107
رنگ خاکے میں جو بھرا میں نے
نام اس کو دیا خدا میں نے
یہ جو پیکر ترا چنا میں نے
پہلے کرتا نیا سیا میں نے
شش جہت میں جو ہے جھلک میری
توڑ ڈالا تھا آیئنہ میں نے
تیرا ہم نام مر گیا اک شخص
آج تجھ کو بھی رو لیا میں نے
جو کسی سے نہ کہہ سکا میں کبھی
ان درختوں سے کہہ دیا میں نے
نام اس نے مرا لیا تھا ابھی
اس سے بہتر نہیں سنا میں نے
اب ہے روشن چراغ میں سرمد
وہ جو سیکھی تھی اک دعا میں نے
عدنان سرمد
