560
پس موت کا امکاں ہے کرونا کے سبب سے
مشکل میں مری جاں ہے کرونا کے سبب سے
جو موت سے چھپتے تھے وہی لوگ پھنسے ہیں
سولی پہ اب ایماں ہے کرونا کے سبب سے
کب خود کشی ممکن تھی محبت میں مگر اب
مرنا ہوا آساں ہے کرونا کے سبب سے
ہر آنکھ یہاں خود کو فقط سوچ رہی ہے
بینائی کا نقصاں ہے کرونا کے سبب سے
بازارِ مسیحا میں دوا کوئی نہیں ہے
ہر شخص پریشاں ہے کرونا کے سبب سے
حسیب بشر
