خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو پیڈیاشاعری کا ابتدائی سبق
اردو پیڈیااردو تحاریرشمس الرحمٰن فاروقیمقالات و مضامین

شاعری کا ابتدائی سبق

از سائیٹ ایڈمن مئی 21, 2024
از سائیٹ ایڈمن مئی 21, 2024 0 تبصرے 79 مناظر
80

پہلا حصہ
(۱) موزوں، ناموزوں سے بہتر ہے۔
(۱) (الف) چونکہ نثری نظم میں موزونیت ہوتی ہے، اس لیے نثری نظم، نثر سے بہتر ہے۔
(۲) انشا، خبر سے بہتر ہے۔
(۳) کنایہ، تشریح سے بہتر ہے۔
(۴) ابہام، توضیح سے بہتر ہے۔
(۵) اجمال، تفصیل سے بہتر ہے۔
(۶) استعارہ، تشبیہ سے بہتر ہے۔
(۷) (الف) لیکن علامت چونکہ خال خال ہی ہاتھ لگتی ہے، اس لیے استعارے کی تلاش بہتر ہے۔
(۸) غیر متوقع لفظ، متوقع لفظ سے بہتر ہے۔
(۹) تشبیہ، مجرد اور سادہ بیان سے بہتر ہے۔
(۱۰) پیکر، تشبیہ سے بہتر ہے۔
(۱۱) وہ تشبیہ، جس میں پیکر بھی ہو، معمولی تشبیہ اور معمولی پیکر سے بہتر ہے۔
(۱۲) وہ استعارہ جس میں پیکر بھی ہو معمولی استعارے سے اور معمولی پیکر سے بہتر ہے۔
(۱۲) (الف) لہٰذا ثابت ہواکہ پیکر والا لفظ، باقی الفاظ سے بہتر ہے، کیونکہ وہ دوسرے الفاظ کی قیمت بڑھاتا ہے۔
دوسرا حصہ
(۱) رعایت معنوی، رعایت لفظی سے کم نہیں۔
(۲) رعایت لفظی، رعایت معنوی کا بھی اثر رکھتی ہے۔
(۳) رعایت لفظی، بے رعایت بیان سے بہتر ہے۔
(۴) سب سے بڑی رعایت یہ ہے کہ تمام الفاظ، یا اکثر الفاظ، ایک دوسرے سے مناسبت رکھتے ہوں۔
(۵) کوئی بھی رعایت ہو، شعر کی تزئین ضرور کرتی ہے۔
(۶) تزئین بری چیز نہیں، کیونکہ تزئین کا تاثر شعر کے معنی میں شامل ہے۔
(۷) لیکن استعارہ، تشبیہ، پیکر، علامت، یہ محض تزئین نہیں ہوتے، بلکہ شعر کا داخلی جوہر ہیں۔
(۸) یہ کہنا غلط ہے کہ رعایت وہ اچھی چیز ہے جو نظر نہ آئے۔ جو چیز نظر نہ آئے وہ اچھی کیسے معلوم ہوگی؟
(۹) اگر استعارہ، تشبیہ، پیکر، علامت شعر کا جوہر ہیں تو رعایت ہماری زبان کا جوہر ہے۔
(۱۰) اظہار میں زور قائم ہو تو رعایت سے مفر نہیں۔ معمولی استعارے کو برتنے کی صلاحیت، معمولی رعایت کو برتنے کی صلاحیت کے مقابلے میں زیادہ عام ہے، اس وجہ سے کہ تمام زبان میں استعارہ پوشیدہ رہتا ہے۔ اس کے برخلاف، رعایت زبان کے ماحول میں ہوتی ہے اور اسے دریافت کرنے کے لیے ماحول سے موافقت ضروری ہے۔ ہم میں سے اکثر کو یہ موافقت نصیب نہیں۔
(۱۱) دومصرعوں کے شعر کاحسن اس بات پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ دونوں مصرعوں میں ربط کتنا اور کیسا ہے؟
( ۱۲) اس ربط کو قائم کرنے میں رعایت بہت کام آتی ہے۔
تیسرا حصہ
(۱) مبہم شعر، مشکل شعر سے بہتر ہے۔
(۲) مشکل شعر، آسان شعرسے بہتر ہو سکتا ہے۔
(۳) شعر کا آسان یا سریع الفہم ہونا اس کی اصلی خوبی نہیں۔
(۴) مشکل سے مشکل شعر کے معنی بہرحال محدود ہوتے ہیں۔
(۵) مبہم شعر کے معنی بہر حال نسبتاً لامحدود ہوتے ہیں۔
(۶) شعر میں معنی آفرینی سے مراد یہ ہے کہ کلام ایسا بنایا جائے جس میں ایک سے زیادہ معنی نکل سکیں۔
(۷) چونکہ قافیہ بھی معنی میں معاون ہوتا ہے، اس لیے قافیہ پہلے سے سوچ کر شعر کہنا کوئی گناہ نہیں۔
(۸) شعر میں کوئی لفظ، بلکہ کوئی حرف، بے کار نہ ہونا چاہیے۔ لہٰذا اگر قافیہ یا ردیف یا دونوں پوری طرح کارگر نہیں ہیں تو شعر کے معنی کو سخت صدمہ پہنچنا لازمی ہے۔
(۹) شعر میں کثیر معنی صاف نظر آئیں، یا کثیر معنی کا احتمال ہو، دونوں خوب ہیں۔
(۱۰) سہل ممتنع کو غیر ضروری اہمیت نہ دینا چاہیے۔
(۱۱) شعر میں آورد ہے کہ آمد، اس کا فیصلہ اس بات سے نہیں ہو سکتا کہ شعر بے ساختہ کہا گیا یا غو وفکر کے بعد۔ آورد اور آمد، شعر کی کیفیات ہیں، تخلیق شعر کی نہیں۔
(۱۲) بہت سے اچھے شعر بے معنی ہو سکتے ہیں، لیکن بے معنی اور مہمل ایک ہی چیز نہیں۔ اچھا شعر اگر بے معنی ہے تو اس سے مراد یہ نہیں کہ وہ مہمل ہے۔
چوتھا حصہ
(۱) مقفیٰ نظم، بے قافیہ نظم سے بہتر نہیں ہوتی۔
(۲) بےقافیہ نظم، مقفیٰ نظم سے بہتر نہیں ہوتی۔
(۳) قافیہ خوش آہنگی کا ایک طریقہ ہے۔
(۴) ردیف، قافیے کو خوش آہنگ بناتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مردف نظم، غیر مردف نظم سے بہتر ہے۔
(۵) لیکن ردیف میں یکسانیت کا خطرہ ہوتا ہے، اس لیے قافیے کی تازگی ضروری ہے، تاکہ ردیف کی یکسانیت کا احساس کم ہو جائے۔
(۶) نیا قافیہ، پرانے قافیے سے بہتر ہے۔
(۷) لیکن نئے قافیے کو پرانے ڈھنگ سے استعمال کرنا بہتر نہیں، اس کے مقابلے میں پرانے قافیے کو نئے رنگ سے نظم کرنا بہتر ہے۔
(۸) قافیہ بدل دیا جائے تو پرانی ردیف بھی نئی معلوم ہونے لگتی ہے۔
(۹) ردیف اور قافیہ کو باہم چسپاں ہونا چاہیے۔ کاواک ردیف سے ردیف کانہ ہونا بہتر ہے۔
(۱۰) قافیہ، معنی کی توسیع بھی کرتا ہے اور حدبندی بھی۔
(۱۱) قافیہ، تضاد اور تطابق دونوں طرح کا حسن پیدا کر سکتا ہے۔
(۱۲) بےقافیہ نظم، مقفیٰ نظم سے مشکل ہوتی ہے، کیونکہ اس کو قافیے کا سہارا نہیں ہوتا۔
پانچواں حصہ
(۱) ہر بحر مترنم ہوتی ہے۔
(۲) ہر شعر کا آہنگ، اس کے معنی کا حصہ ہوتا ہے۔
(۳) شعر کے معنی، اس کے آہنگ کا حصہ ہوتے ہیں۔
(۴) چونکہ شعر کے آہنگ بہت ہیں اور بحریں تعداد میں کم ہیں، اس لیے ثابت ہوا کہ شعر کا آہنگ، بحر کا مکمل تابع نہیں ہوتا۔
(۵) نئی بحریں ایجاد کرنے سے بہتر ہے کہ پرانی بحروں میں جو آزادیاں جائز ہیں ان کو دریافت اور اختیار کیا جائے۔
(۶) اگر نئی بحریں وضع کرنے سے مسائل حل ہو سکتے تو اب تک بہت سی بحریں ایجاد ہو چکی ہوتیں۔
(۷) ہر لفظ میں وزن ہوتا ہے لیکن الفاظ کے ہر مجموعے میں مطلوب وزن نہیں ہوتا۔
(۸) کبھی کبھی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دو الفاظ کا وزن اور مفہوم ایک ہی ہو، لیکن ایک لفظ کسی ایک مقام پر اچھا ’’سنائی‘‘ دیتا ہو۔
(۹) اس سے یہ ثابت ہوا کہ ہر لفظ کا ایک مناسب ماحول ہوتا ہے، اگر لفظ اس ماحول میں نہیں ہے تو نامناسب معلوم ہوتا ہے۔
(۱۰) بحروں کا تنوع اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہر بحر میں ہر لفظ نہیں آ سکتا اور چونکہ معنی لفظ کے تابع ہوتے ہیں، اس لیے ثابت ہواکہ بعض بحروں میں بعض معنی نہیں بیان ہو سکتے۔
(۱۱) اس طرح ثابت ہوا کہ بحروں کا تنوع، معنوی تنوع میں معاون ہوتا ہے۔
(۱۲) بحروں کے مطالعے سے ہمیں اپنی زبان کی آوازوں میں ہم آہنگی کے امکانات کا علم حاصل ہوتا ہے۔
چھٹا حصہ
(۱) مقررہ تعداد کے مصرعوں والے بند کے مقابلے میں غیرمقررہ تعداد کے مصرعوں والے بند کہنا آسان ہے۔
(۲) مقررہ تعداد کے مصرعوں والے بندوں میں معنی کی تکمیل اور مضمون کے تسلسل کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
(۳) آزاد نظم کو سب سے پہلے مصرع طرح کے آہنگ سے آزاد ہونا چاہیے۔
(۴) اگر مصرعے چھوٹے بڑے ہیں تو بہتر ہے کہ ہر مصرعے کے بعد وقفہ نہ ہو۔
(۵) نظم کا عنوان اس کے معنی ک احصہ ہوتا ہے، اس لیے بلا عنوان نظم، عنوان والی نظم کے مقابلے میں مشکل معلوم ہوتی ہے، بشرطیکہ شاعر نے گمراہ کن عنوان نہ رکھا ہو۔ لیکن عنوان اگر ہے تو نظم کی تشریح اس عنوان کے حوالے کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔
(۶) شعر کی تعبیر عام طور پر ذاتی ہوتی ہے، لیکن وہ جیسی بھی ہو اسے شعر ہی سے برآمد ہونا چاہیے۔
(۷) بہت چھوٹے مصرعوں والی نظم اکثر شاعر کی اس کمزوری کا اظہار کرتی ہے کہ وہ لمبی نہیں کہہ سکتا، اس لیے مصرعوں کو چھوٹا کرکے ان کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔
(۸) ہماری زبان میں چھ اور آٹھ رکن کے مصرعے متداول ہیں۔ اس لیے کوشش یہ ہونا چاہیے کہ عام طور پر مصرعے کی طوالت چھ رکن کے برابر طویل اور مختصر سالموں کی طوالت سے کم نہ ہو۔ نظم چاہے نثری ہی کیوں نہ ہو، مصرعوں کا بےجا اختصار اس کے آہنگ کو مجروح کرتا ہے۔
(۹) معرا اور آزاد نظم میں بھی اندرونی قافیہ (اس سے ملتی جلتی ایک چیز علم بیان میں ’’تضمن المزدوج‘‘ کہلاتی ہے) ہو سکتا ہے اور ہونا چاہیے۔
(۱۰) آزاد نظم کا ایک بڑا حسن یہ ہے کہ مصرعوں کو اس طرح توڑا جائے یا ختم کیا جائے کہ اس سے ڈرامائیت یا معنوی دھچکا حاصل ہو۔ معرا نظم میں بھی یہ حسن ایک حد تک ممکن ہے۔
(۱۱) ہماری آزاد نظم بحر سے آزاد نہیں ہو سکتی۔
(۱۲) آزاد اور نثری نظم کے شاعر کو ایک حد تک مصور بھی ہونا چاہیے۔ یعنی اس میں یہ صلاحیت ہونا چاہیے کہ وہ تصور کر سکے کہ اس کی نظم کتاب یا رسالے کے صفحے پر چھپ کر کیسی دکھائی دےگی۔
ساتواں حصہ
(۱) قواعد، روز مرہ، محاورہ کی پابندی ضروری ہے۔
(۲) لیکن اگر ان کے خلاف ورزی کرکے معنی کا کوئی نیا پہلو یا مضمون کا کوئی نیا لطف ہاتھ آئے تو خلاف ورزی ضروری ہے۔
(۳) لیکن اس خلاف ورزی کا حق اسی شاعر کو پہنچتا ہے جو قواعد، روز مرہ محاورہ پر مکمل عبور حاصل اور ثابت کر چکا ہو۔
(۴) رعایت لفظی اگر محاورہ کی پابندی کے ساتھ ہو تو دونوں کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔
(۵) محاورہ، جامد استعارہ ہے اور کہاوت، جامد اسطور ہے۔
(۶) ایک استعارے سے دوسرا پیدا کرنا یعنی ایک کے بعد دوسرا استعارہ تسلسل میں لانا بہت خوب ہے، بشرطیکہ دونوں میں ربط ہو۔
(۷) متحرک چیز کو متحرک سے، جامد چیز کو جامد سے، یعنی کسی چیز کو اسی طرح کی چیز سے تشبیہ دینا عقل مندوں کا شیوہ نہیں۔
(۸) مرکب تشبیہ، یعنی وہ تشبیہ جس میں مشابہت کے کئی پہلو ہوں، مفرد تشبیہ سے بہتر ہے۔
(۹) یہ کہنا غلط ہے کہ استعارے کا لفظی ترجمہ کر دیا جائے تو وہ تشبیہ بن جاتا ہے، لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ استعارے کے مقابلے میں تشبیہ میں لغوی معنی کا عنصر زیادہ ہوتا ہے۔
(۱۰) جذباتیت، یعنی کسی جذبے کا اظہار کرنے کے لیے جتنے الفاظ کافی ہیں، یا جس طرح کے الفاظ کافی ہیں، ان سے زیادہ الفاظ، یا مناسب طرح کے الفاظ سے زیادہ شدید طرح کے الفاظ استعمال کرنا، بیوقوفوں کا شیوہ ہے۔
(۱۱) استعارہ جذباتیت کی روک تھام کرتا ہے۔ اسی لیے کم زور شاعروں کے یہاں استعارہ کم اور جذباتیت زیادہ ہوتی ہے۔
(۱۲) الفاظ کی تکرار بہت خوب ہے، بشرطیکہ صرف وزن کو پورا کرنے کے لیے یا خیالات کی کمی پورا کرنے کے لیے نہ ہو۔
آٹھواں حصہ
(۱) شاعری علم بھی ہے اور فن بھی۔
(۲) یہ جو کہا گیا ہے کہ شاعر خدا کا شاگرد ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ شاعر کو کسی علم کی ضرورت نہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ شاعرانہ صلاحیت اکتسابی نہیں ہوتی۔
(۳) شاعرانہ صلاحیت سے موزوں طبعی مراد نہیں۔ اگر چہ موزوں طبعی بھی اکتسابی نہیں ہوتی، اور تمام لوگ برابر کے موزوں طبع نہیں ہوتے اور موزوں طبعی کو بھی علم کی مدد سے چمکایا جا سکتا ہے، لیکن ہر موزوں طبع شخص شاعر نہیں ہوتا۔
(۴) شاعرانہ صلاحیت سے مراد ہے، لفظوں کو اس طرح استعمال کرنے کی صلاحیت کہ ان میں نئے معنوی ابعاد پیدا ہو جائیں۔
(۵) نئے معنوی ابعاد سے مراد یہ ہے کہ شعر میں جس جذبہ، تجربہ، مشاہدہ، صورت حال، احساس یا خیال کو پیش کیا گیا ہے اس کے بارے میں ہم کسی ایسے تاثر یا کیفیت یا علم سے دوچار ہوں جو پہلے ہماری دست رس میں نہ رہا ہو۔
(۶) ظاہر ہے کہ لفظوں کا ایسا استعمال تخیل کی قوت کو بروئے کار لائے بغیر ممکن نہیں۔ لیکن معلومات اور علم بھی تخیل کی قوت کو قوی تر کرتے ہیں۔
(۷) شاعری مشق سے ترقی کرتی ہے اور نہیں بھی کرتی ہے۔ صرف مشق پر بھروسا کرنے والا شاعر ناکام ہو سکتا ہے، لیکن مشق پر بھروسا کرنے والے شاعر کے یہاں ناکامی کا امکان اس شاعر سے کم ہے جو مشق نہیں کرتا۔
(۸) مشق سے مراد صرف یہ نہیں کہ شاعر کثرت سے کہے۔ مشق سے مراد یہ بھی ہے کہ شاعر دوسروں (خاص کر اپنے ہم عصروں اور بعید پیش روؤں) کے شعر کثرت سے پڑھے اور ان پر غور کرے۔
(۹) کیونکہ اگر دوسروں کی روش سے انحراف کرنا ہے تو ان کی روش جاننا بھی ضروری ہے۔ دوسروں کے اثر میں گرفتار ہو جانے کے امکان کا خوف اسی وقت دور ہو سکتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ دوسروں نے کہا کیا ہے؟
(۱۰) تمام شاعری کسی نہ کسی معنی میں روایتی ہوتی ہے، اس لیے بہتر شاعر وہی ہے جو روایت سے پوری طرح باخبر ہو۔
(۱۱) تجربہ کرنے والا شاعر، چاہے وہ ناکام ہی کیوں نہ ہو جائے، محفوظ راہ اختیار کرنے والے شاعر سے عام طور پر بہتر ہوتا ہے۔
(۱۲) تجربے کے لیے بھی علم شرط ہے۔ پس علم سے کسی حال مفر نہیں۔
نوٹ سب حصے اپنی جگہ پر مکمل ہیں لیکن کسی ایک حصے کو الگ کرکے پڑھنا ٹھیک نہیں۔ حصوں کی ترتیب کسی خاص لحاظ سے نہیں ہے۔

 

شمس الرحمن فاروقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دیوانہ شاعر
  • EPA کا مضحکہ خیز حکم نامہ
  • شمعِ اَخْلَاقِيَّت کا اجالا
  • قرآن مجید پڑھنے کی عادت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شعر، غیر شعر اور نثر
پچھلی پوسٹ
نظم کیا ہے؟

متعلقہ پوسٹس

اس میں حسن ذرا کم ادا زیادہ

جون 3, 2020

"میرے پاس تم ہو”

جنوری 26, 2020

الجھن کا حل نہیں مل رہا

ستمبر 18, 2025

مچھر

دسمبر 15, 2019

سبق آموز واقعات ( دوسرا اور آخری حصہ)

جولائی 30, 2025

گرہن

مارچ 30, 2020

دوسرا بوسہ

مئی 12, 2024

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

احساس ۔ حصول سکون کا زریعہ

اپریل 20, 2020

ٹوبہ ٹیک سنگھ

جنوری 22, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ماموندر کی آدم خور

نومبر 23, 2019

ماں قوم کی استاد ہوتی ہے

جولائی 26, 2021

اعصاب شکن!

فروری 26, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں