1
اب پرندوں میں ڈر ہے خون نہیں
اے خدا رحم شبھ شگون نہیں
ہم پتنگوں کا اپنا رونا ہے
روشنی ہے مگر سکون نہیں
سانس کیا موت ہی نہیں جن کو
خون ہی کیا جسے جنون نہیں
برف جمنے لگی لحافوں پر
اور میسر ہمیں وہ جون نہیں
ہم تخیل کی فاقہ کش بھیڑیں
ماس زندہ بچا ہے اون نہیں
آدمی کرب کے کھلونے ہیں
یہ ہنسی والے کارٹون نہیں
اس میں خطرے کی کوئی بات نہیں
آسماں کے اگر ستون نہیں
راشد امام
