خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباٹوٹتا خاندانی نظام اور ماں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

ٹوٹتا خاندانی نظام اور ماں

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 18, 2025
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 18, 2025 0 تبصرے 61 مناظر
62

معاشرہ افراد سے بنتا ہے، اور ان افراد کی شخصیت سازی میں سب سے پہلا اور بنیادی کردار ماں کا ہوتا ہے۔ ماں نہ صرف بچے کو جنم دیتی ہے بلکہ اس کی شخصیت، کردار اور اخلاق کو اپنی گود میں پروان چڑھاتی ہے۔ ماں کی محبت، صبر، شفقت اور قربانی ہی وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں بچہ ہمدردی، احترام اور محبت کے بنیادی اصول سیکھتا ہے۔ لیکن افسوس کہ جس خاندانی نظام نے ماں کو سب سے اونچا مقام دیا تھا، آج وہی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

جدید زندگی اور ماں کی تنہائی

جدید دور کی معاشی دوڑ، مادہ پرستی اور مصروف طرزِ زندگی نے گھروں کا سکون چھین لیا ہے۔ ماں، جو کبھی خاندان کا محور ہوا کرتی تھی، اب اکثر تنہائی اور احساسِ بےقدری کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ پہلے جب خاندان ایک ہی چھت کے نیچے رہتے تھے تو بزرگوں، خصوصاً ماں کا احترام خاندانی ڈور کو مضبوط بنائے رکھتا تھا۔ مگر جیسے جیسے مشترکہ خاندانی نظام ٹوٹا اور ایٹمی خاندان وجود میں آیا، ماں کا کردار محدود ہوتا گیا۔

اب وہی ماں، جس کے قدموں تلے جنت رکھی گئی، بعض گھروں میں بوجھ سمجھی جاتی ہے۔
یہ المیہ صرف ماں کی نہیں بلکہ پوری تہذیب کا زوال ہے۔ وہ ماں جو بچپن میں راتوں کو جاگ کر بچوں کو سلاتی تھی، ان کی بھوک مٹاتی تھی، ان کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھتی تھی، بڑھاپے میں اکثر نظرانداز اور تنہا کر دی جاتی ہے۔

اولاد کا بدلتا رویہ

بچوں کے رویوں میں تبدیلی ہمارے خاندانی نظام کے بگاڑ کی سب سے بڑی علامت ہے۔ جب اولاد اپنی ماں کی قربانیوں کو فراموش کر دیتی ہے تو گھر کا سکون ختم ہو جاتا ہے۔ بڑھاپے میں ماں کی سب سے بڑی ضرورت عزت، توجہ اور محبت ہے۔ مگر آج کے زمانے میں اولاد اپنی مصروفیات میں اتنی الجھ جاتی ہے کہ ماں کے دل کی تنہائی کو محسوس ہی نہیں کرتی۔

یہی بے حسی خاندانوں کے زوال کی بنیاد بن رہی ہے۔
ماں کو اولڈ ہومز میں چھوڑ دینا یا گھر کے ایک کونے میں بے یار و مددگار کر دینا ہماری اس تہذیب اور مذہب کی توہین ہے، جو ماں کو سب سے زیادہ عزت دینے کا درس دیتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"تمہاری جنت تمہاری ماں کے قدموں تلے ہے۔”
لیکن ہم نے اس فرمان کو صرف زبانی احترام تک محدود کر دیا ہے، عملی زندگی میں اسے بھلا دیا ہے۔

ماں خاندان کی بنیاد

ماں خاندان کی بنیاد ہے۔ جب تک ماں کو عزت، محبت اور مقام دیا گیا، خاندانی نظام مضبوط رہا۔
لیکن جب ہم نے اس ستون کو کمزور کرنا شروع کیا تو خاندان کی عمارت بھی لرزنے لگی۔
ماں صرف بچے کو دودھ نہیں پلاتی بلکہ اس کی سوچ، خواب، تربیت اور مستقبل میں اپنا خون جلادیتی ہے۔
وہ اپنی خواہشات قربان کر کے اولاد کی خواہشات پوری کرتی ہے، اور جب یہی اولاد اسے فراموش کر دیتی ہے تو یہ بے قدری خاندانوں کے بکھرنے کی ابتداء بن جاتی ہے۔

معاشرتی دباؤ اور خاندانی فاصلہ

آج کے خاندانی مسائل صرف اولاد کی لاپرواہی تک محدود نہیں۔
معاشرتی دباؤ، معاشی مجبوری اور تعلیمی و ملازمت کی دوڑ نے والدین اور بچوں کے درمیان احساساتی فاصلہ پیدا کر دیا ہے۔
والدین سارا وقت بچوں کی سہولتیں پوری کرنے میں صرف کرتے ہیں، مگر بچوں کی طرف سے ماں کو وہ عزت، وقت اور توجہ نہیں ملتی جس کی وہ حقدار ہے۔
یہی خلا خاندانی رشتوں کی بنیادوں کو کمزور کرتا ہے، اور احساسِ قربانی رفتہ رفتہ مٹ جاتا ہے۔

ماں کا معاشرتی مقام

ماں کا کردار صرف گھر کی حد تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔
اگر معاشرہ ماں کے مقام کو تسلیم کرے تو صبر، تعاون، محبت اور ذمہ داری کے جذبات پورے معاشرتی ڈھانچے میں سرایت کر جاتے ہیں۔
ایسا معاشرہ جہاں ماں کی عزت اور قدر نہیں کی جاتی، وہاں اولاد میں اخلاقی تربیت کا بگاڑ، ذمہ داری سے فرار، اور خودغرضی پروان چڑھتی ہے۔

ماں وہ چراغ ہے جو سب کے لیے جلتا ہے، مگر افسوس کہ اکثر لوگ اسی چراغ کو بجھا دیتے ہیں۔

احیائے اقدار کی ضرورت

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی اقدار کو زندہ کریں۔
نئی نسل کو یہ سکھایا جائے کہ ماں کی خدمت اور اطاعت صرف ایک اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ دینی حکم ہے۔
ماں کی خوشی خاندان کی خوشی ہے، اور ماں کے دل کا دکھ پورے گھر کے سکون کو متاثر کرتا ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ خاندانی نظام مضبوط اور مستحکم ہو تو ہمیں سب سے پہلے ماں کو اس کا جائز مقام دینا ہوگا۔
اسے محض گھر کا ایک فرد نہ سمجھا جائے بلکہ خاندان کی روح، نظام کا ستون اور محبت کا سرچشمہ مانا جائے۔

نتیجہ

ماں کی عزت، خاندانی نظام کی مضبوطی اور معاشرتی سکون کا پہلا اور لازمی اصول ہے۔
جب تک ماں کو اس کا اصل مقام واپس نہیں ملے گا، خاندان بکھرتے رہیں گے اور معاشرہ اپنی روحانی طاقت اور اخلاقی بنیاد سے محروم رہے گا۔
ماں صرف ایک رشتہ نہیں، بلکہ وہ محبت، قربانی اور بقا کی علامت ہے۔
خاندانی نظام کی بحالی دراصل ماں کے وقار کی بحالی سے مشروط ہے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اداروں کا احترام اور استحکام پاکستان
  • جلتا انسان بےحس لوگ!
  • گنڈاسا
  • ہَوائے شب نے جسے تھا نظر میں رکھّا ہُوا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ڈیجیٹل دور میں زہریلی رائے کا کاروبار
پچھلی پوسٹ
عجب کرپشن کی غضب کہانی

متعلقہ پوسٹس

دور سے دیکھنے والے کا گماں ہوتا ہے

دسمبر 2, 2019

رمضان شریف ایک عظیم پیکج

اپریل 19, 2023

گناہوں سے دور نہیں ہیں

نومبر 26, 2025

مسیحا

فروری 5, 2020

عورت کے حقوق

اپریل 1, 2023

توبۃ النصوح – فصل ہفتم

اکتوبر 30, 2020

حافظ حسین دین

جنوری 24, 2020

ہر کسی پر کھلا در سمجھ کر مجھے

نومبر 30, 2019

ناکامی کے اسباب اور کامیابی کے راز

اکتوبر 31, 2024

اردو زبان و ادب پر جدید ٹیکنالوجی کے اثرات

جون 9, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

عابد ہاشمی اور ’’مقصدِ حیات‘‘

اکتوبر 20, 2025

ہزار زخم بدن پر لیے حیات...

ستمبر 18, 2022

تنہائیِ شب

دسمبر 25, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں