خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابچوں کا عالمی دن اور پاکستان کا مستقبل
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

بچوں کا عالمی دن اور پاکستان کا مستقبل

از سائیٹ ایڈمن نومبر 20, 2025
از سائیٹ ایڈمن نومبر 20, 2025 0 تبصرے 114 مناظر
115

دنیا ہر سال 20 نومبر کو بچوں کا عالمی دن مناتی ہے۔ اس دن دنیا بھر میں بچوں کے حقوق، ان کی فلاح، ان کی ترقی اور ان کے تحفظ پر آواز بلند کی جاتی ہے۔ عالمی اداروں کے پلیٹ فارمز سے لے کر چھوٹے شہروں تک ہر جگہ یہ یاد دہانی کروائی جاتی ہے کہ انسان کی بقا صرف بڑوں کے فیصلوں سے ممکن نہیں بلکہ بچوں کے مستقبل سے جڑی ہوتی ہے۔ بچے وہ آنکھیں ہیں جن سے آنے والا زمانہ اپنی سمت دیکھتا ہے۔ ان کی مسکراہٹیں معاشرے میں امید جگاتی ہیں اور ان کے آنسو ہماری اجتماعی ناکامیوں کی نشانی ہوتے ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بچے محض خاندان کا حصہ نہیں بلکہ پوری قوم کا سرمایہ ہیں۔

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں بچوں کے مسائل ایک نہیں بلکہ کئی پرتوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔ کبھی کبھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہاں بچہ ہونا آسان نہیں۔ غربت کا خوف، بیماریوں کی مار، گھریلو تشدد، سکول سے دوری، کام کی مشقت، معاشرتی تفریق اور تحفظ کا فقدان انہیں بہت سے محرومیوں کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔ جب کوئی قوم اپنے بچوں کو ان کے حقوق نہیں دیتی تو مستقبل خود اس قوم سے منہ موڑ لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کے عالمی دن پر پاکستان کا جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے۔

سب سے پہلا سوال حقوق کا ہے۔ بچوں کے حقوق کی بات ہم اکثر دعووں میںkids say کرتے ہیں مگر عمل میں ہم بہت پیچھے ہیں۔ بچے تعلیم چاہتے ہیں، صحت چاہتے ہیں، اظہار رائے کا حق چاہتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ایک محفوظ ماحول چاہتے ہیں۔ ان کے حقوق اقوام متحدہ کے کنونشن میں واضح طور پر درج ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں ان حقوق پر سختی سے عمل ہوتا ہے لیکن پاکستان میں صورت حال اس کے برعکس ہے۔ شہروں میں پھر بھی کچھ سہولتیں موجود ہیں مگر دیہی علاقوں میں بچوں کے بنیادی حق بھی ادھورے رہ جاتے ہیں۔

چائلڈ لیبر اس ملک کا ایسا مسئلہ ہے جو ہر چوک، ہر گلی اور ہر دکان پر نظر آتا ہے۔ ایک طرف چھوٹی عمر کے بچے ہوٹلوں میں برتن دھوتے نظر آتے ہیں اور دوسری طرف ورکشاپوں میں گاڑیوں کے نیچے لیٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ بعض بچے بھٹوں پر اینٹیں اٹھاتے ہیں اور بعض فیکٹریوں میں مشینوں کے شور کے بیچ اپنی معصوم سماعتیں کھو دیتے ہیں۔ یہ بچے کھیلنے کی عمر میں محنت کی سختیاں برداشت کرتے ہیں۔ ان کے چہرے وہ تھکن لیے ہوتے ہیں جو بڑوں کے حصے کی ہوتی ہے۔ غربت والدین کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم کی بجائے مزدوری پر بھیجیں۔ ریاستی اداروں کی کمزور عملداری اور معاشرتی بے حسی اس مسئلے کو مزید گھمبیر کر دیتی ہے۔

تعلیم سے دوری بھی ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ پاکستان کے لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ کچھ کے گھر کے قریب سکول نہیں اور کچھ کے والدین فیسوں، کتابوں اور ٹرانسپورٹ کا خرچ برداشت نہیں کر پاتے۔ بعض سکول عمارت نہ ہونے یا اساتذہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے صرف نام کے رہ گئے ہیں۔ شہروں میں تعلیم اس قدر مہنگی ہو چکی ہے کہ عام والدین کے لیے اپنے بچوں کو اچھا سکول دلانا ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ طبقاتی تعلیمی نظام نے بچوں میں وہ تفریق پیدا کر دی ہے جو عمر بھر ختم نہیں ہوتی۔ ایک بچہ ایلیٹ سکول میں پڑھے تو اس کا مستقبل روشن ہو جاتا ہے اور ایک بچہ سرکاری سکول میں تعلیم حاصل کرے تو وسائل کی کمی اسے پیچھے دھکیل دیتی ہے۔

صحت کے معاملے میں بھی بچے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ غذائی قلت کی شرح بڑھ رہی ہے۔ ایک بڑی تعداد مناسب خوراک نہ ملنے کے باعث ذہنی اور جسمانی نشوونما میں پیچھے رہ جاتی ہے۔ صاف پانی کی قلت انہیں بیماریوں کے خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ علاج کے مراکز یا تو کم ہیں یا ان کے پاس وسائل نہیں۔ پولیو ایک ایسا مسئلہ ہے جو اب بھی پاکستان کو عالمی سطح پر پریشان کن مثال بناتا ہے۔ بچوں کا کمزور جسم اور بیمار ذہن مستقبل کی صلاحیتوں کو محدود کر دیتا ہے۔

بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات ہمارے معاشرے کا سب سے تباہ کن پہلو ہیں۔ قصور سے لے کر دیگر شہروں تک بے شمار ایسے واقعات سامنے آئے جنہوں نے پوری قوم کو دہلا کر رکھ دیا۔ ان کیسز کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہے کیونکہ خاندان بدنامی کے خوف سے خاموش رہتے ہیں۔ رپورٹ ہونے والے کیسز میں بھی انصاف کا حصول بہت مشکل ہے۔ نظام کی سستی اور مجرموں کے بااثر ہونے کی وجہ سے اکثر مظلوم بچے ساری زندگی خوف میں جینا سیکھ لیتے ہیں۔ ان بچوں کے پاس نہ مناسب تحفظ ہوتا ہے نہ نفسیاتی مدد۔

تشدد کی ایک اور شکل گھروں اور سکولوں میں بچوں پر ہاتھ اٹھانا ہے۔ ہم نے سزا کو نظم و ضبط کا ذریعہ سمجھ لیا ہے۔ والدین کا غصہ، اساتذہ کی سختی اور ماحول کا دباؤ بچے کی شخصیت کو توڑ دیتا ہے۔ بچے چپ تو ہو جاتے ہیں مگر ان کے اندر خوف بیٹھ جاتا ہے۔ یہ خوف بہت سے بچوں کی صلاحیتیں ختم کر دیتا ہے۔ وہ بات کرنے سے گھبراتے ہیں، سوال کرنے سے ڈرتے ہیں اور اپنے اندر بند ہو جاتے ہیں۔

جو بچے سکول جاتے بھی ہیں انہیں ہمیشہ وہ توجہ نہیں ملتی جس کے وہ مستحق ہیں۔ والدین کی مصروفیات اور اساتذہ کی بے حسی بہت سے بچوں کی قابلیت کو دبا دیتی ہے۔ ہر بچہ ایک منفرد ذہن رکھتا ہے لیکن ہم ان سب کو ایک ہی معیار سے پرکھتے ہیں۔ اس بنیاد پر کئی بچے پیچھے رہ جاتے ہیں اور ان کا مستقبل بھی متاثر ہوتا ہے۔

پاکستان کے تعلیمی سسٹم کی تفریق بھی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایک طرف ایلیٹ سکول ہیں جو اعلیٰ نصاب، سمارٹ کلاسز اور غیر نصابی سرگرمیاں فراہم کرتے ہیں اور دوسری طرف سرکاری سکول ہیں جو وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔ پرائیویٹ سکول اپنے طور پر تعلیم دیتے ہیں مگر فیسیں عام والدین کی پہنچ سے باہر ہیں۔ اس تقسیم نے بچوں کے ذہن میں بھی فرق ڈال دیا ہے۔ معاشرتی طبقاتی سوچ انہی سکولوں سے جنم لیتی ہے۔

اس کے علاوہ بچوں کی ذہنی صحت کا مسئلہ بھی بڑھ رہا ہے۔ گھریلو لڑائیاں، معاشی دباؤ اور سماجی مسائل بچوں کے ذہن پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بہت سے بچے ڈپریشن، گھبراہٹ اور تنہائی کا شکار ہو رہے ہیں۔ سکولوں میں کونسلنگ سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے یہ مسائل مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

ڈیجیٹل دور نے نئے چیلنج بھی پیدا کیے ہیں۔ موبائل فون بچوں میں کھیل کا متبادل بن چکا ہے۔ گیمز کا نشہ، آن لائن دنیا کی بے راہ روی اور الیکٹرانک میڈیا کی بے لگام معلومات بچوں کی تربیت کو متاثر کر رہی ہے۔ سائبر بلیئنگ کے واقعات بھی بڑھے ہیں۔

بچوں کے لیے کھیل کے میدان، پارکس اور لائبریریاں بھی کم ہو چکی ہیں۔ بچے ذہنی اور جسمانی سرگرمیوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ گھروں میں جگہ کم ہے، سڑکوں پر ٹریفک کا شور ہے اور محلوں کا ماحول محفوظ نہیں۔

بچوں کے مسائل کے حل کے لیے ریاست، والدین، اساتذہ اور معاشرہ سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ریاست کو تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ کرنا ہوگا۔ بچوں کے تحفظ کے قوانین پر سختی سے عمل کروانا ہوگا۔ والدین کو بچوں کے ساتھ وقت گزارنا ہوگا۔ اساتذہ کو تربیت اور محبت دونوں سے بچوں کی رہنمائی کرنی ہوگی اور معاشرے کو بچوں کی اہمیت پہچاننی ہوگی۔

بچوں کا عالمی دن ہمیں صرف تقریر کرنے کے لیے نہیں ملتا۔ یہ دن سوال کرتا ہے کہ کیا ہم نے اپنے بچوں کو وہ مستقبل دیا ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔ اگر ہم آج بھی خاموش رہے تو کل ہمیں انہی بچوں کے سوالوں کا جواب دینا ہوگا۔ بچوں کی مسکراہٹ محفوظ ہو تو قوم کا مستقبل روشن ہوتا ہے۔ ہمیں ان مسکراہٹوں کی حفاظت کرنی ہے اور یہ ذمہ داری ہم سب کی ہے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دِلاسا
  • میرا گھر میرا پاکستان اسکیم!
  • آنکھ سے دور جائیے
  • دوسرا بوسہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کہاں ڈھونڈیں اسے کیسے بلائیں
پچھلی پوسٹ
سیاست نہیں ریاست بچاؤ

متعلقہ پوسٹس

آصف نے کہا

نومبر 14, 2019

لچھمن

جنوری 17, 2020

‘مرغ جنگ’ اور معاشی استبداد کا نیا رخ

مئی 12, 2026

پورا ہو چاند صبح کا تارا تمام ہو

اگست 23, 2020

خوراک غم کو کر لیا جینے کے واسطے

مارچ 15, 2020

بدن کو خاک کیا اور لہو کو آب کیا

مئی 28, 2024

شعور بہت بڑی نعمت ھے

اگست 22, 2025

نشانِ سجدہ پہ اتنا گمان اچھّا نہیں

ستمبر 6, 2024

آدھا چاند فلک پر دیکھا

اپریل 10, 2025

شہروں میں تفریحی سہولیات کی کمی

جنوری 8, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پاکستان سے محبت

جنوری 5, 2022

بھٹو کی بیٹی

دسمبر 29, 2021

پاکستانی فوج کی داستان

مارچ 20, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں