359
پیڑوں سے بات چیت ذرا کر رہے ہیں ہم
نادیدہ دوستوں کا پتا کر رہے ہیں ہم
دل سے گزر رہا ہے کوئی ماتمی جلوس
اور اس کے راستے کو کھلا کر رہے ہیں ہم
اک ایسے شہر میں ہیں جہاں کچھ نہیں بچا
لیکن اک ایسے شہر میں کیا کر رہے ہیں ہم
پلکیں جھپک جھپک کے اڑاتے ہیں نیند کو
سوئے ہوؤں کا قرض ادا کر رہے ہیں ہم
کب سے کھڑے ہوئے ہیں کسی گھر کے سامنے
کب سے اک اور گھر کا پتا کر رہے ہیں ہم
اب تک کوئی بھی تیر ترازو نہیں ہوا
تبدیل اپنے دل کی جگہ کر رہے ہیں ہم
ہاتھوں کے ارتعاش میں باد مراد ہے
چلتی ہیں کشتیاں کہ دعا کر رہے ہیں ہم
واپس پلٹ رہے ہیں ازل کی تلاش میں
منسوخ آپ اپنا لکھا کر رہے ہیں ہم
عادلؔ سجے ہوئے ہیں سبھی خواب خوان پر
اور انتظار خلق خدا کر رہے ہیں ہم
ذوالفقار عادل
