108
اس درجہ میرے فن کا حسد مت کرو اے دوست
میں نیک دل ہوں ایسے تو بد مت کرو اے دوست
آواز کی تھکان کا گریہ بھی کم نہیں
تم اپنی خامشی کو سند مت کرو اے دوست
اب میری آنکھ نیند کا تاوان بھر چکی
میرے کسی بھی خواب کو رد مت کرو اے دوست
دنیا ہے اور بھی ہیں کئ در کھلے ہوئے
اونچا کبھی اناؤں کا قد مت کرو اے دوست
ممکن اگر ہو ساتھ دو مظلوم کا, مگر
جو ظلم ڈھائے اسکی مدد مت کرو اے دوست
دل میں اگر خیال کسی دوسرے کا ہے
بیکار پھر زباں سے احد مت کرو اے دوست
ارشاد کب تلک میں سہوں ہجر کا عذاب
آ جاؤ سانس تھم رہی , حد مت کرو اے دوست
ارشاد نیازی
