خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباوجدان کا نکاح
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو ناولبینا خان

وجدان کا نکاح

از سائیٹ ایڈمن جولائی 31, 2022
از سائیٹ ایڈمن جولائی 31, 2022 0 تبصرے 113 مناظر
114

وجدان ماما کو آفس لے کر آیا تھا وہ اس کے آفس میں بیٹھی تھیں
” کچھ منگواؤں آپ کے لیے؟؟؟”
” نہیں بیٹا۔۔۔۔ ابھی تک آئی نہیں وہ”
” آتی ہو گی ماما ” وجدان ہنسا۔
تھوڑی دیر میں دروازہ نوک ہوا ” یس کم ان” وجدان بولا اور روشانے اندر آئی ماما نے بھی مڑ کے دیکھا روشانے ڈارک گرین کلر کے ڈریس میں آدھے بالوں میں کیچر لگائے باقی بالوں کو کھلا چھوڑے ہاتھوں بریسلیٹ ھو وہ ہمیشہ سے پہنتی تھی کانوں میں ائیر رنگز پہنے بہت جازب نظر لگ رہی تھی۔
ماما کو وہ دیکھتے ہی بہت پیاری لگی
” سوری سر آپ بزی ہیں میں بعد میں آجاؤں گی” وہ جانے کو مڑی تو اس نے پکارا
” مس روشانے میری ماما سے ملیے”
وہ آگے آئی ماما اپنی جگہ سے اٹھیں اور پیار سے اسے گلے لگایا
” آؤ بیٹا بیٹھو میرے پاس” ماما نے ساتھ والی چئیر پہ اسے بیٹھنے کو کہا وہ جھجکتی ہوئی بیٹھ گئی ماما اس سے باتیں کرنے لگیں وجدان کی کال آئی تو وہ وہاں سے اٹھ لے چلا گیا پندرہ بیس منٹ بعد وہ آیا تو روشانے اور ماما میں دوستی ہو چکی تھی وہ مسکرایا
” وجدان آپ مجھے گھر چھوڑ دو بیٹا ” ماما اٹھیں
” جی ماما ”
” اوکے روشانے بیٹا اب میں چلتی ہوں” وہ اس کے گلے لگیں
” اوکے آنٹی پھر دوبارہ آئیے گا”
” ضرور بیٹا اب تو انشآاللٰہ آنا ہی پڑے گا بلکہ بہت جلد گھر آؤں گی آپ کے”
” شیور آنٹی کیوں نہیں موسٹ ویلکم ” اسے بھی وجدان کی ماما بہت پسند آئی تھیں وہ خوشی سے بولی۔
***********
گھر آکے اس نے ماما کو وجدان کی ماما کے بارے میں بتایا۔
” تمہارے باس کے بابا کا نام کیا ہے”
” جہانگیر حیدر بابا پہلے وہ ہی سنبھالتے تھے سارا بزنس اب ان کا بیٹا سنبھالتا ہے”
” جہانگیر حیدر۔۔۔۔۔” بابا سوچ میں پڑ گئے
” کیا ہوا بابا ”
” ایک جہانگیر کالج کے زمانے سے میرا دوست تھا بعد میں وہ۔باہر چلا گیا تھا اور ہم۔نے بھی شفٹنگ کر لی تھی تب سے اب تک رابطہ نہیں میں سوچ رہا ہوں کہیں یہ وہی تو نہیں ”
” پتا نہیں جاوید لیکن آپ تو کہہ رہے ہیں وہ باہر چلا گیا تھا تو پاکستان کیوں آئے گا”
” ہمممم۔۔۔۔ شاید تم ٹھیک کہہ رہی ہو ”
************
آج سنڈے تھا وجدان نے روشانے کو فون کیا
” ہیلو اسلام علیکم ”
” وعلیکم السلام مس روشانے کیسی ہیں آپ ”
” الحمداللٰہ سر میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں ؟؟؟”
” فائن ”
” کیسے فون کیا سر” روشانے نے پوچھا
” موبائل سے ” وجدان نے دوبدو جواب دیا روشانے ہنسی
” آئی مین کیوں فون کیا ؟؟؟”
” کیوں نہیں کرنا چاہیے تھا”
” ایسی بات نہیں ہے سر میرا مطلب ہے سب خیریت ہے”
” ہاں جی سب ٹھیک ہے دراصل ماما بابا آپ کے گھر آنا چاہ رہے ہیں آج شام”
” سب خیریت”
” جی جی”
” شیور سر مجھے بہت خوشی ہو گی”
” مجھے بھی” وجدان نے کہا اور مسکرادیا۔
وجدان سے بات کرنے کے بعد وہ ماما بابا کو بتانے بھاگی۔
************
شام کو وہ لوگ آگئے تھے جاوید صاحب کی سوچ درست نکلی تھی وہ ان کے دوست نکلے تھے کافی ٹائم کے بعد ایک دوسرے کو دیکھ کے وہ دونوں ہی بہت خوش تھے وانیہ بھی ساتھ آئی تھی سے بھی روشانے بہت پسند آئی دونوں میں اچھی دوستی ہو گئی تھی روشانے اسے اپنا گھر دکھانے لے گئی ولید بھی آیا ہوا تھا وہ بھی ملا دونوں فیملیز میں اچھے مراسم بن گئے تھے جاوید صاحب نے زبردستی انہیں رات کے کھانے پہ روک لیا تھا رات کا کھانا کھانے اور چائے کے دور کے بعد وہ لوگ جانے کے لیے اٹھے مہرالنساء نے روشانے کو گلے لگایا "آنٹی پھر آئیے گا ”
” جی بیٹا ضرور”
” بھائی صاحب اب جب ہم دوبارہ آئیں گے تو خالی ہاتھ نہیں جائیں گے ” انہوں نے روشانے کی طرف دیکھ کر کہا روشانے ایک دم ٹھٹکی۔
***********
دو دن بعد جہانگیر حیدر کا فون آیا جاوید صاحب اور وہ کچھ بات کرنے لگے تھوڑی دیر بعد جاوید صاحب آئے اور ماما سے کہنے لگے
” ان لوگوں نے ہماری روشانے کا رشتہ مانگا ہے”
” یہ تو بہت اچھی بات ہے لوگ بھی اچھے ہیں ” ماما خوش تھیں
” ہممم۔۔۔ میں نے سوچنے کا ٹائم ہے آپ روشانے سے بھی پوچھ لیں”
” جی ٹھیک ہے”
ماما نے روشانے سے اس رشتے کے بارے میں بات کی تو وہ شاکڈ رہ گئی ” بٹ ماما وہ میرے باس ہیں”
” ہاں بیٹا ہیں پر اس سے کیا فرق پڑتا ہے لڑکا اچھا ہے خاندان اچھا ہے اور سب سے بڑی بات کے تمہارے بابا انہیں جانتے ہیں”
” وہ سب تو ٹھیک ہےماما پر۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا مجھے تھوڑا وقت چاہیے سوچنے کے لیے”
” اوکے بیٹا جتنا ٹائم لینا ہے لے لو آج تمہارے بابا وجدان سے ملنے کا کہہ رہے تھے دیکھتے ہیں اب ” انہوں نے اسے پیار کیا اور وہاں سے چلی گئیں روشانے نے بابا سے بات کرنے کا فیصلا کیا۔
*************
بابا اور ولید کو وجدان بہت اچھا لگا تھا ان کی طرف سے تو ہاں تھی پر بس روشانے کی ہاں کا انتظار تھا۔
جاوید صاحب اسٹڈی روم میں بیٹھے بک پڑھ رہے تھےروشانے کے آنے پر بک دائڈ میں رکھی
” کیا ہوا بیٹا خیریت ہے سب”
” جی بابا کچھ بات کرنی ہے ” وہ تھوڑا جھجک رہی تھی
"جی بیٹا کھل کے کہو ویسے بھی ہم اچھے دوست بھی تو ہیں نا ” بابا نے مسکراکے کہا
” جی بابا وہ بابا میں کہنا چاہتی ہوں کہ وجدان حیدر کے پرپوزل کو ہاں کرنے میں مجھے کوئی دقت نہیں ہے پر ایک طرف دیکھا جائے تو وہ میرے باس ہیں فرض کریں میں ہاں بھی کردوں تو میرا آفس اسٹاف کیا کہے گا اور باقی لوگ ” بابا اس کی بات پہ مسکرائے ” بیٹا میں وجدان سے ملا ہوں وہ sensible بندہ ہے وہ سب سنبھال لے گا اور رہی بات باس کی تو تم بس یہ بات یاد رکھو کہ وہ تمہارے بابا کے دوست کا بیٹا ہے”
” اوکے بابا” وہ کچھ سوچ کے بولی ” اگر آپ کو سب ٹھیک لگتا ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے”
” یعنی میں اپنی بیٹی کی ہاں سمجھوں؟؟؟”
” جی بابا” وہ سر جھکا کے بولی تو بابا نے اسے گلے لگا لیا
” مجھے تم سے یہ ہی امید تھی بیٹا” جاوید صاحب مسکرائے۔
************
” ماما انہوں نے جواب نہیں دیا” وجدان نے پوچھا
بیٹا انہوں نے سوچنے کا ٹائم مانگا ہے ”
” ماما تین دن ہو گئے اب تو” وجدان بے صبری سے بولا تو ماما ہنس دیں
” بیٹا وہ سوچ کے ہی جواب دیں گے نا”
” پر۔۔۔۔۔۔” اتنے میں بابا آئے
” مبارک ہو بھئی ان کی طرف سے ہاں ہے” بابا خوش ہو کے بولے اور وجدان کو گلے لگایا ” اب خوش ہو برخودار انگلیوں پہ دن گن رہے ہو کب سے ” بابا نے چھیڑا تو وہ جھینپ گیا ماما نے بھی گلے لگایا اور اس کا ماتھا چوما ” اللٰہ ایسی ہی تمہیں خوش رکھے” ماما نے دعا دی تو وہ مسکرا دیا وانیہ جو اےنی دیر سے خاموش تھی بولی ” ماما دیکھیں آج تو بھائی کی مسکراہٹ ہی ختم نہیں ہو رہی ورنہ تو مسکراتے ہی نہیں ہیں کبھی ” تو ماما ہنس دیں وجدان نے اسے گھوری دی تو وہ بھی ہنس دی۔
ان کا ارادہ منگنی کا تھا پر وجدان نے نکاح پہ زور دیا تو بات نکاح پہ ڈن ہوئی اور اگلے سنڈے کو نکاح کی تقریب رکھی گئی۔
***********

بینا خان

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • موٹی چھوڑ کے لاڈو
  • کیوں کہ
  • سمجھ کے اپنے بڑوں کی نِشانی سٌنتے تھے
  • عرصئہ دہر کی جُھلسی ہوئی ویرانی میں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ماضی کی یاد
پچھلی پوسٹ
ضد کا غلام

متعلقہ پوسٹس

بیٹی، تعلیم اور بدلتا ہوا دیہی معاشرہ

مارچ 21, 2026

جنت

جون 9, 2020

جد وی تیرے ول آنی آں

اکتوبر 12, 2025

بے قراری سی پیدا ہوئی من میں ہے

دسمبر 16, 2021

خوشیوں کا غریبوں کو

جون 24, 2025

کبھی خوشی کبھی غم

مئی 25, 2024

نجانے عشق میں ایسی ہے کیا کمی باقی

مئی 21, 2020

دل کو کسی سے کوئی سروکار

فروری 28, 2020

قائدِ مُلک و ملت

جولائی 31, 2022

خود کلامی

جنوری 3, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سوداگر

نومبر 7, 2020

جڑ کو خود کاٹنا پاتال پہ...

فروری 2, 2020

قیاس

مئی 18, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں