خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااللہ دیکھ رہا ہے
آپکا اردو بابااردو تحاریربچوں کی کہانیاں

اللہ دیکھ رہا ہے

از محمد سرفراز جولائی 21, 2020
از محمد سرفراز جولائی 21, 2020 0 تبصرے 30 مناظر
31

اللہ دیکھ رہا ہے

ِِِ”ابراہیم: اٹھو ا بو بلا رہے ہیں،وہ بہت غصہ میں ہیں، آج تم نے پھر ایک نئی حرکت کی ہےِ“۔ رقیہ نے ابرہیم کو اٹھاتے ہوئے کہا جو مصنوعی نیند کا بہانہ بناکر سو رہا تھا۔
ابراہیم آنکھوں کو ملتا ہوا اور لڑکھڑاتا ہوا ابو کے پاس آیا اور اِس حال میں کھڑا ہو ا جیسا کہ وہ نیند سے ابھی اٹھ کر آیا ہو۔ ابراہیم! کیا تم نے یہ گملا توڑا ہے؟
حسن کے ابو نے غصہ والے لہجے میں بولا۔
”نہیں ابو مجھے تو معلوم نہیں میں نے اپنے کمرے میں بستر پر لیٹا ہو ا تھا“۔ابراہیم نے معصومیت سے جواب دیا۔
”ہا ئے اللہ! امی اس کی ڈھٹائی دیکھو کتنا صاف جھوٹ بول رہا ہے میں نے اسے خود گملا توڑتے ہوئے دیکھا ہے“۔
رقیہ نے اپنی امی کو ہاتھ سے پکر کر اور چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
اچھا بیٹا چھوڑو کوئی بات نہیں تمہارا بھائی ہے کوئی دشمن نہیں۔امی نے دلاسہ دیتے ہوئے کہا۔
ابراہیم رقیہ کو کن آکھیوں سے دیکھتا ہوا واپس چلا گیا اور اس بات کو ظاہر کر رہا تھا کہ وہ رقیہ سے اس کا بدلہ لے گا۔رقیہ اور ابراہیم دونوں بہن بھائی تھے۔دونوں سکول میں ایک ساتھ پڑھتے تھے۔ابراہیم بہت شرارتی لڑکاتھا۔جب تک وہ شرارت نہ کرے اس کے جسم کو سکون نہیں آتا تھا۔اس کی بہن رقیہ بہت نیک، ایماندار اور محنتی لڑکی تھی۔ وہ ہر کام میں اپنے ماں باپ کاساتھ دیتی تھی۔
ابراہیم جو بھی شرارت کرتا شرارت کرنے کے بعد اس کا الزام رقیہ پر ڈال دیتا تھا اور خود معصوم بن جاتا تھاجیسا کہ اس کو کچھ معلوم ہی نہیں۔
سکول میں استاتذہ اور طلباء ابراہیم کی شرارتوں سے تنگ تھے اور گھر میں بہن بھائی اور والدین تنگ تھے۔ رقیہ ا براہیم کی ہر بات کو نوٹ کرتی تھی مگرابراہیم ہر دفعہ بے گناہ ہو کر اپنے آپ کو صاف کر لیتا تھا اور رقیہ اپنا سا منہ بنا کر رہ جاتی تھی۔مگر رقیہ نے ٹھان لیا تھا کہ ابراہیم کو اس کا جرم ثابت کر کے دکھاؤ ں گی۔
رقیہ اورابراہیم دونوں چھت پر بیٹھے سکول کا کام کررہے تھے کہ اچانک ابراہیم کو شرارت سوجھی۔اس نے شاپر لیا اور اس میں پانی بھر لیا اور وہیں کھڑے نیچے گلی میں ایک عورت پر پھینک دیا اور جلد ی جا کر دوڑ لگا کر سکون سے ابو کے کمرے میں بیٹھ گیا اور اس کے ابو کمرے میں کام میں مصروف تھے۔ابراہیم اس انداز میں کمرے میں داخل ہو ا کہ اس کے ابو کو احساس ہی نہیں ہوا۔اچانک دروازے کی بیل بجی۔ابراہیم کے والد نے سر اٹھا کر دیکھا تو ابراہیم اپنی کتاب کے مطالعے میں مصروف تھا۔ اس کے والد نے کہا بیٹا! دروازے پر دیکھو کون آیا ہے؟ وہ فورا اٹھ کر گیا تو خاتون نے زورزور سے گالیاں شروع کردیں کہ کس کمبخت نے اس پر پانی پھینکا ہے؟
”تم یہاں رکو میں ابھی آپ کو بتاتا ہوں“۔ابراہیم نے خاتون کو گیٹ کے ساتھ بیٹھنے کا کہا۔ اور واپس ابو کے کمرے میں آکر بتایا کہ ایک خاتون نے کہا ہے کہ کہ اوپر سے کسی نے پانی پھینکا ہے۔ابو فورا اٹھ کر باہر گئے تو دیکھا خاتون پانی سے بھیگی ہوئی ہے۔ انہوں نے خاتون کو دلاسہ دیا اور اس کورخصت کیا ور خود غصہ سے چھت کے اوپر آگئے تو دیکھا رقیہ سکون سے سکول کا کام کر رہی تھی۔ابو نے جاکر اس کو زور سے تھپڑ رسید کر دیا اور کہا کہ کیا یہ تم نے نیچ حرکت کی ہے کہ گلی میں گزرتی خاتون پر پانی ڈال دیا۔ ابو میں نے نہیں ابراہیم نے یہ کام کیا ہو گا۔رقیہ نے بے ساختہ کہا،چپ ہو جاؤ کل بھی تم نے اس پر الزام لگایا تھا اور یہ اب میرے پاس کمرے میں موجود تھا میں نے خود یکھا ہے۔رقیہ نے ابرہیم کی طرف دیکھا تو وہ پرسکون سے اور سیدھا کھڑاتھا جیسا اس کو واقعہ کا علم ہی نہ ہو۔
تم باز آجاؤ ان سب چیزوں سے ورنہ ایسا سبق سکھاؤں گا کہ زندگی بھر یاد رکھو گی۔ابو نے رقیہ کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
رقیہ روتی ہوئی ماں کے پاس چلی گئی اور کہا کہ ابو میرا اعتبار نہیں کرتے اور ابراہیم حرکت کرتاہے اور الزام مجھ پر آجاتا ہے۔اچھا میری بچی میں ابراہیم کو سمجھاؤں گی۔امی نے رقیہ کو سینے سے لگاتے ہوئے کہا۔
رقیہ ہر وقت پریشان رہتی کہ کس طرح اس کو مات دی جائے اور اس کا جرم ثابت کروں۔ وہ اپنی سوچوں میں گم تھی کہ ماں کی آواز آتی ہے۔ رقیہ میں بازار میں دوپہر کے لئے سبزی لینے جارہی ہوں گھر میں خیال رکھنا۔ یہ سن کے ابراہیم نے کہا کہ امی میں بھی آپ کے ساتھ چلتاہوں آجاؤ میرا بیٹا ساتھ چلتے ہیں امی نے ابراہیم کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔.
رقیہ اس کو عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی کہ اب یہ کوئی نئی حرکت کرے گا اور دوبارہ پھنسائے گا۔
ابراہیم نے شرارتی انداز میں آنکھیں گھماتے ہوئے رقیہ کو شرارت کا اشارہ دیا ابراہیم کو معلوم تھا کہ یہ وقت ابو کے دفتر کے جانے کا ہے۔وہ گیٹ کے پاس گئے اور اپنی امی کو کہا کہ گیٹ کے باہر رکیے میں جوتی تبدیل کر کے آتاہوں۔وہ واپس گیراج میں آیا اور کار کے ٹائر کی ہوا نکال دی اور وال اور نیٹ باہر نکال کر رکھ دی۔تاکہ معلوم ہو سکے کے گاڑی کی ہو ا نکالی گئی ہے نہ کہ پنکچر ہے۔ابراہیم کو معلوم تھا کہ ابو جب دفتر جائیں گے تو گھرمیں صرف رقیہ ہوگی۔میں اور امی بازار ہونگے اور اس سے اچھا موقع نہیں ہو گا۔جب ابراہیم کے ابا تیار ہو کر آئے تو دیکھا کہ گاڑی کے ٹائر کی ہوا نکل چکی ہے اور سامان باہر پڑا ہے۔فورا سمجھ گئے کہ شرارت کس نے کی ہے۔
رقیہ۔۔۔رقیہ۔۔۔۔رقیہ۔۔۔۔ادھر آؤ
ابراہیم کے ابو نے غصے سے رقیہ کو آواز دی تو وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئی اور ابو کے پاس آگئی اور وہ سمجھ گئی کہ کوئی نئی آفت آئی ہو گی۔یہ تم نے پھر کیا کر دیا ہے؟
تم کو سمجھ نہیں آتی میری بات اور زور سے تھپڑ رسید کر دیا اسی دوران ابراہیم اپنی والدہ کے ساتھ گھر میں داخل ہوا اور دیکھا کہ اس کا منصوبہ کام آ گیا ہے۔رقیہ دوڑ کر فورا امی کے پا س چلی گئی۔ دیکھو تمھارے لاڈ نے اس کو خراب کر دیا ہے۔ابراہیم کے ابونے رقیہ کی امی کو گھورتے ہوئے کہا۔
ابو: آپ کو کیوں سمجھ نہیں آتی یہ حرکت ابراہیم کرتا ہے الزام مجھ پر آتاہے۔رقیہ نے اپنی امی سے بازو چھڑواتے ہوئے غصے سے کہا اور روتی ہوئی کمرے میں چلی گئی۔ ابراہیم کے والد اور والدہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔خدایا یہ گھر میں کیا ہو گیا ہے۔یہ رقیہ پہلے تو اس طرح نہیں تھی۔ابراہیم کے والد نے اپنی بیگم سے سوالیہ انداز سے پوچھا۔ہمیں ضرور اس کا حل نکالنا ہو گا۔ورنہ ان کی تربیت خراب ہو جائیگی۔ ابراہیم کی امی نے نرمی سے کہاہاں بلکل، آج میں اس کاحل نکالتا ہوں
کیسے؟ابراہیم کی امی نے پوچھا۔
”میں دفتر سے سے واپسی پر کیمرے لیکر آؤں گامگر اس کا علم کسی کو نہ ہو“۔ ابراہیم کے ابو نے کہا
ہا ں یہ ٹھیک ہے اس طرح ان کی شراتوں کا علم ہو جائے گا۔ امی نے ہاں میں ہاں ملائی۔ابراہیم کے ابو نے دفتر سے واپسی پر کیمرے لیکر آ ئے اور پورے گھر میں نصب کر دیئے،گلی میں اور تمام کمروں میں کچن سمیت لگوادیے۔
آج اتوار کا دن تھا سکول سے چھٹی تھی۔ مگر ابراہیم کے لیے یہ دن دلچسپ ہوتا تھا کیونکہ شراتوں کا زیادہ موقع اسی دن آتاتھا۔ اتوار تو سا را دن ایک دوسرے کی شکاتیوں میں گزرتا تھا۔ رقیہ بیٹا: ابراہیم کے ابو نے رقیہ کو آواز دی: جی ابو کیا کام ہے؟”بیٹا ایک اچھی سے چائے پلادو “ جی ابو جی میں ابھی بنا کر لاتی ہوں“
رقیہ نے جواب دیا۔
ابراہیم رقیہ کے ہر کام پر نظر رکھتا تھا۔ رقیہ نے چائے بنائی اور کپ میں ڈال کر پلیٹ میں رکھ دی اور فریج سے پانی لینے کے لئے چلی گئی۔ادھر ابراہیم کو موقع مل گیا اس نے کچن میں جا کر پلیٹ میں رکھی چائے کو سکون کے انداز میں کچن میں گرائی اور کپ کو توڑ دیا تاکہ اس کاالزام بھی رقیہ پر لگا سکے۔ کیوں کہ کچن میں وہ کبھی جاتاہی نہیں تھا۔چائے گرانے کے بعد وہ فورا ً رفو چکر ہو گیا۔ ادھر کچن میں جب رقیہ آئی یہ منظر دیکھاتو فوراً سمجھ گئی کہ یہ کام ابراہیم کا ہے۔ خوف سے اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں کہ ابو کو کیا جواب دوں گی۔وہ پہلے ہی اعتبار نہیں کرتے اور اس بار تو ابراہیم کا نام بھی نہیں لے سکتی۔
وہ آہستہ آہستہ بوجھل قدموں کے ساتھ ابو کے کمرے میں آئی اور راستے میں دعاؤں کا ورد کرتے ہوئے آئی تاکہ باپ کے غصہ سے بچ سکے اور دوبارہ تھپڑکھانے سے بچ جائے اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا اور اپنے ابو کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی۔ اس کی حالت دیکھ کر ساتھ بیٹھا ابراہیم اس کی حالت دیکھ کر منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنس رہاتھاکہ تماشا اب شروع ہو گا۔ جب والد نے رقیہ کو آتے دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے ٹانگیں کانپ رہی تھیں منہ سرخ ہو گیا تھا اور وہ ڈری ہوئی تھی۔بیٹی کیا بات ہے تم اس قد ر کیوں خوفزدہ ہوباپ نے رقیہ کو دیکھتے ہی کہا۔
ابو۔۔۔۔وہ۔۔۔۔چائے۔ یہ کہ کر رونے لگی بیٹا گھبراؤ نہیں کیا بات ہے؟
ابو نے رقیہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔ابومیں نے چائے بنائی اور کپ میں ڈال کر ایک پلیٹ میں رکھ دی اور گلاس میں پانی چلی گئی واپس آکر دیکھا تو چائے گر گئی تھی اور کپ ٹوٹا ہواتھا۔رقیہ نے ڈرتے ہوئے بتایا۔بیٹا ڈرنے کی کوئی بات نہیں یہ ہم معلوم کر لیں گے کہ کس نے گرایا ہے۔ابراہیم پرسکون تھاکیونکہ جب رقیہ آئی تو وہ ابو کے کمرے میں موجود تھا۔ ابو نے سارے گھر والوں کو بلایا امی بھی آگئی سب گھر والے جمع تھے۔ابو نے بات پوچھی کہ کچن میں چائے کس نے گرائی ہے اور کپ کس نے توڑا ہے۔سب خاموش تھے کسی نے جواب نہیں دیا۔ابو نے پھر پوچھا تم میں سے کس نے کہ کام کیا ہے تا کہ بعد میں یہ نہ ہو پچھتانا پڑے۔مگر سب خاموش تھے کسی نے جواب نہیں دیا۔اب ابونے میز پر رکھا کمپوٹر سب کے سامنے رکھ دیا اور کچن میں موجود لگا خفیہ کیمرہ اس کی ویڈیو چلنے لگی۔ابراہیم نے جیسے ہی ویڈیو کو دیکھنا شروع کیا اس کے اوسان خطا ہوگئے کہ یہ یک دم کیا ہو گیا ہے؟
اس کے ماتھے پر پسینہ آگیا اب وہ سوچنے لگا اس کی خیر نہیں اب وہ نہیں بچ سکے گا۔اب سارے گھروالے حیرانی سے ویڈیو دیکھ رہے تھے اور ابراہیم کو اپنے سارے کارنامے یا د آ رہے تھے۔ اس کے اپنے دماغ میں ویڈیو چلنے لگی اور سارے جرم یاد کرنے لگا۔ جب ویڈیو میں ابراہیم کو چائے گراتے اور کپ کو توڑتے ہوئے پوزدیکھایا گیا۔تو رقیہ کی ٹھنڈی آہ نکلی اور ابراہیم کی طرف دیکھا جو خیالوں میں مصروف تھا۔
میرے پیارے بھائی دیکھو یہ ویڈیو کتنی دلچسپ ہے۔ جس میں رقیہ نے چا ئے بھی بنائی اور گراتی بھی خود ہے اور کپ کو بھی توڑ دیا“رقیہ نے طنز کرتے ہوئے کہا۔
ابراہیم غصہ سے دانت پستے رہ گیا وہ سب کے سامنے کچھ بھی نہ کہ سکتا تھا۔
اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوچکا تھا۔سب کچھ واضح ہوچکا تھا۔ابراہیم لے ابو نے اس کو کھڑا ہونے کو کہا
ابراہیم ا ٓنکھیں نیچے کرتے ہوئے سامنے آگیا
بیٹا تم نے یہ سب کیوں کیا؟
کیا سکول سے اور گھرسے یہی تربیت حاصل کی ہے؟
ابراہیم سب کے سامنے بت بنا خاموشی سے کھڑا تھا،اس کوسمجھ ہی نہیں آئی کہ اس کیس سے کیسے نکلے۔
ابو میں معافی چاہتا ہوں۔آئیندہ نہیں کروں گا۔ابراہیم نے گھبرائی ہوئی آواز میں کہا
بیٹا تم نے ایک نہیں تین گناہ کیے ہیں۔تم نے جھوٹ بولا،لوگوں کو نقصان دیا اور غلط الزام اپنی بہن پر لگایا۔
بیٹا ہم مسلمان ہیں۔مسلمان جھوٹ نہیں بولتا اور نہ کسی دوسرے کو نقصان پہنچاتا ہے۔اصل علم تو اللہ کے پاس ہے اگر ہم کیمرے کی طرف نہ دیکھتے تو تمہاری حرکتوں کا علم نہ ہوتا۔مگر اللہ تو ہر وقت انسان کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔وہ انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔تم اپنی حرکتیں ہم سے چھپا سکتے ہو مگر اللہ سے نہیں۔
اللہ کو تم ہر چیز کا حساب دو گے۔
ابو مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی۔میں آئیندہ نہیں کروں گا۔ابراہیم نے معافی کے انداز میں کہا
تم جاو پہلے اپنی بہن سے معافی مانگو اور پھر اللہ سے معافی مانگو تاکہ اللہ تمہیں معاف کردے۔
ابراہیم کے ابو نے کہا
دونوں بہن بھائیوں نے آگے بڑھ کر ایک دوسرے کو گلے لگایا اور ابراہیم نے اپنی بہن سے معافی مانگی۔اور آئیندہ حرکتیں نہ کرنے کا عزم کیا
اس طرح کیمرے سے تمام گھر والے بچوں کی حرکتوں سے محفوظ ہوگئے۔
المسلم من سلم المسلون من لسانہ ویدہ
حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہیں۔(الحدیث)

محمد سرفراز اجمل

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • قرطبہ کا قاضی
  • یہ آئینہ جو صاف ہے وہ اور بات ہے
  • اللہ تعالیٰ کے احسانات کا شکر
  • کوئی میرے خوابوں سے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
محمد سرفراز

اگلی پوسٹ
جنسی صلاحیت! ختم شد
پچھلی پوسٹ
بدگمانی سے بچو 

متعلقہ پوسٹس

دیمک بہتر یا کیڑا؟

اکتوبر 27, 2020

ٹک ٹاک کالم

جنوری 20, 2021

گھریلو تشدد کا قانون

جنوری 26, 2026

بلیک کامیڈی

دسمبر 12, 2019

بُڈّھا کھوسٹ

جنوری 24, 2020

قلم

اکتوبر 31, 2020

وہ ایک مونگ پھلی

مئی 24, 2024

بے نام مسافت

نومبر 7, 2020

مسز ڈی کوسٹا

جنوری 16, 2013

بنا رہے ہیں سڑک کاٹ کر درختوں کو

اکتوبر 27, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

نفسیاتی مطالعہ

ستمبر 16, 2013

آم

نومبر 5, 2019

میں اپنے آپ کو تنہائیوں میں...

نومبر 10, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں