خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباعورت کے حقوق
آپکا اردو باباابصار فاطمہاردو افسانےاردو تحاریر

عورت کے حقوق

از ابصار فاطمہ اپریل 1, 2023
از ابصار فاطمہ اپریل 1, 2023 0 تبصرے 106 مناظر
107

"جب تک ہم عورتیں اپنے حقوق کے لیئے آواز نہیں اٹھائیں گی کوئی ہمیں ہمارا حق نہیں دے گا بلکہ ممکن ہے کہ ہم سے سانس لینے کا حق بھی چھین لیا جائے”
معروف سماجی رہنما بختاور احمد کا عورتوں کے عالمی دن کے موقعے پہ تقریب کے شرکاء سے خطاب
اس نے یہاں تک خبر پڑھ کر تاسف سے سر ہلایا اور اخبار سائیڈ میں رکھ دیا۔
"کاش کوئی ان عورتوں کا سمجھا سکتا کہ عورت کی اصل بادشاہت تو اس کا گھر اور بچے ہوتے ہیں۔ نہ اپنا گھر سنبھلتا ہے نہ دوسروں کا بسنے دیتی ہیں”
اسے اس قسم کی مرد مار جنگجو ٹائپ عورتوں سے سخت چڑ تھی

بسمہ نے سیاہ ناگن جیسی ساحر آنکھوں پہ آئی لائنر لگایا اور پلکیں جھپکا کر ان کے مناسب حد تک قاتلانہ ہونے کا یقین سا کیا۔ آنکھوں کی ہی طرح سیاہ گھٹاوں سے چمکیلے سلکی بالوں کو آج کلپ کی قید سے آزاد کھلا چھوڑا ہوا تھا۔ ریڈ ایمبرائڈڈ ڈزائینر کرتی کے ساتھ بلیک ٹراوزرز اور بلیک اینڈ ریڈ اسٹالر جو اس نے اسٹائل سے گلے کے گرد ڈالا ہوا تھا۔ ایک نظر خود کو دوبارہ آئینے میں دیکھ کر جلدی جلدی لپ اسٹک شائنر، ہیر برش اور باڈی اسپرے ہینڈ بیگ میں ڈالا نازک سے کالی سینڈل دودھیا پاوں میں پہنی اور دوپٹے سے ذرا بڑی کالی چادر پہن کر باہر نکل آئی۔ آج وہ بڑا دل لگا کے تیار ہوئی تھی تقریبا 3 ماہ سے اسکول کی سہیلیوں کے ساتھ مل کر فئیرویل پارٹی کی تیاریاں ہورہی تھیں اور خدا خدا کر کے وہ دن آہی گیا وہ بہت پرجوش ہو رہی تھی اسکول میں آخری دن "یادگار” بنانا چاہتی تھی۔
اس نے کلائی پہ بندھی گھڑی پہ ٹائم دیکھا تو احساس ہوا کہ وہ لیٹ ہورہی ہے جلدی سے باہر بھاگی تاکہ دو گھر بعد رہنے والی کلاس فیلو فائزہ کو لے اور بس جلدی سے اسکول پہنچ جائے۔
"اے بی بی یہ تم اسکول جارہی ہو کہ کا ولیمہ ہے تمہارےبھیا کا”
دادی کی آواز نے جلدی جلدی اٹھتے قدم روک دیئے۔
اس کا سر جھک گیا کچھ جواب دیئے بغیر آگے قدم بڑھا دیئے۔
"بسمہ یہ کیا بدتمیزی ہے؟ دادی کچھ کہہ رہی ہیں تم سے۔ یہ تمیز سیکھی ہے اب تک؟”
امی کی آواز میں کافی سختی تھی۔
"امی آج فئیرویل ہے آپ کو جب یہ سوٹ لا کے دکھایا تھا تب بتایا تھا نا کہ سب لڑکیاں گھر کے کپڑے پہن کے آئیں گی”
"اگر باقیوں کے اماں باوا اندھے ہوئے بیٹھے ہیں تو کیا ہم بھی ہوجائیں؟ ایک عزت ہوتی ہے تعلیمی ادارے کی شادی بیاہ کی تقریبوں کی طرح بن ٹھن کے نہیں جایا جاتا”
دادی کا غصہ مسلسل ساتویں آسمان پہ تھا۔
” پھر کیا کروں دادی کہیں تو بدل لوں مگر یونیفارم میں کوئی نہیں آئے گا سب مذاق آڑائیں گے۔”
اس نے بیچارگی سے کہا
"دیکھو! دیکھو ذراکیسے برابر سے جواب دے رہی ہے۔ ارے ہم کونسا جا رہے ہیں کہ پتا چلے کہ کتنے یونیفارم میں آئے ہیں۔ سارا وقت تو اس سرخی پوڈر میں لگا دیا اب چلی بھی جاو ہماری ناراضگی کا خیال ہوتا تو پہلے عمل کیا ہوتا۔ جاو بی بی جاو مگر یہ سن لو شریف گھرانوں کی لڑکیاں نامحرم لڑکوں کے سامنے ایسے چٹک مٹک نہیں دکھایا کرتیں۔”
اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے جلدی سے باہر نکل آئی پھر فائزہ کو لے کر رکشے میں بیٹھنے سے لیکر اسکول پہنچنے تک شرمندہ ہوتی رہی۔ اور سوچتی رہی دادی کا لہجہ سخت ضرور تھا مگر بات تو ٹھیک تھی۔ اسے بس دادی سے یہ شکایت تھی کہ کتنی ذرا سی بات پہ انہوں نے گھما پھرا کر کتنا بڑا الزام لگادیا کہ وہ لڑکوں کو دکھانے کے لیئے تیار ہوئی تھی۔ پھر خیال آیا کہ شاید دادی نے ٹھیک ہی تو کہا تھا۔ بس دادی پرانے اور بے لوث زمانوں کی ہیں تبھی لگی لپٹی کے بغیر سیدھی بات کی۔
ویسے بھی وہ کوئی فیشن کی شوقین لڑکی تو تھی نہیں بلکہ کلاس کی بہترین طلبہ میں سے تھی اور خوبصورتی میں تو اس کی ٹکر کا شاید کوئی بھی نہیں تھا۔ گھر سے تھوڑی سختی تھی اس لیئے عام دنوں میں سادہ ہی اسکول جاتی تھی مگر پھر بھی لڑکیاں تعریف کرتے نہ تھکتیں اور رہی سہی کسر ساتھ پڑھنے والے لڑکوں کی نظروں میں موجود ستائش پوری کر دیتی۔ مگر کسی کو بھی کبھی کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہوئی کیونکہ سب اس کی مزاج سے ڈرتے تھے اور وہ اماں ابا اور دادی کے مزاج سے ڈرتی تھی۔
دادی تو پہلے ہی مخلوط ادارے میں تعلیم پہ راضی نہیں تھیں مگر امی کے میکے میں سب انگریزی اسکولوں میں تھے اسی لیئے امی کا کہنا تھا کہ بچوں میں کوئی احساس کمتری نہ رہ جائے۔
زیادہ بحث تب شروع ہوئی جب وہ آٹھویں کا امتحان دے کر نویں میں آئی تھی۔ دادی کا روز کہنا تھا بس اب لڑکی جوان ہوگئی اب اسے کسی لڑکیوں کے اسکول میں کراو زمانہ خراب ہے۔ اسے دادی کی اس بات کی کچھ سمجھ نہیں آتی کیونکہ جب اس نے ایک بار یہ کہنے کی کوشش کی کہ وہ اسکول نہیں بدلنا چاہتی تو دادی نے ہی ڈانٹ دیا کہ بڑوں کی باتوں میں بچے نہیں بولا کرتے۔ خیر نویں جماعت کا آغاز تو عام سا ہی تھا مگر کچھ عرصے سے دل میں عجیب عجیب سی امنگیں انگڑائیاں لینے لگی تھیں
نویں جماعت کا آغاز تو عام سا ہی تھا مگر کچھ عرصے سے دل میں عجیب عجیب امنگیں انگڑائیاں لینے لگی تھیں۔ اپنے سے کم صورت لڑکیوں کو چپکے چپکے اپنے بوائے فرینڈز سے باتیں کرتی دیکھ کر دل جل جاتا۔ ڈائری میں علامہ اقبال کی ایمان جگاتی شاعری کہ جگہ وصی شاہ اور پروین شاکر کی جذبوں سے لبریز شاعری نے لے لی تھی۔ غالب اور فیض کبھی سمجھ نہیں آئے اور جون ایلیا کی شاعری شاعری ہی نہیں لگتی تھی عجیب سی باتوں والی۔ مطالعہ کا شوق بھی تھا مگر اب سبق آموز کہانیوں کی جگہ خواتین کے رسالوں اور رومانوی ناولز آگئے تھے جوکہ امی اور دادی سے چھپا چھپا کر پڑھنے پڑتے۔ کیونکہ شریک جرم کوئی نہیں تھا تو مدد بھی نہیں ملتی تھی۔ دونوں بہنیں بڑی تھیں اسماء اور بشرہ جن کی شادیاں میٹرک کے فورا بعد کردی گئی تھیں کیونکہ وہ بھی حسن میں یکتا اور سلیقے میں لاثانی تھیں۔ اسی لیئے آٹھویں سے ہی رشتے آنے لگے تھے۔ ایک سب سےبڑا بھائی تھا فہد اور ایک سب سے چھوٹا اسد جو اس سے بھی دو سال چھوٹا تھا۔ کہنے کو اسد سب سے چھوٹا تھا مگر رعب بڑے بھائیوں والا ہی جماتا تھا۔ ایک دفعہ غلطی سے فائزہ کے پاس سے ایک رسالہ لانے کو کہہ دیا رسالہ تو کیا لاتا جا کے بڑے بھیا کو بتا دیا۔ اور وہ جو بڑے بھیا کے آنکھیں دکھانے پہ ہی سہم جاتی تھی پہلے تو ان کی آندھی طوفان کی طرح کمرے میں آتا دیکھ کر ہی اسکا دل اچھل کے حلق میں آگیا۔
"ویسے ہی کوئی کم دماغ آسمان پہ نہیں ہیں تمہارے جو یہ لغویات پڑھ کے اور خراب کرنے ہیں۔ اس گھر میں پہلے کبھی کسی کو یہ فضول چیزیں پڑھتے دیکھا ہے تم نے؟”
اتنا سخت لہجہ تھا بڑے بھیا کا کہ کچھ دن تو اسے ڈائجسٹوں کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی ڈر لگتا تھا۔ مگر دن گزرنے کے ساتھ ساتھ خوف کچھ کچھ کم ہو ہی گیا۔ اب سارا دھیان اس بات پہ تھا کہ رسالے پڑھ بھی لے اور کسی کو پتا بھی نہ چلے۔ پھر ایک طریقہ سوجھ ہی گیا اب مہینے کا "ایک ہفتہ” مخصوص کر لیا تھا۔ الماری میں چھپا رسالہ دوپٹے میں چھپا کر باتھ روم لے جاتی اور فارغ ہونے تک ایک چھوٹی موٹی کہانی تو ختم ہو ہی جاتی۔ امی اور دادی اس خفیہ کاروائی کو "وہ والی” سمجھ کے طرح دے جاتیں۔
کبھی کبھی بہت شرمندگی ہوتی تھی مگر ان کہانیوں سے عجیب سا نشہ اور ذہنی سکون ملتا تھا۔ جب اونچا لمبا سحر انگیز آواز والا ہیرو، ہیروئین کی آنکھوں میں جھانک کر دھیمے لہجے میں اظہار عشق کرتا تو اس کی سانسیں بھی تیز ہوجاتیں۔ کوئی ایک رومانوی کہانی پڑھنے کے بعد کئی دن اسی کے سحر میں رہتی تھی۔ اسی لیئے اسے بچھڑنے والی دردناک انجاموں والی کہانیاں بالکل پسند نہیں تھیں۔ وہ سب سے پہلے کہانی کا اختتام دیکھتی تھی اگر تو ہیروئین شرم سے سرخ ہورہی ہوتی ہیرو کا ہاتھ تھامے مستقبل کے سہانے سپنے دیکھ رہی ہوتی یا ہیرو کے چوڑے سینے پہ طمانیت سے سر رکھے ہوتی تبھی وہ کہانی شروع کرتی تھی۔
رات ہوتے ہی تکیہ ہیرو بن جاتا اور بسمہ ہیروئین پھر پسندیدہ کہانی کے رومینٹک حصے ری ٹیلیکاسٹ ہوتے۔ کبھی کبھی ہیرو کا سراپا چننے یا نام چننے میں ہی اتنی رات بیت جاتی کہ اسے جھنجھلاہٹ ہونے لگتی۔ پھر اس کا یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا
میٹرک کی کلاسز شروع ہوئیں تو کلاس میں دو نیو ایڈمیشنز آئے۔ دونوں ہی لڑکے تھے اور ایکدوسرے کے بالکل الٹ ایک کو دیکھ کر تو ایسا لگتا تھا جیسے کسی بہت رومانوی ناول کے شوخ سے ہیرو کو "ایز اٹ از as it is” ناول سے نکال لیا ہو۔ سلکی بال ماتھے پہ بکھرے ہوئے تھے۔ کچھ کچھ نیلی آنکھیں، صاف کھلتا ہوا رنگ۔
دوسرا بس ٹھیک ہی تھا عام لڑکوں جیسا، سانولا سا رنگ، اچھے بچوں کی طرح چھوٹے چھوٹے کٹے ہوئے بال۔ اور ہیرو ٹائپ لڑکے کے سامنے تو اور عام سا لگ رہا تھا کیونکہ دونوں ایک ہی ڈیسک پہ ایکدوسرے سے لاتعلق سے بیٹھے تھے۔ ڈیشنگ سا لڑکا تھوڑا بے چین لگ رہا تھا اور ادھر ادھر دیکھ رہا تھا مگر کوئی اور ڈیسک خالی نہیں تھی۔ بسمہ کو اندازہ ہی نہیں ہوا کہ وہ کتنی دیر سے انہی دونوں کی طرف دیکھے جارہی ہے۔ اتفاقا ہیرو ٹائپ لڑکے کی نظریں بھی ادھر ہی اٹھیں۔ بسمہ سے نظریں ملیں تو وہ ہلکا سا مسکرایا اس کے گال پہ بہت خفیف سا ڈمپل پڑا بسمہ کو لگا اس کا دل گڑبڑ نہ کردے اس نے فورا نظریں ہٹا لیں اور برابر والے لڑکے کی طرف دیکھا اسی وقت اس نے بھی بسمہ کو دیکھا اور نظر انداز کرکے دوبارہ اپنے کام میں لگ گیا۔ بسمہ کو تھوڑا عجیب لگا لڑکے اتنی آسانی سے اسے نظر انداز نہیں کیا کرتے مگر کیا فرق پڑتا ہے اتنا عام سا تو ہے اس کی توجہ کسے چاہیئے۔
اسے وقت فائزہ نے اسے کہنی ماری
"بسمہ دیکھ کتنا زبردست لڑکا ہے” وہ سرگوشی کی کوشش کر رہی تھی جو کہ کافی بلند تھی۔
"ہوتا رہے مجھے کیا” وہ اپنے جذبات اپنی قریب ترین سہیلی سے بھی چھپا گئی۔
"اففو تم انتہائی ان رومینٹک ہو۔ مگر حیرت ہے اس نے بھی تمہیں گھاس نہیں ڈالی دیکھا ہی نہیں”
اس بات پہ بسمہ چونکی
"تم کس کی بات کر رہی ہو”
"یہی پھیکے شلجم کے برابر جو بیٹھا ہے فوجی کٹ بال اور کالی سحر انگیزآنکھیں”
"ہاہاہا یہ پاور پف گرلز کا بچھڑا ہوا بھائی تجھے زبردست لگ رہا ہے فائزہ تو اپنی نظر کسی اچھے سے ڈاکٹر سے ٹھیک سے چیک کرا لے۔”
فائزہ نے جواب دینے کے لیئے منہ کھولا مگر کلاس ٹیچر کے اندر آنے پہ سب کی توجہ ان کی طرف ہوگئی۔ کلاس ٹیچر نے اٹینڈنس لینی شروع کی مگر بسمہ کا دماغ کہیں اور ہی تھا وہ حیران تھی کہ خوبصورتی بھی لوگوں کے لیئے الگ الگ ہوتی ہے کیا؟؟؟؟
ٹیچر کے اٹینڈینس شروع کرنے تک اس کا دماغ اسی بات پہ اٹکا رہا۔
*** کیا خوبصورتی بھی دیکھنے والوں کے لیئے الگ الگ ہوسکتی ہے؟****
اپنی اٹینڈینس لگوا کر بھی وہ اپنے خیال میں ہی مگن رہی۔ وہ تب چونکی جب ٹیچر نے دونوں لڑکوں کا کلاس سے تعرف کروانا شروع کیا۔
"اسٹوڈنٹس! آج سے آپ لوگوں کے دو ساتھی اور بڑھ گئے ہیں مجھے امید ہے کہ آپ سب ان کی ہر طرح مدد کریں گے اور انہیں کلاس میں اجنبیت محسوس نہیں ہونے دیں گے۔
ارمغان وقار خان اور محمد اسلم فرقان
welcome to our School
( ہمارے اسکول میں آپ کوخوش آمدید)”
ارمغان وقار خان واو ۔۔۔۔۔ اس نے دل میں سوچا جیسا دیکھنے میں ہے ویسا ہی رومانوی نام ہے۔
"ارمغان بیٹا آپ کل تک ہیئر کٹنگ کرالیں اسکول میں ایسے بال آلاوڈ نہیں ہیں۔”
” ٹیچر میں ایک دن میں اتنے بال کیسے بڑھا سکتا ہوں” عام سے لڑکے کے لہجے میں اعتماد اور تھوڑی شرارت دونوں تھی۔ اسے اندازہ ہوگیا کہ ٹیچر کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ پھر شاید اسے احساس ہوا کہ ٹیچر سے مذاق مناسب نہیں تو فوراوضاحت کردی۔
"ٹیچر ارمغان وقار خان میرا نام ہے۔ اسلم فرقان ہوگا ان کا نام”
کلاس میں دبی دبی ہنسی کی آوازیں آنے لگیں اسلم بھی مسکرا دیا اور وہ دوبارہ اس کی مسکراہٹ سے دھیان ہٹانے کی کوشش کرنے لگی۔ اسے تھوڑا عجیب لگا۔ یعنی افسانوں اور حقیقت کی دنیا میں تھوڑا فرق ہوتا ہے؟ اسے یہ فرق پسند نہیں آیا۔ اسلم ہیرو کا نام کہاں ہوتا ہے یہ تو اردو گرامر کی مثالوں میں استعمال ہوتا ہے
اسلم آتا ہے
اسلم کتاب پڑھتا ہے
اسلم نے کتاب پڑھی تھی
اسلم کتاب پڑھے گا وغیرہ وغیرہ وغیرہ
اس کے سامنے گرامر کی کاپی گھوم گئی جس میں ہر ڈفینیشن کی مثال میں اسلم نام ضرور تھا۔
اف کتنا عام نام ہے اسے تو اسم معرفہ کی جگہ اسم نکرہ میں لکھنا چاہیئے۔ ٹیچر پڑھاتی رہی اور اس کا دماغ "اسلم” پہ اٹکا رہا۔
رات جیسے ہی وہ تکیہ لے کر لیٹی اسلم کا سراپا ناچاہتے ہوئے بھی ذہن میں آگیا۔ مگر جب جب تخیل میں اسلم کا نام آتا اس کے تخیل کی پرواز میں رکاوٹ محسوس ہوتی
*اسلم* نے بسمہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں
*اسلم* دلکشی سے مسکرایا تو بسمہ کے دل نے بیٹ مس کی۔
اف ۔۔۔۔۔۔ وہ تکیہ پٹخ کر بیٹھ گئی
اسلم کی کیوں رکھ دیا اس کے اماں ابا نے اس کا نام۔
وہ اپنی سوچوں کو محسوس کرنا چاہتی تھی مگر "اسلم” نام آتے ہیں احساس جیسے منجمد سے ہوجاتے۔
جو عام ہے اس کا نام بھی عام سا ہونا چاہیئے جو خاص ہے اس کا نام بھی خاص ہونا چاہیے بھلا بتاو ارمغان وقار خان کہیں سے ارمغان وقار خان لگتا ہے؟ وہ اسلم فرقان لگتا ہے عام سا اسم نکرہ جیسا۔
پھر اسے کچھ خیال آیا۔ کیوں نہ وہ ہی مسئلہ خود حل کرلے صرف امیجینیشن تک کی تو بات ہے۔ تو خاص والے کا خاص نام رکھ لے اور عام والے کا عام نام۔ اسے یہ آسان لگا کہ کوئی اور نام سوچنے کی بجائے یہی نام ادھر ادھر کردے۔ یعنی اس کے خیالوں میں اسلم ارمغان ہو اور ارمغان اسلم ہو۔
ایک دم اسے ہنسی آگئی۔
"دونوں بچاروں کو تو پتہ ہی نہیں کہ ان کے ناموں کے ساتھ کیا اٹھا پٹخ ہورہی ہے۔ اور پتا چلے گا بھی کیوں یہ تو بس ایسے ہی وقت گزاری کے لیئے ہے۔ میں کونسا اصل میں کسی سے عشق کر رہی ہوں میں کوئی عام لڑکیوں کی طرح بدکردار ہوں جو لڑکوں سے عشق کروں گی۔”
اس نے خود کو تسلی دی اور تکیہ لے کر لیٹ گئی۔ تھوڑا بہت جو احساس جرم یا احساس گناہ تھا وہ بھی ختم سا ہوگیا۔
اب وہ اپنا پلان چیک کرنا چاہتی تھی۔
"ہیلو ہیلو ٹیسٹنگ ہیلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارمغان”
اس نے آنکھیں بند کر کے سوچوں کے پرندے اڑائے
اس نے دیکھا دور دو لڑکےپیٹھ موڑے کھڑے ہیں اس کی ارمغان کہہ کر پکارنے پہ ایک نے پلٹ کر دیکھا
اف۔۔۔۔۔ یہ والا نہیں یہ تو اصلی والا ہے کالا والا
اے مسٹر گورے والےاب تمہارا نام ارمغان ہے پلیز تم پلٹ کر دیکھنا۔
اس نے دوبارہ بہت جذبات کے ساتھ پکارا
"ارمغان”
اب کے دونوں نے پلٹ کر دیکھا اس نے زور سے آنکھیں میچیں اور سر کو دو تین دفعہ جھٹکا جیسے اصل والے کو دماغ سے جھاڑناچاہتی ہو
پھر ایک دو گہری سانسیں لیں
"بسمہ کونسنٹریٹ”
اس کا دل زرا زیادہ زور سے دھڑکنے لگا پھر دھیرے سے کہا "ارمغان”
اور پلٹ کے دیکھنے والا اسے دیکھ کر مسکرایا اور ڈمپل دیکھ کر اس کا دل چاہا زور سے یاہو کا نعرہ لگائے اس نے اپنے آپ کو شاباشی دی چلو جی تجربہ کامیاب ہوگیا۔
انہی خیالات میں اسے پتا ہی نہیں چلا کہ رات کتنی بیت گئی وہ سوچتے سوچتے سو گئی۔

 

ابصار فاطمہ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • عاشورے میں اتنی کشش کیوں ہے؟
  • توبۃ النصوح – فصل یازدہم
  • جب سہولت نہیں ہے جینے کی
  • میں کون ہوں؟ مسلمان ہوں یا کیا ہوں؟
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
ابصار فاطمہ

اگلی پوسٹ
نمک حرام
پچھلی پوسٹ
ڈائجسٹ کی کہانیاں

متعلقہ پوسٹس

دشت میں وادئ شاداب کو چھو کر آیا

مئی 23, 2020

آمنہ

نومبر 5, 2019

محبت کے بادل

دسمبر 22, 2024

ہنوذ دِلّی دُور است

نومبر 19, 2019

رنگ خاکے میں جو بھرا میں نے

اکتوبر 25, 2025

اِک دن نیزے پر ہوتا ہے

جنوری 4, 2023

درد

فروری 4, 2022

دنیا میں جینا میرا ابھی سے

مارچ 29, 2025

ہر طرف ریت کا اجارا ہے

اپریل 23, 2020

کڑوی مسری

جنوری 24, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دوہزار بیس بھی گزر گیا!

جنوری 2, 2021

ابابیل

جنوری 22, 2020

ہر چٹھی ایک ہی پتے پر

جنوری 7, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں