خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباعریاں احتجاج
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

عریاں احتجاج

از سائیٹ ایڈمن جنوری 21, 2025
از سائیٹ ایڈمن جنوری 21, 2025 0 تبصرے 44 مناظر
45

”یہ کیسے ممکن ہے؟“ کرسٹینا نے سوال کیا۔
نیلما سوچ میں پڑ گئی۔ کچھ دیر بعد بولی،

”تحریک عوام میں مقبولیت حاصل کر چکی ہے لیکن ملک کے کرتا دھرتا ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ کچھ نیا کرنا پڑے گا۔“

”یہ امریکہ یورپ نہیں، ایک مسلمان ملک ہے یہاں کسی بندے کو کیسے تیار کیا جا سکتا ہے کہ وہ ننگا ہو کر احتجاج کرے۔“

”دنیا بھر میں احتجاج کا یہ بہترین طریقہ گنا جاتا ہے، ہم اس پر عمل کریں گے۔“

نیلما دو ہفتے پہلے ہی اسلام آباد پہنچی تھی۔ کرسٹینا شروع سے اس پراجیکٹ پر کام کر رہی تھی۔ اس کے کئی این جی اوز اور سیاستدانوں سے رابطے تھے۔ فیصلہ ہوا کہ کسی این جی او سے مدد لی جائے۔

نیلما کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا اور ماس میڈیا پر بھی قتل اور سیکس کی رپورٹنگ بہترین قسم کے آرٹیکل سے دس گنا زیادہ توجہ حاصل کرتی ہے اس لیے یہ انوکھا احتجاج بہت پبلسٹی لے گا۔

ایک عورت اور بچے کو تیار کر لیا گیا۔ اگلے دن بھوک و افلاس کے خلاف احتجاج میں وہ عورت اپنے ننگے بچے کو اٹھائے پولیس کے سامنے کھڑی تھی۔ بچے کو جان بوجھ کر بھوکا رکھا گیا تھا۔ وہ ماں کی چھاتی نوچ رہا تھا۔ اسی وقت مجمع نے پولیس پر پتھر برسانا شروع کر دیے۔ لاٹھی چارج اور گرفتاریاں۔ بھوکا ننگا بچہ اور ماں کا سینہ، پولیس کا اس عورت کو پکڑ کر لے جانا: قمیض پھٹ گئی یا عورت نے خود ہی پھاڑ دی، کسی کو کچھ پتا نہ چلا۔

سب کچھ ہماری پلاننگ کے عین مطابق ہوا۔ کیمرے کسی پلاننگ کے محتاج نہیں ہوتے۔
سوشل میڈیا پر ہیجان برپا ہو گیا۔ عالمی میڈیا بھی چیخ اٹھا۔
”ننگی جارحیت کرنے والوں نے ماں کو بھی ننگا کر دیا۔“
”دھرتی ماں کے لٹیروں کا ماں کی عزت پر ڈاکا۔“
’میں ماں کے ساتھ ہوں‘ سوشل میڈیا ٹرینڈ بن گیا۔
ہزاروں مائیں اپنے بچے سینے سے لگائے سڑکوں پر نکل آئیں۔
***

نیلما کولمبیا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہی تھی۔ مقالے کا عنوان تھا۔ ”کیا پاکستان کی موجودہ تحریک کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے؟“ ریسرچ پرپوزل پر بات کرتے ہوئے سپروائزر کا پہلا سوال تھا،

”کیا تم کبھی پاکستان گئی ہو؟“
”جی نہیں۔ لیکن میرے والدین پاکستانی ہیں۔“ نیلما نے جواب دیا۔
”اس ریسرچ کو کون سپانسر کر رہا ہے؟“
”سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ۔“
”اوکے گو اہیڈ۔“
***

تحریک زوروں پر تھی۔ روزانہ کی بنیاد پر ملک میں کہیں نہ کہیں ایجی ٹیشن ہو رہی تھی۔ کچھ طاقت کے استعمال کے مظاہرے بھی دیکھنے میں آ رہے تھے۔ پچھلی ایک دہائی سے ملک کی سیاست اور معیشت میں انقباض کا عالم تھا جو انسانوں میں ایذا رسانی کا رجحان پیدا کر دیتا ہے۔ ہر وقت دھڑکا لگا رہتا کہ کوئی بڑا حادثہ برپا پونے والا ہے۔

نیلما اپنی تحقیق جاری رکھے ہوئے تھی اور ساتھ ساتھ اس تحریک میں مکمل طور پر شامل بھی ہو گئی۔
پہلی کامیابی کے بعد وہ مزید نئے انداز اپنانا چاہتی تھی۔
”اب ہم سول نافرمانی کی تحریک چلانے میں مدد کریں گے۔“

”یہ طریقہ کئی مرتبہ ناکام ہو چکا ہے۔ گاندھی اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی مہمات کو بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔“

”کوئی بات نہیں کامیاب نہ بھی ہوا تو ہم حکمران طبقے کو بہت زیادہ نقصان پہنچا دیں گے۔ کامیابی حاصل کرنے کے لیے اس مضبوط عمارت کو مختلف جگہ سے نقصان پہچانا پڑے گا۔

چار سال وزیر اعظم رہنے والے کے پاس بہت سی خفیہ معلومات ہوں گی کچھ انٹرنیشنل میڈیا تک پہنچا دیں گے۔ خلائی مخلوق کی کامیابی خفیہ ایجنٹ ہیں۔ افغانستان اور دیگر ہمسایہ ممالک میں کام کرنا ان کے لیے مشکل بنا دیں گے۔ ہم ان کے نام عوامی اجتماعات میں لینا شروع کر دیتے ہیں۔ کسی کو ایکس وائی کہیں گے اور کسی کو ڈرٹی ہیری۔ مڈل ایسٹ ممالک کے وہ چہیتے جو ہر کابینہ میں لے لیے جاتے ہیں ان کی اپنے آقاؤں سے خفیہ ملاقاتیں اور روابط کے ثبوت عوامی اجتماعات میں سب کے سامنے رکھ دیں گے۔ ”

”کوئی پاکستانی سیاست دان یہ کرنے کی ہمت نہیں کرے گا۔“
”میں بھی پاکستانی ہوں۔“
اگلے جلوس میں نیلما خود سٹیج پر تھی اور اس نے ساری معلومات عام کر دیں۔

عوام کو کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا۔ لاٹھی چارج شروع ہوا تو نیلما نے کرسٹینا کا ہاتھ پکڑا، ”بھاگو اس سے پہلے کہ یہ ڈنڈے اور آنسو گیس کے شیل ہمارے اردگرد پہنچ جائیں۔“

ایسی افراتفری پھیلی کہ الامان۔ کچھ لاٹھیوں سے گھائل ہوئے اور کچھ بھگدڑ میں زخمی۔
***

تحریک اب اس جگہ پہنچ چکی تھی جہاں عوام یہ سوچتے ہیں کہ ہمارا بھلا ہو نہ ہو، حکمرانوں کو غارت ہونا چاہیے۔

سول نافرمانی کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے عام قسم کے قوانین کی خلاف ورزی شروع ہو گئی۔ اسلام آباد کی سڑکوں پر لوگوں نے الٹی طرف گاڑیاں چلانی شروع کر دیں۔ ٹریفک بلاک ہو جاتی۔ اصل مجرم اس ہجوم میں کھو جاتا۔ پولیس ٹریفک کو سنبھالتی تو ٹرین سروس کو خراب کرنے کے لیے بہت سے لوگ بلا ٹکٹ اس میں سوار ہو جاتے۔ جان بوجھ کر انتظامیہ سے لڑ پڑتے۔ مجمع اکٹھا ہوتا تو اصل مجرم غائب۔ جاتے جاتے مار دھاڑ اور لوٹ مار شروع کر دیتے۔ سارے کھیل کے لیے وافر فنڈز تھے اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے خفیہ ایجنٹ مدد کو موجود۔ اوندھی کھوپڑی والے سیاست دان، دہائیوں سے تشدد پر اکسانے والی سیاست اور خونریزی کی داستانیں رقم کرنے والی اس قوم کو ایسے مواقع مل جائیں تو وہ تباہی مچا دیتے ہیں۔

مقتدرہ کے مختلف تجربات اور بد اعمالیوں سے سیاسی و معاشی بدحالی عروج پر پہنچ چکی تھی۔ اب ان کو شدید مزاحمت کا سامنا تھا۔ پچھلے تجربہ نے ان کی ریڑھ کی ہڈی پر ایسا زخم لگایا کہ ان کا پورا اعصابی سسٹم انتشار کا شکار ہو گیا تھا۔ اب پورے ملک میں اتحادیوں سمیت کوئی بھی ان کا حامی نہیں رہا تھا۔

ڈیپ سٹیٹ کے اصل حکمرانوں نے بھی یہ سب بھانپ لیا سو مذاکرات شروع ہو گئے۔
***

سڑکوں پر عوام کو کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا تو جگہ جگہ کنٹینر لگا کر اسلام آباد کو سیل کر دیا گیا۔ عوام کو کسی جگہ اکٹھا ہی نہیں ہونے دیا جا رہا تھا۔

نیلما نے گھر بیٹھے نئے طریقے ڈھونڈنا شروع کر دیے۔
”کیوں نہ ہم خلائی مخلوق پر ہوائی حملہ کر دیں؟“
”ہوائی حملہ، کیسے؟“
دونوں نے کافی سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ تجویز قابل عمل ہے۔

سور کا دھڑ اور دیوتا کا سر؛ لاکھوں غبارے پورے شہر میں کارکنان کے پاس پہنچا دیے گئے۔ اگلے دن سورج طلوع ہوا تو آسمان نیلا نہیں، رنگ برنگا تھا۔ ملک کے کرتا دھرتا سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔

ہزاروں پرنٹنگ پریس بند اور سینکڑوں کارکنان گرفتار۔
پولیس نیلما کو ڈھونڈ رہی تھی۔

حالات خراب دیکھ کر اس نے اپنے سفارت خانے میں پناہ لے لی۔ رات اسے مڈل ایسٹ شفٹ کر دیا گیا۔ جانے لگی تو کرسٹینا نے پوچھا، ”تبدیلی کا کیا بنے گا؟“

”مذاکرات جاری ہیں۔ حکمران جانیں اور اپوزیشن والے۔
تبدیلی گئی بھاڑ میں، میری ریسرچ پوری ہوئی۔ مجھے تھیسس کے لیے کافی مواد مل گیا ہے۔ ”

سید زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اللہ کو بھولنے سے لے کر اللہ سے جڑنے تک کا سفر
  • کیا عورت سائیکو ہے؟
  • جو شخص تیرے غم میں بظاہر اداس ہے
  • سوارہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
فارسی کا آسان قاعدہ
پچھلی پوسٹ
نعت کہتا رہوں

متعلقہ پوسٹس

رند مدہوش ہیں

جون 26, 2025

میں کہ سائر بھی ہوں ہدایت بھی

اگست 28, 2025

پتوکی از مستنصر تارڑ

ستمبر 29, 2019

ماہِ صفر کے متعلق ایک بڑی غلط فہمی کا ازالہ

ستمبر 25, 2020

کیوں گفتگو میں لہجہ_تر لگ نہیں رہا

دسمبر 5, 2021

بات اپنی سنا کے دیکھوں گا

اکتوبر 25, 2025

جرمِ حق گوئی میں صدیوں سے

مارچ 12, 2025

اس دنیا سے آگے جہان اور بھی ہے

جنوری 5, 2021

اچھوں کی تلاش

جون 28, 2021

منزل الجھ گئی ہے یہاں راستے سمیت

اکتوبر 16, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

صحافت اور خبر

نومبر 6, 2025

یعنی نگارِ صبح کے پاؤں پڑا...

جون 21, 2020

چندرو کی دُنیا

اکتوبر 25, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں