خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکیا اُستاد ہونا قابلِ شرم ہے؟
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

کیا اُستاد ہونا قابلِ شرم ہے؟

از سائیٹ ایڈمن اپریل 29, 2026
از سائیٹ ایڈمن اپریل 29, 2026 0 تبصرے 2 مناظر
3

یہ سوال سُننے میں جتنا تلخ ہے حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ کربناک ہے۔ وہ اُستاد جسے کبھی قوم کا معمار کہا جاتا تھا آج اپنے تعارف میں جِھجک محسوس کرتا ہے۔ جو شخص نسلوں کی آبیاری کرتا ہے وہ خود معاشی بدحالی اور سماجی بے توقیری کا شکار ہے۔ پاکستان میں اُستاد کا مقام کتابوں اور تقریروں میں تو بہت بلند دکھایا جاتا ہے مگر عملی زندگی میں اس کی حالت ایسی ہے جیسے چراغ تلے اندھیرا۔
حضرت علیؓ سے منسوب قول ہے:” جس نے مجھے ایک حرف بھی سکھایا میں اس کا غلام ہوں”۔ یہی تصور ہماری تہذیب کی بنیاد تھا۔ اُستاد کو روحانی باپ سمجھا جاتا تھا۔ دیہات میں ماسٹر صاحب کا نام عزت سے لیا جاتا تھا اور شہر میں پروفیسر صاحب کی مجلس کو وقار حاصل ہوتا تھا۔
آج صورت حال بدل چکی ہے۔ اب دولت عزت کا پیمانہ بن گئی ہے اور شو آف نے کردار کو نِگل لیا ہے۔ جس کے پاس بڑی گاڑی اور بڑا بنگلہ ہے وہی مُعتبر سمجھا جاتا ہے چاہے علم سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔
ڈاکٹر علامہ اقبال نے کہا تھا:

اَفراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے مِلّت کے مقدر کا ستارہ

افسوس! وہ فرد جو قوم کا مقدر سنوارتا ہے آج خود بے بسی کی تصویر بن چکا ہے۔ اُستاد کی تنخواہ اتنی کم ہے کہ گھر کا چولہا جلانا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور تنخواہ زمین سے چِپکی ہوئی ہے۔ ایک اُستاد جب اپنے بچوں کی فیس ادا نہیں کر پاتا،جب بیمار ماں کی دوا خریدنے سے پہلے جیب ٹٹولتا ہے تو اس کے اعتماد کی دیوار میں دراڑ پڑ جاتی ہے۔
پاکستان میں حکومتی پالیسیوں نے بھی تعلیم کے شعبے کو کمزور کیا ہے۔ سرکاری سکولوں کی نجی کاری نے ہزاروں اساتذہ کو غیر یقینی صورتِ حال میں دھکیل دیا۔ مستقل ملازمت کا خواب ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ فنڈز کی بندش نے سکولوں کو ویران کر دیا۔ ترقی کے مواقع ختم کر دیے گئے۔ الاونس روک دیے گئے۔ نئی بھرتیاں کم ہو گئیں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلے محدود ہو گئے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تعلیم نہیں بلکہ تعلیم دُشمنی ریاستی ترجیح بن گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے UNESCO کی متعدد رپورٹس اس بات پر زور دیتی ہیں کہ کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار مضبوط تعلیمی نظام اور باعزت اُستاد پر ہوتا ہے۔ Finland جیسے ممالک میں اُستاد کو ڈاکٹر اور انجینئر کے برابر عزت دی جاتی ہے۔ وہاں اُستاد بننا فخر کی بات ہے کیونکہ حکومت بھی اسے اہم سمجھتی ہے اور معاشرہ بھی۔ ہمارے ہاں اُلٹی گنگا بہتی ہے۔ یہاں اُستاد کو اکثر یہ سُننا پڑتا ہے کہ "کچھ اور نہ ملا تو ٹیچر بن گئے”۔
یہ جملہ صرف ایک طنز نہیں بلکہ پورے معاشرتی زوال کی علامت ہے۔ جب ایک نوجوان اُستاد اپنے رشتہ داروں میں اپنا پیشہ بتاتے ہوئے ہچکچاتا ہے تو مسئلہ صرف اس کی ذات کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہے۔ اُستاد کو معلوم ہے کہ لوگ اس کی آمدنی کو دیکھیں گے اس کے علم کو نہیں۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے بچوں کے کپڑے اس کے وقار کا فیصلہ کریں گے نہ کہ اس کے شاگردوں کی کامیابی۔
فیض احمد فیض نے کہا تھا:

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے

یہ شعر آج استاد کی حالت پر صادق آتا ہے۔ وہ سر اُٹھا کر چلنا چاہتا ہے مگر حالات اس کے کندھوں پر بوجھ بن گئے ہیں۔ وہ بچوں کو حوصلہ اور عزم کا سبق دیتا ہے مگر خود قرض اور فکر کے دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ اُستاد اگر گھر کا خرچہ نہ نکال سکے تو وہ نئی نسل کو خود اعتمادی کا سبق کیسے دے گا؟ خالی برتن کب تک دوسروں کو پانی پلائے گا؟
سرکاری تعلیمی اداروں کے برعکس نجی سکولوں میں صورتحال اور بھی سنگین ہے۔ وہاں اُستاد کو کم تنخواہ پر زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔ چُھٹی مانگنا جُرم بن جاتا ہے۔ عزتِ نفس داؤ پر لگ جاتی ہے۔ کالج اور یونیورسٹی کے لیکچرر بھی وقتی کنٹریکٹ اور غیر یقینی مستقبل کے سائے میں جیتے ہیں۔اب تو پی ایچ۔ ڈی کرنے کے بعد بھی روزگار کی ضمانت نہیں۔ پاکستان میں یہ صورتحال نوجوان نسل کو تعلیم کے شعبے سے دور کر رہی ہے۔
ستم یہ کہ ہمارے سیاست دان اپنی جھولیاں بھرنے میں مصروف ہیں۔ بجٹ میں تعلیم کا حصہ مسلسل گھٹایا جا رہا ہے۔ تعلیم کے نام پر بڑے بڑے دعوے تو کیے جاتے ہیں مگر زمینی حقیقت کھوکھلے بانس کی طرح ہے۔ سیانے کہتے ہیں اگر ایک قوم اپنے اُستاد کو بھلا دے تو وہ خود بھی تاریخ کے اندھیرے میں کھو جاتی ہے۔ ابن خلدون نے لکھا تھا:” قوموں کا عروج علم سے اور زوال جہالت سے ہوتا ہے”۔ ہم شاید اسی زوال کے دہانے پر کھڑے ہیں۔
اس معاملے میں معاشرہ بھی اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں۔ ہم بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر اور افسر بننے کا خواب تو دکھاتے ہیں مگر اُستاد بننے کی ترغیب نہیں دیتے۔ ہم تقریبات میں اُستاد کی تعریف کرتے ہیں مگر عملی طور پر اسے کمتر سمجھتے ہیں۔ یہ دوغلا پن زہر کی طرح نسلوں میں سرایت کر چکا ہے۔
یہ کہنا غلط ہوگا کہ اُستاد ہونا قابلِ شرم ہے۔ اصل شرم تو اس نظام کو ہونی چاہیے جس نے اُستاد کو شرمندہ کر دیا۔ قابلِ شرم وہ پالیسیاں ہیں جنہوں نے علم کے چراغ بجھانے کی کوشش کی۔ قابلِ شرم وہ معاشرہ ہے جو اُستاد کے ہاتھ چومنے کی بجائے اس کی جیب ٹٹولتا ہے۔ قابلِ شرم وہ سیاست گردی ہے جو سڑکوں کے افتتاح پر تالیاں بجاتی ہے مگر سکول کی ٹوٹی چھت پر خاموش رہتی ہے۔
احمد فراز کا شعر یاد آتا ہے:

سُنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اُس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

کاش ہم بھی اُستاد کو آنکھ بھر کے دیکھیں۔ اُس کی خاموش قربانیوں کو سمجھیں۔ اُس کی سفید پوشی کے پیچھے چُھپی محرومیوں کو محسوس کریں۔ اُستاد دراصل درخت کی مانند ہے جو خود دُھوپ میں جلتا ہے مگر دوسروں کو سایہ دیتا ہے۔ اگر یہی درخت سوکھ گیا تو آنے والی نسلیں بنجر زمین پر کھڑی ہوں گی۔
اُستاد ہونا شرم نہیں فخر ہے مگر شرط یہ ہے کہ ریاست اسے فخر کے قابل بنائے۔ جب تک تعلیم کو ترجیح نہیں دی جائے گی، جب تک اُستاد کو معاشی تحفظ اور سماجی احترام نہیں ملے گا تب تک یہ سوال زندہ رہے گا۔
قومیں اُستاد کے ہاتھوں بنتی ہیں اور جب اُستاد ٹوٹ جاتا ہے تو قوم بھی بکھر جاتی ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم اس سوال کا جواب بدل دیں۔ اُستاد کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ محض ملازم نہیں بلکہ مستقبل کا معمار ہے۔
یاد رکھیئے!اگر ہم نے آج اُستاد کو عزت نہ دی تو کل ہماری نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

محسن خالد محسنؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • فحاشی اور ہمارا سماج
  • گل ریگزار پریشہ اور اس کا محبوب
  • شاعری کا ابتدائی سبق
  • محمودہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
محسن خالد محسنٓ کی نظموں میں مغربیت کا تصور
پچھلی پوسٹ
معدہ (طب نبویﷺ کی روشنی میں)

متعلقہ پوسٹس

موجودہ حالات اور بڑھتا ہوا ذہنی دباؤ

جون 5, 2020

بدگمانی سے بنایا گیا

جنوری 22, 2026

خاص بندوں پر خاص کرم

ستمبر 29, 2025

رمضان ٹرانسمیشن یا ریٹنگ کا کھیل؟

فروری 26, 2026

بسکٹ،دودھ اور موٹر وے

اکتوبر 25, 2020

لاکھ ناؤ نہیں کروڑ ناؤ

دسمبر 30, 2019

میری زندگی، میری کہانی

جنوری 31, 2025

چوہے دان

جنوری 24, 2020

اس دنیا سے آگے جہان اور بھی ہے

جنوری 5, 2021

حملہ ہوا تھا

دسمبر 16, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

رنگ برنگی عینکیں !

جولائی 12, 2021

قہقہوں کے سائے میں

جنوری 14, 2025

ہنوذ دِلّی دُور است

نومبر 19, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں