خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباعریاں احتجاج
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

عریاں احتجاج

از سائیٹ ایڈمن جنوری 21, 2025
از سائیٹ ایڈمن جنوری 21, 2025 0 تبصرے 79 مناظر
80

”یہ کیسے ممکن ہے؟“ کرسٹینا نے سوال کیا۔
نیلما سوچ میں پڑ گئی۔ کچھ دیر بعد بولی،

”تحریک عوام میں مقبولیت حاصل کر چکی ہے لیکن ملک کے کرتا دھرتا ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ کچھ نیا کرنا پڑے گا۔“

”یہ امریکہ یورپ نہیں، ایک مسلمان ملک ہے یہاں کسی بندے کو کیسے تیار کیا جا سکتا ہے کہ وہ ننگا ہو کر احتجاج کرے۔“

”دنیا بھر میں احتجاج کا یہ بہترین طریقہ گنا جاتا ہے، ہم اس پر عمل کریں گے۔“

نیلما دو ہفتے پہلے ہی اسلام آباد پہنچی تھی۔ کرسٹینا شروع سے اس پراجیکٹ پر کام کر رہی تھی۔ اس کے کئی این جی اوز اور سیاستدانوں سے رابطے تھے۔ فیصلہ ہوا کہ کسی این جی او سے مدد لی جائے۔

نیلما کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا اور ماس میڈیا پر بھی قتل اور سیکس کی رپورٹنگ بہترین قسم کے آرٹیکل سے دس گنا زیادہ توجہ حاصل کرتی ہے اس لیے یہ انوکھا احتجاج بہت پبلسٹی لے گا۔

ایک عورت اور بچے کو تیار کر لیا گیا۔ اگلے دن بھوک و افلاس کے خلاف احتجاج میں وہ عورت اپنے ننگے بچے کو اٹھائے پولیس کے سامنے کھڑی تھی۔ بچے کو جان بوجھ کر بھوکا رکھا گیا تھا۔ وہ ماں کی چھاتی نوچ رہا تھا۔ اسی وقت مجمع نے پولیس پر پتھر برسانا شروع کر دیے۔ لاٹھی چارج اور گرفتاریاں۔ بھوکا ننگا بچہ اور ماں کا سینہ، پولیس کا اس عورت کو پکڑ کر لے جانا: قمیض پھٹ گئی یا عورت نے خود ہی پھاڑ دی، کسی کو کچھ پتا نہ چلا۔

سب کچھ ہماری پلاننگ کے عین مطابق ہوا۔ کیمرے کسی پلاننگ کے محتاج نہیں ہوتے۔
سوشل میڈیا پر ہیجان برپا ہو گیا۔ عالمی میڈیا بھی چیخ اٹھا۔
”ننگی جارحیت کرنے والوں نے ماں کو بھی ننگا کر دیا۔“
”دھرتی ماں کے لٹیروں کا ماں کی عزت پر ڈاکا۔“
’میں ماں کے ساتھ ہوں‘ سوشل میڈیا ٹرینڈ بن گیا۔
ہزاروں مائیں اپنے بچے سینے سے لگائے سڑکوں پر نکل آئیں۔
***

نیلما کولمبیا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہی تھی۔ مقالے کا عنوان تھا۔ ”کیا پاکستان کی موجودہ تحریک کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے؟“ ریسرچ پرپوزل پر بات کرتے ہوئے سپروائزر کا پہلا سوال تھا،

”کیا تم کبھی پاکستان گئی ہو؟“
”جی نہیں۔ لیکن میرے والدین پاکستانی ہیں۔“ نیلما نے جواب دیا۔
”اس ریسرچ کو کون سپانسر کر رہا ہے؟“
”سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ۔“
”اوکے گو اہیڈ۔“
***

تحریک زوروں پر تھی۔ روزانہ کی بنیاد پر ملک میں کہیں نہ کہیں ایجی ٹیشن ہو رہی تھی۔ کچھ طاقت کے استعمال کے مظاہرے بھی دیکھنے میں آ رہے تھے۔ پچھلی ایک دہائی سے ملک کی سیاست اور معیشت میں انقباض کا عالم تھا جو انسانوں میں ایذا رسانی کا رجحان پیدا کر دیتا ہے۔ ہر وقت دھڑکا لگا رہتا کہ کوئی بڑا حادثہ برپا پونے والا ہے۔

نیلما اپنی تحقیق جاری رکھے ہوئے تھی اور ساتھ ساتھ اس تحریک میں مکمل طور پر شامل بھی ہو گئی۔
پہلی کامیابی کے بعد وہ مزید نئے انداز اپنانا چاہتی تھی۔
”اب ہم سول نافرمانی کی تحریک چلانے میں مدد کریں گے۔“

”یہ طریقہ کئی مرتبہ ناکام ہو چکا ہے۔ گاندھی اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی مہمات کو بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔“

”کوئی بات نہیں کامیاب نہ بھی ہوا تو ہم حکمران طبقے کو بہت زیادہ نقصان پہنچا دیں گے۔ کامیابی حاصل کرنے کے لیے اس مضبوط عمارت کو مختلف جگہ سے نقصان پہچانا پڑے گا۔

چار سال وزیر اعظم رہنے والے کے پاس بہت سی خفیہ معلومات ہوں گی کچھ انٹرنیشنل میڈیا تک پہنچا دیں گے۔ خلائی مخلوق کی کامیابی خفیہ ایجنٹ ہیں۔ افغانستان اور دیگر ہمسایہ ممالک میں کام کرنا ان کے لیے مشکل بنا دیں گے۔ ہم ان کے نام عوامی اجتماعات میں لینا شروع کر دیتے ہیں۔ کسی کو ایکس وائی کہیں گے اور کسی کو ڈرٹی ہیری۔ مڈل ایسٹ ممالک کے وہ چہیتے جو ہر کابینہ میں لے لیے جاتے ہیں ان کی اپنے آقاؤں سے خفیہ ملاقاتیں اور روابط کے ثبوت عوامی اجتماعات میں سب کے سامنے رکھ دیں گے۔ ”

”کوئی پاکستانی سیاست دان یہ کرنے کی ہمت نہیں کرے گا۔“
”میں بھی پاکستانی ہوں۔“
اگلے جلوس میں نیلما خود سٹیج پر تھی اور اس نے ساری معلومات عام کر دیں۔

عوام کو کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا۔ لاٹھی چارج شروع ہوا تو نیلما نے کرسٹینا کا ہاتھ پکڑا، ”بھاگو اس سے پہلے کہ یہ ڈنڈے اور آنسو گیس کے شیل ہمارے اردگرد پہنچ جائیں۔“

ایسی افراتفری پھیلی کہ الامان۔ کچھ لاٹھیوں سے گھائل ہوئے اور کچھ بھگدڑ میں زخمی۔
***

تحریک اب اس جگہ پہنچ چکی تھی جہاں عوام یہ سوچتے ہیں کہ ہمارا بھلا ہو نہ ہو، حکمرانوں کو غارت ہونا چاہیے۔

سول نافرمانی کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے عام قسم کے قوانین کی خلاف ورزی شروع ہو گئی۔ اسلام آباد کی سڑکوں پر لوگوں نے الٹی طرف گاڑیاں چلانی شروع کر دیں۔ ٹریفک بلاک ہو جاتی۔ اصل مجرم اس ہجوم میں کھو جاتا۔ پولیس ٹریفک کو سنبھالتی تو ٹرین سروس کو خراب کرنے کے لیے بہت سے لوگ بلا ٹکٹ اس میں سوار ہو جاتے۔ جان بوجھ کر انتظامیہ سے لڑ پڑتے۔ مجمع اکٹھا ہوتا تو اصل مجرم غائب۔ جاتے جاتے مار دھاڑ اور لوٹ مار شروع کر دیتے۔ سارے کھیل کے لیے وافر فنڈز تھے اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے خفیہ ایجنٹ مدد کو موجود۔ اوندھی کھوپڑی والے سیاست دان، دہائیوں سے تشدد پر اکسانے والی سیاست اور خونریزی کی داستانیں رقم کرنے والی اس قوم کو ایسے مواقع مل جائیں تو وہ تباہی مچا دیتے ہیں۔

مقتدرہ کے مختلف تجربات اور بد اعمالیوں سے سیاسی و معاشی بدحالی عروج پر پہنچ چکی تھی۔ اب ان کو شدید مزاحمت کا سامنا تھا۔ پچھلے تجربہ نے ان کی ریڑھ کی ہڈی پر ایسا زخم لگایا کہ ان کا پورا اعصابی سسٹم انتشار کا شکار ہو گیا تھا۔ اب پورے ملک میں اتحادیوں سمیت کوئی بھی ان کا حامی نہیں رہا تھا۔

ڈیپ سٹیٹ کے اصل حکمرانوں نے بھی یہ سب بھانپ لیا سو مذاکرات شروع ہو گئے۔
***

سڑکوں پر عوام کو کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا تو جگہ جگہ کنٹینر لگا کر اسلام آباد کو سیل کر دیا گیا۔ عوام کو کسی جگہ اکٹھا ہی نہیں ہونے دیا جا رہا تھا۔

نیلما نے گھر بیٹھے نئے طریقے ڈھونڈنا شروع کر دیے۔
”کیوں نہ ہم خلائی مخلوق پر ہوائی حملہ کر دیں؟“
”ہوائی حملہ، کیسے؟“
دونوں نے کافی سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ تجویز قابل عمل ہے۔

سور کا دھڑ اور دیوتا کا سر؛ لاکھوں غبارے پورے شہر میں کارکنان کے پاس پہنچا دیے گئے۔ اگلے دن سورج طلوع ہوا تو آسمان نیلا نہیں، رنگ برنگا تھا۔ ملک کے کرتا دھرتا سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔

ہزاروں پرنٹنگ پریس بند اور سینکڑوں کارکنان گرفتار۔
پولیس نیلما کو ڈھونڈ رہی تھی۔

حالات خراب دیکھ کر اس نے اپنے سفارت خانے میں پناہ لے لی۔ رات اسے مڈل ایسٹ شفٹ کر دیا گیا۔ جانے لگی تو کرسٹینا نے پوچھا، ”تبدیلی کا کیا بنے گا؟“

”مذاکرات جاری ہیں۔ حکمران جانیں اور اپوزیشن والے۔
تبدیلی گئی بھاڑ میں، میری ریسرچ پوری ہوئی۔ مجھے تھیسس کے لیے کافی مواد مل گیا ہے۔ ”

سید زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • گزارش
  • بساط اور فرہاد
  • جو بھی تیرے لیے بنی ہو گی
  • پربتوں کی چوٹی پر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
فارسی کا آسان قاعدہ
پچھلی پوسٹ
نعت کہتا رہوں

متعلقہ پوسٹس

محمد ایوب صابرؔ کا شعری آہنگ

جنوری 14, 2021

اُس روز مدینہ بھی

دسمبر 6, 2025

پھر وہی رات

فروری 16, 2020

نئی جہت

مارچ 1, 2024

تجھ کو لگتا ہے کہ لوگوں کی طرح سوچتا ہوں

مئی 18, 2020

شام کا سحر

مارچ 6, 2023

خاموشی بھی موت ہوتی ہے

اکتوبر 16, 2025

اے تعصب زدہ دنیا ترے کردار پہ خاک

مئی 23, 2020

محترم محترم، یا نبیﷺ محترم

مارچ 22, 2025

جب سامنے والا کباڑیا ہو

دسمبر 16, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

میگها رت کی رات، خموشی

مئی 21, 2020

شادی کی خوشیوں کا سفر

مارچ 28, 2026

شرمیلی خاموشی

مارچ 6, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں