633
مطلب نکل گیا ہے تو پہچانتے نہیں
یوں جا رہے ہیں جیسے ہمیں جانتے نہیں
اپنی غرض تھی جب تو لپٹنا قبول تھا
بانہوں کے دائرے میں سمٹنا قبول تھا
اب ہم منا رہے ہیں مگر مانتے نہیں
ہم نے تمہیں پسند کیا کیا برا کیا
رتبہ ہی کچھ بلند کیا کیا برا کیا
ہر اک گلی کی خاک تو ہم چھانتے نہیں
منہ پھیر کر نہ جاؤ ہمارے قریب سے
ملتا ہے کوئی چاہنے والا نصیب سے
اس طرح عاشقوں پہ کماں تانتے نہیں
ساحر لدھیانوی
