خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابچوں پر حقیقی انویسٹمنٹ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہ

بچوں پر حقیقی انویسٹمنٹ

از سائیٹ ایڈمن نومبر 9, 2024
از سائیٹ ایڈمن نومبر 9, 2024 0 تبصرے 51 مناظر
52

میرے معزز اور محترم پڑھنے والوں کو میرا آداب 

ہمارے کئی  اکابرین ،محدثین ، بزرگان دین اور علماء کرام نے احادیث اور قران کی تعلیم سے منور ہوکر صحابہ کرام اور بزرگان دین کے بارے میں اپنی شہراء آفاق تحریریں کتابوں کی شکل میں ہمارے اور ہماری نسل کے لئیے تحفہ کی شکل میں چھوڑی ہیں جس میں ان کے متعلق کئی ایسی باتیں اور واقعات موجود ہیں جو ہمیں دین اور دنیا دونوں کی تعلیم سے بھی آگاہی فراہم کرتے ہیں اور ہمیں دین کی صحیح پہچان بھی دیتے ہیں لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ آجکل کتابوں سے تعلق اور کتابوں سے دوستی کا رجحان تو جیسے ختم  ہی ہوگیا ہے اور ہماری نئی نسل صرف اور صرف Internet سے اپنے آپ کو مستفید کرتے ہوئے نظر آتی ہے میں آج کے دور کے حساب سے انٹرنیٹ کو برا نہیں سمجھتا بلکہ اس کے اگر ہم مثبت پہلو کی طرف دیکھیں تو اس میں ایک بھرپور علم کا خزانہ چھپا ہوا ہے صرف اس کو ڈھونڈنے والا جوہری ہونا چاہئے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو

میں خود اپنی تحریریں نیٹ پر مجود کتابوں کی مدد سے اورمختلف علماء کرام کے بیانات سے لے کر اپنے الفاظ میں ڈھال کر  آپ تک پہنچاتا ہوں کیوں کہ جو کتابیں ہم بازار سے خریدتے ہیں وہ ہمیں نیٹ پر مل جاتی ہیں لیکن پھر بھی کئی مواد ایسے ہوتے ہیں جس کے لئیے ہمیں کتابوں کی بحر حال صرورت پڑتی ہے اس لیئے کتاب کی اہمیت کم ضرور ہوگئی مگر ختم نہیں ہوئی ایسی ہی ایک کتاب شیخ الحدیث علامہ عبدآلمصطفی آعظمی رحمتہ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی *روحانی حکایات* کے عنوان سے بہت مشہور ہے اس کتاب سے ایک حکایات تحریر کررہا ہوں جسے پڑھکر معلوم ہوگا کہ اللہ تبارک وتعالی جب ہمیں اولاد جیسی نعمت سے نوازتا ہے تو ان کےمستقبل کے لئیے ہماری صحیح Investment کہاں اور کس طرح ہونی چاہئیے ۔
میرے معزز اور محترم پڑھنے والوں یہ واقعہ حضرت امام مالک رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت خواجہ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کے استاد *ربیعہ الرائے* کے بارے میں ہے آپ جب اپنی والدہ کی شکم میں ہی تھے تو آپ کے والد گرامی عبدالرحمان فروخ کو جہاد پر جانے کا حکم ہوا آپ کی رہائش مدینہ منورہ میں تھی آپ نے اپنی زوجہ کو تیس ہزار اشرفیاں دے کر کہا کہ یہ میری امانت ہے اگر واپس آیا تو مجھے دےدینا ورنہ اسے استعمال کرلینا اور اپنا اور اپنے آنے والے مہمان کا خیال رکھنا یہ کہکر وہ جہاد کے لئیے خراسان چلے گئے عبدالرحمان فروغ کو ستائیس سال لگ گئیے اور جب وہ ستائیس سال بعد مدینہ منورہ اپنے گھر پہنچے اور صحن میں گھوڑا باندھنے لگے تو ایک نوجوان نے آپ کو دیکھا اور عرض کیا کہ آپ کون ہیں اور میرے صحن میں اپنا گھوڑا کیوں باندھ رہے ہیں تو فرمایا یہ سوال تو میں تم سے کررہا ہوں کہ تم میرے گھر میں کیا کررہے ہو یہ میرا گھر ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہ شور شرابہ سن کر محلے کے لوگ اکھٹے ہوگئیے حضرت خواجہ حسن بصری بھی استاد کا معاملہ سمجھکر پہنچ گئے اور عبدالرحمان فروخ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر آپ کو رکنا مقصود ہے تو کسی دوسری جگہ  بندوبست  ہوجائے گا تو فرمایا کہ میرا نام عبدالرحمان فروخ ہے اور یہ میرا گھر ہے یہ آواز سن کر نوجوان کی والدہ نے پردے میں دیکھا اور چونک گئی اورکہا کہ اے ربیعہ الرائے یہی تمہارے والد ہیں اور یہ آج ستائیس سال بعد جہاد سے لوٹے ہیں پھر دونوں باپ بیٹے گلے مل کر خوب روئے اور یوں اذان کی آواز آگئی مسجد نبوی سے جب اذان کی اواز آئی تو ربیعہ الرائے مسجد کی جانب چلے گئے اور عبدالرحمان فروخ اپنی زوجہ سے باتیں کرنے لگے اور اپنے بچے اور تیس ہزار اشرفیوں کا معلوم کیا تو کہنے لگی کہ آپ نماز پڑھ کر آجائیں پھر میں آپ کو بتاتی ہوں اور یوں وہ مسجد نبوی کی طرف چلے گئے۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں جب نماز سے فارغ ہوئے تو عبدالرحمان فروخ نے دیکھا کہ ایک نوجوان نے ایک حلقہ بنا رکھا ہے اور لوگوں نے اپنے شیخ کو گھیر رکھا ہے اس حلقے میں حضرت امام مالک رحمتہ اللہ علیہ اور خواجہ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ جیسے لوگ بھی موجود تھے آپ نے یہ منظر دیکھا تو بہت خوش ہوئے ربیعہ الرائے نے ٹوپی اس طرح پہنے ہوئی تھی کہ چہرہ دکھائی نہیں دے رہا تھا تو آپ نے پوچھا کہ یہ شیخ کون ہیں تو بتایا کہ یہ ربیعہ الرائے ہیں عبدالرحمان فروخ کے صاحبزادے  اور بڑے بڑے جید علماء سے دنیا گھوم کر قران اور احادیث کا علم حاصل کر کے لوٹے ہیں یہ سن کر آپ خوش ہوگئے اور اللہ تبارک وتعالی کا شکر ادا کیا اور کہا بیشک اللہ تبارک وتعالی نے میرے بچے کو ممتاز مقام عطا کیا ہے اور خوشی خوشی گھر گئے اور اپنی زوجہ سے بات کی اور مسجد نبوی میں ہوئے سارے ماجرے کو بیان کیا تو آپ کی زوجہ نے کہا کہ میں نے آپ کی تیس ہزار اشرفیوں کو ربیعہ کی پڑھائی میں خرچ کردئیے اب بتائو آپ کو کیا پسند ہے اپنے بیٹے کی یہ شان یا اشرفیاں تو آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم تم نے میری امانت میں بلکل خیانت نہیں کی اور میرا مال صحیح جگہ خرچ کیا۔
میرے معزز اور محترم پڑھنے والوں یہ ہے اصل علم اور  صحیح Investment جو پہلے جیسی عورتیں اپنے شوہر کی موجودگی ہو یا غیر موجودگی اپنے بچوں پر کرتی تھیں لیکن بدقسمتی سے آج ہم اپنے بچوں کی خواہش پوری کرنے کے لیئے انہیں اچھے سے اچھے تعلیمی ادارے سے پڑھاکر سمجھتے ہیں کہ ہماری انویسٹمینٹ صحیح جگہ ہوگئی اچھے ڈریس اور شادی بیاہ میں بے تحاشہ خرچ کرکے سمجھتے ہیں کہ ہم نے صحیح خرچ کیا ہے ہمارا بچہ پڑھ لکھکر اگر کوئی مقام حاصل کرلیتا ہے تو ہم فخر کرتے ہیں کہ ہم نے اسے دنیا کا مقابلہ کرنے کے لئیے اچھے مقام پر کھڑا کردیا ہے لیکن یہ مقام اور اس سے حاصل ہونے والی دولت صرف دنیا تک محدود ہے اور یہ اس زندگی میں ہی فائدے مند ہے اصل زندگی جو موت کے بعد ملنے والی ہے اس کے لئیے ہم نے کیا تیاری کروائی انگریزی تعلیم تو دلوادی لیکن دینی تعلیم نہ دلواسکے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہمارے پہلے کے بزرگان دین اور اکابرین پہلے اپنے بچوں کی توجہ دینی تعلیم پر مرکوز کروایا کرتے تھے کیوں کہ انہیں اپنی اور آخرت کی فکر ہوتی تھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والیہ وسلم کے ناراض ہوجانے کا خوف تھا لیکن بدقسمتی سے ہمیں صرف دنیا کمانے کا شوق ہے  سلام ہے اس دور کی ربیعہ الرائے کی والدہ جیسی  عورتوں کو جنہوں نے اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں بھی اپنے بچوں کو وہ مقام دلایا جس سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والیہ وسلم خوش ہیں اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم اپنے بچوں کو کسی مستند مدرسے سے قران و حدیث کی تعلیم دلواکر انہیں وہ مقام دلوایئں جس سے دنیا بھی سنور جائے اور آخرت بھی کسی نے کیا خوب کہا کہ
یہ وہ مائیں تھیں کہ جن کی گود میں
اسلام پلتا تھا
اسی غیرت سے انسان نور کے سانچے
میں ڈھلتا تھا

محمد یوسف میاں برکاتی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • فصلِ گُل آئےگی اِک اِک زخمِ دل لہرائے گا
  • کر دے نہ تیری جستجو
  • گلے لگائے مجھے،میرا رازداں ہو جائے
  • اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ملک کی ترقی میں رکاوٹ کہاں ہے؟
پچھلی پوسٹ
مصلحت خداوندی

متعلقہ پوسٹس

سندھ دریا کا پانی

مارچ 18, 2025

ویرا

جنوری 3, 2020

سرنگ

جون 9, 2020

مسلم سائنسدان

جون 23, 2024

خواب در خواب مرے خواب میں شامل ہوئی ہے

نومبر 30, 2019

منزل کی چاہ کی تَو فقط راستہ مِلا

مئی 17, 2020

خودکشی

فروری 2, 2020

یاد کے دریچے

نومبر 18, 2025

حکمرانی صرف اکثریت پر موقوف نہیں ہوتی!!!

اپریل 4, 2026

نہر کنارے

فروری 12, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اپنے بدن کی جھونپڑی میں، دل...

جون 8, 2020

اِسی کو مانو خدا کے

دسمبر 20, 2019

سیاسی بونگا

نومبر 19, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں