ابھی اندازہ نہیں ہے لہٰذا ہمیں مجبور نہ کرو اپنی ہمت دکھانے پر ” پریشے نے دھکہ مار کے اسے پیچھے دکھیلا گارڈز ایک دم اس پہ گن تان کے کھڑے ہو گئے زوار نے گن نیچے کرنے کا اشارہ کیا
” جتنا میں تمہیں جاہل سمجھتی تھی تم اس سے کہءں زیادہ ہو ملک زوار۔۔۔ آئیندہ اس طرح مجھے ٹچ کرنے کی ہمت نہ کرنا ورنہ اچھا نہیں ہو گا ” اس نے انگلی اٹھا کے اسے وارن کیا اور سائڈ سے ہو کے نکلتی چلی گئی زوار نے غصے سے مٹھیاں بھینچی ” یہ تمہیں بہت مہنگا پڑے گا ”
—————-
وہ کلینک آئی غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا وہ آکے چئیر پہ بیٹھی
” بی بی مجھے گاؤں کی عورتوں نے بتایا ہے ملک صاحب سے آپ کا جھگڑا ہوا ہے ” ملازمہ پریشانی سے اس کے پاس پہنچی وہ ملک زوار کو اچھی طرح جانتی تھی
” ہاں ”
” یہ کیا کیا بی بی آپ کو انہیں ایسا نہیں بولنا چاہیے تھا آپ نہیں جانتی ہیں انہیں جان سے جائیں گی آپ” ملازمہ کی باتیں سن کے اسے یک دم غصہ آگیا
” ملک صاحب ملک صاحب کیا لگا رکھا ہے تم نے ہاں دیکھتی ہوں میں بھی کیا کرتا ہے وہ جاہل جسے عورتوں سے بات تک کرنے کی تمیز نہیں ہے ”
” پر بی بی ”
” بس۔۔۔۔۔تم جاؤ یہاں سے” اس نے ملازمہ کو جانے کے لیے کہا اور اپنے آپ کو نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگی لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی نارمل زندگی بھی چند دن کی تھی۔
———————–
ملک زوار اپنے کمرے میں بیٹھا اس لڑکی کے بارے میں سوچ رہا تھا آج تک جو بھی لڑکی اس سے ملی تھی کسی کی آنکھوں میں خوف تو کسی کی آنکھوں میں چاہ ہوتی تھی لیکن یہ لڑکی۔۔۔ نہ تو اس کی آنکھوں میں چاہ تھی اور نہ ہی خوف یہ لڑکی اس کے لیے چیلنج بن چکی تھی
” ہو تو تم بہت حسین پر تمہیں ڈر نہیں لگتا نا تو میں تمہیں بتاؤں گا ڈر ہوتا کیا ہے تمہارے چہرے پہ ڈر دیکھنا اب ہماری خواہش ہے ” اور غصے سے اٹھا اور کسی کو کال ملائی
” کریم۔۔۔ یہ جو آج لڑکی ملی تھی اس کے بارے میں پتا کرو شام تک مجھے ساری انفارمیشن چاہیے”
” سائیں یہ لڑکی ایک ہفتہ پہلے شہر سے آئی ہے بہت اچھی ڈاکٹر ہے جی ”
” ہممم ٹھیک مجھے ساری معلومات چاہیے اس کے بارے میں”
” جی سائیں ” زوار نے فون رکھ دیا۔
—————-
وہ آج کلینک آئی تھی صبح سے مصروف اب فارغ ہوئی تھی کہ فواد کا فون آیا وہ ایک دم فریش ہو گئی
” کیسے ہو فواد ”
” میں ٹھیک ہوں بٹ۔۔۔۔”
” بٹ کیا فواد آنٹی تو ٹھیک ہیں نا ” پریشے پریشانی سے بولی
” ہاں وہ ٹھیک ہیں پر میری بائیک چوری ہو گئی ہے اگر دوبارہ بائیک لینا بھی چاہوں تو اتنے اخراجات ابو کیسے پورے کریں گے میں پریشان تھا تو سوچا تمہیں کال کر لوں” فواد نے آواز میں بے چارگی لاتے ہوئے کہا
” اوہ۔۔۔ تم پریشان نہ ہو فواد میں ہوں نا کتنے پیسے چاہیے تمہیں ” فواد ایک دم خوش ہوا
” نہیں یار میں تم سے آلریڈی اتنے پیسے لے چکا ہوں انگیجمنٹ کے بعد سے تم نے اتنے گفٹس بھجواتی رہی ہو میرے لیے اور میں نے تمہیں ابھی تک کچھ بھی نہیں دیا”
” اوہ ہو فواد ایسے نہیں سوچو میرے لیے تم کافی ہو مادی چیزوں کی میرے دل میں کوئی اہمیت نہیں ہے تم بتاؤ کتنا اماؤنٹ چاہیے تمہیں ”
” ایک۔۔۔ ایک لاکھ ”
” واااٹ بٹ بائیک تو۔۔۔”
” ہاں میں جانتا ہوں یار بٹ ابو کے اوپر کچھ قرض ہے وہ چکانا ہے”
” اوہ اچھا تم بے فکر رہو میں بھجوادوں گی پیسے تمہیں ”
” تھینک یو پری تم بہت اچھی ہو ”
پریشے مسکرائی
” آئی نو فواد اور سناؤ تمہاری جاب لگ گئی ”
” نہیں یار ”
” یہ کیا بات ہوئی فواد میرے آنے تک تم ایک پرائیویٹ ہاسپٹل میں جاب کر رہے تھے اچھی خاصی جاب تھی تمہاری”
” ہاں تھی تو پر وہاں کے ماحول میں میں ایڈجسٹ نہیں ہو سکا تو چھوڑ دی اب دیکھتا ہوں ”
” اچھا ”
” اوکے میں بعد میں بات کرتا ہوں مجھے ابو بلا رہے ہیں ”
” اوکے” کہہ کر اس نے فون رکھ دیا اور سوچ میں پڑ گئی دوسری طرف عزیر نے فواد کے ہاتھ پہ ہاتھ مار کے کہا
” یار تیری والی تو سونے کی چڑیا نکلی ” تو فواد زور سے ہنسا
” اپنی اپنی قسمت ہے ” فواد نے کہا تو عزیر بھی ہنسنے لگا۔

بینا خان

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • رحمت عزیز چترالی صاحب ایک عاشق رسول ﷺ!
  • اپنی ذات کے ویران راستے
  • اب اور کہنے کی ضرورت نہیں
  • برسات کی خشک شام
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
انسانی ہوس کا نتیجہ ہیں قدرتی آفات!
پچھلی پوسٹ
دھمکیوں بھرے خط

متعلقہ پوسٹس

زندگی زندہ دلی کا نام ہے

اپریل 28, 2026

سیاسی اور انتظامی انجینیرنگ کہ بعد!

اگست 23, 2020

سنتا ہوں میں صدائیں یہ اشکوں کی جھیل سے

مئی 14, 2020

شفق کا سفر

دسمبر 17, 2024

اے دل تیرے فسانے

فروری 3, 2020

ارادہ

نومبر 14, 2021

جنتری نئے سال کی

دسمبر 14, 2019

بن تری دید کے کس طرح گزارہ ہو گا

نومبر 18, 2020

تیرے بنا نظارہ نہیں آسمان کا

دسمبر 12, 2021

کج روی کا حسن

اگست 9, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بے نشاں ہو گئے عاشقی میں...

جولائی 10, 2020

نئی بیوی

نومبر 2, 2019

استخارہ

مارچ 15, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں