خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابارنگ برنگی عینکیں !
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

رنگ برنگی عینکیں !

از سائیٹ ایڈمن جولائی 12, 2021
از سائیٹ ایڈمن جولائی 12, 2021 0 تبصرے 91 مناظر
92

رنگ برنگی عینکیں !

تاریخ کی سرسری ورق گردانی سے معلوم ہوا کہ تیرہویں صدی عیسوی میں کسی انسان کو یہ احساس ہوا کہ اگر آنکھوں کی دیکھائی دینے کی صلاحیت کمزور ہوجائے اورآنکھوں سے دھندلا دیکھائی دینے لگے تو کس طرح اس دھندلاہٹ سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے ، یہ کارنامہ باقاعدہ تیرہویں صدی عسوی میں سرانجام پایاجب شیشوں کو باقاعدہ طور پر فریم میں لگایا گیا اور کمزور بینائی کو طاقت ور بنانے میں مدد فراہم کی گئی ۔ پھرکیا تھا کہ جیسے ہر کسی کی دنیا رنگین ہوگئی ، آج دنیا میں جہاں بینائی یا نظر کی عینکوں کی جگہ لینس لے رہے ہیں وہیں عینکوں نے بھی اپنی اہمیت اور ضرورت کو دھوپ سے بچاءو کیلئے استعمال ہونا شروع کردیا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ یہ عینکیں جدید ڈھب (فیشن )کا ایک لازمی جز قرار پاچکے ہیں جس کا منہ بولتا ثبوت اندھیروں میں منعقد ہونے والے لباسوں کی نمائشیں ہیں ۔ ان عینکوں کی ایک خصوصیت یہ بھی ہوتی ہے جو کہ لازمی آپکے تجربے سے بھی گزری ہوگی کہ جس رنگ کے شیشے کی عینک ہوگی آپ کو باہرکا نظارہ بھی ویسا ہی دیکھائی دے گا، یعنی جیسا آپ دیکھنا چاہتے ہیں ویسی عینک لگا لیجئے ۔

قدرت ہر فرد کو دنیا اسے عطاء کی گئی آنکھ میں دی گئی بینائی سے دیکھاتی ہے ، جبکہ انسان کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ وہ دنیا کو اپنی خواہشات کے مطابق تشکیل دے اور پھر دیکھے، کبھی آہیں بھرتا ہے تو کبھی لمبی کاش کیساتھ خاموش ہوجاتا ہے، تو کبھی اسلحہ و بارود لے کر اپنی مرضی کی دنیا بنانے نکل کھڑا ہوتا ہے ،یہی انسان رنگوں سے بھر پور خوبصورت دنیا دیکھتا ہے اور اسے کینوس پر منتقل کردیتا ہے ، یہی انسان لفظوں کی خوبصورت مالائیں بناتا ہے اور دنیا کی خوبصورت ہونے کے دلائل دیتا ہے غرض یہ کہ ہم کہنے کے بھرپور جواز رکھتے ہیں کہ ہر انسان نے اپنی اپنی آنکھوں پر مختلف رنگوں کی عینکیں لگائی ہوئی ہیں جو قدرت کی دی گئی بینائی سے کہیں آگے دیکھنے کی خواہش کا مظہر ہیں ۔

ایک انسان دوسرے انسان کو اپنی فہم اوراپنی بصیرت سے پرکھتا ہے اوربدقسمتی سے سامنے والے کیلئے حتمی رائے بھی قائم کرلیتا ہے یوں سمجھ لیجئے کہ اپنی مرضی کی عینک اپنی آنکھوں پر لگا لیتا ہے اور اس سے دیکھائی دینے والے رنگ کو دنیا کا رنگ سمجھ لیتا ہے ۔ اکثر تو ایسا جان بوجھ کر ہوتا ہے اور اکثر ایسا انسان کے زعم میں ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ یہاں طاقت ، منصب ، اختیار و دیگر وغیرہ بھی بطور عینک آنکھوں پر لگ جاتے ہیں اور انسان کو انسان کے درجے سے شائد گرا دیتے ہیں جسے انسان ہذا انسانوں سے خود کو اوپر کی کوئی شے سمجھنے لگتا ہے ۔ یہاں یاد دہانی کیلئے یہ بھی لکھتے چلیں کے انسان نا تو اپنی کھال سے نکل سکتا ہے اور نا ہی اپنی کھال کو بدل سکتا ہے اسے اسی کھال کیساتھ زمین دوز (قبر ) میں دفن ہونا ہے اب تو دفن ہونے کیلئے زمین بھی قسمت والوں کو میسر آتی ہے ۔

ہم اگر غور کریں تو یہ سیاسی، مذہبی اور دیگر جماعتیں ان عینکوں کی طرح دیکھائی دینگی جو کسی فرد کے انفرادی مفاد کی ترجمانی کیلئے تشکیل پاتی ہیں ۔ مخصوص نظریہ عوامی امنگوں کی ترجمانی کرنے نکل پڑتا ہے ، یوں سمجھ لیجئے کہ نظریہ یا مفاد ایک عینک ہے جو عوام کی آنکھوں پر لگانی ہے یا پھر انہیں بیچنی ہے ۔ مہذب معاشرے جہاں تعلیم کے فروغ کوبنیادی اہمیت حاصل ہو ،ایسی عینکیں بیچنا آسان نہیں ہوتا یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہاں ایسی عینکیں بنانے کی نوبت ہی نہیں ہوتی ۔ معاشرہ تعلیم یافتہ ہوتا ہے تو وہ اپنے مفادات سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے اور وہ حکومت کو یا کسی ادارے کو اپنے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کی قطعی اجازت نہیں دیتے ۔

یہ دیکھائی نا دینے والی عینکیں ہر ملک میں موجود ہوتی ہیں گرچہ یہ کہیں اندرونی نقصان نہیں پہنچاتیں لیکن بیرونی نقصان کے اسباب ضرور پیدا کرتی ہیں ۔ دنیا کے طاقور ممالک کمزور ملکوں پر اپنی دھونس دھمکی سے قابض ہونا چاہتے ہیں ، کہیں اپنی بالادستی کا رعب و دبدبا دنیا کو دیکھانے کیلئے معصوم بچوں کی زندگیوں کو بھی نہیں بخشا جاتا ۔ اپنی سرحدوں سے نکل جانے چاہ کتنی ہولناک بربادیوں کا سامان کرتی ہے ۔ انسانیت کے دشمن انسانیت کی آڑ میں کیا کچھ نہیں کر رہے ، انسانوں کی تفریق بھی ان عینکوں سے کی جاتی ہے ۔ یہ ان عینکوں کا ہی نتیجہ ہے انسان میں پوشیدہ انسانیت دیکھائی نہیں دیتی بلکہ اس کی کھال کے رنگ سے محبت یا نفرت کے جذبات پیدا کرلئے جاتے ہیں ۔ قدرت کی کاری گری دیکھئے کہ طرح طرح کی شکلیں بنادیں اور اسی طرح سے احساسات بھی مختلف ، خوش شکل چہرے والوں کے احساسات بدشکل ہوجاتے ہیں اور بدشکل چہروں والے خوش شکل احساسات کے ترجمان بن جاتے ہیں ۔ اس تضاد کی بھی وجہ قدرت نے واضح کی ہے کہ اور وہ یہ کہ آپ کسی انسان کو اپنی عینک سے حتمی نہیں دیکھ سکتے ۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ کسی کے بارے میں دی جانے والی رائے الٹی ہوتی دیکھائی دیتی ہے ۔

وطن عزیز پاکستان میں سڑکوں کے کناروں پر عینک بیچنے والے بیٹھے ہوتے ہیں جو موٹر سائیکل چلانے والوں کیلئے سستی عینکیں اور سرڈھانپنے کیلئے ہیلمٹ یا کیپ لئے کھڑے ہوتے ہیں ۔ ایک طرف تو وہ کاروبار کررہے ہوتے ہیں وہیں وہ عوام کو ایک سستی سہولت بھی فراہم کررہے ہوتے ہیں ۔ انکا مقصد عظیم ہوتا ہے گوکہ غیر میعاری شیشے یا پلاسٹک لگی عینکیں آنکھوں کو خراب کرنے کا باعث ہوسکتی ہیں لیکن کیا یہ عینکیں ان عینکوں سے بہت بہتر نہیں ہوتیں جن کی وجہ سے نسلیں خراب ہوجاتی ہیں جن کی وجہ سے نفرتیں پروان چڑھتی ہیں ہیں جن کی وجہ سے تعصب کی آبیاری ہوتی ہے ۔

اب آتے ہیں کے کس طرح سے ان عینکوں سے جان چھڑائی جائے، سب سے پہلے تو یہ طے کرنا ہے کہ علم کے حصول کو یقینی بنائینگے دوسرے یہ کہ علم کی ترویج کے کیلئے اپنا کردار ہر ممکن ادا کرینگے تاکہ اچھے برے میں تمیز کرنے کی صلاحیت پیدا ہوسکے اور صحیح راستے کے تعین میں کسی دشواری کا سامنا نا کرنا پڑے ۔ قدرت نے انسانوں کی رہنمائی کیلئے رہتی دنیا تک کیلئے مستند رہنما میعاری طریقہ کار نسخہ قران کریم کی صورت میں رکھا ہوا ہے ، جودنیا کے ہر مسلئے کا حل پیش کرتا ہے ۔ تو آئیں پاکستان کی خاطر اپنے اسلام کی خاطر یہ ساری رنگ برنگی عینکیں اتار پھینکیں اور ایمان کی عینک لگائیں تاکہ ہ میں اس راستے کا علم ہوسکے جس پر چل کر فلاح پائی جاسکتی ہے جس پر چل کر ملک و قوم کو دشوار گزار گھاٹیوں سے نکالا جاسکتا ہے ، جس پر چل کر قومی خوداری و خودمختاری حاصل کی جاسکتی ہے ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اداروں کا احترام اور استحکام پاکستان
  • الاؤ
  • لمس
  • باعثِ اضطراب دیکھتے ہیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دل مرا سوچ کے اس بات کو ڈر جاتا ہے
پچھلی پوسٹ
خدا کے بعد برتر، آپ ہی کی، ذات ہے آقا ﷺ

متعلقہ پوسٹس

ہم پاؤں پاؤں دشت میں

ستمبر 24, 2025

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

جو دل سے اُکھڑی وہیں بعد میں رکھی گئی تھی

جنوری 29, 2020

درک – رویہ سازی | تمنا کے دو حصّے

جولائی 21, 2026

رشتہ ایسا ہونا چاہیے

نومبر 22, 2022

جو بھی تیرے لیے بنی ہو گی

جنوری 12, 2025

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

پوس کی رات

جنوری 10, 2019

عجب باتیں کھٹکتی ہیں

جولائی 6, 2021

پارسائی اور تقویٰ

جنوری 5, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

فقط اک پیر دروازے سے باہر

دسمبر 26, 2024

دوست ہو گئے دشمن

جولائی 31, 2022

وہ تو میرے پاس ہے مرے...

اپریل 15, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں