373
دل کو کسی سے کوئی سروکار اب نہیں
شاید کہ زندگی کا پرستار اب نہیں
مدت سے منتظر ہے نظر روٹھے یار کی
لیکن یہ سچ ہے دید کے آثار اب نہیں
مجھ سے ترے فراق نے چھینا یے یوں شباب
سولہ سنگھار , شوخیء گفتار اب نہیں
تھاما تھا جس نے ہاتھ زمانے کے سامنے
وہ بھی یہ کہہ رہا ہے مجھے پیار اب نہیں
واپس لی میں نے اپنی محبت کی ہر قسم
آ دیکھ تیری راہ میں دیوار اب نہیں
صد حیف اس زمانہء حرص و عناد میں
کوئی کسی کا مونس و غمخوار اب نہیں
جدّت کے نام پر یہاں بدلے گئے رواج
برسوں سے چل رہی تھی جو دستار اب نہیں
لوگوں نے پارسائی کا اوڑھا ہے یوں نقاب
جیسے کوئی جہاں میں گناہ گار اب نہیں
منزہ سیّد
