106
سیط وقت میں قرنوں قیام کرتا ہوا
ستارہ مجھ تلک آیا خرام کرتا ہوا
ہر ایک سمت سے وحشت حصار کرتی ہوئی
ہر ایک گام پہ رستہ کلام کرتا ہوا
سو دہرے رنج سے مجمع ہوا ہے پتھر کا
کہ مر گیا ہوں میں قصہ تمام کرتا ہوا
وہ آنکھ رات کے غرفے سے باز ہوتی ہوئی
میں اپنی تیغِ نظر کو نیام کرتا ہوا
پلٹ کے آیا ہوں اپنی نگہ میں آگ لیے
سو ڈر رہا ہوں تجلی کو عام کرتا ہوا
میں خرچ ہو گیا تخلیقِ شعر میں سرمد
کسی کے ہجر کی لذت مدام کرتا ہوا
عدنان سرمد
