100
وہ چاہتا ہے تو مشکل میں ڈال دیتا ہے
عروج دے کے کبھی زوال دیتا ہے
وہ جن کے پاس ہے اخلاص کی بڑی دولت
وہ نیکیوں کو بھی دریا میں ڈال دیتا ہے
جو مر مٹے ہیں وطن کے لئیے یہاں لوگو
زمانہ انکی ہمیشہ مثال دیتا ہے
اگر کرم کی نظر اسکی ہم پہ ہو جائے
وہ زیست سے ہر غم نکل دیتا ہے
اٹھا ہاتھ دعا تو مانگ اے بندے
وہ جب بھی دیتا ہے باکمال دیتا ہے
ھے شکر اسکا عزیز مجھکو میرا خدا
جب بھی دیتا ہے رزق حلال دیتا ہے
افروز عزیز
