خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرعاشورے میں اتنی کشش کیوں ہے؟
اردو تحاریراردو کالمزشہزاد نیّرؔ

عاشورے میں اتنی کشش کیوں ہے؟

از سائیٹ ایڈمن جولائی 18, 2024
از سائیٹ ایڈمن جولائی 18, 2024 0 تبصرے 60 مناظر
61

اکثر یہ بات سننے پڑھنے میں آتی ہے کہ شیعہ اگر ملحد بھی ہو جائے تو رہتا شیعہ ہی ہے۔ پورا سال نہیں تو محرم کے 10 دن تو وہ ضرور امامی اور کربلائی نظر آئے گا۔

جون ایلیا کے اس مشہور شعر سے یہ بات ادبی دلیل بھی حاصل کر لیتی ہے
خدا نہیں ہے تو کیا حق کو چھوڑ دیں اے شیخ
غضب خدا کا ، ہم اپنے امام کے نہ رہیں

جوش ملیح آبادی کے الحاد اور دہریت کے ذکر کے ساتھ ہی ان کے لکھے مرثیوں کا خیال آ جاتا ہے۔ ان دونوں پہلوؤں کا ذکر جوش کی خود نوشت سوانح عمری ”یادوں کی بارات“ میں مل جاتا ہے۔ اپنے 100 لفظوں کی کہانی والے مبشر زیدی تو علانیہ دس دن کے لیے اثنا عشری بن جاتے ہیں۔ سال کے باقی دن وہ اپنے بقول ریشنل اگناسٹک ہوتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ غم منانے میں اتنی کشش کیوں ہے کہ خدا اور مذہب سے الگ ہو جانے والے بھی کربلا کے ساتھ جڑے رہتے ہیں؟

میرے خیال میں اس کا جزوی جواب بچپن ثقافت اور نفسیات میں ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ ان تینوں نکات پر بات کرنے سے پہلے ایک اور پہلو پر تھوڑی سی گفتگو کر لیتے ہیں۔

کربلا کے غم میں صرف مسلمانوں کو ہی کشش محسوس نہیں ہوتی۔ بر صغیر کی گنگا جمنی ثقافت میں ہندو اور سکھ بھی غم حسین میں شریک نظر آتے ہیں۔ انتظار حسین نے حسینی براہمنوں کا ذکر کیا ہے جو عاشورہ پر ماتمی جلوس بھی نکالتے ہیں۔ ایک ہندو شاعر چھنو لال دلگیر نے میر انیس سے بھی پہلے کئی مرثیے لکھے۔ ان کا لکھا ہوا نوحہ ”گھبرائے گی زینب“ شام غریباں کے ساتھ گویا مخصوص ہو گیا ہے۔ اسی طرح مغربی معاشروں میں بھی حق کے لیے قربانی دینے کی کربل کہانی کئی غیر مسلم دلوں میں گھر کرتی ہے۔

مجھے لگتا ہے مظلوم کا ذکر، مجبور کی حمایت اور مقتول کی یاد انسانی سرشت میں شامل ہے۔ کچھ سبب تو رہا ہو گا کہ سانحہ کربلا مذہبی حوالے سے ہٹ کر بھی انسانی ضمیر میں پھانس کی طرح اٹک گیا ہے۔ بے پناہ شاعری ہوئی، بے حساب نثری ادب لکھا گیا، پوری ادبی و ثقافتی روایت وجود میں آ گئی۔ ہر سال اس روایت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ مجھے اب تک کی زندگی میں صرف ایک دہریہ دوست ( غیر شیعہ) ایسا ملا ہے جو کربلا کو قطعاً درخور اعتنا نہیں سمجھتا۔ اسی طرح مسلمانوں کے ایک خاص مسلک کے کچھ لوگ بھی ملے جو عاشور کا غم بدعت قرار دے کر رد کرتے ہیں۔ باقی سب کو میں نے بلا لحاظ مسلک، مبتلائے غم حسین پایا۔

ایک بار کسی نامعلوم شاعر کا یہ شعر بھی سننے میں آیا

میرے حسن قلم کا نام حسین
ورنہ کچھ بھی نہ تھے امام حسین

کہتے ہیں جوش ملیح آبادی بیوروکریٹ ہاشم رضا زیدی سے ناراض ہوئے تو پرچی پر یہ شعر لکھ کر انہیں بھجوا دیا

ہاشم رضا میں شمر ہے پورا چھپا ہوا
زیدی میں چاروں حرف ہیں شامل یزید کے

شعروں کی بات چل نکلی ہے تو سید مبارک شاہ کا یہ شعر بھی سنتے چلیں۔

دس روز تک روا ہے تجھے ماتم حسین
پھر اس کے بعد طاعت شمر و یزید کر

اب تھوڑی سی بات مذکورہ بالا تین نکات پر جو نہ حتمی ہے نہ مکمل۔

لڑکپن اور بچپن کی یادوں میں ہر کسی کے لیے خاص کشش ہوتی ہے۔ جن لوگوں کا بچپن مجلس نوحہ نیاز کی سحر انگیز فضاؤں میں گزرا ہو وہ اس مہک کو تاحیات اپنے ساتھ پاتے ہیں۔ نظریہ بدل جانے سے یادیں نہیں بدل جاتیں۔

فوجی نوکری کے دوران میں ایسی دور دراز چوکیوں پر بھی تعینات رہا جہاں قریب انسانی آبادیاں نہیں تھیں۔ وہاں میں نے ایام محرم میں اپنے شیعہ ہم کاروں کو بے کل اور بے چین دیکھا۔ جیسے کوئی کتھارسس نہ ہو سکا ہو، جیسے سانس سینے میں گھٹی جاتی ہو۔ پھر وہ خود ہی کوئی نوحہ گنگنا کر اہتمام گریہ کر لیتے۔

ثقافت یوں تو بہت وسیع لفظ ہے۔ یہاں صرف اس قدر کہ ہر مذہب و مسلک کے اپنے ثقافتی مظاہر ہوتے ہیں۔ یہ کلچرل حوالے اعتقادی اور فکری حوالوں سے بھی مضبوط اور اثر آفریں ہوتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست نے محرم کے جلوسوں کی بصری علامات اور نشانات پر ڈاکٹریٹ کی ہے۔ سجے سجائے بلند تعزیے، تیز رنگوں والے اونچے علم، شبیہ ذوالجناح، علی اصغر کا جھولا اور اس طرح کے بہت سے بصری مناظر اپنے اندر پوری ثقافت رکھتے ہیں۔ اسی طرح نوحوں، مرثیوں اور سلاموں کی پرسوز، دل دوز دھنیں، ماتم کی گونج، نعروں کی صدا کے سمعی اثرات گہرا ثقافتی پس منظر تشکیل دیتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر لطف گریہ اہل دل کو ساتھ بہا لے جانے کو کافی ہے۔

نفسیات انسانی میں یہ بات شامل ہے کہ تاریخ میں جہاں کہیں ظلم ہوا، اسے پڑھتے ہوئے انسان خود کو مظلوم کے ساتھ کھڑا پاتا ہے بشرطیکہ تاریخ لکھنے والے نے اسے مظلوم ہی بنا کر پیش کیا ہو۔ تاریخ میں تو یوں بھی ہوا ہے کہ جارح کی جارحیت کو اس کا حق اور مفتوح کی پامالی کا خود اس کو ذمہ دار بنا کر بھی دکھایا جاتا ہے۔

سوچنے سمجھنے اور لکھنے والے (جنہیں ہمارے دانشور دوست ڈاکٹر خالد سہیل تخلیقی اقلیت کہتے ہیں ) مفروضہ طور پر ایک انسان دوست ضمیر رکھتے ہیں۔ تاریخ میں جہاں جہاں خیالات و افکار کی پاداش میں کسی پر ظلم ہوا، باضمیر لکھاری اپنے اپ کو اس مظلوم کے ساتھ کھڑا ہوا پاتے ہیں۔ بعض شخصیات کا انسانی حوالہ اتنا بڑا ہوتا ہے کہ ان کا مذہبی حوالہ منہا ہو جاتا ہے۔ سقراط، ہائپیشیا اور جون اف آرک کا کوئی بھی مذہب ہوتا، تاریخ میں ان کی اتنی ہی عزت ہوتی۔

ایک روایت کچھ یوں ہے کہ حضرت نوح کے ایک بیٹے نے پوچھا میرے جد ہابیل کی شکل کیسی تھی؟ حضرت نوح نے ایک مسطح چٹان پر اس کی شبیہ کھینچی جو نسل در نسل تراش سے گزر کر ایک بت کی شکل اختیار کر گئی۔ کہا جاتا ہے کہ مکے کا بت ”ہبل“ یہی تھا۔ قطع نظر اس کے کہ روایت کی سند کتنی مضبوط ہے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہابیل یعنی مقتول ہی کی شبیہ کیوں محفوظ رہی؟ قابیل کی کیوں نہیں؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ ظالم اپنے ظلم سے جسے مٹانا چاہتا ہو انسان کی اجتماعی یادداشت اسے یاد رکھنا ضروری سمجھتی ہو۔

شہزاد نیّرؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • شفیق الرحمٰن: اردو مزاح کا لازوال ستارہ
  • کرفیو کا ایک سال
  • سینما کا عشق
  • الفاظ ایک قیمتی خزانہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
احمد ندیم قاسمی
پچھلی پوسٹ
پاکستان کے تعلیمی مسائل

متعلقہ پوسٹس

سیاست نہیں ریاست بچاؤ

نومبر 20, 2025

عرصئہ دہر کی جُھلسی ہوئی ویرانی میں

اپریل 21, 2017

اسرائیل اوردنیا کو لاحق خطرات؟

جون 20, 2025

گند منٹو اور میرے ذہن کا

جنوری 1, 2022

ایلف شفق کا ناول: حوا کی تین بیٹیاں

نومبر 29, 2020

کمار سانو

فروری 2, 2020

انجام وہ ہی ہوگا جو ذوالفقار علی بھٹو کا ہوا...

مئی 5, 2023

انسانی حقوق کا المیہ

ستمبر 24, 2025

انجام بخیر

نومبر 14, 2019

دم بہ دم گردشِ دوراں کا گُھمایا ہُوا شخص

مارچ 8, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

قومی ذمہ داریوں کے تقاضے اور...

فروری 17, 2026

کرونا کی وبا: کیا حکومتی اعداد...

اپریل 6, 2020

ہماری کلاسیکی غزل کی شعریات

مئی 27, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں