خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابارنگ برنگی عینکیں !
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

رنگ برنگی عینکیں !

از سائیٹ ایڈمن جولائی 12, 2021
از سائیٹ ایڈمن جولائی 12, 2021 0 تبصرے 30 مناظر
31

رنگ برنگی عینکیں !

تاریخ کی سرسری ورق گردانی سے معلوم ہوا کہ تیرہویں صدی عیسوی میں کسی انسان کو یہ احساس ہوا کہ اگر آنکھوں کی دیکھائی دینے کی صلاحیت کمزور ہوجائے اورآنکھوں سے دھندلا دیکھائی دینے لگے تو کس طرح اس دھندلاہٹ سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے ، یہ کارنامہ باقاعدہ تیرہویں صدی عسوی میں سرانجام پایاجب شیشوں کو باقاعدہ طور پر فریم میں لگایا گیا اور کمزور بینائی کو طاقت ور بنانے میں مدد فراہم کی گئی ۔ پھرکیا تھا کہ جیسے ہر کسی کی دنیا رنگین ہوگئی ، آج دنیا میں جہاں بینائی یا نظر کی عینکوں کی جگہ لینس لے رہے ہیں وہیں عینکوں نے بھی اپنی اہمیت اور ضرورت کو دھوپ سے بچاءو کیلئے استعمال ہونا شروع کردیا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ یہ عینکیں جدید ڈھب (فیشن )کا ایک لازمی جز قرار پاچکے ہیں جس کا منہ بولتا ثبوت اندھیروں میں منعقد ہونے والے لباسوں کی نمائشیں ہیں ۔ ان عینکوں کی ایک خصوصیت یہ بھی ہوتی ہے جو کہ لازمی آپکے تجربے سے بھی گزری ہوگی کہ جس رنگ کے شیشے کی عینک ہوگی آپ کو باہرکا نظارہ بھی ویسا ہی دیکھائی دے گا، یعنی جیسا آپ دیکھنا چاہتے ہیں ویسی عینک لگا لیجئے ۔

قدرت ہر فرد کو دنیا اسے عطاء کی گئی آنکھ میں دی گئی بینائی سے دیکھاتی ہے ، جبکہ انسان کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ وہ دنیا کو اپنی خواہشات کے مطابق تشکیل دے اور پھر دیکھے، کبھی آہیں بھرتا ہے تو کبھی لمبی کاش کیساتھ خاموش ہوجاتا ہے، تو کبھی اسلحہ و بارود لے کر اپنی مرضی کی دنیا بنانے نکل کھڑا ہوتا ہے ،یہی انسان رنگوں سے بھر پور خوبصورت دنیا دیکھتا ہے اور اسے کینوس پر منتقل کردیتا ہے ، یہی انسان لفظوں کی خوبصورت مالائیں بناتا ہے اور دنیا کی خوبصورت ہونے کے دلائل دیتا ہے غرض یہ کہ ہم کہنے کے بھرپور جواز رکھتے ہیں کہ ہر انسان نے اپنی اپنی آنکھوں پر مختلف رنگوں کی عینکیں لگائی ہوئی ہیں جو قدرت کی دی گئی بینائی سے کہیں آگے دیکھنے کی خواہش کا مظہر ہیں ۔

ایک انسان دوسرے انسان کو اپنی فہم اوراپنی بصیرت سے پرکھتا ہے اوربدقسمتی سے سامنے والے کیلئے حتمی رائے بھی قائم کرلیتا ہے یوں سمجھ لیجئے کہ اپنی مرضی کی عینک اپنی آنکھوں پر لگا لیتا ہے اور اس سے دیکھائی دینے والے رنگ کو دنیا کا رنگ سمجھ لیتا ہے ۔ اکثر تو ایسا جان بوجھ کر ہوتا ہے اور اکثر ایسا انسان کے زعم میں ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ یہاں طاقت ، منصب ، اختیار و دیگر وغیرہ بھی بطور عینک آنکھوں پر لگ جاتے ہیں اور انسان کو انسان کے درجے سے شائد گرا دیتے ہیں جسے انسان ہذا انسانوں سے خود کو اوپر کی کوئی شے سمجھنے لگتا ہے ۔ یہاں یاد دہانی کیلئے یہ بھی لکھتے چلیں کے انسان نا تو اپنی کھال سے نکل سکتا ہے اور نا ہی اپنی کھال کو بدل سکتا ہے اسے اسی کھال کیساتھ زمین دوز (قبر ) میں دفن ہونا ہے اب تو دفن ہونے کیلئے زمین بھی قسمت والوں کو میسر آتی ہے ۔

ہم اگر غور کریں تو یہ سیاسی، مذہبی اور دیگر جماعتیں ان عینکوں کی طرح دیکھائی دینگی جو کسی فرد کے انفرادی مفاد کی ترجمانی کیلئے تشکیل پاتی ہیں ۔ مخصوص نظریہ عوامی امنگوں کی ترجمانی کرنے نکل پڑتا ہے ، یوں سمجھ لیجئے کہ نظریہ یا مفاد ایک عینک ہے جو عوام کی آنکھوں پر لگانی ہے یا پھر انہیں بیچنی ہے ۔ مہذب معاشرے جہاں تعلیم کے فروغ کوبنیادی اہمیت حاصل ہو ،ایسی عینکیں بیچنا آسان نہیں ہوتا یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہاں ایسی عینکیں بنانے کی نوبت ہی نہیں ہوتی ۔ معاشرہ تعلیم یافتہ ہوتا ہے تو وہ اپنے مفادات سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے اور وہ حکومت کو یا کسی ادارے کو اپنے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کی قطعی اجازت نہیں دیتے ۔

یہ دیکھائی نا دینے والی عینکیں ہر ملک میں موجود ہوتی ہیں گرچہ یہ کہیں اندرونی نقصان نہیں پہنچاتیں لیکن بیرونی نقصان کے اسباب ضرور پیدا کرتی ہیں ۔ دنیا کے طاقور ممالک کمزور ملکوں پر اپنی دھونس دھمکی سے قابض ہونا چاہتے ہیں ، کہیں اپنی بالادستی کا رعب و دبدبا دنیا کو دیکھانے کیلئے معصوم بچوں کی زندگیوں کو بھی نہیں بخشا جاتا ۔ اپنی سرحدوں سے نکل جانے چاہ کتنی ہولناک بربادیوں کا سامان کرتی ہے ۔ انسانیت کے دشمن انسانیت کی آڑ میں کیا کچھ نہیں کر رہے ، انسانوں کی تفریق بھی ان عینکوں سے کی جاتی ہے ۔ یہ ان عینکوں کا ہی نتیجہ ہے انسان میں پوشیدہ انسانیت دیکھائی نہیں دیتی بلکہ اس کی کھال کے رنگ سے محبت یا نفرت کے جذبات پیدا کرلئے جاتے ہیں ۔ قدرت کی کاری گری دیکھئے کہ طرح طرح کی شکلیں بنادیں اور اسی طرح سے احساسات بھی مختلف ، خوش شکل چہرے والوں کے احساسات بدشکل ہوجاتے ہیں اور بدشکل چہروں والے خوش شکل احساسات کے ترجمان بن جاتے ہیں ۔ اس تضاد کی بھی وجہ قدرت نے واضح کی ہے کہ اور وہ یہ کہ آپ کسی انسان کو اپنی عینک سے حتمی نہیں دیکھ سکتے ۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ کسی کے بارے میں دی جانے والی رائے الٹی ہوتی دیکھائی دیتی ہے ۔

وطن عزیز پاکستان میں سڑکوں کے کناروں پر عینک بیچنے والے بیٹھے ہوتے ہیں جو موٹر سائیکل چلانے والوں کیلئے سستی عینکیں اور سرڈھانپنے کیلئے ہیلمٹ یا کیپ لئے کھڑے ہوتے ہیں ۔ ایک طرف تو وہ کاروبار کررہے ہوتے ہیں وہیں وہ عوام کو ایک سستی سہولت بھی فراہم کررہے ہوتے ہیں ۔ انکا مقصد عظیم ہوتا ہے گوکہ غیر میعاری شیشے یا پلاسٹک لگی عینکیں آنکھوں کو خراب کرنے کا باعث ہوسکتی ہیں لیکن کیا یہ عینکیں ان عینکوں سے بہت بہتر نہیں ہوتیں جن کی وجہ سے نسلیں خراب ہوجاتی ہیں جن کی وجہ سے نفرتیں پروان چڑھتی ہیں ہیں جن کی وجہ سے تعصب کی آبیاری ہوتی ہے ۔

اب آتے ہیں کے کس طرح سے ان عینکوں سے جان چھڑائی جائے، سب سے پہلے تو یہ طے کرنا ہے کہ علم کے حصول کو یقینی بنائینگے دوسرے یہ کہ علم کی ترویج کے کیلئے اپنا کردار ہر ممکن ادا کرینگے تاکہ اچھے برے میں تمیز کرنے کی صلاحیت پیدا ہوسکے اور صحیح راستے کے تعین میں کسی دشواری کا سامنا نا کرنا پڑے ۔ قدرت نے انسانوں کی رہنمائی کیلئے رہتی دنیا تک کیلئے مستند رہنما میعاری طریقہ کار نسخہ قران کریم کی صورت میں رکھا ہوا ہے ، جودنیا کے ہر مسلئے کا حل پیش کرتا ہے ۔ تو آئیں پاکستان کی خاطر اپنے اسلام کی خاطر یہ ساری رنگ برنگی عینکیں اتار پھینکیں اور ایمان کی عینک لگائیں تاکہ ہ میں اس راستے کا علم ہوسکے جس پر چل کر فلاح پائی جاسکتی ہے جس پر چل کر ملک و قوم کو دشوار گزار گھاٹیوں سے نکالا جاسکتا ہے ، جس پر چل کر قومی خوداری و خودمختاری حاصل کی جاسکتی ہے ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • چاہے لوگ نئے ہیں اور زمانے بھی
  • لہجہ نجانے کیوں ذرا بھیگا لگا مجھے
  • طاقت کا توازن اور پائیدار امن!
  • اگرچہ درد کے دل میں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دل مرا سوچ کے اس بات کو ڈر جاتا ہے
پچھلی پوسٹ
خدا کے بعد برتر، آپ ہی کی، ذات ہے آقا ﷺ

متعلقہ پوسٹس

امریکی سپاہی اور یخ پارہ افغان لڑکی

جون 27, 2023

پھول، خوشبو، دھنک ،ستارے سب

جون 13, 2020

اب اور تب

جنوری 25, 2020

مصیبتوں کا پلٹ کے آنا

مئی 5, 2020

خدا کے نور کا حُسن و شباب یعنی آپؐ

اکتوبر 23, 2025

محبت کے بادل

دسمبر 22, 2024

لبیک کہہ زبان سے حجت تمام کر

جولائی 31, 2022

یک طرفہ محبت

دسمبر 6, 2019

سجدہ

فروری 4, 2020

سفر نامہ حجاز

مئی 24, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کبھی بدن کبھی بستر بدل کے...

دسمبر 15, 2019

سایہ

دسمبر 11, 2024

ٹوٹ کر گرتے ستاروں کی

جون 24, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں