خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباسیاست نہیں ریاست بچاؤ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

سیاست نہیں ریاست بچاؤ

از سائیٹ ایڈمن نومبر 20, 2025
از سائیٹ ایڈمن نومبر 20, 2025 0 تبصرے 89 مناظر
90

پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں معمولی سی لغزش آنے والے برسوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ ہم نے اپنی تاریخ میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ کبھی سیاسی بحران، کبھی آئینی تنازعات اور کبھی طاقت کی کشمکش لیکن آج جو کیفیت ہے وہ محض سیاست کا تماشا نہیں بلکہ ریاست کی رگوں میں اترتا ہوا زہر ہے۔ یہ زہر اختلاف رائے نہیں بلکہ نفرت، انتشار اور بداعتمادی کی وہ صورت ہے جو قوموں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔

ریاست کا تقدس ایک ایسی حقیقت ہے جو قانونی کتابوں یا نصابی سبق تک محدود نہیں۔ یہ اس ماں کی طرح ہے جو اپنے بچوں کو اپنے دامن میں سمیٹے رکھتی ہے۔ یہ اس سائے کی طرح ہے جو دھوپ کی شدت میں پناہ دیتا ہے۔ بازاروں میں کام کرنے والا مزدور، موٹر سائیکل پر دو میل سفر کرنے والا استاد، کھیتوں میں کام کرنے والا کسان، ان سب کے لیے ریاست ایک ضرورت ہے. اگر یہ چھت گر جائے تو کوئی اپنے گھر کا مالک نہیں رہتا۔ اسی لیے ریاست کے وجود پر حملہ کسی فرد یا ادارے پر حملہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بنیادیں ہلانے کی کوشش ہوتی ہے۔

لیکن افسوس کہ آج سیاست دانوں کا ایک بڑا طبقہ اپنی ترجیحات بدل چکا ہے۔ اقتدار کا کھیل اتنا شدید ہو گیا ہے کہ اصول، اخلاق، ریاستی وقار حتی کہ قومی سلامتی تک پس منظر میں چلی گئی ہے۔ چائے کے کھوکھوں پر بیٹھے عام لوگ جب سیاست پر بات کرتے ہیں تو وہ حیرت سے کہتے ہیں کہ یہ لڑائی اب اقتدار کی نہیں رہی بلکہ ایک ضد بن گئی ہے۔ ایک ایسی ضد جس میں دلیل کم اور انا زیادہ نظر آتی ہے۔ چند برس پہلے تک سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر تنقید کرتی تھیں لیکن اب معاملہ اداروں تک آ پہنچا ہے۔ سیاسی دشمنی نے ریاستی اداروں کو بھی تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست دانوں کی موقع پرستی خطرناک رخ اختیار کر چکی ہے۔

پچھلے کچھ برسوں میں ایک مخصوص سیاسی فکر نے ریاست اور اداروں کے خلاف ایسا بیانیہ تراشا ہے جو صرف سیاسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ انتشار پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ جلسوں میں بولے گئے جملے، سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی ویڈیوز، بیرون ملک کی محفلوں میں دیے گئے بیانات، سب ایک ایسی فضا پیدا کر رہے ہیں جس میں نوجوان نسل ریاست سے بداعتمادی سیکھ رہی ہے۔ گاؤں کے ایک نوجوان نے حال ہی میں کہا کہ میں اب کسی ادارے پر یقین نہیں रखتا۔ یہ جملہ ایک عام آدمی کی زبان سے نکل کر ریاستی درد بن جاتا ہے کیونکہ یہ سوچ خود نہیں بنتی، اسے بنایا جاتا ہے۔

پاکستان جیسے ملک کے لیے فوج ایک دفاعی دیوار ہے۔ یہ کوئی رسمی تعریف نہیں بلکہ ہماری تاریخ کی وہ حقیقت ہے جس میں ہزاروں شہادتیں شامل ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں جب شہروں پر دھماکے ہوتے تھے تو یہی فوج اور ریاستی ادارے تھے جو اس آگ کے سامنے ڈٹے رہے۔ لیکن آج اسی فوج کے خلاف بداعتمادی پھیلانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ یہ بداعتمادی کسی معصوم اختلاف کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم پروپیگنڈا ہے جو ہمارے دشمنوں کے مفاد میں جاتا ہے۔ دشمن ہمیشہ متحد قوم سے ڈرتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ قوم کے اندر اختلاف بڑھتا رہے اور ریاست کمزور ہوتی جائے۔

بیرون ملک بیٹھے کچھ عناصر اس پروپیگنڈے میں اضافی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر پاکستان کی ہر غلطی کو بڑھا کر دکھاتے ہیں اور ہر اچھائی کو چھپا دیتے ہیں۔ وہ باہر بیٹھ کر ملک کی تصویر اس طرح بناتے ہیں جیسے یہاں صرف انتشار ہو اور کوئی امید باقی نہ رہی ہو۔ یہ رویہ صرف غیر ذمہ داری نہیں بلکہ اس مٹی سے بے وفائی ہے جس نے انہیں پہچان دی۔ یورپ اور خلیجی ممالک میں کام کرنے والے کئی پاکستانی جب ان پروپیگنڈا ویڈیوز کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ حقیقت اس طرح نہیں جیسی دکھائی جا رہی ہے۔ یہ وہ خاکی آواز ہے جو ثابت کرتی ہے کہ بیرون ملک بیٹھے چند لوگ پوری قوم کی نمائندگی نہیں کرتے۔

ملک کے موجودہ حالات بھی اس ماحول کو تقویت دے رہے ہیں۔ مہنگائی نے عام آدمی کو شدید پریشان کر رکھا ہے۔ بے روزگاری نوجوانوں میں بے چینی بڑھا رہی ہے۔ سیاسی انتشار نے لوگوں کو ذہنی تھکن کا شکار کر دیا ہے۔ ایسے میں جب کوئی شخص ریاست کے خلاف زہر اگلتا ہے تو وہ زہر بہت تیزی سے پھیلتا ہے کیونکہ ذہن پہلے ہی مایوسی کا شکار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج جھوٹ اور سچ کی تمیز مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ عام شہری کبھی سوشل میڈیا کی ایک ویڈیو دیکھ کر ریاست کے خلاف ہو جاتی ہے اور کبھی ایک تقریر سن کر سب کچھ بدل جاتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں دشمن سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ایسے حالات میں ریاست کو کیا کرنا چاہیے۔ ریاست کی ذمہ داری صرف طاقت کا استعمال نہیں بلکہ سماجی استحکام کو برقرار رکھنا بھی ہے۔ غلط اطلاعات، نفرت انگیز بیانات، اداروں کے خلاف جھوٹ اور بیرونی پروپیگنڈے کا راستہ روکنے کے لیے قانونی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ ریاست کو اپنی رٹ دکھانی ہوگی تاکہ ہر فرد کو یقین ہو کہ ادارے کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہیں۔ جب ریاست مضبوط ہوتی ہے تو پروپیگنڈا خود ہی اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔

قوم کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔ سیاست اہم ہے، انتخاب ضروری ہے اور اختلاف بھی فطری لیکن یہ سب کچھ ریاست کے بعد آتا ہے۔ ریاست ٹوٹ جائے تو سیاست بھی ختم ہو جاتی ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ سیاسی اختلاف کے باوجود ریاست کے معاملے میں ایک ہوتی ہیں۔ ہمیں بھی اسی سمت بڑھنا ہوگا۔ اپنے گھروں، سکولوں، کھیتوں، بازاروں اور سوشل میڈیا کی گفتگو میں یہ احساس پیدا کرنا ہوگا کہ وطن ہماری مشترکہ امانت ہے۔ اسے ہم نے ہی بچانا ہے، اسی میں ہمارا مستقبل ہے۔

پاکستان اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے لیکن یہ کوئی پہلی بار نہیں۔ اس ملک نے ہمیشہ مشکلات کا مقابلہ کیا ہے۔ آج بھی اگر قوم متحد ہو جائے، جھوٹ کو پہچان لے، ریاست کو مقدم رکھے اور سیاست کو حدود میں رکھے تو حالات بدل سکتے ہیں۔ ریاست کو بچانا سیاست سے زیادہ ضروری ہے کیونکہ ریاست ہی وہ بنیاد ہے جس پر ہمارا آج بھی کھڑا ہے اور مستقبل بھی اسی پر تعمیر ہوگا۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • چچا چھکن نے ایک خط لکھا
  • زندگی کا دائرہ محدود ہے
  • کہیں پہ گشت و گزر اور ہے وجُود کہیں
  • ایمنسٹی کی رپورٹ: مبالغہ یا حقیقت؟
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بچوں کا عالمی دن اور پاکستان کا مستقبل
پچھلی پوسٹ
مخفی دوربین

متعلقہ پوسٹس

ممکن نہیں حالات کی سولی

فروری 9, 2020

جِنکے لفظوں میں ہیں کنکر، مزاج پتھر ہیں

فروری 13, 2022

ایتھنے اور سموں

مارچ 24, 2026

ذات کے بعد مکافات میں آ جاتے ہیں

فروری 2, 2020

حاصلِ جذبِ دُروں سے واصلِ مطلوب تک

اکتوبر 25, 2025

دل میں پیدا جو حسد ہو جائے

مئی 19, 2020

کبوتروں والا سائیں

فروری 6, 2020

اب خوف کھا رہے ہیں ہماری اڑان سے

ستمبر 20, 2020

کرکٹ کا تاریخی سفر

فروری 8, 2025

شہر سے جب بھی کوئی شہر جدا ہوتا ھے

مئی 4, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

وزیر اعظم کا دورہ سعودی عرب!

مئی 13, 2021

شاعری کرتے ہوئے تازہ خیالوں کے...

اکتوبر 16, 2025

مائنوازم کیا ہے ؟

اپریل 19, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں