خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباجو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہمحمد یوسف برکاتی

جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں

از محمد یوسف برکاتی نومبر 30, 2024
از محمد یوسف برکاتی نومبر 30, 2024 0 تبصرے 95 مناظر
96

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں اور
جو ہوتا ہے وہ دکھتا نہیں

آج کے آرٹیکل کے عنوان کو دیکھ کر یقیناً آپ سوچ رہیں ہوں گے کہ یہ جملہ کہیں سنا ہے ؟ کہیں پڑھا ہے ؟ یا کہیں لکھا ہوا دیکھا ہے تو میں آپ لوگوں کے ذہنوں میں آنے والی اس پہیلی کا مسئلہ حل کئے دیتا ہوں کہ یہ جملہ ایک پروگرام میں بولے جانے والے ایک کیریکٹر کا ڈائلاگ ہے جو وہ کسی نہ کسی موقع پر بولتا ہے لیکن جب میں نے اس جملہ پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ دنیاوی معاملات میں ہمیں اس کی حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کو دنیاوی معاملات سے نکال کر مذہبی ذہن سے سوچا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس جملہ کا ہمارے دین سے بھی بڑا گہرا تعلق ہے اور اندازا ہوا کہ اس جملہ کے اندر کتنی گہرائی ہے کتنی سچائی ہے بس پھر میں نے اس پر اپنی تحقیق کا زاویہ بڑھایا اور اس کی حقیقت آج کی اس تحریر میں اجاگر کرنے کی کوشش کررہا ہوں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں سب سے پہلے تو ہم اس جملہ کے معنی کے اوپر بات کرلیتے ہیں یعنی ” جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں اور جو ہوتا ہے وہ دکھتا نہیں ” اگر ہم دنیاوی اعتبار سے دیکھیں تو اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ ہمارے اردگرد موجود بیشتر لوگ جو نظر آتے ہیں وہ ویسے ہوتے نہیں ہیں قول و فعل میں تضاد کی بیماری ہمارے یہاں عام ہے اور اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں اور یہ بیماری آج کے معاشرے میں ہر تیسرے انسان میں موجود ہے اس مذکورہ جملہ کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اپنے حالات کے پیش نظر ایک انسان جھوٹ ، فریب اور غلط بیانی سے کافی دولتمند اور مالدار ہوجاتا ہے جبکہ اس کے اس مقام تک پہنچنے کے پیچھے کی حقیقت سے کوئی واقف نہیں ہوتا یعنی جو دکھتا ہے وہ حقیقت نہیں ہوتی اور نہ ہی جو حقیقت ہے وہ نظر آتی ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اگر کسی نمازی پرہیزگار انسان کو چوری کی واردات کرتے ہوئے یا کوئی اور جرم کرتے ہوئے پکڑا جائے تو آپ کیا کہیں گے ؟ کیا سمجھیں گے ؟ یا اگر کسی دھوکے باز فراڈیے اور غلط بیانی کرنے والے کو نماز کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوتے دیکھیں گے تو کیا کہیں گے ؟ کیا سمجھیں گے؟ اسی طرح بعض اوقات ہم دو لوگوں کو بات کرتے ہوئے دیکھ کر اپنے دل میں سوچ لیتے ہیں کہ یہ لوگ کیا بات کررہے ہیں لیکن جب معلوم ہوتا ہے تو اصل حقیقت کا پتہ چلتا بس یہ ہی وہ حقیقت ہے کہ جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں اور جو ہوتا ہے وہ دکھتا نہیں ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں جب ہم اللہ تعالیٰ کی مصلحت اور اس کی مرضی کی بات کرتے ہیں تو یہاں بھی ہمیں اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے بعض فیصلوں پر ہمیں حیرانگی بھی ہوتی ہے اور دل ماننے کو تیار بھی نہیں ہوتا لیکن ایک اہل ایمان مسلمان ہونے کے ناطے اس کی مصلحت کے پیش نظر اس فیصلے کو ماننا پڑتا ہے اور ماننا چاہیے حالانکہ وہاں ہمیں دکھائی کچھ دیتا ہے اور حقیقت میں ہوتا کچھ اور ہے اور اس معاملے کے بارے میں ہمیں قرآن مجید اور احادیث میں کئی واقعات ملتے ہیں جنہیں پڑھ کر اندازا ہوتا ہے کہ واقعی یہاں جو ہوتا ہے وہ دکھائی نہیں دیتا اور جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہاں میں ایک واقعہ تحریر کرنا چاہوں گا جسے پڑھ کر آپ کو آج کے موضوع کے صحیح معنی اور حقیقت بالکل صاف اور واضح ہو جائے گی دراصل ایک دفعہ آسمان پر دو فرشتوں کی ملاقات ہوئی دونوں نے ایک دوسرے کے حال احوال پوچھے ایک فرشتہ نے دوسرے سے کہا کہ آج اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک ایسا کام کرنے کا حکم دیا جو میں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا تو صحیح لیکن مجھے یہ معلوم نہیں کہ آخر وہ کام اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کیوں کروایا ؟ اس پر دوسرے فرشتہ بولا کہ آج میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا کہ رب تعالی نے مجھے ایک ایسا کام کرنے کو کہا جو میں نے اس کے حکم کی وجہ سے کیا تو ہے لیکن مجھے بھی نہیں معلوم کہ یہ کام مجھ سے کیوں کروایا گیا ؟
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں پھر ایک نے دوسرے سے کہا کہ بتائو تم نے کیا کام کیا ؟ تو اس نے کہا کہ ایک شخص تھا جو مشرک تھا اللہ تعالیٰ کا منکر تھا اس نے اللہ کو کبھی اللہ نہیں مانا وہ رزق اللہ کا دیا ہوا کھاتا تھا لیکن اللہ کو رازق نہیں مانتا تھا اور پھر اس کی زندگی کا آخری وقت آگیا یعنی دنیا سے رخصتی کا وقت آگیا وہ حالت سکرات میں تھا اس کے بیوی بچے دوست احباب عزیز واقارب سب اس کے پاس تھے فرشتہ نے کہا کہ میں یہ سارا منظر اوپر سے دیکھ رہا تھا کہ عین اس وقت اس شخص نے کہا کہ میری آخری خواہش سمجھ کر ایک کام کردو کہ مجھے کچھ بھنی ہوئی مچھلی کھلادو اسی وقت اس کے رشتہ دار دریا پہنچے اور کشتی میں بیٹھ کر ایک جال پھینکا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں جائوں اور ان لوگوں کی مچھلی پکڑنے میں مدد کروں میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا کی گہرائی میں جا پہنچا اور تمام مچھلیوں کو ان کے جال تک لے آیا اور یوں ان کے جال میں بیشمار مچھلیاں آگئیں وہ واپس آئے اور انہوں نے اس شخص کو پیٹ بھر کر مچھلی کھلائی جب وہ کھا چکا تو اللہ تعالیٰ نے موت کے فرشتہ کو حکم دیا اور وہ اس کی روح قبض کرکے اسے لے آیا فرشتہ کہتا ہے کہ مجھے حیرت ہوئی کہ جو شخص منکر خدا تھا مشرک تھا جس نے اللہ کو کبھی رازق نہیں مانا لیکن مرنے سے پہلے اس کی آخری خواہش رب تعالی نے کیوں پوری کی ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس کی بات سن کر دوسرے فرشتہ نے کہا کہ آج میں اوپر بیٹھ کر دیکھ رہا تھا کہ ایک شخص جو نمازی پرہیزگار ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ کے خوف سے آنسو بہانے والا تھا اور اس کا اخلاق بھی بہت اچھا تھا جب اس کا آخری وقت آیا اور وہ حالت سکرات میں تھا تو اس کے سرہانے اس کی بیوی موجود تھی اس نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ مجھے ایک چمچ زیتون کا تیل اگر مل جائے تو اس کی بیوی فورآ اٹھی اور پاس پڑی ہوئی زیتوں کی بوتل سے اپنے شوہر کے لئے ایک چمچ میں زیتون ڈال کر اس کے پاس پہنچنے والی ہی تھی کہ مجھے اللہ تعالٰیٰ نے حکم دیا کہ میں اسی وقت زمین پر جائوں اور اس سے پہلے کہ وہ شخص زیتون سے بھرے ہوئے چمچ کو اپنے منہ سے لگائے اسے یہ تیل نہ پینے دیا جائے لہذہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر میں تیزی کے ساتھ اس شخص کے گھر پہنچا اور اپنے پروں سے اتنی تیز ہوا چلائی کہ زیتون سے بھرا وہ چمچ اس عورت کے ہاتھ سے گرگیا اور اسی وقت اللہ تبارک وتعالیٰ نے موت کے فرشتہ کو حکم دیا کہ اس کی روح قبض کرلے اور موت کے فرشتہ نے اللہ کے حکم سے اس کی روح قبض کرلی ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اب دونوں سوچنے لگے کہ ایک شخص جو مشرک بھی تھا اللہ تعالیٰ کا نافرمان بھی تھا لیکن اس کی آخری خواہش رب العزت نے پوری کردی جبکہ ایک اہل ایمان شخص جو نمازی پرہیزگار بھی تھا اللہ تعالیٰ کے خوف سے رویا کرتا تھا اس کی آخری خواہش پوری نہ ہوسکی ان دونوں فرشتوں کو جو نظر آرہا تھا وہ وہی سوچ رہے تھے لیکن جو حقیقت تھی وہ اس سے بیخبر تھے رب تعالی ان کی باتیں سن رہا تھا ارشاد فرمایا کہ کیا تمہیں یہ راز جاننا ہے کہ یہ سب کچھ کیوں اور کیسے ہوا تو فرشتوں نے عرض کیا کہ اے ہمارے پروردگار تیری مصلحت تو ہی جانے کیونکہ یہ تو ہم جانتے ہیں کہ تیرے ہر کام میں تیری منشاء اور تیری مصلحت کارفرما ہوتی ہے لیکن اگر یہ تجسس اور اس راز سے پردہ اٹھانے میں تو بہتری سمجھتا ہے تو ہمیں اس معاملے کا راز بتادے تاکہ ہمارے دل کا بوجھ بھی ہلکا ہو اور ہمیں بھی یہ معلوم ہو کہ اس میں تیری کیا مصلحت پوشیدہ تھی ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ بیشک وہ شخص جو مشرک تھا میرا نافرمان تھا میرا عطا کیا ہوا رزق کھاتا تھا مگر مجھے رازق ماننے کے لئے تیار نہ تھا لیکن میں رب المسلمین نہیں ہوں بلکہ رب العالمین ہوں دنیا میں جو آیا اس کی موت زندگی اور رزق کا میری طرف سے وعدہ ہے اس شخص نے زندگی میں ایک ایسی نیکی کی تھی جو مجھے بہت اچھی لگی اور میں نے اس نیکی کو قبول بھی کرلیا تھا لہذہ اس کی اس نیکی کے طفیل اس کا بدلہ اس کی آخری خواہش کو پورا کرکے اسے دنیا میں اس کا اجر عطا کردیا تاکہ بروز قیامت اسے کچھ نہ دینا پڑے کیونکہ قیامت کی ارائیشوں اور رعانائیوں کا تعلق صرف اہل ایمان مسلمان سے ہے کافر مشرک یا مرتد کا کوئی حصہ نہیں جبکہ وہ شخص جو نمازی پرہیزگار تھا زاہد و عابد تھا میرے خوف سے آنسو بہاتا تھا لیکن اس نے زندگی میں ایک ایسا گناہ کیا تھا جس کی سزا اس کی آخری خواہش کو پورا نہ کرکے اسے دنیا میں ہی دے دی تاکہ بروز قیامت اس کی عبادتوں کا صلہ اسے دے سکوں اب تم دونوں آنکھ اٹھا کر دیکھ لو کہ ان دونوں اشخاص کا ٹھکانہ کہاں اور کیا ہے یوں جب فرشتوں نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو مشرک و نافرمان شخص جہنم کی آگ میں جل رہا تھا جبکہ مسلمان جنت کے باغوں میں ٹہل رہا تھا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس واقعہ سے ہمیں ایک تو یہ پتہ چلا کہ ہم جو ہمارے ارد گرد بسنے والے یہودی ، کافر ، مشرک ، منافق اور مرتد لوگ عیاشیاں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جن کے پاس دولت کی ریل پیل ہوتی ہے تو دراصل دنیا میں یہ ان کو جنت مل جانے جیسا ہے وہ اس دنیا میں جو چاہیں کریں جس طرح چاہیں رہیں جبکہ قیامت میں ملنے والی نعمتوں میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے جبکہ ایک اہل ایمان مسلمان جو نیک اور پرہیزگار ہے اللہ کے خوف سے آنسو بہانے والا ہے اگر اس پر کوئی پریشانی یا مصیبت آجاتی ہے تو وہ دنیا میں ہی اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں جبکہ بروز محشر اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت کا وعدہ ہے اس واقعہ میں ہمیں ایک یہ بات بھی سمجھنے کو ملی کہ فرشتوں کو بظاہر جو نظر آرہا تھا اس کی بنا پر انہوں ایک رائے قائم کرلی جبکہ جو حقیقت تھی وہ انہیں نظر نہیں آئی بمصلحت خداوندی لیکن جب حقیقت واضح ہوئی تو ان فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی منشاء اور مرضی کا اچھی طرح سے علم ہوگیا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں جو ہوتا ہے وہ دکھتا نہیں اور جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں یہ ہماری دنیاوی زندگی اور آخرت کی زندگی دونوں جگہوں پر اپنی گہرائی اور اس کے اندر پوشیدہ راز لئے ہر لمحہ موجود ہے اسی لئے جب ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں تو ہمیں اس کی حقیقت کا اندازہ ہوتا ہے اب دیکھیں ایک دفعہ ایک شخص مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے آیا جب جماعت ہوگئی اور لوگ نماز پڑھ کر واپس جانے لگے تو دیکھا کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑگڑا کر دعا مانگ رہا ہے زاروقطار رہا ہے جو لوگ اسے دیکھ رہے تھے وہ اس کو دیکھ کر سوچنے لگے کہ یہ شخص کتنا رورہا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کے آسی طرح آنسو بہانا پسند ہے اب ان لوگوں کو جو نظر آیا اس پر انہوں نے اپنے ذہن میں اس شخص کے لئے رائے قائم کرلی لیکن جب وہ وہاں اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے اٹھا اور مسجد کے باہر کی طرف جانے لگا تو اچانک اس کے جیب میں موجود موبائیل فون بجنے لگا ابھی اس نے فون اٹھایا ہی تھا مسجد سے باہر اس کا پائوں گیا ہی تھا کہ وہ فون پر گالی گلوچ کرنے لگا اور اس کے منہ سے جو الفاظ نکلے وہاں پر موجود لوگوں کو اس بات کی بالکل توقع نہ تھی اور اس کی یہ حرکت دیکھ کر وہ لوگ جنہوں نے اس کو تھوڑی دیر پہلے مسجد میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑگڑاتے ہوئے دیکھا تھا وہ حیران ہوگئے اور ان لوگوں کی رائے یکثر مختلف ہوئی اور وہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ ہم نے کیا سوچا تھا اور وہ کیا نکلا یعنی جو ہوتا ہے وہ دکھتا نہیں اور جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہماری روزمرہ زندگی میں ہمیں اس جملہ ” جو ہوتا ہے وہ دکھتا نہیں اور جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں ” کا کئی جگہ پر سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہمارے درمیاں موجود لوگوں کی اکثریت ایسی ہی ہے کہ وہ جو نظر آتے ہیں اندر سے ایسے ہوتے نہیں ہیں اسی لئے کہا جاتا ہے کسی کی صورت مت دیکھئے بلکہ سیرت دیکھ کر اس کے بارے میں فیصلہ کیجئے کیونکہ بعض خوبصورت چہروں کے پیچھے سیا ہی اور بعض سیاح چہروں کے پیچھے خوبصورتی پوشیدہ ہوتی ہے بس ظاہری آنکھوں کی بجائے دل کی آنکھوں سے دیکھیں سب کچھ صاف صاف دکھائی دے گا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہر اس واقعہ پر یا حکایت پر جسے سنتے ہوئے یا پڑھتے ہوئے کچھ عجیب لگے یا اس کی حقیقت سمجھ میں نہ آئے توکسی علم والے سے اس کی حقیقت کا پتہ کیجئیے اور اگر پھر بھی دل مطمئن نہ ہو تو سمجھ لیجئے کہ اس کے پیچھے پوشیدہ حقیقت کا راز صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور ہمارے سمجھ میں نہ آنے میں اس رب العالمین کی مصلحت کارفرما ہوگی لہذہ یہ بات صاف اور واضح ہے اور اس کی حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ” جو ہوتا ہے وہ دکھتا نہیں اور جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں” اللہ ہمیں سمجھنے اور اس پر پختہ یقین رکھ کر اس عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاالنبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم ۔

محمد یوسف برکاتی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دیکھ یہ رونق دنیا جو خَلا جیسی ہے
  • یار اپنوں کی خرافات پہ غم کیا کرنا
  • نظام عدل
  • کوئلہ بھئی نہ راکھ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
محمد یوسف برکاتی

اگلی پوسٹ
سرخ لباس کی سرخوشی
پچھلی پوسٹ
خوابوں کی کشتی اور زندگی کا سمندر

متعلقہ پوسٹس

یوگا کی شرعی حیثیت

جنوری 25, 2020

ہم کو سماعتوں نے نہ دھوکا کبھی دیا

اکتوبر 24, 2025

جنرل اسمبلی میں پاکستان کی آواز

ستمبر 28, 2025

جُھومتی ، دف بجاتی ، گاتی موت

مئی 23, 2020

سورہ کہف

دسمبر 13, 2025

کوئی حیرت ہے نہ اس بات کا رونا ہے ہمیں

مئی 22, 2020

دل میں ہر آس کی تصویر

مئی 29, 2024

اﷲ اﷲ شہِ کونین جلالت تیری

اکتوبر 30, 2020

علی بزبانِ علی بن موسیٰ الرضاؑ

جنوری 1, 2026

بس ایک بوند زندگی

جنوری 7, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اخروٹ قوتوں کا خزانہ

اکتوبر 10, 2021

کاش اس دنیا سے برائی ختم...

جنوری 29, 2024

ایک ایسی سوچ

جنوری 1, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں